عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

تفسیر سورہ حدید چوتھا درس

سلسلہ درس تفسیر سورہ حدید
مہدی مضامین و مقالات

تفسیر سورہ حدید چوتھا درس

آیت کا ترجمہ ،عرش الہی سے کیا مراد؟, آیت میں دیگر نکات پر اشارہ
مہدوی پیغامات: منتظر قرآن فہم ہے اور اپنے امور میں تدبیر سے چلنے والا ہے۔

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی

آیت 4
ھُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ ؕ یَعۡلَمُ مَا یَلِجُ فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا یَخۡرُجُ مِنۡہَا وَ مَا یَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعۡرُجُ فِیۡہَا ؕ وَ ہُوَ مَعَکُمۡ اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ🩵

۔ وہ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں خلق کیا پھر عرش پر مستقر ہوا اللہ کے علم میں ہے جو کچھ زمین کے اندر جاتا ہے اور جو کچھ اس سے باہر نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے، تم جہاں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس پر خوب نگاہ رکھنے والا ہے۔

“پروردگار خوب جانتا ہے اس چیز کو جو زمین میں جائے” زمین میں کیا چیزیں جاتی ہیں جیسے بارش کے قطرے مختلف بیج ، نباتات ،غلہ جات ،زمین میں داخل کیے جاتے ہیں اللہ ان کی کمیت اور اہمیت کو خوب جانتا ہے۔اس کے علاوہ بہت سی ایسی چیزیں ہیں جسے ہم ابھی نہیں جانتے۔ ہمارے علم میں نہیں آرہی وہ زمین میں جا رہی ہیں۔ “اور جو چیز زمین سے نکلے اسے بھی اللہ جانتا ہے” اور اب وہ پھل ہے مختلف غلات ہیں۔ مختلف پھولوں کے بوٹے ہیں۔ مختلف درخت ہیں، نباتات ہیں، بوٹیاں ہیں جو کچھ بھی ہیں۔اس کے علاوہ معدنیات ہیں جیسے کہ آپ دیکھیں لوہا ہے، نمک ہے، سونا ہے، جواھرات، پتہ نہیں کیا کچھ زمیں سے نکل رہا ہے۔جیسے کہ تیل ہے اور بہت ساری ایسی چیزیں بھی جیں جن کا ہمیں علم نہیں ہےاور وہ زمین کی تہوں میں موجود ہیں اور زمین کے اندر ہیں اور آہستہ آہستہ انسان جیسے علمی ترقی کرے گا وہ انھیں سمجھ جائے گا اور جان جائے گا کہ استفادہ کس طرح حاصل کرنا ہے وہ بھی جان جائے گا بہت ساری چیزیں ھیں بہت سارے خزانے ہیں زمین میں مخفی ہیں۔

جیسے اللہ تعالی سورہ انعام میں فرمارہا ہے
سورہ انعام کی 59 نمبر آیت
وَ عِنۡدَہٗ مَفَاتِحُ الۡغَیۡبِ لَا یَعۡلَمُہَاۤ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ یَعۡلَمُ مَا فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ ؕ وَ مَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَۃٍ اِلَّا یَعۡلَمُہَا وَ لَا حَبَّۃٍ فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡاَرۡضِ وَ لَا رَطۡبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ
ترجمہ:
اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں۔جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور وہ خشکی اور سمندر کی ہر چیز سے واقف ہے اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر یہ کہ وہ اس سے آگاہ ہوتا ہے اور زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ اور خشک و تر ایسا نہیں ہے جو کتاب مبین میں موجود نہ ہو۔

درج بالا آیت میں بھی پروردگار عالم یہی فرما رہا ہے کہ جو کچھ بھی زمین سے نکلتا ہے اور جو کچھ بھی زمین میں جاتا ہے پروردگار عالم سب کچھ جانتا ہے۔

سورہ حدید میں ہے کہ
جو کچھ آسمان سے نیچے آتا ہے جیسے بارش ہے، اولے ہیں، برف ہے،احکام الہی ہیں،فرشتے ہیں ہماری تقدیریں ہیں۔ اور جو کچھ آسمان کی طرف چڑھتا ھےاوپر کی طرف جاتا ھے جیسے ھمارے اعمال اوپر جارہے ہیں۔صبح شام ہمارے ذرہ ذرہ اعمال اوپر پروردگار کی بارگاہ میں جا رہے ہیں،دعائیں ہماری اوپر کی طرف جا رہی ہے۔

ہماری نگاہیں ،حسرت، آرزو، تمنائیں اللہ کی بارگاہ میں جا رہی ہیں۔ اسی طرح پروردگار فرمارہا ہے کہ “پروردگار تمھارے ساتھ ہے”۔ تم جہاں بھی ہو اللہ تمھارے ساتھ ہے۔کوئی بھی ٹائم ایسا نہیں ہے کہ ہم خدا کے بغیر ہوں ہم خشکی میں ہوں، تری میں ہوں، رات ہو، دن ہو، گھروں میں ہوں، صحراؤں میں ہوں، ہر جگہ ہروقت اللہ اپنے علم اور بصر کے لحاظ سے ہمارے ساتھ ہے۔

. ہمارے ہر ہر عمل کو دیکھتا ہے۔ ہماری ہر ہر بات کو سنتا ہے جانتا ہے۔ ہمارےدلوں میں جو خیال آتے ہیں اس کو بھی پروردگار جانتا ہے اور یہ چیز اللہ نے سورہ ھود میں ،سورہ رعد میں بھی بیان کی ہےاور خداوند فرمارہا ہے ” جو کچھ بھی تم کررہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے ” ۔

یہاں عرش کے حوالے سے بات ہے۔

عرش کیا چیز ہے ؟
پروردگار عرش پر قرار پا گیا۔ پرانے ادیان میں جیسےدین یہود ،دین نصرانیت میں عرش سے مراد بارشاہ والا جو تخت ھوتا ہے وہ تھا کہ خدا ایک تخت پر بیٹھا ھوا ہے اور نظام کائنات چلا رہا ہے۔

البتہ اس طرح کی باتیں اسلام کے اندر بھی بعض ایسے فرقے جنھیں ہم ” مجسمہ ” کہتے ھیں یا ” حشویہ ” کہتے ہیں یا *ظاہر گراں* کہتے ہیں کہ جو ظاہری معنے کرتے ہیں اور اللہ کو بھی ایک جسمانی مخلوق سمجھتے ہیں وہ بھی اس طرح کے خیالات رکھتے تھے۔ البتہ وہ یہود و نصارٰی کی باتوں سے متاثر تھے۔

*لغت کے اعتبار سے عرش ایک تخت کو کہتے ہیں ایسا تخت جس کی چھت ہو قرآن مجید میں لفظ عرش تیس سے زائد مرتبہ آیا ہے ۔*

*سورہ توبہ کی 129 نمبر آیت* میں اس کی عظمت کی طرف اشارہ ہوا ہے

فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِیَ اللّٰہُ ۫٭ۖ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ ہُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ
” پھر اگر یہ روگردانی کریں تو آپ کہہ دیجئے میرے لیے اللہ ہی کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی عرش عظیم کا رب ہے”۔

قرآن مجید کئی بار کہتا ہے کہ اللہ عرش پر متمکن ہے اور عرش کے گرد فرشتے اس کی تسبیح میں مشغول ہیں یا عرش کو کچھ فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہے۔

بہت ساری روایات ہیں جو عرش کے حوالے سے گفتگو کرتی ہیں مثلا بعض جگہ پہ روایات میں آیا ہے کہ عرش کے اوپر یہ لکھا ہے کہ

لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ علی امیر المومنین

اور ایک جگہ ہم دیکھتے ہیں کہ حدیث میں ہے کہ “نبی اسلام ص فرماتے ہیں کہ

” جب میں معراج کے سفر میں گیا اور جب عرش کی طرف نگاہ کی تو میں نے دیکھا تمام معصومین کے انوار عرش کی دائیں طرف ہیں”۔

اور بعض روایات کے اندر آیا ہے
کہ ” عرش سے مراد اللہ کا لامحدود علم ہے”۔

بعض روایت میں آیا ہے کہ “عرش بہت ہی عظیم ہے اور تمام موجودات عرش کے مدمقابل حاضر ہیں موجود ہیں اور عرش کے جو ستون ہیں ہر ستون کا فاصلہ دوسرے ستون سے ایک ہزار سال کا فاصلہ ہے اگر کوئی تیز پرندہ پرواز کرے”۔

بعض روایت میں آیا ہے کہ ” عرش جو ہے کرسی سے بھی بڑا ہے” لفظ کرسی بھی قرآن میں آیا ہے اور بعض روایت میں آیا ہے ” کہ عرش جو ہے وہ نور سے خلق ہوا ہے اور کوئی بھی مخلوق عرش کو نہیں دیکھ سکتی”۔

اس طرح کی چیزیں جو ہم انھیں متشابہات سےقرار دیتے ہیں،اگر عرش کا معنی تخت لیں تو یہ ہمارے عقائد اور دوسرے لفظوں میں جو حقائق ہیں قرآن سے ان سے سازگار نہیں ہیں۔

قرآنی آیات کی تاویل و تفسیر:
تاویل سے مراد حقیقی معنی کو سمجھنا اور تفسیر سے مراد ظاہری معنی کی تشریح ہے۔
ضروری ہے کہ یہاں تاویل کی جائے۔

قرآن مجید کی کچھ آیات وہ متشابہات ہیں کہ جس کے اندر ہماری فہم کے مطابق گفتگو ھوئی ہے۔ لیکن اصل حقائق کچھ اور ہیں۔ جو محؐمد وآل محؑمد ع بیان کرتے ہیں۔

اہل سنت میں جو اہل حدیث اور اشاعرہ فرقہ ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم عرش پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن وہ ہے کیا چیز ؟اس سے ہم پرھیز کرتے ھیں مثلا یہ پتہ ہے کہ اللہ عرش پر موجود ہے مگر وہ کیسے موجود ہے۔ ہمیں معلوم نہیں ہے۔

اور بعض جو ہیں وہ عرش کو واقعاً ایک تخت کی طرح سمجھتے ہیں کہ جس پر نعوذ باللہ خدا اپنے جسم کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے ان چیزوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

اہل سنت کے اندر ایک گروہ جسے معتزلہ کہا گیا ھے اور مکتب تشیع ان دونوں کا تمام آیات قرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے اور اس حوالے سے جو صحیح احادیث ہیں ان کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ عقیدہ ہے:

کہ عرش نام کی کوئی مادی چیز وجود نہیں رکھتی اصل میں عرش کنایہ ہے ایک اللہ تعالی کی طاقت اور قدرت کا اور وہ پروردگار کا تمام دنیا کے امور کی تدبیر کرنا ہے ۔ چونکہ خدا مدبر ہے اور تمام امور اللہ کے علم میں ہے اور اللہ کی قدرت کی وجہ سے وہ سارے امور جاری ہیں اور اس پر ایک خاص نظم جو ہے یا منظم انداز سے جو ہے یہ سارے امور انجام پا رہے ہیں کیونکہ یہ سارے کے سارے تدبیر الٰہی ہیں۔
عرش در واقع خدا کی الہی تدبیر سے کنایہ ہے لفظ کنایہ یعنی کنایہ وہاں ہوتا ہے یعنی جہاں جو بات کہی گئی ہے وہ اس اصلی شکل میں موجود نہیں ہے اس کے پیچھے ایک اور بات ہے جو اس کی حقیقت ہے ظاہر میں کچھ کہتے ہیں ۔

جیسے ہم قرآن مجید میں کہتے ہیں “کہ اللہ کا ھاتھ” تو اس سے مراد وہ ہاتھ نہیں ہےجوھمارے ذہن میں آتا ہے۔ جیسے ہمارے ہاتھ ،یہاں خدا کی طاقت مراد ہے۔ تو عرش جو ہے اللہ کی تدبیر ہے کہ خدا نے جو ایک خاص ایک نظم سے پوری دنیا کا نظام سنبھالا ہوا ہے اور وہ اس سب چیزوں کو جانتا ہے اور ان کے امور کو کنٹرول کئے ہوئے ہے تو یہ قوت کنٹرول اور یہ جو تدبیر الہی ہے یہ اصل میں عرش پروردگار ہے البتہ اس میں اللہ تمام مخلوقات سے بھی مدد لیتا ہے اس میں فرشتے تمام ملائکہ ان سے بھی اللہ کام لیتا ہے۔ تو یہ جو کہا گیا ہے کہ ملائکہ نے سنبھالا ہوا ہے۔ یہ ملائکہ مقربین ہیں یہاں مراد یہ ہے کہ خدا نے جس طرح نظام ہدایت کے لئے انبیاء کے ذریعے خدا ہدایت دیتا ہے ہمیں، تو کنٹرول جو ہے پوری کائنات پہ اور اس کی جو تدبیر ہے اس پہ اللہ ملائکہ سے مدد لیتا ہے۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری روایات کے اندر پروردگار کے لامحدود علم اس کی تدبیر اس کی حاکمیت اس کی ملکیت کو عرش سے تعبیر کیاگیا ہے۔
علامہ طباطبائی جنہوں نے تفسیر المیزان لکھی وہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ عرش در واقع پروردگار کی حاکمیت ہے۔ یہ وہ عالم ہے کہ جہاں سے خدا کے احکام صادر ہوتے ہیں اور فرشتےاحکام کو لے کر آتے ہیں اور یہ یعنی پروردگار کا جہان کی تدبیر کرنا اس کے تمام امور کو چلانا یہی عرش ہے ۔

بعنوان منتظر ہمارا فریضہ:

قرآن کو درست انداز سے پڑھیں۔اس کے معنی کو درست انداز سے سمجھیں اور اس سے اپنی زندگی میں درس لیں آج کے اس قرآنی درس سے ہم نے جو استفادہ کیا ھے وہ یہ ہے کہ پروردگار ہمارے تمام امور سے واقف ہے اور ہمارے جسم کا نظام ہو یا باہر کائنات کا نظام ہو یہ سارا پروردگار کی تدبیر سے جاری ہے۔

ہم خدا سے کسی بھی وقت دور نہیں ہیں۔ ہم ھمیشہ اس کے علم اسکی نگاہوں میں ہیں وہ ہماری تمام باتوں کو جانتا ہے۔ ہمارے دلوں میں اٹھنے والے خیالوں کو بھی جانتا ہے ہم ہر ٹائم اللہ کے سامنے کھلی ھوئی کتاب کی مانند ہیں اس لئے کہتے ہیں کہ انسان گناہ کرتے وقت شرم کرے کیونکہ وہ خدا کی بارگاہ میں حاضر ہے ہمیشہ اور اس کے رگوں کے اندر جو خون جاری ہے وہ بھی اللہ ہی جاری کئے ھوئے ہےکائنات میں اگر کوئی پتا بھی گر رہا ہ لے تو خدا اسے جانتا ہے بارشیں آرہی ہیں زمین سے جو چیزیں نکل رہی ہیں جو کچھ بھی ہم اردگرد دیکھ ریے ہیں یہ سب صرف اس کی تدبیر اور اس کی قدرت ہے اگر کوئی خرابی ہے تو وہ ہماری اپنی نامناسب حرکتیں ہیں۔ یا ہمارے گناھوں کی وجہ سے ہے ورنہ اللہ نے کائنات کو ایک خاص نظم کے ساتھ اس کے تمام امور کو چلا رہا ہے۔

منتظر جو ہے وہ موحد ہے وہ قرآن پڑھتا ہے اور قرآن سے درس لیتا ہے۔ اپنی فکر کو اپنی روح کو نورانی کرتا ہے۔ اور اپنی زندگی میں بھی مدبر ہے اور اپنے امور کو بھی تدبیر سے انجام دیتا ہے اور پروردگار کے تدبیر سے اپنی تدبیر کو منسلک رکھتا ہے اور اس طرح وہ الہٰی شخصیت بنتا ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ اپنے آپ کو اس کے ولی کے ذریعے منسلک رکھے ہوئے ہے اور کائنات کے ان تمام امور میں وہ خدا کا عبد بن کر خدا کی اور اس کے ولی کی خدمت میں اپنے آپ کو ھمیشہ مگن رکھتا ہے۔

تحریر و پیشکش:
سعدیہ شہباز

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید