عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ درس تفسیر سورہ حدید تیسرا درس

سلسلہ درس تفسیر سورہ حدید
مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ درس تفسیر سورہ حدید تیسرا درس

سلسلہ درس تفسیر سورہ حدید
تیسرا درس آیت 4،3
_آیات کا ترجمہ ، پروردگار کی متضاد صفات کی تشریح ، اللہ کا چھ دن میں کائنات کا خلق کرنا_
_مہدوی پیغامات: منتظر کوشش کرتا ہے اللہ کی حقیقی معرفت پیدا کرے_

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی

خلاصہ:
سورہ حدید آیت نمبر 3
هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِـيْمٌ
_وہی سب سے پہلا اور سب سے پچھلا اور ظاہر اور پوشیدہ ہے اور وہی ہر چیز کا جاننے والا ہے۔_

اس آیت میں پروردگار عالم کی جو صفات بیان ہوئیں بظاہر متضاد ہیں۔ ہم انسانوں میں پہلا انسان آخر نہیں ہوتا اور جو ظاہر ہے وہ باطن نہیں ہوتا لیکن پروردگار عالم کی ذات لامحدود ہے اور وہاں یہ متضاد صفات جمع ہو سکتی ہیں پھر بھی ان صفات سے کیا مراد ہے اور اس کے بارے میں محمدؐ و آل محمدؐ کیا فرماتے ہیں ۔
رسوؐل اکرمؔ نے ان صفات کے بارے میں فرمایا:
صحیح مسلم
_اے پروردگارا تو سب سے پہلی ہستی ھے کہ تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں, اور تو سب سے آخری ہستی ھے کہ تیرے بعد بھی کوئی نہیں اور تو ایسا ظاہر ھے (یہاں ظاہر سے مراد برتر) اور غالب ھے کہ تجھ سے برتر کوئی نہیں اور تو اتنا مخفی اور پوشیدہ ھے کہ تیرے اندر مزید کسی چیز کا تصور ہی نہیں ھے کہ تیرے بعد بھی کوئی چیز ھے۔_

امیر المومنین صلوات اللہ علیہ فرماتے ھیں کہ اسی آیت کے ذیل میں:
_”پروردگار ایسا پہلا ھے کہ وہاں خدا کے علاوہ کسی چیز کا آغاز ہی نہیں اور وہ ایسا آخری ھے کہ جس کے بعد کوئی اختتام نہیں ھے یعنی وہ پہلا ھے ھمیشہ سے تھا ،اور آخری ھے ھمیشہ رہےگا، اور وہ اتنا واضح اور آشکار ھے کہ نہیں کہا جا سکتا کہ کس چیز سے پروردگار پیدا ھوا ھے اور وہ اتنا پنہاں بھی ھے یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کہاں ھے۔_

امام حسن مجتںبی ع ایک خطبہ میں فرماتے ھیں کہ
_میں حمد کرتا ھوں اس خدا کی کہ جس کے آغاز کا کسی کے پاس علم نہیں اور جس کے آخری ھونے کی کوئی محدودیت نہیں_
، اور فرماتے ھیں کہ:
_عقل، فکر ھمارے اندیشے سب کچھ جو ہیں پروردگار کی صفات کو درک کرنے سے عاجز ھے۔ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کس زمانے سے تھا اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کس چیز سے اللہ کا آغاز ھوا ھے وہ ہر چیز میں ظاہر ھے اور ہر چیز میں مخفی ھے۔_

سورہ حدید آیت نمبر 4
هُوَ الَّـذِىْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ فِىْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُـمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ ۚ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِى الْاَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْـهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيْـهَا ۖ وَهُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُـمْ ۚ وَاللّـٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْـرٌ
_وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا پھر وہ عرش پر قائم ہوا، وہ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں اوپر چڑھتی ہے، اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں تم ہو، اور اللہ اس کو جو تم کرتے ہو دیکھتا ہے۔_

آیت کے پہلے حصے کی تفسیر:
ھُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ ؕ
وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا پھر وہ عرش پر قائم ہوا

چھ دن سے مراد ھے:
سب سے پہلی بات کہ یہ چھ دن میں خلق کرنے کی بات پہلی دفعہ سورہ حدید میں ذکر نہیں ھوئی ۔
پروردگار نے قرآن مجید میں سات مرتبہ اس موضوع کو ذکر کیا ھے

سب سے پہلے سورہ اعراف کی 54 آیت
اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ ۟ یُغۡشِی الَّیۡلَ النَّہَارَ یَطۡلُبُہٗ حَثِیۡثًا ۙ وَّ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ وَ النُّجُوۡمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمۡرِہٖ ؕ اَلَا لَہُ الۡخَلۡقُ وَ الۡاَمۡرُ ؕ تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ
_تمہارا رب یقینا وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر متمکن ہوا، وہ رات سے دن کو ڈھانپ دیتا ہے جو اس کے پیچھے دوڑتی چلی آتی ہے اور سورج اور چاند اور ستارے سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔ آگاہ رہو! آفرینش اسی کی ہے اور امر بھی اسی کا ہے، بڑا بابرکت ہے اللہ جو عالمین کا رب ہے۔_

سورہ یونس آیت 3
اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ یُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ ؕ مَا مِنۡ شَفِیۡعٍ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ اِذۡنِہٖ ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ
_یقینا تمہارا رب وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر اس نے عرش پر اقتدار قائم کیا، وہ تمام امور کی تدبیر فرماتا ہے، اس کی اجازت کے بغیر کوئی شفاعت کرنے والا نہیں ہے، یہی اللہ تو تمہارا رب ہے پس اس کی عبادت کرو، کیا تم نصیحت نہیں لیتے۔_

سورہ الم سجدہ4 نمبرآیت
اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ ؕ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیۡعٍ ؕ اَفَلَا تَتَذَکَّرُوۡنَ
_اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر متمکن ہو گیا، اس کے سوا تمہارا نہ کوئی کارساز ہے اور نہ شفاعت کرنے والا، کیا تم نصیحت نہیں لیتے_

سورہ اعراف آیت نمبر 54
یہاں پروردگار فرمارہا ھے:
_”تمھارا پروردگار اللہ ھے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دن میں پیدا کیا اور پھر وہ عرش پر قرار پاگیا”
اب یہ چھ دن والی بات کئی جگہ پہ قرآن مجید میں نقل ھوئی ھے سب سے پہلا مسلہ تو یہ ھے کہ یہاں چھ دن سے مراد کیا ھے ؟
اہل سنت میں بعض تفاسیر میں چھ دن سے مراد اتوار، پیر، منگل ،بدھ ، جمعرات اور جمعہ لیتے ھیں ،جمعےکے دن اللہ تعالی نے حضرت آدم کو پیدا کیا ھے۔ اس سے پہلے یہ جہاں بنا اور جمعے کو حضرت آدم کو پیدا کیا اور ہفتے والا دن جو ھے اس دن کوئی تخلیق نہیں ھوئی ۔اسی لئے اسے یوم سںبت کہا جاتا ھے سبت کے معنی کاٹنے یا قطع ھونے کے ھیں یعنی تخلیق کا کام ختم ھوگیا۔
اب یہاں دن سے مراد واقعا ھمارے دنیا کے دن ھیں؟ یقینا ایسا نہیں ھے اس وقت تو نہ سورج تھا نہ چاند تھا۔ یہ دن تو سورج کی حرکت سے اور شب و روز سے وجود میں آتے ھیں تو پھر کیا مراد ھے؟

اس لئے ھمارے اکثر مفسرین محمد وآل محمد ص کی احادیث کی رو سےیہ فرماتے ھیں کہ یہاں زمانے مراد ھیں کہ اللہ نے چھ زمانوں میں کائنات خلق کی ھےاب یہ زمانے ھوسکتا ھے تھوڑا ٹائم ، ھو سکتا ھے طولانی ٹائم ،ایک زمانہ کئی میلین سال پر بھی مشتمل ھوسکتا ھے۔ بعض دفعہ زمانے کو بھی دن کہا جاتا ھے ۔

اب یہاں ایک سوال ہے کہ کہ آیا اللہ مجبور تھا کہ اتنے زمانوں میں کائنات بناتا یقیناً اس میں کوئی شک نہیں پروردگار عالم اپنی قدرت سے ایک لمحہ میں کائنات بنا سکتا تھا لیکن اس کے اندر اس کی حکمت ہے کیونکہ وہ اسباب و مسبابات کا نظام بنا رہا تھا اور وہ تدریج کے ساتھ ہر چیز کو لا رہا تھا ۔

درس:

اس میں ہمارے لیے درس ہے۔ کسی بھی ہدف تک پہنچنے کے لیے عجلت نہیں کرنی چاہیے بلکہ ٹھہر ٹھہر کر تدریج سے بنانا چاہیے اور اس کے ثمرات کو ساتھ ساتھ دیکھنا چاہیے اور اسے ایک خاص نظم کے ساتھ لانا چاہیے ۔ مثلا ً اگر اللہ چاہے تو وہ ہمیں پیدا کر کے لحظے میں جوان کر سکتا ہے لیکن وہ ہمیں تدریج کے ساتھ پرورش کرتا ہے ۔

والسلام۔
تحریروپیشکش:
سعدیہ شہباز

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید