تازہ ترین پوسٹس

مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی کیسے مدد کریں؟_ درس مہدویت بروز جمعہ

درس مہدویت بروز جمعہ
مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی کیسے مدد کریں

بروز جمعہ، 11 اپریل 2025

استاد محترم قبلہ علامہ علی اصغر سیفی صاحب

۔۔’ ﷽’۔۔
وَلَمْ يُهَاجِرُوا۟ مَا لَكُم مِّن وَلَـٰيَتِهِم مِّن شَىْءٍ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا۟ ۚ وَإِنِ ٱسْتَنصَرُوكُمْ فِى ٱلدِّينِ فَعَلَيْكُمُ ٱلنَّصْرُ
سورہ الانفال 72

اللھم صلی علی محمؐدﷺ وآل محمؑدﷺ

موجودہ دور میں دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے بہت سارے لوگ علمائے کرام سے بار بار یہ سوال پوچھ رہے ہیں اور ہماری طرف بھی یہ سوال پہنچ رہا ہے کہ اتنا بڑا ظلم ہو رہا ہے اور ظالم ظلم کر رہے ہیں، ظالموں کی مدد ہو رہی ہے اور بہت سارے ممالک ، بہت ساری طاقتور حکومتیں حتیٰ مسلمان حکومتیں جو مظلومین کی مدد کر سکتی ہیں لیکن! نہیں کر رہی ہیں۔ اب ہم عوام الناس کا کیا وظیفہ ہے اور ہم جو عام لوگ ہیں ہمارے دل جل رہے ہیں تو ہم کیا کریں۔ ہم تو وہاں نہیں جا سکتے اگر چلے بھی جائیں تو ہمارے لیے تو لڑائی کے مواقع میسر ہی نہیں ہیں اور ممکن نہیں کہ پرانے زمانے کی طرح ہم ایک ملک سے دوسرے ملک تک آرام سے اٹھ کر چلے جائیں۔ ہم ان کی عملاً مدد کیسے کریں تو اب ہمارا وظیفہ کیا ہے؟؟

ہجرت :
سورہ الانفال کی 72 نمبر آیہ مجیدہ میں پروردگار کا حکم ہے اور یہ حکم اس عنوان سے ہے کہ جب مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت ہوئی تھی تو سب لوگوں نے ہجرت نہیں کی تھی بلکہ کچھ لوگ مکہ میں رہ گئے تھے۔ اب وہ کیا مسائل تھے وہ بذات خود ایک تاریخی بحث ہے۔ کچھ لوگ جو مکہ میں رہ گئے تھے وہ اب ظالموں کے محاصرے میں تھے اور یقیناً ان ظالموں نے ان مظلوموں پر ظلم کرنا تھا ۔ اللہ نے ہجرت کے فوراً بعد ایک حکم صادر فرمایا۔ جو سورہ الانفال کی آیت نمبر 72 میں ہے۔

یہ آیہ مبارکہ طولانی ہے اور یہاں ہم اس کا ایک حصہ بیان کریں گے۔
پروردگار فرما رہا ہے۔

وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا
وہ لوگ جنہوں نے ہجرت نہیں کی
مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ
اور جو ایمان لائے اور گھر نہیں چھوڑا تمہیں ان کی وراثت سے کوئی تعلق نہیں
حَتّٰى یُهَاجِرُوْا
یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں، (تو آپ کی طاقت بڑھے گی)

اب یہاں پروردگار نے ایک حکم صادر کیا:

وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ
اور اگر وہ دین کے معاملہ میں مدد چاہیں تو تمہیں ان کی مدد کرنی لازم ہے

دین کا مسئلہ 
جب وہ تمھیں دینی اعتبار سے پکاریں تو تم پر مدد واجب ہے۔ یعنی ! اس وقت فلسطینی بھائی پورے عالم اسلام کو پکار رہے ہیں تو اس وقت ان کی مدد کرنا واجب ہے حتیٰ ایک عام شخص پر بھی مدد کرنا واجب ہے۔

اس حوالے سے اصول کافی سے روایات بیان کرتے ہیں۔
اصول الکافی میں ایک باب ہے کہ جسے محقق کلینیؒ نے اس عنوان سے بیان کیا ہے۔

باب الاھتمام بامور المسلمین

اس میں کافی احادیث و روایات ہیں ہم دو روایات بیان کرتے ہیں اور دونوں روایات امام صادقؑ سے نقل ہوئیں ہیں ۔

روایت: 1
مولاؑ صادقؑ نے پیغمبرؐ اسلام ﷺ سے نقل کیا ہے فرمایا:

قال نبیؐ ﷺ:
مَنْ أَصْبَحَ لا یَهْتَمُّ بِأُمورِ الْمُسْلمینَ فَلَیْسَ بِمُسْلِم
جو مسلمانوں کے معاملات کی پرواہ نہیں کرتا وہ مسلمان نہیں ہے۔

یعنی! اگر کوئی مسلمان اس حالت میں صبح شام کرے کہ اسے دوسرے مسلمانوں کے امور سے کوئی تعلق نہ ہو اور فقط اپنی زندگی گذار رہا ہو۔ اور دوسرے مسلمانوں پر جو مظالم گذر رہے ہیں اسے اس سے کوئی ربط نہ ہو تو پیغمبرؐ اسلام ﷺ فرماتے ہیں کہ ایسا شخص مسلمان نہیں ہے۔ آپ بیشک اسے ظاہراً مسلمان سمجھیں اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کریں لیکن! یہ مسلمان نہیں ہے۔

روایت 2۔
اصول کافی ج۔ 2، ص 164

قال رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله
مَنْ سَمِعَ رَجُلاً ینادی یا لَلْمُسْلِمینْ فَلَمْ یجِبْهُ فَلَیسَ بِمُسْلِم

پیغمبرؐ اسلام ﷺ فرماتے ہیں کہ:
جو مسلمانوں کو مدد کے لیے بلانے والے مظلوم کی آواز سُنے اور اس کی مدد کے لیے نہ جائے تو وہ مسلمان ہی نہیں۔

یہ چیزیں ہمارا وظیفہ بیان کر رہی ہیں کہ ہم اپنی کوشش کے مطابق مظلوم کی صدا کا جواب دیں۔ درست ہے کہ ہم شائد استطاعت سے بڑھ کر نہ دیں سکیں لیکن! اپنے وظیفہ مسلمانی کے عنوان سے میں جتنا جواب دے سکتا ہوں مجھے دینا چاہیے۔

یہ دنیا حادثات اور واقعات کی جگہ ہے اور یہ دنیا ہمارا اصلی وطن نہیں ہے ہم یہاں عارضی طور پر آئے ہیں اور ہم اہل دنیا ہی نہیں ہیں، اسی لیے ہمارے بعض علمائے کرام یہ کہتے ہیں کہ یہ جو انسان اس دنیا میں بیمار رہتا ہے تو وہ اسی لیے ہے کہ وہ اہل زمین نہیں ہے اور وہ کسی اور جہاں سے آیا ہے۔ یہاں نہ تو موسم سازگار ہے اور نہ ہی غذائیں، پانی اور ہوا سازگار ہیں۔ اور اس دنیا کے حالات ہماری روح اور فکر کے ساتھ سازگار نہیں ہیں۔ یہ دنیا ہمارا وطن نہیں اور اللہ نے ہمیں جو عارضی اس جگہ پر بھیجا ہے تو یہ جو حادثات اور واقعات دنیا میں ہو رہے ہیں اس کے مد مقابل ہمارا طرز عمل ہماری جزا اور سزا کا معیار ہے۔ یہ ہماری شخصیت کا معیار ہے اور یہ ساری ہماری آزمائش ہے۔

اہل فلسطین بہشتی ہیں وہ شہداء ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں اور جو ان کی مدد کر رہے ہیں وہ بھی بہشتی ہیں اور ظالمین حتماً جہنمی ہیں اور خدا کی جانب سے مشخص ہیں اور ظالموں کے مددگار بھی جہنمی ہیں۔ اور اس کا فیصلہ قرآن مجید میں ہوچکا ہے ۔ اور جو اس ظلم پر خاموش ہیں اور خاموشی کے ساتھ ظالمین کی مدد کر رہے ہیں وہ بھی روز قیامت بارگاہِ پروردگار میں جوابدہ ہیں۔

مسلمان حکمرانوں سے روز محشر پیغمبرؐ اسلام کا سوال :
روز محشر پیغمبرؐ اسلامﷺ اپنی امت کے مسلمان حکمرانوں سے پوچھیں گے کہ ایک لاکھ کے برابر مسلمان مظلومیت سے قتل ہوئے اور آپ کے سامنے ان کے گھر منہدم کئے گئے اور جلائے گئے تو اس وقت آپ حکمرانوں نے اپنا کردار کیوں ادا نہ کیا ؟؟ جبکہ آپ کے پاس مذاکرات، اسلحہ اور طاقت تھی اور آپ کو قدرت حاصل تھی کی ان ظالم ممالک کے ساتھ اقتصادی اور معاشی حوالے سے بائیکاٹ کر دیں تو پھر کیوں نہیں کیا؟؟

انسٹاگرام پر مصر کے سلفی عالم کا فلسطین کے خلاف بیان:
حیرانگی ہے کہ سوشل میڈیا انسٹا پر ایک مصر کے سلفی عالم نے واضح طور پر کہہ دیا کہ ہمارا فلسطین کے مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ اپنی سزا خود بھگت رہے ہیں انہوں نے ہم مسلمان ملکوں سے پوچھ کر اسرائیل پر حملہ تو نہیں کیا تھا ؟؟ ایران سے پوچھا تھا تو اب وہی ان کی مدد کرے

درست ہے ! کہ اُن سو یا ہزار جوانوں نے آپ سے نہیں پوچھا تھا تو یہ جو باقی عوام مر رہی ہے اور آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے کیا ان آپ سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔

یعنی! ان کا طرز تفکر دیکھیۓ! 🫴 کہ اتنے بڑے بڑے پیشانی پر محراب اور لمبی لمبی ڈاڑھیاں ہیں ۔ قرآن اور حدیث کا عالم تھا اور مصر کا درباری مُلا تھا اور اس طرح کے تو لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے ایسے درباری مُلا ہر ملک میں ہیں۔

یعنی! آپ کے سامنے وہاں روزانہ کی بنیاد پر چالیس سے پچاس بچے بوڑھے جوان قتل ہو رہے ہیں اور یہ فلسطین میں ایک عام سی بات ہے، اتنے اعداد میں انسانوں کا روزانہ قتل ، گھروں کا منہدم ہونا، جلایا جانا۔ ادویات و خوراک کی کمی اور اس ظلم پر آدھی دنیا جو مسلمان ہے وہ خاموش ہے اور ایک عجیب سی چیز جو ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلمان ممالک میں مظاہرے ختم ہوچکے ہیں اور یہ عجیب بات ہے۔ یعنی! شعور کی دنیا میں دیکھیں کہ اگر مظاہرے ہیں تو وہ فقط مغربی ممالک میں چل رہے ہیں۔

مہدوی روایات: 
امام زماںؑ عج جب ظہور فرمائیں گے انشاءاللہ! کہ پروردگار ہمیں ان کا ظہور دکھائے
الہیٰ آمین!
اللھم صلی علی محمدؐﷺ وآل محمدؑﷺ

مولاؑ عج جب ظہور فرمائیں گے تو سب سے زیادہ لڑائی مسلمانوں کے اندر ہے اور جو مسلمانوں کے اندر دشمن دین ہیں جو منافق ہیں وہ لڑیں گے۔ اور اس وقت غربی دنیا میں کوئی لڑائی نہیں ہوگی اور پورا کہ پورا مغرب مسلمان ہوگا۔ یعنی! ان کے اندر اتنا شعور بڑھے گا کہ وہ منتظر تھے ایک نجات دہندہ کے۔

یعنی! نسلی مسلمان اپنے عمل سے کافر ہورہے ہیں اور جو نسلی طور پر کافر تھے ان میں تیزی سے اسلام پھیل رہا ہے اور وہ تیزی سے مسلمان ہو رہے ہیں ۔ اور انہوں نے مظاہروں کا سلسلہ رکھا ہوا ہے حتیٰ اپنی حکومتوں سے نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔

 

ایک امریکی خاتون کا بیان:
کہتی ہے کہ مجھے شرم آتی ہے کہ میں امریکہ سے تعلق رکھتی ہوں کہ جس کی حکومت اتنی بڑی ظالم ہے اور ظالموں کی مدد کر رہی ہے۔

یہ ان مسلمانوں کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے کہ جو دن رات امریکہ جانے کا خواب دیکھتے ہیں۔
سبحان اللہ!

آدمی کے لیے لازم ہے کہ شعور کی دنیا میں آئے اور اللہ ہمیں ہمارے ہر عمل سے آزما رہا ہے۔ یہ ہمارے لیے آزمائش ہے۔

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اتنا ظلم ہو رہا ہے تو اللہ کہاں ہے؟ تو ایسا قرار نہیں ہے کہ اللہ دنیا کے امور میں دخل دے۔ دنیا دار الاختیار ہے۔ اور خدا نے ہمیں دنیا کے امور میں دخل دینے کی طاقتیں دی ہوئی ہیں۔ یہ ہم نے دخل دینا ہے اور وہی الہیٰ طاقت ہے۔ لیکن! ہم خود نہیں دخل دے رہے ہم خود نہیں کچھ کر رہے۔ جبکہ مسلمان ممالک کے پاس افرادی قوت اوراسلحہ کی کمی نہیں ہے ۔ اور کچھ نہیں کر سکتے تو معاشی طور پر اور اقتصادی طور پر ان ظالموں کا بائیکاٹ اگر کر دیں تو ان کی کمریں جھک جائیں گی۔ ہم اگر چاہیں تو سب کچھ ممکن ہے۔ ایسا پہلے بھی ہوا تھا۔ فقط چند عرب ممالک نے تیل کی بندش کی تھی اور پوری دنیائے مغرب مفلوج ہوگئی تھی۔ امریکہ بھی مفلوج ہوگیا تھا۔ یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔ مگر ! آج کے نام نہاد مسلمان کی خوارکیں اور نسلیں بدل گئیں ہیں کہ ان کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔

سعودیہ کے ولی عہد سے جب سوال فلسطین کے بارے میں پوچھا گیا؟؟
اس سے جب پوچھا گیا کہ آپ کا یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں کیا خیال ہے تو اس نے کہا کہ میں ان کو بہت پسند کرتا ہوں اور مجھے ان سے بڑی محبت ہے۔

اس ولی عہد سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں ہے؟؟
کہا: کہ جس دایہ نے مجھے پالا تھا وہ یہودی ہے۔
یہ بات میڈیا پر موجود ہے۔

اس نے کہا: ہمارے شاہی محل کے امور کی منتظم ایک یہودی خاتون تھی اور میں اس کے زیر نظر پروان چڑھا ہوں۔

اس سے فلسطین کے بارے میں جب پوچھا گیا؟؟
تو اس نے کہا کہ:
فلسطین اسرائیل جیسا ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ طاقتور حکمران ہیں اور ان کے پاس بے پناہ پیسہ ہے اور پیسے میں طاقت ہے۔
نفرین!

سوال یہ ہے کہ ایک عام فرد کیسے مدد کرے؟؟

امام زمانؑ عج کا ایک فرمان ہے اور ہمارے آقاؑ عج کی یہ توقیع شریف ہے :
اللھم صلی علی محمدؐ ﷺ و آل محمدؑ ﷺ🌷

امام زمانؑ عج فرماتے ہیں:
فَاِنّا یحیطُ عِلمُنا بِأَنبائِكُم و لایعزُبُ عَنّا شَیءٌ مِن اَخباركُم
اے اہل ایمان! ہم اپنے علم سے تمہارے حالات سے مکمل با خبر ہیں اور تمہاری کوی بات مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے۔

فرماتے ہیں:
اگر تم کہیں ذلت و شکست کا شکار ہو تو ہم اس کو بھی جانتے ہیں۔

اور پھر اس کے بعد فرماتے ہیں کہ:
ہمارے ساتھ کیوں ایسا ہو رہا ہے کہ ہم نے اپنے سلف کی طرح عمل نہیں کیا اور ہم اپنے پچھلوں کی طرح وفادار نہیں ہیں اور اس وقت مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ انہوں نے جو محمدؐ ﷺ و آل محمدؑ ﷺ کے ساتھ جو عہد تھا اسے فراموش کر دیا ہے۔

وہ کون سا عہد تھا جو ہم نے باندھا تھا؟
وہ ایک نکتہ جو عہد مسلمانوں نے محمدؐ ﷺ و آل محمدؑ ﷺ کے ساتھ باندھا تھا وہ یہ تھا کہ:

ہم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ایثار اور فداکاری سے چلیں گے۔ حتیٰ ایک دوسرے سے نصرت اور تعاون سے چلیں گے۔

ایک مرتبہ امام محمد باقرؑ سے پوچھا گیا:
ہمارا وظیفہ کیا ہے؟
فرمایا : اپنے بھائیوں کی مدد

معصومؑ فرماتے ہیں کہ:
حد عقل اہل ایمان کا اپنے دوسرے اہل ایمان کے مد مقابل وظیفہ یہ ہے کہ اس کے بارے میں حُسن ظن رکھے۔

یعنی ! اگر مدد نہیں کر سکتا تو کم از کم حُسن ظن رکھے اور اگر ہم دیکھیں تو ہمارے اندر جتنے کینے ، لڑائیاں اور اختلاف ہوتے ہیں ان کی وجہ سوئے ظن ہے۔ اور ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے حق میں وظیفہ یہ ہے کہ اس کے اچھے کاموں کو اچھی نگاہ سے دیکھے اور اس کے بُرے کاموں میں حسن ظن رکھے کہ شائد یہ مجبور ہوگیا ہے شائد غفلت ہے۔ تو ہمارے ہاں یہ ہوتا ہے کہ ہم کسی کے اچھے کاموں کو بھی بری نگاہ سے دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی معاملہ ہے۔

اس کے بعد معصومؑ عج فرماتے ہیں:
ہم نے تمھیں تمھارے حال پر نہیں چھوڑ دیا۔ اور میں(مہدیؑ عج) تمھیں بھولا نہیں ہوں اور اگر ایسا ہوتا تو تم پر جانے کون سے عذاب نازل ہو جاتے۔
ہمارے جو سب گناہ ہیں کہ جن میں سب سے بڑا گناہ بے حسی ہے۔
مولاؑ عج فرماتے ہیں کہ دشمن تمھیں کب کا ختم کر چکا ہوتا۔

امام زمانؑ عج تمام امور سے با خبر ہیں وہ فلسطین کا مسئلہ بھی دیکھ رہے ہیں اور ہمارے امور سے بھی باخبر ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ہم میں کتنی تڑپ اور احساس ہے کیونکہ اسی تڑپ اور احساس میں ایک ملت نے جنم لینا ہے کہ جس نے کل پوری دنیا کا نظام سنبھالنا ہے۔

یہ ساری آزمائشیں اور سارے امتحان ہماری اپنی تربیت کا نتیجہ ہے۔ آج فلسطین ایک بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن! جو دنیا کے مسائل امام زمانؑ عج نے چھیڑنے ہیں ان کے مدمقابل یہ چھوٹا مسئلہ ہے اور اس مسئلے میں مولاؑ عج پرکھ رہے ہیں کہ جو آج اس چھوٹے مسئلے میں آگے بڑھیں گے میں ان کو کل پوری دنیا کے امور میں آگے بڑھاؤں گا۔
انشاءاللہ !

آخر میں یہاں آپ کی خدمت میں ایک آیت بیان کرتا ہوں کہ پروردگار نے ایک نظام جو رکھا ہوا ہے اس میں ہمیں ایک واضح خبر دے دی ہے۔

پروردگار فرما رہا ہے:
سورہ محمد 38
اللھم صلی علی محمدؐ ﷺ و آل محمدؑ ﷺ


هَآ اَنْتُـمْ هٰٓؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِىْ سَبِيْلِ اللّهِۚ
خبردار تم وہ لوگ ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو بلائے جاتے ہو
فَمِنْكُمْ مَّنْ يَّبْخَلُ ۖ
تو کوئی تم میں سے وہ ہے جو بخل کرتا ہے
وَمَنْ يَّبْخَلْ فَاِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ ۚ
اور جو بخل کرتا ہے سو وہ اپنی ہی ذات سے بخل کرتا ہے

اس کے بعد اللہ تعالیٰ پوری دنیا کے لوگوں کے لیے پیغام دے رہا ہے۔

وَاللّـٰهُ الْغَنِىُّ
اور اللہ بے نیاز ہے (وہ اگر چاہے تو ایک لحظے میں سب کچھ ٹھیک کر سکتا ہے)

وَاَنْتُـمُ الْفُقَرَآءُ ۚ
اور تم محتاج ہو (چاہے وہ فرعون جیسا طاقتور شخص ہی کیوں نہ ہو فقیر ہے خالی ہاتھ جا رہا ہے۔)

پھر پروردگار نے ایک ایسی خبر دی ہے کہ جس سے انسان کا دل ہل جاتا ہے ۔ فرمایا:

وَاِنْ تَتَوَلَّوْا
اگر تم نافرمانی کرو گے اور اپنے وظائف سے منہ موڑو گے تو یاد رکھو:

يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْـرَكُمْۙ
تو خدا تمھاری جگہ ایک اور قوم لے آئے گا۔

ثُـمَّ لَا يَكُـوْنُـوٓا اَمْ ثَالَكُمْ (38)
تو پھر وہ قوم تمہاری طرح نہ ہوں گے۔

انتظار کیوں طویل ہو رہا ہے؟
اب سمجھ آرہا ہے کہ امام ؑ عج کا انتظار کیوں طویل ہو رہا ہے کیونکہ امام ؑ عج اس نسل کے منتظر ہے جو پچھلی قوم کی طرح نہ ہوگی۔ کہ وہ ایسے ہیں کہ جو اپنے وظائف کو عملی طور پر سمجھتے ہیں اور دعا کے ساتھ ساتھ وہ کچھ کرنا بھی چاہتے ہیں۔

ہمارا وظیفہ یہاں کیا ہے؟
درست ہے کہ بہت سارے مسائل ہیں۔
1۔ حکومتیں اجازت نہیں دے رہیں
2۔ ہوسکتا ہے کہ ہمیں لڑنا نہ آتا ہو۔

تو پھر کیا کریں؟؟
جس کام میں بھی ہم مہارت رکھتے ہیں ہم اس کام میں مدد کر سکتے ہیں۔

مظاہرے:
جیسا کہ ایک عام شخص اگر کچھ نہیں کر سکتا تو زبان کے ساتھ احتجاج تو کر سکتا ہے۔

آج دنیائے مغرب میں لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو لے کر باہر نکل رہے ہیں۔ مظاہرے اتنی طاقت رکھتے ہیں حکومتیں گر سکتی ہیں۔ مثال کے طور شاہ ایران کی حکومت کہ جس کو تین ہزار سال کی حکومت پر بڑا ناز تھا اسے مظاہروں نے گرا دیا۔ اسی طرح فرانس اور روس میں جو انقلاب آئے یعنی! مظاہرے بہت بڑی طاقت رکھتے ہیں۔

مالی وسائل:
چاہے ایک روپیہ ہی کیوں نہ ہو ان مظلوموں تک پہنچائیں۔ اس حوالے سے ہمارے مراجع کے دفاتر اور مختلف تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ ہمیں جن اداروں پر اعتماد ہے ان کے ذریعے پہنچائیں۔

دشمن کی مصنوعات کا بائیکاٹ :
اگر ایک عام آدمی کچھ نہیں کر سکتا تو کم از کم دشمن کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ اور خصوصاً ان کا کہ جو اس ظالم کی مدد کر رہے ہیں۔

یہودی کی طاقت کا راز اقتصاد ہے:

یہ جنگی حکمت عملی ہے جو ہمیں ہمارے پیغمبرؐ اکرم ﷺ نے سیکھائی ہے۔
اللھم صلی علی محمدؐ ﷺ و آل محمدؑ ﷺ

یہودیوں کے ساتھ ایک جنگ میں جب ان کو فوجی طریقے سے شکست نہ دے سکے تو فرمایا کہ ان کے کھجوروں کے باغ کاٹ دیے جائیں۔ اور جب باغ کٹنے شروع ہوئے تو وہ فورا! تسلیم ہو گئے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ میرے کچھ کرنے سے کیا ہوگا؟؟

کچھ ہو نہ ہو لیکن ! میں اللہ کے حضور سرخرو ہو جاؤں گا۔ نظام کائنات تسبیح کے دانوں کی طرح آپس میں جڑا ہوا ہے۔ اگر کائنات میں ایک پتا بھی گرتا ہے تو اس کا اثر ہوتا ہے۔

ہمارے ایک بائیکاٹ سے ایک دھچکا لگے گا۔ اور جیسے ظالم کو مال خریدنے سے فائدہ ہوتا ہے اسی طرح بائکاٹ سے بھی نقصان ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے مال سے زکوۃٰ، خمس، صدقہ سب مظلوموں کے لیے دیں۔ کیونکہ قیامت والے دن ہم اپنا مال اللہ کے سامنے پیش کر سکیں کہ پروردگارا! میں وہاں پہنچ تو نہیں سکا لیکن! جو کچھ میں کر سکتا تھا میں نے کیا۔ میں نے زبان سے ، قلم سے ، سوشل میڈیا پر آوازیں بلند کیں۔ میں نے امام بارگاہوں میں، محلے میں پروگرام کئے اور میں نے کوششیں کئیں۔ میں نے انفاق کیا۔ اور دشمن کے مدمقابل اقتصادی جنگ کی۔

وہ دشمن جو ہمیں ہر روز جانی نقصان پہنچا رہا ہے اور ہمارے بچے اور جوان ہر روز مر رہے ہیں تو ہم اس کے مد مقابل ایسے جنگ کر سکتے ہیں کیونکہ جنگ تو جاری ہے اگر ہم خود اپنی آنکھیں بند کر لیں تو یہ علیحدہ بات ہے۔

علی بن ابراہیم بن مؒھزیار:
علی بن مھزؒیار امام رضاؑ ، امام جوادؑ اور امام ھادیؑ کے اصحاب میں سے تھے اور ان کا بہت بڑا مقام ہے ۔ ان کا بھتیجا تھا علی بن ابراہیم بن مھزؒیار کہ جن کو امام زمانؑ عج کے ساتھ ملاقات اور تشرف کا شرف حاصل ہوا۔ یہ بیس مرتبہ حج کے لیے گئے لیکن! مولاؑ کی جانب سے اجازت نہیں ملی اور جب آخری مرتبہ گئے تو اشارہ ہوا کہ اس مرتبہ آپ کو مولاؑ عج سے ملاقات کی اجازت ملے گی۔ جب حج کے لیے پہنچے تو قاصد سے ملاقات ہوئی ۔

غیبت صغریٰ کا واقعہ:

قاصد نے پوچھا: کس کو تلاش کر رہے ہو؟
مھزیارؒ: میں اپنے غائب امامؑ عج کو تلاش کر رہا ہوں۔

قاصد نے کہا: مہدیؑ عج تمھاری نگاہوں سے غائب نہیں بلکہ تمھارے برے اعمال نے تمھاری آنکھوں کے آگے پردہ ڈال رکھا ہے۔

اسی لیے تو کہتے ہیں کہ اہل معرفت تو اپنے مولاؑ عج کو دیکھتے ہیں اور ان کے لیے غیبت یا ظہور کوئی معنیٰ نہیں رکھتے وہ تو ہر حالت میں اپنے مولاؑ عج کا مشاہدہ کرتے ہیں اور جب وہ امام کی خدمت میں پہنچے تو امام ؑ عج نے فرمایا:

اے علی بن ابراہیم بن مھزیارؒ اتنی دیر سے کیوں آئے ہو میں تو بڑے عرصے سے تمھارا انتظار کر رہا ہوں۔ ۔۔

کہا: آقا! میں نے تو بیس حج کئے تاکہ کبھی آپ کی زیارت ہو سکے آپ سے ملاقات ہوسکے۔۔

فرمایا: کیسے کر سکتے تھے؟
تم تو اپنا مال بڑھانے کے چکر میں رہے۔ تم مسلمانوں کا تو ایک ہی ہدف ہے کہ فقط مال بڑھاؤ اور تمھاری اس عادت کی وجہ سے مظلوم مسلمانوں پر سختیاں بڑھ رہی ہیں۔

اور پھر فرمایا:
تم مومنین میں ہم نے جو ایک رشتہ ایمانی استوار کیا تھا تم نے اس کو پارہ پارہ کر دیا

فرمایا کہ :پھر کیسے مجھ تک پہنچو کہ جب تم نے اپنے وظائف سے غافل ہوگئے۔

علی بن مھزؒیار کا گریہ بلند ہوا اور مارے افسوس کے اپنے سر پیٹنے لگے۔

امام زمانؑ عج آج بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ:
میں کیسے ظہور کروں جبکہ تم مسلمانوں نے اپنے وظائف چھوڑ دیے ہیں اور تم اپنے ایمانی بھائیوں (فلسطین) کے ساتھ قطع رحمی اور بے حسی کر رہے ہو۔

پروردگار ہم سب کو توفیق دے کہ ہم مظلومان فلسطین کے لیے اپنے وظائف پر عمل کریں ۔ خدایا مظلومین فلسطین کی مدد فرما اور اس ملت کو پیدا کر جو ان مظلوموں کی مدد کرے۔ پروردگارا! ظالموں کو نست و نابود کر ان کے مددگاروں اور ان کے عمل پر خاموش رہنے والوں کو ذلیل و خوار کر۔ پروردگارا! جو مدد کرنا چاہتے ہیں ان کی توفیقات میں اضافہ فرما۔
آمین!
والسلام۔

عالمی مرکز مہدویت قم

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *