تازہ ترین پوسٹس

غیبت صغریٰ اور نواب اربعہ

غیبت صغریٰ اور نواب اربعہ

#نواب اربعہ کون تھے؟
#توقیع امام زمان عج کیا ہے؟
#تقلید کیسے شروع ہوئی ؟
#امام مہدی عج کی غیبت صغریٰ میں کونسے فتنے رونما ہوئے؟
#غیبت صغریٰ کے آغاز اور نواب اربعہ کے نقش پر تحقیقی گفتگو

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

 

نواب اربعہ کون تھے؟

ان کے اندر جو خوبی تھی وہ یہی تھی کہ یہ اصحابِ سر(رازدان ) تھے اصحابِ سر عموماً ہمارے تمام آئمہ کے زمانے میں کچھ اصحاب ایسے ہوتے تھے جنہیں ہم اصحابِ سر کہتے تھے۔

اصحابِ سر سے مراد وہ لوگ تھے جو آئمہ کے اسرار کے حامل تھے اور آئمہ کے اسرار کی حفاظت کرتے تھے اور اسے فاش نہیں کرتے تھے یہ ہر امام کے دور میں، یعنی خاص لوگ ہوتے تھے جن سے آئمہ اپنے دل کی باتیں کیا کرتے تھے اور جن کو یہ شرف حاصل ہوتا تھا کہ وہ اماموں کے یہ بڑے بڑے رازوں کو سنبھالتے اور یہ ضروری ہوتا تھا یعنی ہر امام کے زمانے میں ایسے لوگوں کا ہونا ضروری تھا، چونکہ امام بلاخر امام ہیں بشر ہیں ان کا بھی دل تھا کہ کوئی ہمارا ایسا دوست ہو جس سے ہم اپنی دل کی باتیں کریں تو وہ ہستیاں جیسے ہم امیر المومنین علیہ السلام کے زمانے میں جنابِ کمیل کی مثال دیتے ہیں۔
اس طرح ہر دور میں کچھ نہ کچھ لوگ تھے امامِ صادق علیہ السلام کے زمانے میں جنابِ ابی بصیر تھے، اسی طرح امامِ عسکری علیہ السلام کے لئے جنابِ عثمان ابنِ سعید عمری تھے اور بعد میں بھی اسی ہستی کو بعنوانِ نائبِ خاص یعنی یہی جو صاحبانِ سر تھے اب یہ سارے اہلِ علم تھے اہلِ علم اہلِ فضل تھے اگرچہ اس زمانے میں اور بھی بڑے بڑے فقہاء موجود تھے بڑے بڑے علماء موجود تھے بڑی بزرگ ہستیاں موجود تھیں لیکن ان کا انتخاب اس لیے ہوتا تھا کہ یہ اسرار کی حفاظت کرنے والے تھےمثلا ان کو پتا ہوتا تھا کہ امام اس وقت کہاں ہیں مثلا جنابِ عثمان ابنِ سعید کو پتا ہوتا تھا کہ امامِ زمان عجل اللہ فرجہ الشریف اس وقت کس شہر میں ہیں یا اس وقت کہاں ہیں لیکن یہ ایسی ہستی تھی کہ اگر اس کے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیے جاتے تو یہ کبھی بھی اس راز کو فاش نہ کرتے یہ نہایت دیانت دار اور نہایت پاکیزہ نفس لوگ تھے اور صاحبانِ کرامت تھے خود یہ ہستیاں بھی صاحبانِ کرامت تھیں ہم یوں کہیں گے کہ یہ مقامِ ولایت رکھتے تھے اور خاص ہستیاں تھے جن کو باقاعدہ امام نام لے کر منتخب کیا اپنی نیابت کے لیے۔

غیبتِ کبری اور صغریٰ میں یہی ایک بنیادی فرق ہے، کہ غیبتِ صغریٰ کے اندر نائبین کو اس لیے ہم نائبینِ خاص کہتے ہیں کہ باقاعدہ ان کا نام و نسب معین ہوتا تھالیکن غیبتِ کبری میں ایک کلی قاعدہ تھا جس کے اندر بھی یہ شرائط پائی جاتی ہیں مثلاً فقیہہ ہو،عادل ہو اور حرام سے بچنے والا ہو، مولا کا مطیع ہو وہ مثلاً نیابت پاسکتا ہے لیکن یہ جو لوگ تھے ان کو باقاعدہ امام چنتے تھے تو اب ان لوگوں کو ہمیشہ مولا کا علم ہوتا تھا اس جگہ کا علم ہوتا تھا تو وہ ادھر سے اس مولا کے راز کی حفاظت بھی کرتے تھےاور ادھر سے دوسرا جو بڑا یہ کام کر رہے تھے وہ یہ کر رہے تھےکہ اپنے شیعوں کو ایسا ایسا گورنمنٹ کا جو سسٹم تھا اس میں داخل کر رہے تھے تاکہ شیعہ قوی ہوں جس طرح لوگ نوابِ اربعہ سے رابطے میں تھے اسی طرح نوابِ اربعہ بھی اپنے وسائل اور ذرائع سے امامِ زمان علیہ السلام سے رابطے میں تھے یعنی خود امامِ زمان علیہ السلام اور نوابِ اربعہ کے درمیان بھی کوئی نہ کوئی قاصد کوئی نہ کوئی لوگ تھے جو یہ کام کر رہے تھے مخفی طریقے سے اور خطوط کو لے کے جانا پھر ان کا جواب لے کے آنا یقیناً یہ ایک نظام تھا جو بڑا اچھے طریقے سے چل رہا تھا۔

 

تقلید کیسے شروع ہوئی ؟

چھٹے مولا امامِ جعفر صادق علیہ السلام کے زمانے میں ایک نظامِ وکالت قائم ہوا تھا اور یہاں وکالت سے مراد وہ وکالت نہیں ہے جو ہم عام طور پر عدالتوں میں سمجھتے ہیں نہیں وکالت سے مراد یعنی مولا کے مورد اعتماد لوگوں کا ایک نظام کیونکہ جس طرح اسلامی سلطنت بڑھ رہی تھی اور ظاہرِ تشیع بھی بڑھ رہا تھا تو اب امام مدینہ میں ہیں تو پوری دنیا کے شیعوں سے رابطوں کے لیے مولا نے ہر شہر میں اپنا ایک وکیل مقرر کیا تھا اب وہ وکیل اور امام کے درمیان ایک سسٹم ہوتا تھا درمیان میں کچھ قاصد ہوتے تھے جو بڑے سرعت کے ساتھ اور احتیاط کے ساتھ پیغامات کو منتقل کرتے تھے اور یقیناً جو لوگ بھی سامنے آ جاتے تھے حکومت کی نگاہوں کے سامنے تو وہ قتل ہو جاتے تھے یا تشدد کا نشانہ بنتے تھےتو یہ کام تقیہ بھی یہاں تھا اور رازداری بھی تھی اور احتیاط بھی تھی اور کئی ہمارے آئمہ کے وکیل شہید ہوئے ہیں جس جس کا بھی گورنمنٹ کو پتہ چلتا تھا تو ظاہر ہے ان کی شہادت واقع ہوتی تھی اور ہمارے آئمہ بھی مسلسل رازداری والاجو اصول اس کو اپنا ہوئے تھے اور لوگوں کو بھی یہی کہتے تھے کہ آپ نے ان تمام چیزوں کو مخفی رکھنا ہے۔

 

توقیع امام زمان عج کیا ہے؟

خلاصہ یہ ہےکہ اب یہ جو سلسلہ تھا نواب اربعہ کا امام کے ساتھ جو رابطے کا کس طرح کا تھا ہمیں جزئیات کا نہیں پتا ہے ہمیں یہ پتا ہے کہ امام سے یہ جواب لے لیتے تھے اور وہ جواب لوگوں تک بھی پہنچتے تھے اور بعد میں یہی سارے جواب اکٹھے ہوکے مولا کے فرامین کی شکل میں وہ جو توقیعات ہیں وہ ہمارے پاس جو موجود ہیں ہماری کتابوں میں تو ایک یہ کام کر رہے تھے۔

 

امام مہدی عج کی غیبت صغریٰ میں کونسے فتنے رونما ہوئے ؟

ایک اہم ترین جو کام یہ کر رہے تھے وہ یہ تھا کہ اس زمانے میں بڑے بڑے فتنے کھڑے ہوئے تھے اور فتنے جو دو تین طرح تھے

ایک فتنہ یہ تھا کہ خود غالیوں کا فتنہ تھاجو آئمہ کی الوہیت کے قائل تھے اور یہ ہمارے آئمہ علیہ السلام کے حضور کے زمانے میں بھی تھے اور غیبت کے زمانے میں جب بظاہر امام لوگوں کے درمیان نہیں تھے تو یہ قوت پکڑ گئے غالی اور انہوں نے جیسے ابھی بھی ہم دیکھتے ہیں،آج کل بھی ہمارے معاشرے میں نعوذ باللہ ہمارے آئمہ کو اللہ رب کہا جاتا ہے اس طرح کے لوگ اس زمانے میں تھے تو اس فتنے کو نواب اربعہ نے ختم کیا، لوگوں کے لیے حقائق بیان کیے انہیں توحید بتائی گئی انہیں اصل دین بتایا گیا اور اس میں امام زمانؐ کی توقیعات کا بھی بڑا اثر ہے کہ اس زمانے میں جو بڑے معروف غالی تھے ان پر امام نے لعنت کی اور حکم دیا کہ ان کو ختم کیا جائے تو ایک تو یہ تھا۔

اسی طرح ہم یہ بھی دیکھتے ہیں ایک بڑا فتنہ جو تھا وہ خود دین کے اندر اختلاف ڈالنے والا یا دینی مسائل کو توڑ موڑ کر پیش کرنے والا اور اس میں بعض بدعمل بظاہر علماء یا اس طرح کے لوگ بھی اس میں پیش پیش تھے کہ جو لوگوں میں خرافات کو رواج دے رہے تھے یا لوگوں کو گمراہ کر رہے تھےجیسے ہم آج کل بھی دیکھتے ہیں علماء سوء بھی ہیں اور بلاخر عالم باعمل بھی ہے۔

 

غیبت صغریٰ کے آغاز اور نواب اربعہ کے نقش پر تحقیقی گفتگو

اب ان تمام فتنوں سے وہ لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے اور لوگوں کو آگاہی دینے کے لیے اور پھر لوگوں کو حقائق بیان کرنے کے لیے بڑا کردار ہے نواب اربعہ کا ہے،اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو ملنا چاہتے تھے امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف سے ظاہر ہے وہ بھی مختلف علاقوں کے یا مختلف مناطق کے شیعہ تھے یا خواص تھے یا علماء تھے یا عام لوگ تھے لیکن وہ کسی نہ کس طریقے سے اپنے آپ کو بغداد پہنچاتے تھے ان نواب اربعہ کے پاس اور خواہش ان کی ہوتی تھی کہ ہم نے بھی امام مہدی علیہ السلام کی زیارت کرنی ہے تو اب ان کی اور امام کے درمیان ملاقات کا اہتمام بھی یہ نواب اربعہ کرتے تھے۔

شیخ طوسی رحمہ نے کتاب غیبت میں265 ایسی ملاقاتوں کا ذکر کیا ہے کہ جو غیبت صغریٰ میں انجام پائیں ہیں اور انہی نواب اربعہ کے ذریعے ہی ملاقاتیں ہوئیں ہیں، اسی طرح ہم ایک بہت بڑا مسئلہ جو اس غیبت صغریٰ میں ہم حل ہوتا دیکھتے ہیں وہ مسئلہ تقلید ہے فقہاء موجود تھے اور فقہاء بھی عوام الناس کی مانند مطیع تھے نواب اربعہ کے۔

 

فقہاء کی عظمت
ہم ایک توقیع شریف اس زمانے میں دیکھتے ہیں کہ مولا نے اس زمانے میں فقہاء کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا اور ان کو حجت قرار دیا اور لوگوں کو بتایا کہ جتنے بھی آپ کو دینی مسائل پیش آ رہے ہیں ان کی طرف رجوع کریں اور ان سے اپنے مسائل کا حل پوچھیں تو یہاں سے باقاعدہ فقہاء کی عظمت ان کا معتبر ہونا ان کا حجت ہونا مولا کی طرف سے جب یہ بیان ہوا اور لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ان کے علم سے استفادہ کریں کیونکہ یہ ہماری حدیث کے راوی ہیں تو یہاں سے فقہاء کو مرجعیت کا مقام ملا یعنی ان کی طرف رجوع کا حکم ملا تو وہ مرجع عام بن گئے مرجع خلائق بن گئے تو فقہاء کا اور نظام تقلید کا جو سسٹم ہے جو آج تک چلا رہا ہے اس کی جو اساس ہے وہ غیبت صغریٰ کا زمانہ ہےاور نواب اربعہ نے اس سسٹم کو شروع کروایا اور اس زمانے میں جو بڑے بڑے نامی مشہور فقہاء ہیں ان کی طرف لوگوں کو رغبت دلائی،مثلا ہم دیکھتے ہیں کہ صاحب کافی جو غیبت صغریٰ کی ہی شخصیت ہیں تو مثلا ان کی طرف رجوع کا خود ان کی جو اصول کافی ہے وہ در واقع ان کی اپنی توضیح المسائل ہے اس زمانے میں احادیث کی شکل میں مسائل فقیہ کو لکھتے تھے
تو اس طرح کے اور بھی بڑے فقہاء ہیں جیسے شیخ صدوق رحمہ کے والد تھے جناب ابن بابویہ جن کا مقبرہ قم میں موجود ہے۔
اس طرح اور بھی بڑی شخصیات تھی کہ جن کی طرف نواب اربعہ لوگوں کو راغب کیا اور کہا کہ یہ مولا کا حکم ہے ان کی تقلید کریں فقہی مسائل میں ہم آپ کی سیاسی اجتماعی اور دیگر مسائل کے اندر رہبری کریں گے لیکن فقہی مسائل میں آپ حکم کی طرف رجوع کریں تو باقاعدہ تقلید کا جو آغاز ہے وہ غیبت صغریٰ میں تقلید شروع کروائی اور اس پر پھر نگرانی بھی کی تا کہ شیعہ جو ہیں ان کو یہ عادت پڑے اپنے تمام مسائل میں فقہاء کی طرف رجوع کرنے کی علماء کی طرف رجوع کرنے کی چونکہ اس سے پہلے عموماً شیعوں کا یہ مزاج تھا کہ وہ امام کی طرف ہی رجوع کرتے تھے ہر سوال میں اور اس کے لئے بیشک انہیں سفر کرنا پڑے خط لکھنے پڑے تو امام نے غیبت صغریٰ میں اس انداز سے تربیت کی اور تلقین کی کہ لازمی نہیں ہے کہ آپ ہر مسئلے میں ہمارے نائبین خاص کے طرف آئیں یا ہم سے ملاقات کا تقاضہ کریں یا ہمیں خط لکھیں ان فقہاء کہ جنہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن مجید اور ہماری احادیث کے اندر تحقیق جستجو اور مطالعہ میں اور مختلف مسائل کے حل کرنے میں گزاری ہے اور باقاعدہ اس میں کام کیا ہے اور مقام فقہاء تک پہنچ گئے ہیں تو یہ اس کام کے ماہر ہیں تو آپ اپنے امور میں ان کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔

والسلام۔
عالمی مرکز مہدویت_ قم

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *