عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

عقائد توحید – درس 10

درس عقائد توحید
مہدی مضامین و مقالات

عقائد توحید – درس 10

توحید صفاتی، شیعہ اور اہل سنت عقیدہ ، امیر المومنین اور امام رضا علیہما السلام کا فرمان

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ:
توحید صفاتی، شیعہ اور اہل سنت عقیدہ

شیعہ عقیدہ:

پروردگار جس طرح اپنی ذات میں واحد ہے اسی طرح اپنی صفات میں بھی یکتا ہے۔ یعنی یہ صفات اس کی ذات سے جدا نہیں بلکہ اس کی ذات کا ہی حصہ ہیں۔ مفہوم کے اعتبار سے جدا ہیں لیکن اپنی حقیقت اور اپنے وجود کے اعتبار سے اللہ کی ذات میں ہی ہیں۔

مثلاً جیسے ہمارے اندر بھی دوطرح صفات ہیں۔ کچھ صفات عین ذات ہیں۔ جیسے صفت انسانی ہماری ذات کا حصہ ہیں لیکن صفت علم ، یا دیگر صفات جیسے قدرت اور جیسے حیات یہ ہماری ذات کو باہر سے عطا ہوئیں ہیں۔

ہم کسی زمانے میں عالم نہیں تھے۔ ہم کسی زمانے میں زندہ نہیں تھے ۔ کسی زمانے میں انسان عاجز ہو جاتا ہے اپنی قدرت کھو بیٹھتا ہے۔ تو انسانوں میں صفات زائد بر ذات ہیں۔ لیکن اللہ کی ذات میں صفات عین ذات ہیں۔

اہلسنت عقیدہ:

اگرچہ اہلسنت کے اندر مختلف مکاتب فکر ہیں جو یہ عقیدہ نہیں رکھتے کچھ ہیں جو ہمارا جیسا عقیدہ رکھتے ہیں۔
اور کہتے ہیں کہ خدا کی صفات عین ذات ہیں۔ اور باقی اس کی مختلف تشریحات کرتے ہیں۔

اگر ہم فرض کریں کہ اللہ کی ذات اس کی صفات سے ہٹ کر ہے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ پروردگار اپنے اندر کمالات نہیں رکھتا بلکہ اللہ کو یہ کمالات ملے ہیں اور خدا محتاج ہے۔ اس کا ایک تو یہ معنیٰ ہے۔ اور دوسرا یہ کمالات یعنی جو بھی صفات ہیں وہ اللہ سے جدا ہیں یعنی یہ نقص ہے اور یہ انسانوں میں تو تصور ہو سکتی ہیں۔ لیکن اللہ کی ذات جو تمام کمالات کا منبع ہے کیسے ممکن ہے کہ اس کی ذات کا حصہ نہ ہو۔ اگر ایسی چیزیں تصور کریں تو یا تو خدا کا محتاج ہونا یا نعوذ باللہ خدا کے وجود میں نقص ہونا یا پھر یہاں شرک کا معنی پیدا ہوتا ہے۔

یہ چیزیں اللہ کے حوالے سے محال ہیں۔ خدا خود تمام کمالات اور خیر کا منشا ہے۔ وہ پروردگار جو دوسروں کو ہزاروں صفات دیتا ہے تو یقناً اپنے وجود میں رکھتا ہے۔

*اللہ از اول از ازل از ابد* یہ صفات اپنے اندر رکھتا ہے اور اس کی ذات کا حصہ ہیں ۔ ہم کبھی بھی ان چیزوں کو اللہ کا غیر تصور نہیں کر سکتے۔ جیسے انسانوں کے بارے میں کرتے ہیں یہ چیزیں مفہوم کے اعتبار سے غیر ہیں جیسے ہم کہتے ہیں اللہ عالم ہیں، رحیم ہے۔ یہاں مفہوم کے اعتبار سے فرق ہیں لیکن وجود کے اعتبار سے ایک ہی ہیں۔

امیر المومؑنین اور امام رضؑا علیہ السلام کا فرمان

امیرالمومنینؑ نے نہج البلاغہ میں بہت خوبصورت تعبیروں کے ساتھ اسے بیان کیا۔
فرماتے ہیں ۔

“اللہ کی صفت و تعریف نہیں ہوسکتی اور وہ لا محدود ہے۔ اللہ کی توحید کا کمال یہ ہے کہ اس کے ساتھ اخلاص ہو۔ اور ہم صفتوں کی نفی کریں کیونکہ ہر صفت موصوف سے ہٹ کر ہوتی ہے اور موصوف ہمیشہ یہی گواہی دیتا ہے کہ وہ صفت سے ہٹ کر ہے۔ ”

امام رضاؑ سے خوبصورت فرمان:

” اللہ تعالیٰ ازل سے عالم ہے، قادر ہے، حی ہے، قدیم ہے، سمیع ہے بصیر ہے حلیم ہے۔”
تو راوی نے سوال کیا
“ایک قوم ہے (اہلسنت) وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ ازل سے علم کی وجہ سے عالم تھا ، قدرت کی وجہ سے قادر تھا، حیات کی وجہ سے حی ہے یعنی ان صفات کی وجہ سے اللہ ہے۔

امام نے فرمایا ۔

جو بھی اللہ کے بارے میں اسطرح سے معرفت رکھے گا تو گویا وہ اللہ کے علاوہ اور خداؤں کا قائل ہو گیا۔ اور یہ شرک ہو گیا۔

ایسا شخص ہماری ولایت سے کوئی فیض نہیں لیتا ۔

فرماتے ہیں
اللہ ازل سے اپنی ذات سے عالم ہے، اپنی ذات سے قادر ہے ، اپنی ذات سے حی ہے اپنی ذات سے سمیع ہے اپنی ذات سے بصیر ہے۔ اور جو مشرک لوگ خدا کی اس طرح کی تشبہیہ دیتے ہیں کہ علم کی وجہ سے عالم ہے تو اللہ اس سے پاک اور منزہ ہے۔ یعنی یہ صفات جو ہیں ان کا منشاء خدا کی ذات ہے۔

افسوس یہ ہے کہ اہلسنت کے اندر اشعری مسلک کا یہ عقیدہ ہے ۔ اللہ کی صفات ہیں وہ اس کی ذات پر زائد ہیں۔ یعنی ذات جدا ہے اور صفات جدا ہیں۔

اور جسطرح خدا قدیم ہے یہ صفات بھی قدیم ہیں اور گویا اگر ہم اللہ کی سات صفات مان لیں یعنی آٹھ قدیم شروع سے چلیں آرہی ہیں ۔

اہل تشیع کہتے ہیں
پروردگار تنہا وہ ذات ہے جو قدیم ہے۔ اور یہ صفات اس کے وجود سے پھوٹ رہی ہیں اور اس کا وجود سرچشمہ ہے۔

کچھ اہلسنت یہ کہتے ہیں کہ اللہ میں شروع میں کچھ نہیں تھا۔ خدا کی ذات خالی ہے ان چیزوں سے لیکن فیصلے عالمانہ اور قدرت سے کرتا ہے۔ لیکن خود اس کے اندر کچھ نہیں۔ یہ بہت عجیب و غریب باتیں ہیں۔ اس طرح کی باتوں کی کوئی دلیل نہیں ہے۔

ہم نے اللہ کی ذات کو قرآن مجید اور احادیث سے پہچانا ہے۔

ایک منتظر کی شناخت یہ کہ وہ موحد ہے۔

عالمی مرکز مہدویت قم

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید