تازہ ترین پوسٹس

علامہ علی اصغر سیفی صاحب: توحید، نماز، قرآن اور حسنِ اخلاق عصرِ حاضر کی بنیادی ضروریات اور یارانِ امام مہدیؑ کی تربیت کا اہم ذریعہ ہیں

حرم حضرت معصومہؑ میں استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی کا خطاب؛ توحید، نماز، قرآن اور حسنِ اخلاق کو عصرِ حاضر کی اہم ضرورت قرار دیا۔

 

قم المقدسہ: استادِ مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب نے حرم مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا میں اپنے ہفتہ وار خطاب کے دوران عصرِ حاضر کی اہم دینی ضروریات پر گفتگو کرتے ہوئے توحید، نماز، قرآن سے تدبر اور حسنِ اخلاق کو مؤمن کی عملی زندگی کا بنیادی سرمایہ قرار دیا۔

علامہ علی اصغر سیفی صاحب نے اپنے خطاب میں امام مہدی علیہ السلام کے ناصروں کی صفات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ایک اہم صفت اللہ تعالیٰ کی حقیقی معرفت اور توحید ہوگی۔ انہوں نے امام علی علیہ السلام سے منقول اس مضمون کی طرف اشارہ کیا کہ امام مہدی علیہ السلام کے ناصرین اللہ تعالیٰ کی ایسی معرفت رکھتے ہوں گے جیسی معرفت رکھنے کا حق ہے۔

انہوں نے موجودہ دور میں مجالس و منابر پر بعض مقامات پر غلو کے رجحان کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ غلو مکتبِ تشیع کی تعلیمات کے ساتھ سازگار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکتبِ اہل بیتؑ کی بنیادی شناخت توحید ہے اور قدیم زمانے میں شیعوں کو اہلِ توحید کے عنوان سے بھی پہچانا جاتا تھا۔ توحید ہمارے عقائد کا اولین عقیدہ اور دینِ اسلام کی بنیادی اصل ہے۔

علامہ سیفی صاحب نے زائرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ توحید کے حوالے سے وہ کوئی فلسفیانہ بحث نہیں کر رہے بلکہ ایک سادہ اور عملی نکتہ بیان کر رہے ہیں کہ اگر انسان اپنے اندر توحید پیدا کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی عبادات بالخصوص پانچ وقت کی نمازوں کی پابندی کرنی چاہیے۔ عبادت اور خصوصاً نماز، توحید کی شاہراہ ہے اور نماز ہی انسان کے اندر عاجزی، بندگی اور عبودیت کا احساس پیدا کرتی ہے۔

انہوں نے واقعۂ کربلا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ محرم کا سب سے پہلا درس بھی نماز ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحابِ باوفا کے ہمراہ تیروں کی بارش میں نماز قائم کرکے کربلا کے مقصد کو واضح کردیا۔ انہوں نے کہا کہ خود امام حسینؑ کا سجدے کی حالت میں اپنے رب سے ملاقات کرنا اس بات کی عظیم دلیل ہے کہ مکتبِ اہل بیتؑ میں نماز کو کس قدر بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

 

قرآن؛ زندوں کی کتاب اور ہدایت کا سرچشمہ

علامہ سیفی صاحب نے اپنے خطاب کے دوسرے اہم نکتے کے طور پر قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ تدبر کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نماز اور قرآن میں ایک خوبصورت فرق یہ ہے کہ نماز بندے کی خدا سے گفتگو ہے جبکہ قرآن اللہ تعالیٰ کی بندے سے گفتگو ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن زندہ انسانوں کی کتاب اور ہدایت کا سرچشمہ ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں یہ رواج بڑھ گیا ہے کہ قرآن مجید کو زیادہ تر کسی کے انتقال کے بعد کھولا جاتا ہے۔ قرآن کو صرف ثواب کی نیت سے سادہ تلاوت تک محدود نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے معانی اور پیغام پر غور و فکر کرکے اس سے زندگی کی رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔

انہوں نے قرآن مجید کو امامِ صامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ قرآن انسان کو ہدایت کی راہ دکھاتا ہے اور اس کے ساتھ تعلق محض تلاوت تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔

علامہ سیفی صاحب نے امام رضا علیہ السلام کے ایک فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امامؑ فرماتے ہیں کہ وہ روزانہ تین سپارے تأمل اور غور و فکر کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر امام رضا علیہ السلام اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود روزانہ قرآن کے لیے وقت نکال سکتے ہیں تو ہم ان کی امت ہوتے ہوئے قرآن کے لیے وقت کیوں نہیں نکال سکتے؟ ہمیں قرآن پڑھنا، اسے سمجھنا اور اس سے اپنی زندگی کے لیے درس حاصل کرنا چاہیے۔

 

حسنِ اخلاق؛ تبلیغِ دین کا بنیادی ذریعہ

خطاب کے دوسرے حصے میں علامہ علی اصغر سیفی نے حسنِ اخلاق کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک واقعے کی طرف بھی اشارہ کیا، جس میں حرم امام حسین علیہ السلام میں ایک عالمِ دین کی جانب سے ایک گلوکار کو منقبت پڑھنے پر تنبیہ کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ممکن ہے اس عالمِ دین کی نیت خیر اور دین کی حفاظت ہو اور اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے، تاہم ہمیں بحیثیت علماء و مبلغین حسنِ اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہماری تبلیغ میں جذبہ ضرور ہو، لیکن ایسا جذبہ نہ ہو جو لوگوں کو دین سے قریب کرنے کے بجائے دور کردے۔

علامہ سیفی صاحب نے کہا کہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام نے ہمیشہ حسنِ اخلاق اور کریمانہ کردار کے ذریعے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنایا۔ یہاں تک کہ بعض ایسے افراد بھی جو ائمہؑ کے جانی دشمن تھے، ان ہستیوں کے اعلیٰ اخلاق سے متاثر ہوکر ان کے عاشق بن گئے۔

انہوں نے قرآن مجید کی آیتِ کریمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کے حسنِ اخلاق ہی کی برکت سے لوگ آپ کے گرد جمع ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کی سب سے بڑی پہچان اخلاق ہے اور اسلام دینِ اخلاق ہے۔ اگر دین کی تبلیغ میں اخلاق، محبت، حلم اور برداشت شامل نہ ہو تو اس کا اثر محدود ہوجاتا ہے۔

علامہ علی اصغر سیفی صاحب نے آخر میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بعد عالمی اسلامی انقلاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عصرِ ظہور میں اسلام صرف طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ امام مہدی علیہ السلام اور ان کے ناصرین کے اعلیٰ اخلاق و کردار کے ذریعے مشرق و مغرب تک پھیلے گا۔ اس لیے امام مہدی علیہ السلام کے منتظرین کو آج ہی سے توحید، عبادت، قرآن فہمی اور حسنِ اخلاق کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *