عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ درس نہج البلاغہ/کنجوسی اور بزدلی کی مذمت ،غربت و افلاس کے اجتماعی برے اثرات، منتظرین ابوذر جیسی شخصیات کو مدنظر رکھیں

n00452664-b
مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ درس نہج البلاغہ/کنجوسی اور بزدلی کی مذمت ،غربت و افلاس کے اجتماعی برے اثرات، منتظرین ابوذر جیسی شخصیات کو مدنظر رکھیں

درس نہج البلاغہ (حکمات نورانی، کلمات قصار)
دوسرا درس
حکمت 3 :
موضوع: کنجوسی اور بزدلی کی مذمت ،غربت و افلاس کے اجتماعی برے اثرات، منتظرین ابوذر جیسی شخصیات کو مدنظر رکھیں

استاد محترم آغا علی اصغر* *سیفی صاحب

خلاصہ:
حكمت نمبر 3
البُخلُ عارٌ و الجُبنُ مُنقَصَةٌ و الفَقرُ یُخرِسُ الفَطِنَ عَن حُجَّتِهِ وَ المُقِلُّ غَریبٌ فی بَلدَتِه

حضرت امیرالمونینؑ نے فرمایا:
“کنجوسی عار ہے، اور بزدلی عیب ہے، اور غربت و تنگدستی زیرک انسان کو اپنی دلیل کے بیان سے عاجز بنا دیتی ہے، اور غریب و مفلس اپنے ہی شہر میں غریب الوطن ہوتا ہے”۔

1 ۔ کنجوسی بخل عار ہے
بخل یعنی انسان کے پاس اس کی ضرورت سے زیادہ ہیں اور وہ یہ نعمتیں دوسروں کو نہ دے ۔ بخل کے مقابلے میں سخاوت ہے جو دوسروں کو اپنی چیزیں وقت ضرورت پر دے دیتا ہے جو اپنی ضرورت والی چیزیں بھی اٹھا کر دوسروں کو دے دیتا ہے اور یہ کریم سخی ہے۔

بخل پر ہماری احادیث میں گفتگو ہوئی ہے۔ اور امام صادق ؑ کا ایک فرمان جو بہت دلچسپ ہے
بحار النوار میں یہ فرمان نقل ہوا ہے کہ ” *امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ وہ جوان جو گنہگار ہے لیکن سخی ہے وہ اللہ کے نزدیک اس بوڑھے گنہگار سے افضل ہے جو کہ بخیل اور کنجوس ہے۔”
یہاں کنجوسی کی مذمت ہوئی ہے اور سخاوت کی عظمت بیان ہوئی ہے۔ چونکہ خدا خود سخی ہے اور سخاوت والا فعل پروردگار عالم حتی کہ گنہگار سے بھی قبول فرماتا ہے۔

ہماری احادیث میں بخل کی بے پناہ مذمت ہے۔
حضرت امیرالمونینؑ نے جناب مالک اشتر کو جو وصیت کی تھی اس میں یہ کہا تھا کہ
“کبھی بھی بخیل کنجوس سے مشورہ نہ کرے”۔
اور نہج البلاغہ میں ایک مقام پر امیرالمونینؑ فرماتے ہیں کہ :
” کنجوسی انسان کے تمام عیوب کو ظاہر کردیتی ہے۔ ” یعنی کنجوس آدمی ہر حوالے سے بدنام ہو جاتا ہے۔
2 ۔ بزدلی عیب ہے
امیرالمونینؑ فرماتے ہیں
” بزدل لوگ انسان کی ذات میں نقص ہے”۔ اللہ نے جو اس کے وجود میں صلاحیتیں رکھی ہیں وہ ان سے کبھی بھی استفادہ نہیں کرتا ۔ انسان اپنے ناموس اور وطن کی خاطر لڑنے کو تیار نہیں بلکہ وہ مجاہدین کی صفوں کو چھوڑ کر خود کو ناکارہ لوگوں میں قرار دے گا۔ اور ایسے لوگ دنیا و آخرت میں ناکام ہیں۔
امام محمد باقرؑ ایک مقام پر فرماتے ہیں:
“بزدل حقیقت امامؑ تک نہیں پہنچتا”
اور امیرالمونینؑ نے جو جناب مالک اشتر کو وصیتیں کی تھیں اس میں یہ بھی تھا کہ ” بزدل سے بھی کبھی مشورہ نہ کریں۔

3۔ غربت و تنگدستی زیرک انسان کو اپنی دلیل کے بیان سے عاجزبنا دیتی ہےفقر و غربت کی آثار کی جانب اشارہ ہے کہ ایک فقیر شخص اگرچہ ذہین ہے لیکن اسی کی غربت اس کی زبان کو دلیل بیان کرنے سے روک دیتی ہے۔ کیونکہ وہ اپنے اندر احساس کمتری رکھتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ وہ جتنی بھی اچھی دلیل دے لوگ اس کے فقر کو دیکھ کر اس کی جانب توجہ نہیں کریں گے۔

یہی وجہ ہے کہ دنیامیں لوگ امیر آدمی کی بیوقوفانہ گفتگو پر تو توجہ کرتے ہیں لیکن ایک غریب آدمی کی محکم بات پر توجہ نہیں کرتے۔

اسی لیے فقراء لوگ بے پناہ احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں۔ اور بسا اوقات یہ فقر انہیں کفر تک لے جاتا ہے۔ شیطان بھی اس سے استفادہ کرتا ہے اور اسے فقر سے کفر تک لے آتا ہے۔
اسی لیے کہتے ہیں کہ فقر آدمی کی ایمان کی بہت بڑی آزمائش ہے اسے چاہیے کہ وہ اللہ پر توکل کرتے ہوے اپنے فقر اور غربت کو دور کرنے کی کوشش کرتا رہے۔
اللہ نے اسے سالم جسم اور عقل بطور نعمت دی ہے تو وہ غربت سے لڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ نفس کے وسوسوں اور شیطان کی جانب توجہ نہ کرے اور کفر اختیار نہ کرے۔
ہمارے آئمہ ؑ کے اندر بھی فقر آیا۔
بعض ایسی احادیث ہیں جن میں پیغمبرؐ اسلام نے اپنے فقر کی تعریف کی۔
فقر آزمائش ہے۔
اللہ دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی آزماتا ہے۔ انسان کو کوشش کرتے رہنا چاہیے۔
جب لوگ کوشش کرتے ہیں تو خدا مدد کرتا ہے۔ انسان لوگوں کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے اور کوشش کرتا رہے۔

4۔ غریب و مفلس اپنے ہی شہر میں غریب الوطن ہوتا ہے:
غریب انسان اپنے شہر میں تنہا ہے اس کا کوئی دوست اور عزیز نہیں رہتا کیونکہ وہ فقیر اور تنگدست ہے۔

فقیر وہ ہے جو تنگدست ہے لیکن اظہار کرتا ہے۔
مقل وہ فقیر ہے جو تنگ دست ہے لیکن کسی کے سامنے اظہار نہیں کرتا۔
امام محمد باقر ؑ سے کسی نے صدقے کے حوالے سے سوال کیا تو آپؑ نے فرمایا مقل کو دیں جو اتنی غربت میں بھی اظہار نہیں کرتااور دوسروں کو بخشتا ہے۔

ایسے لوگوں کے بارے میں حکم ہے کہ ان کو ڈھونڈا جائے اور ان کی مدد کی جائے اور یہ سیرت آئمہؑ ہے۔ کہ وہ رات کو لوگوں کے گھروں پر دستک دے کر اجناس دے کر چلے جاتے تھے۔
آئمہ ؑ ان کی خوداری کا خیال رکھتے تھے اور ان کو ظاہر نہیں کرتے تھے۔ ایسے لوگ دیندار اور افضل ہیں۔
پروردگار عالم ہمیں توفیق دے کہ ہم ان چار نقائص سے دور رہیں۔
آمین۔
منتظر کی صفات:
منتظر سخی ہیں۔ زمانہ ظہور میں وہ سخاوت سے پیش آئیں گے۔
منتظر شجاع ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں جان و مال فدا کرتا ہے۔
منتظر غریب بھی ہو تو صدقہ دیتا ہے
منتطر جناب ابوذر کی طرح مقل ہے۔ جوایمان کے اعلیٰ ترین درجہ پر فائز ہیں۔
والسلام

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید