عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

کتاب لقاء اللہ (سیر و سلوک) – درس دوم

سلسلہ دروس لقاء الله
کتاب لقاء اللہ کے دروس مہدی مضامین و مقالات

کتاب لقاء اللہ (سیر و سلوک) – درس دوم

کتاب لقاء اللہ (سیر و سلوک)
✍️(آیت اللہ العظمی میرزا جواد ملکی تبریزی رح)
درس دوم
نکات :لقاء اللہ سے مراد، آیا یہ لقاء ممکن ہے؟، دو شیعہ نظرئیے، مرحوم کی نگاہ می راہ حق، امیر المومنین ع کے کلمات، اہل معرفت کی ملاقات

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ : 
آیت اللہ العظمی میرزا جواد ملکی تبریزی کتاب کا آغاز اس طرح فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں بیس 20 سے زائد مقامات پر یہ عبارت آئی ہے یعنی لقاء اللہ “پروردگار سے ملاقات”
بعنوان مثال:
سورہ العنکبوت 5 میں ارشاد باری تعالیٰ ہو رہا ہے۔ 
مَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَآءَ اللّـٰهِ
وہ شخص اللہ سے ملنے کی امید رکھتا ہو

سورہ البقرہ 46
الَّـذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّـهُـمْ مُّلَاقُوْا
جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں ضرور اپنے رب سے ملنا ہے

سورہ انسان 11 
وَلَقَّاهُـمْ نَضْرَةً وَّسُرُوْرًا
اللہ تعالیٰ ان سے ملاقات کرے گاکہ یہ شادمان اور مسرور ہونگے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے۔

فرماتے ہیں کہ قرآن میں بیس مقامات سے زائد لقاءاللہ آیا ہے۔ اور اسی قسم کی تعبیرات محمدؐ و آل محمدؑ سے آنے والی احادیث اور روایات میں بیان ہوئیں۔

اور ایک جانب ایسی بھی روایات ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کی خالص تنزیہ بیان ہوئی ہے۔ تنزیہ خالص یا تنزیہ صرف سے مراد یہ ہے کہ پروردگار کی کسی بھی صورت میں معرفت حاصل نہیں ہو سکتی۔
دو اہم نظریے
اب یہاں اہل تشیع میں مختلف قسم کے نظریات اور مکاتب ہیں جن میں سے فقط دو کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

پہلا نظریہ:

ماہرین کلام شیعہ کہتے ہیں تنزیہ صرف یعنی خالص تنزیہ سے مراد ہے کہ پروردگار عالم منزہ ہے کہ کوئی اس سے ملاقات کرے یا اس کی معرفت پیدا کرے ۔ انسان کسی بھی صورت میں اللہ کی معرفت پیدا نہیں کر سکتا کیونکہ وہ لا محدود ہے اور ہم محدود ہیں۔ اور ایک محدود کسیے لا محدود کو درک کر سکتا ہے ۔ لہذا اگر اس حوالے سے آیات اور روایات بیان ہوئیں ہیں تو ان کی تاویل کی جائے اور وہاں لقاءاللہ سے مراد موت لی جائے یا ثواب و عقاب سے ملاقات لی جائے کہ جب انسان مرتا ہے تو یا اجر پاتا ہے یا سزا پاتا ہے اس کے علاوہ کوئی اور معنیٰ نہیں پا سکتا۔

دوسرا نظریہ: 

علمائے شیعہ کے اندر کچھ ایسے بھی علماء ہیں جو اہل معرفت ہیں اور صاحبان حکمت ہیں جو کہتے ہیں کہ ان آیات و احادیت جو لقاء پروردگار پر گفتگو کرتی ہیں اور جو تنزیہ پر گفتگو کرتی ہیں ان کے درمیان ایک اکٹھ اور جمع ممکن ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ آیات و روایات جوفقط تنزیہ پروردگار پر ہیں۔ کہ خدا منزہ ہے کہ کوئ اس کی معرفت حاصل کرے تو یہاں مراد ہے کہ ظاہری آنکھ سے دیکھنا نا ممکن ہے۔ یا یہ مراد ہے کہ اللہ کی جو ذات ہے ہم اس کی کنہ حقیقت کو درک نہیں کر سکتے۔

اور وہ روایات و آیات جو کہتی ہیں کہ خدا کی معرفت ہو سکتی ہے تو اس سے مراد اللہ کی اجمالی معرفت یا اس کے اسماء یا صفات کی معرفت ہے جو ہم جیسے موجودات جو عاجز اور حقیر ہیں خالق کی مخلوقات میں وہ ہمارے لیے ممکن ہے۔

یعنی جب انسان کے وجود سے گناہوں کے تاریک حجابات دور ہوتے ہیں تو پھر خدا کا نور اس کے وجود پر ظاہر ہوتا ہے اور اللہ کی ذات و صفات و اسماء کی کچھ نہ کچھ اسے معرفت پیدا ہوتی ہے۔

اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے جمال و جلال کے انوار خدا کے خاص بندوں کے قلب اور عقل پر تجلی کرتے ہیں۔ وہ جب پروردگار کی بارگاہ میں اس کی ذات میں گم ہو جاتے ہیں اور اس کے جمال و جلال میں محو ہو جاتے ہیں تو ان کی عقل پروردگار کی معرفت میں غرق ہو جاتی ہے تو پھر ایک ایسا مقام آتا ہےکہ پھر خدا ان کے امور کی تدبیر اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور وہ فنا فی اللہ ہو جاتے ہیں اور وہاں صرف پروردگار کی ذات ہی باقی رہتی ہے۔

ان کے امور خدا کے امور ہو جاتے ہیں تو وہاں جاکر بھی وہ خدا کی ذات کی حقیقت کو درک کرنے سے عاجز ہو جاتے ہیں وہاں انہیں حقیقی معنوں میں اپنے عجز کا احساس ہوتا ہے یعنی مقام کشف جہاں وہ اپنے دل کی آنکھ سے دیکھ رہے ہوتے ہیں وہاں وہ اپنے عاجز و حقیر ہونے کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

لیکن یہاں عام آدمی کا عجز کہاں اور ان ہستیوں کا عجز کہاں اور اب یہاں ہمیں محمدؐ و آل محمدؑ کی دعا بھی سمجھ آرہی ہے کہ جہاں وہ اپنی خطاؤں کا اقرار کرتے ہیں اور اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔ کہ وہ اس مقام پر مقام معرفت میں فنا فی اللہ ہوئے ہوتے ہیں۔ نہ کہ ہم جیسی حالت ۔ لہذا ہم ان کی دعاؤں کو اپنی حالت پر قیاس نہیں کر سکتے وہ خاص حالت میں ہیں۔

جب نبی ؐ کریم جو محبوب پروردگار ہیں اور اللہ کی مخلوقات میں سب سے اعلیٰ و اعظم ہیں جب وہ اپنے عجز کا اظہار فرمائیں تو ان کی امت کا عجز کجا اور ان کا عجز کجا۔

آیت اللہ العظمی میرزا جواد ملکی تبریزی اسی دوسرے نظریہ کے قائل ہیں۔ فرماتے ہیں کہ:

ہمارے جو ماہرین کلام ہیں جو لقاء کو موت سے یا ثواب و عقاب سے تعبیر کرتے ہیں انہوں نے گویا ملاقات کا حقیقی معنیٰ ترک کر دیا اور ملاقات کا غیر حقیقی یعنی مجازی معنیٰ کو اختیار کیا تو یہ دلیل کے بغیر مناسب نہیں اور اس کی ضرورت کیا ہے کہ ہم دور کے معنی کو کیوں ہم یہاں ملاقات کا معنیٰ مراد لیں۔

ملاقات کا معنیٰ کبھی بھی موت نہیں ہے اور نہ ہی ثواب و عقاب کا حاصل کرنا ہے۔ اگر کوئی یہ معنیٰ کرے گا تو یہ ایک مجازی معنی ہے۔ اور اگر آپ نے حقیقی معنیٰ مراد نہیں لینا اور لازمی ہے کہ کوئی مجازی معنیٰ مراد لیں تو اس صورت میں لازمی ہے کہ ایسا معنیٰ مراد لیں جو حقیقی معنیٰ کے قریب ہو۔

درست ہے کہ اللہ کی معرفت اور اس کی ذات کو صحیح معنیٰ میں درک کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں لیکن ہم اس حد تک تو درک کر سکتے ہیں جس حد تک پروردگار عالم اجازت دے ۔ اس کی مختصر معرفت اور اس کی واجب الوجود ذات کی ممکن الوجود سے کر سکتے ہیں یا اس کے اسماء اور صفات کی معرفت جس سے اس کی ذات کی کچھ تجلیوں کو ہم سمجھ سکتے ہیں۔

اگرچہ یہ اس کی ذات کی حقیقی ملاقات نہیں لیکن ہم کچھ نہ کچھ تو اس کے قریب تو ہو چکے ہیں ہو سکتا ہے کہ یہ بھی اس کی ملاقات کی ایک قسم ہو۔

مرحوم فرماتے ہیں کہ:
ملاقات اور ملاقات کی کئی قسمیں ہیں۔ جیسے مثال دیتے ہیں کہ لفظ میزان، ترازو اس کا ایک اپنا ایک معنیٰ ہے۔ اب ہم دنیا میں کئی طرح کے ترازو دیکھتے ہیں۔ قدیم زمانے میں جو دو پلڑے کی صورت میں تھا ۔ آج ترازو کی اور قسمیں آگئیں ہیں۔ پھر ہر چیز کا ایک اپنا ترازو ہے۔ تولنے والا الگ ہے۔ کپڑے کا الگ ہے۔ حرارت کو ناپنے والا الگ ہے۔ انسانی بدن کے اندر خون کی حرارت کو ناپنے والا الگ ہے۔ فضا میں موجود گیسز کو ناپنے والا اور اسطرح مختلف اشیاء کو ناپنے والا ترازو ہے۔ ان سب کو حقیقت میں ترازو کہتے ہیں اگرچہ انکی خصوصیات جدا جدا ہیں ۔ تو ہر چیز ترازو ہے اپنے مقام پر اور جو اس کے مقام پر ہے فقط وہی اسے سمجھے گا کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔

اس طرح پروردگار سے ملاقات کی قسمیں ہیںَ
درست ہے کہ یہاں جسم کی جسم سے ملاقات تصور نہیں ہو سکتی ۔ روح کی اس وجود مجرد سے کس طرح کی ملاقات ہے وہ شائد ہمارے تصور میں نہ آئے لیکن انسان جیسے جیسے معرفت میں قدم بڑھاتا ہے اور خدا کے نزدیک ہوتا ہے تو اسے ایک طرح کی ملاقات حاصل ہوتی ہے چاہے وہ دینی ہو فکری ہو یا روح کی ملاقات ہو۔ اور یہ کس قسم کی ہے یہ ملاقات کرنے والا جانتا ہے اور جس سے ملاقات ہو رہی ہو وہ جانتا ہے۔ کیونکہ ہے یہ ملاقات ہی۔ چاہے پروردگار عالم کی تجلی اس کے قلب پر ہو اس کے افعال ہو ، اس کے ذہن و فکر پر ہو۔ اب یہ کس قسم کی ہے تو جو اس راہ پر ہے وہی اس کو سمجھتا ہے۔
ممکن ہے یہ قابل توصیف نہ ہو لیکن ہوتی ملاقات ہی ہے۔

جیسے امیرالمومنینؑ لفظ  قد قامت الصلواۃ  کی تفسیر فرماتے ہیں گویا خدا کی زیارت کا وقت نزدیک ہو گیا۔

یقیناً یہ جسم کی جسم کے ساتھ زیارت نہیں ہے ۔ خدا تو جسم و جسمانیت سے پاک ہے۔
یا جب مولا ؑ فرماتے ہیں۔:
“پروردگارا مجھے اپنے چہرے پر نظر کرنے سے محروم نہ کر۔

یہ حتماً جسم والا چہرہ نہیں ہے بلکہ یہ درجہ معرفت ہے۔
اسلیے مولاؑ فرماتے ہیں
” انسان کے دل اللہ کو ایمان کی حقیقتوں کے ساتھ دیکھتے ہیں۔”
یہ کون سی حقیقتیں ہیں۔ اور یہ کون سا دیکھنا ہے اور دل کیسے دیکھتے ہیں۔ یہ بھی ایک ملاقات ہے تو ہم کیوں ملاقات کو موت سے تشبیہہ کر رہے ہیں۔

جاری ہے۔۔۔۔

پروردگارعالم ہم سب کو یہ عارفانہ بحث سمجھنے کی طاقت دے اور اس سے بھرپور فیض لینے کی طاقت عطا فرمائے تاکہ ہم اپنے پروردگار کے لائق عبد بنیں اور زمانے کی حجت کے لائق اور خدمت گذار ناصر بنیں۔

والسلام ۔

عالمی مرکز مہدویت قم ۔

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید