تازہ ترین پوسٹس

مسلمان کی بیداری کیسے ہوگی؟ ہمارے سارے نقائص کا علاج کیا ہے؟ 

(پہلا درس قرآن)

تمہیدی گفتگو 

مسلمان کی بیداری کیسے ہوگی؟ 

ہمارے سارے نقائص کا علاج کیا ہے؟ 

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

 

 

بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ

ہماری گفتگو کا محور ان شاءاللہ پارہ نمبر تیس کی تفسیر اور اس کے قرآنی نکات ہیں۔ لیکن! اس سے پہلے ایک تمہیدی گفتگو ہے۔

موضوع گفتگو :

مسلمانوں کا شاندار ماضی

ہمارا ایک شاندار ماضی گذرا ہے۔ جس میں مسلمانوں نے جس جغرافیائی حوالے سے فتوحات حاصل کئیں اسی طرح ایک عظیم اسلامی تمدن اور ثقافت کو پوری دنیا میں پھیلایا اور دنیا کے مختلف مذاہب اور اقوام نے اس سے بہت کچھ سیکھا۔

 

پیغمبرؐ اسلامﷺ اور اسلامی راہنماؤں کا کردار

پیغمبرِؐ اسلام ﷺ اور ان کے اوصیائے جانشین ہمارے آئمہؑ ، اور ہمارے پیغمبرؐﷺ کے اصحاب اور تابعین اور علمائے اسلام نے جو شاندار کام کئے ہم ان کا آج نتیجہ دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح دینِ اسلام دنیا کو باطل نظام اور باطل مذاہب پر کس طرح فوقیت حاصل ہوئی ۔

لیکن! بعد از مسلمان زوال کا بھی شکار ہوئے۔ مسلمانوں کے زوال کی وجہ قرآن سے دوری ہے۔

 

عظمتِ رفتہ کی طرف واپسی

اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ دوبارہ اسی عظیم دور اسلام کی جانب ان شاء اللہ قدم بڑھائیں کہ جس میں نبیؐ اسلامﷺ اور ہمارے آئمہؑ اور نبیؐ ﷺ کے اصحاب اور ہمارے گذشتہ علمائے کرام کا کہ جب ہم ان کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں کتنی خوشی حاصل ہوتی ہے۔ کہ ان بزرگان دین کا کتنا بڑا کردار ہے۔ جیسے، سید جمال الدین اسد آبادی، شیخ محمد عبدہ، امام خمینیؒ، رہبر عظیم الشان شہید سید علی خامنہ ایؒ، اور اسی طرح بڑے بڑے مفکرین ہیں جیسے شہید مرتضیٰ مطہرؒی، شہید ڈاکٹر علی شریعتیؒ اور علامہ محمد اقبالؒ ہیں۔ یہ سب یہی کہتے ہیں کہ اگر ہم اپنی فکری اور اعتقادی گمراہیوں سے نکلنا چاہتے ہیں۔ اور اگر ہم اپنے زوال کے اسباب کو سمجھنا چاہتے ہیں کہ کیوں پوری دنیا میں مسلمان تفرقے ، ذلت اور انحطاط کا شکار ہوئے ہیں ۔

اگر ہم اس کا علاج سمجھنا چاہتے ہیں اور صحیح اسلام کو سمجھنا چاہتے ہیں اور باطل گمراہیوں اور بدعتوں سے اگر نکلنا چاہتے ہیں تو ہمیں اصلی اسلام کہ جو قرآن مجید اور نبیؐ اسلامﷺ کی سنت اور سیرت سے سامنے آتا ہے ہمیں اس کی جانب پلٹنا ہوگا۔ کہ جو محمدؐﷺ و آل محمدؑﷺ کے سچے اصحاب نے بیان کیا۔ تو اصل راستہ قرآن ہے۔

اس پر نبیؐ اسلامﷺ کا ایک مشہور فرمان ہے:

اِذَا التَبَسَت عَلَیکُمُ الفِتَنُ، کَقِطَعِ الَّیلِ المُظلِمِ فَعَلَیکُم بِالقُرآنِ

جب فتنے تم پر ایسے چھا جائیں جیسے اندھیری رات کے ٹکڑے تو قرآن کو لازم پکڑنا۔ قرآن کی جانب رجوع کرو۔

وَهُوَ يَدُلُّ خَيْرَ السَّبِيلِ”

“اور وہ بہترین راستے کی رہنمائی کرتا ہے۔”

اور قرآن بھی اس ہدایت کو اس انداز میں بیان کرتا ہے۔ سورہ الاسراء کی آیت نمبر 9 میں ارشاد رب العزت ہو رہا ہے۔

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِي لِلَّتِيْ هِيَ اَقْوَمُ

بیشک یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا (اور درست) ہے۔

اگر ہر فرد اگر اپنی اصلاح چاہتا ہے۔ اپنے نفس کی تذکیہ و تربیت چاہتا ہے اپنے اخلاق کی تہذیب چاہتا ہے اور معاشرے کی اصلاح چاہتا ہے اور اگر دنیا اور آخرت کی بھلائی چاہتا ہے تو قرآن سے راہنمائی لے۔

یہ قرآن ہے جو ہمارے شاندار ماضی میں ہماری مادی اور معنوی ترقی کا موجب تھا ۔

یہ قرآن ہے جس نے ہمیں بتایا کہ مسلمانوں کے زوال کا علاج کسی بیرونی نظریے میں نہیں بلکہ خود حقیقی اسلام میں ہے اور خود قرآن کے ساتھ صحیح اور شعور کے ساتھ رجوع میں ہے۔

اگر ہم اپنے معاشرے میں بیداری چاہتے ہیں اور صحیح اسلام کی شناخت چاہتے ہیں اور باطل افکار کی اصلاح چاہتے ہیں تو محمدؐﷺ و آل محمدؑ ﷺ کے فرامین کی رو سے قرآن سے رہنمائی لیں۔ کہ یہ وہ خیر سبیل ہے کہ جس کے ذریعے ہم سعادت تک پہنچیں گے۔ اور دعا ہے کہ پروردگار ہم سب کو سعادت تک پہنچائے۔ آمین ۔

والسلام۔

تحریر و پیشکش: سعدیہ شہباز (طالبہ)

عالمی مرکز مہدویت قم

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *