تازہ ترین پوسٹس
کتابچه 11

گیارھواں کتابچہ ” عصر ظہور” – درس 14 – امام کے قیام کا تجزیہ

گیارھواں کتابچہ ” عصر ظہور”
درس 14
امام کے قیام کا تجزیہ
نکتہ: امام زمانہ عج کا دشمنان دین اور منافقین سے سخت طرز عمل ، مہدوی حکومت کی وسعت

استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ:

ہماری گفتگو عصر ظہور میں ہے اس حوالے سے موضوع سخن سیرت امام زماں ہے۔ آج کا موضوع سخن امام زمانہ عج کا دشمنان دین اور منافقین سے سخت طرزعمل اور مہدوی حکومت کی وسعت ہے۔

امام زماںؑ عج کا دشمنان دین اور منافقین سے سخت طرز عمل:
امام , دنیا کے اہل فساد، کفار اور منافقین اورجو امامؑ سے دشمنی برقرار رکھیں گے امام ان سے سختی سے پیش آئیں گے اور ان کے حوالے سے کسی قسم کی چشم پوشی نہیں ہوگی۔ اور سختی سے حدود الہیٰ اور احکام خدا کو جاری کریں گے۔ اور گنہگاروں اور ظالموں کو معافی نہیں جبکہ عام گنہگاروں کو معافی ہوگی۔

مولاؑ عج کی اس سختی کو روایات میں بیان کیا گیا ہے

امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں کہ:
جب ہمارے قائمؑ قیام کریں گے تو ایک نئی روش، قانون اور ایک نئی قضاوت کے ساتھ اور عربوں پر بہت سخت ہونگے۔ ( جیسا کہ بہت سے مسائل کا موجب یہ عرب ہی ہیں جیسے ہم دیکھیں کہ دنیا عرب، رزق، وسائل اور معدنیات سے بھرپور ہیں لیکن پھر بھی یہ فرہنگ غرب کے غلام ہیں۔ ان کے حاکم اسلام کی بے آبروئی کا باعث ہیں۔ اور ظالم ہیں اسوقت یہی اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کر رہے ہیں اور فلسطین کو تنہا چھوڑ دیا یہ چیچنیا ، کشمیر کے مسئلے میں کبھی اکھٹے نہیں ہوئے۔ یہی بحرین و یمن پر ظلم کر رہے ہیں اور ایران عراق جنگ میں امریکہ کے ساتھ ہوگئے۔)

فرماتے ہیں:
امام زماں عج کی جو سیرت ہے کہ شمشیر سے ، اسلحے سے اور طاقت سے ان کا مقابلہ کریں گے اور کسی ظالم کی توبہ کو قبول نہیں کریں گے۔
جب الہیٰ انتقام لیا جائے گا تبھی مظلوموں کے دلوں کو سکون آئے گا۔

لہذا ظالموں،منافقوں، مفسدوں، گمراہ کرنے والوں کی کوئی توبہ قبول نہیں ہوگی۔

فرماتے ہیں:
وہ احکام الہیٰ میں کسی سرزنش کرنے والے کی سرزنش سے نہیں ڈریں گے۔ اور خدا کا حکم ہر صورت میں جاری کریں گے۔
انشاءاللہ!

اسی طرح امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ :
جب ہمارے قائم قیام کریں گے تو اس وقت انہیں یہ ضرورت نہیں ہوگی کہ وہ تم سے نصرت طلب کریں (نصرت قبل از قیام ہے) لیکن جب ناصرین کی ایک بہت بڑی تعداد جمع ہوجائے گی اور مولاؑ قیام کریں گے تو پھر اپنے احکام الہیٰ کے اجراء میں پھر کسی سے مدد نہیں مانگیں گے۔ اور بہت سارے جو منافقین ہیں (جو باہر سے مسلمان اور اندر سے شیطان ہیں ) ان پر حد الہیٰ کو جاری کریں گے۔

البتہ بعض منافین ہوسکتا ہے کہ توبہ تائب کریں اور اپنے پچھلے کاموں سے امام ؑ کی بارگاہ میں خود کو پیش کریں ہوسکتا ہے کہ مورد بخشش قرار پائیں۔ لیکن باقی پر حد الہیٰ جاری ہوگی۔

اسی طرح امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ
امام مہدیؑ جتنے بھی دشمنان دین ہیں کہ جنہوں نے نفاق کو اپنا پیشہ قرار دیا ہوا ہے ان کو امام ختم کریں گے۔

فرماتے ہیں کہ :
جب لوگ امر و نہی میں مصروف ہونگے تو اسوقت امام ؑ عج حکم دیں گے کہ ان لوگوں کو امر و نہی کرنے کا فائدہ نہیں لہذا ان کی گردنیں اتار دی جائیں۔

بعض مرتبہ جسم کے ایک عضو کو دوا سے شفا نہیں ہوتی تو اس کو جسم سے جدا کر دیا جاتا ہے تاکہ باقی جسم میں بیماری نہ پھیلے۔

فرماتے ہیں کہ:
ایسے لوگوں کو کہ جنہیں امر و نہی کیا جارہا ہوگا مولاؑ عج فرمائیں گے کہ ان کو امرو نہی نہ کیا جائے بلکہ ان کی گردنیں اڑا دی جائیں۔

فرماتے ہیں۔
دنیا کے مشرق و مغرب میں کوئی بھی ایسا نہ رہے گا کہ جن پر امام کا خوف اور ہیبت طاری ہو۔

عام لوگوں کے دلوں میں مولا عج کی محبت ہوگی۔ لیکن منافقین کے دلوں پر خوف طاری ہوگا۔

روایات میں آیا ہے کہ: امام زماں عج اسی طرح عمل کریں گے کہ جس طرح رسولؐ خدا عمل کرتے تھے۔ اور جسطرح انہوں نے جہالیت شرک اور رسوم ورواج کو ختم کیا۔ اسی طرح امام زماں عج منافقت والی جہالیت کو ختم کریں گے۔

اسی طرح ایک اور روایت میں فرماتے ہیں کہ:
بہت زیادہ لوگوں پر مہربان ہیں۔ سخاوت کریں گے اور مساکین سے بہت زیادہ محبت کریں گے لیکن اپنی حکومت کے عہدیداروں کے ساتھ سخت گیر ہوں تاکہ وہ لوگوں کے ساتھ انصاف اور مہربانی سے پیش آئیںَ

اور امیر المومنین ؑ کا فرمان ہے کہ:
اگر کوئی مہدیؑ کی حکومت میں کوئی منصب دار خلاف حکم کام کرے گا تو مولاؑ عج اس کو سزا دیں گے ۔ اس طرح یہ حکومت پوری دنیا کو انصاف سے بھرے گی۔

مہدوی حکومت کی وسعت:
یہ حکومت پوری دنیا پر قائم ہوگی۔ اور مولاؑ پوری دنیا پر آٹھ مہینے میں غلبہ پالیں گے۔

امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ:
مہدیؑ عج کا ظہور یوم الفتح ہے۔

خود پیغمبرؐ فرماتے ہیں کہ:
پوری زمین نور پروردگار سے چمکے گی۔ اور مہدی ؑ عج کی حکومت شرق و غرب تک پھیل جائے گی۔

امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں کہ:
زمین ان کے لیے سکڑے گی۔ یعنی پوری زمین ان کے اختیار میں آجائے گی۔ اور اپنے خزانے ان کے لیے ظاہر کر دی گی۔

قرآن کے اندر لفظ زمین آیا ہے اور روایات میں بھی لفظ زمین آیا ہے۔

امام رضاؑ فرماتے ہیں کہ:
خدا مہدیؑ عج کے ہاتھوں زمین کو منکر خدا اور کفار سے پاک کرے گا۔ اور زمین ان کے پاؤں کے نیچے سکڑے گی اور ان کے اختیار میں ہوگی۔
جاری ہے
والسلام
تحریر و پیشکش:
سعدیہ شہباز
عالمی مرکز مہدویت قم

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *