عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

کتابچہ 9 – دوسرا درس – ملاقات امام زمان عج – ملاقات کی اقسام

کتابچه 9
مہدی مضامین و مقالات

کتابچہ 9 – دوسرا درس – ملاقات امام زمان عج – ملاقات کی اقسام

کتابچہ 9 ملاقات امام زمان عج
دوسرا درس
ملاقات کی اقسام
ملاقات کی ضرورت پر دلائل

استادِ محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ:
موضوع سخن امام زمانہ عج سے ملاقات ہے کہ آیا یہ دلائل سے ثابت ہو سکتا ہے کہ امام زمانہؑ عج سے ملاقات ہو سکتی ہے یا نہیں۔

اس سے پہلے کہ ہم بحث میں داخل ہوں اس موضوع کے مثبت اور منفی اثرات پر اور ملاقات کی اقسام پر بحث کی گئی۔

بطور کلی ملاقات کی تین اقسام ہیں۔
۔۔  زمانے کے اعتبار سے ملاقات
امام زمانہ ؑ عج کے تین ادوار ہیں۔
پہلا زمانہ ابتدائی پانچ سال ہیں جو امام حسن عسکری ؑ کا زمانہ ہے اس میں ملاقاتیں ہوئیں لیکن یہ زمانہ ہمارا موضوع بحث نہیں۔

دوسرا زمانہ غیبیت صغریٰ کا ہے جس میں نائبین کے ذریعے ملاقاتیں ہوئیں۔ شیخ طوسیؒ نے ایسے تین سو افراد کا ذکر کیا کہ جنہوں نے غیبت صغریٰ میں امام زمانہؑ عج سے ملاقاتیں کیں اور اس ملاقات میں نواب اربعہ کا کردار تھا کہ جو مومنین کی اپنے مولاؑ سے ملاقات کا اہتمام کرتے تھے۔

تیسرا دور غیبت کبریٰ ہے جو 329 ھ سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔ اس دور کے اندر بھی بظاہر ملاقاتوں کے واقعے ہوئے ہیں اور بحث ہے کہ آیا ہو سکتی ہے یا نہیں اور ہمارا موضوع بحث بھی یہی ہے۔

۔۔ حالت کے اعتبار ملاقات
۔ خواب میں ملاقات ہونا۔
کوئی بھی شخص امام ؑ عج سے خواب میں ملاقات کر سکتا ہے۔ یہ ہمارا موضوع بحث نہیں ہے۔ علمائے کرام اس کو اس لیے موضوع بحث قرار نہیں دیتے کیونکہ خواب حجت نہیں اور وہ کسی بھی طرح سے کسی عمل کا شرعی اعتبار سے معیار قرار نہیں پاسکتا۔ پھربھی اگر خواب آئے تو کسی بھی ماہر مہدویت اور علما کی خدمت میں بیان کرے اور ان سے راہنمائی لے۔

۔ مکاشفہ کی حالت۔
انسان نہ مکمل نیند میں ہے اور نہ ہی مکمل بیداری میں اس حالت میں حواس کسی خاص موضوع پر توجہ کر لیتے ہیں اور اس حالت میں اگر وہ کوئی خاص منظر دیکھے اور کہے کہ میں امام زمانہؑ عج کے حضور میں پیش ہوا ہوں تو ماہرین یہ کہتے ہیں کہ یہ حالت بھی دلیل نہیں قرار پاسکتی۔ اگر کوئی شخص مکاشفے میں امامؑ سے کوئی بات سنتا ہے تو چاہیے کہ ماہرین اور علما کی جانب توجہ کرے۔ مکاشفہ بھی حجت نہیں۔

۔۔ شناخت اور معرفت کے اعتبار سے ملاقات۔
یعنی ایک شخص بیداری کی حالت میں امام زمانہؑ عج سے ملاقات کرے یہ ہمارا موضوع بحث ہے۔

اس قسم کی بھی تین حالتیں ہیں۔ 

۔ اگر ہم غیبت کبریٰ میں بیداری کی حالت میں امامؑ سے ملتے ہیں تو ہمیں ملاقات کے آخر تک پتہ نہیں چلتا کہ یہ ہمارے مولا امام زمانہؑ عج ہیں۔ یہ بھی موضوع سے خارج ہے۔

۔ اور اگر ہم آخری چند لمحوں میں امام زمانہؑ کی معرفت کی جانب متوجہ ہوئے۔

۔یا ہمیں اول سے لے کر آخر تک معلوم تھا کہ ہم کس ہستی کے حضور میں موجود ہیں۔ یہ ہمارا موضوع بحث ہے۔

پس ملاقات اس صورت میں ہے کہ اگر
۔ غیبت کبرٰی میں ہو۔
۔بیداری کی حالت میں ہو۔
۔ معرفت اور شناخت کے ساتھ ہو۔
یعنی ملاقات کے آخر میں مطمئن ہو جائے کہ اس نے امام وقت سے ملاقات کی ہے یا نہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ آیا ایسی ملاقات ممکن ہے یا نہیں اس سے پہلے ہم اس کے امکان کے دلائل پیش کرتے ہیں۔

سب سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ ملاقات انجام پانے کی کیا ضرورت ہے کہ لوگ امام زمانہؑ عج سے ملاقات کریں۔

علمائے کرام اس سلسلے میں دو دلائل پیش کرتے ہیں۔
۔۔  مولاؑ کے وجود اس ملاقات سے مربوط ہے
ہمارا عقیدہ ہے کہ زمین حجت خدا سے خالی نہیں لیکن جب عملی طور پر یہ ملاقات دیکھتے ہیں تو ہمارا عقیدہ یقین کی بلندیوں تک پہنچتا ہے۔

درست ہے امام ؑ کے فرامین اور توقیعات ہمارے درمیان موجود ہیں۔ لیکن ساتھ ساتھ عملی طور پر بھی ضرورت ہے کہ کبھی کبھی مولاؑ یہ ثابت کریں کہ وہ لوگوں کے درمیان موجود ہیں۔

اسی غیبت کبریٰ میں کوئی گروہ ہو جو آپ سے ملاقات کرے اور وہ ملاقات نقل بھی ہو۔ تو اس سے امامؑ عج کے وجود کا اثبات ہر زمانے میں انسان محسوس اور مشاہدہ کرتا ہے یعنی یہ ہماری عملی زندگی کی ایک بہت بڑی حقیقت ہے۔ اور فقط کتابوں میں نہیں لکھی گئی۔

۔۔دوسری دلیل یہ ہے کہ امام کی جو فعالیت ہے اس سے لوگ آگاہ ہوں۔ جیسے کچھ لوگوں نے ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ امامؑ فقط گریہ کرتے ہیں۔ امام کی بعنوان ھادی ، ولی خدا بہت زیادہ فعالیت ہے۔ امام بہت سے کام کر رہے ہیں۔ جیسے کسی کی راہمنائی ، کسی مریض کو شفا، کسی کی دستگیری، کسی کی مالی مدد یا پھر بعض مرتبہ اجتماعی طور پر ایسے حالات ہو جاتے ہیں کہ علما اس کا حل نہیں نکال سکتے تو اس صورت میں وہ توسل کرتے ہیں اور مولاؑ سے یقیناً ملاقات ہوتی ہے اور حل بھی نکلتے ہیں۔

جیسے علامہ مجلسؒی نے بحار الانوار کے اندر بحرین کے شیعوں کا واقعہ نقل کیا۔

ہماری آج کی عملی زندگی میں بھی ایسے واقعات ہیں خود ایران کے اسلامی انقلاب بھی جب امام خیمنیؑ کے حکم سے فوجی حکومت ٹوٹ گئی۔ اور آپ کے حکم پر لوگ سڑکوں پر نکل آئیں ۔

تو کسی نے کہا کہ اے امام آپ یہ حکم نہ دیں ورنہ قتل و غارت ہوگا۔ تو رہبر کبیرؒ نے فرمایا۔ کہ یہ صرف میرا حکم نہیں بلکہ یہ کسی اور شخصیت نے حکم دیا ہے۔ اور یہاں یہ واضح ہو رہا تھا کہ یہ حکم امام وقتؑ عج نے دیا ہے۔ اور یہ وہ لحظات تھے کہ جن میں انقلاب اسلامی کی کامیابی تھی۔ اور ان کا یہ حکم دینا فوجی حکومت کی نابودی کا باعث بنی کیونکہ امام زمانہ ؑ کی نصرت حاصل ہوئی ۔

اسی طرح ایران عراق ، لبنان ، فلسطین میں ہونے والی جنگوں میں لوگوں نے امام زمانہؑ عج کی نصرت کو محسوس کیا اور مشاہدہ کیا۔

والسلام۔

عالمی مرکز مہدویت قم۔

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید