تازہ ترین پوسٹس

ظالم کے مقابلے میں امام المتقین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے چار اہم درس۔

ظالم کے مقابلے میں امام المتقین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے چار اہم درس

استاد محترم علامہ علی اصغر سیفی صاحب کی زبانی 

کہتے ہیں ایک دفعہ جب مولاع مقام خلافت میں تھے تو کوفہ کی کسی کوچے سے آپ کا گزر ہوا تھا تو ایک خاتون بھاگتی ہوئی آئی اور مولا ع کو پکارنے لگی
یاابا الحسن یا امیر المومنین ع مجھے بچائیں
مولا نے کہا کیا ہوا تمیں کہنے لگی مولا میرا شوہر مجھے قتل کرنا چاہتا ہے
اب مولا ع اس کے ساتھ چل پڑے۔
ہے تو یہ چھوٹا سا واقعہ لیکن اس کے اندر کتنے نکات ہیں:
امام علیہ السلام وقت کے حاکم ہیں اور حاکم کا فرض ہے کہ اگر اس کی مملکت میں کسی خاتون پر بھی اس کا شوہرظلم کر رہا ہے تو حاکم کو چاہیے ہے اس کو بچاۓ۔
کتنا بڑا درس ہےہمارے حاکموں کے لیے
امام ع اس خاتون کے ساتھ چل پڑے اس کے گھر پہنچے دق الباب کیا روایت میں ہے کہ
ایک جوان باہر نکل اب وہ جوان مولا ع کو نہیں پہچانتا تھا بظاہر ہو سکتا ہے اس نے امام کو کسی اور حلیے میں دیکھا ہو مولا اس وقت خاص حلیے میں تھے
مولا اس سے مخاطب ہو کے فرماتے ہیں کہ :
اے عبدخدا (اتق الله) اے جوان اے اللہ کے بندے خدا سے ڈرو کیوں اپنی بیوی پر ظلم کر رہے ہو
اس شخص نے بہت بدتمیزی سے جواب دیا اور کہا کے پہلے
میرا ارادہ تھا اس کو قتل کروں
لیکن اب میں اس کو جلاؤں گا
بہت گستاخی کی ۔
اب مولا ع نے اپنی تلوار نیام سے نکالی اور غصے سے فرمایا : اگر ایسی بات ہے تو میں تمہیں بتاتا ہوں
اب وہ تھوڑا گھبرایا ایک دم مولا نے اپنی شمشیر نکالی
کچھ لوگ دیکھ رہے تھے وہ دوڑے اور کہا کہ یہ امیر المومنین ع ہیں خلیفہ وقت ہیں پھر وہ گھبرا گیا اور اس نے معزرت خواہی کی ۔

یہاں ہمارے مولا ع نے ہمیں درس دیا ہے کہ جہاں بھی ظلم دیکھوچاہیے گھر کی ایک عورت پر اور وہ تمہیں مدد کے لیے پکارے بے حسں نہ بنو بعنوان مسلمان اپنا فریضہ ادا کرو۔

کیوں معاشرے میں ظلم بڑھتا ہے ؟
کیوں ظالموں کے ہاتھ لمبے ہو رہے ہیں ؟
کیوں وہ اپنی من مانی کر رہے ہیں انہیں کیوں نہیں کوئی روک رہا ؟
توہم ایسے موقع پر بے حس ہو جاتے ہیں کہ ہمارے ساتھ تو نہیں ہو رہا اور یہ ایسا کام ہے جس میں لڑائیاں بڑھیں گی خوامخواہ ہم بھی کسی چکر میں پھنس جاہیں گئے
لیکن وہ دوسری طرف یہ نہیں دیکھ رہے کہ اپنا شرعی وظیفہ چھوڑ رہے ہیں اور گناہگار ہو رہے ہیں

ظلم کے اندر کوئی پاور نہیں ہے ظلم خود بے اساس ہے۔

چونکہ وہ چیز اساس رکھتی ہے جس کی اساس پروردگار بنے
جو دین کی خدمت کے لیے خدا کے لیے ، قربت پروردگار کے لیےہو ،جس کا منشاء پروردگار ہو وہ اساس ہوتی ہے
کائنات میں جس کا اساس اور منشاء پروردگار نہیں اس کی کوئی اساس نہیں ہے وہ ایسے ہی ہے جیسے تارعنکبوت ،مطلب مکڑی کا جالا
اب ظلم کیوں قوی ہوتا ہے کیونکہ اس کے سامنے والے بےحس ہوتے ہیں کوئی اس روکنے والا نہیں ۔
یہاں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے ہمیں بہترین درس دیا ہے

پہلا درس تو یہ دیا ہے
کہ کوئی بھی مدد کے لیے پکارے اس کی آواز کو سنواور حسب استطاعت اس کی مدد کرو یہ پہلا درس ہے۔
دوسرا درس یہ دیا ہے کہ اگر کوئی ظالم ظلم کرنا چاہتا ہے تو
تو مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو جاواور مظلوم کی حمایت کروجسطرح مولا ع نے اس خاتون کی حمایت کی تھی
تیسرا درس یہ ہے کہ ظالم بلآخر انسان ہے پہلے مرحلے میں اس کو نرمی اور محبت سے سمجھانے کی کوشش کرو کیونکہ بالآخر پیار ومحبت کا بڑا اثر ہے اور یہ درندوں کو بھی آرام کر دیتے ہیں اگر انسان واقع انسان ہو تو کیوں نہیں اثر کرتا
چوتھا جو درس ہے ظالم آگر اس کے باوجود اپنے ظلم سے نہ رکے تو پھر اپنی پوری قوت کے ساتھ مظلوم کی حمایت میں کھڑے ہو جاؤ اور ظلم کا مقابلہ کرو۔

یہ چار اہم درس ہیں اور یہی امر المعروف ہیں
خداوند متعال ہمیں امام کی ان تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے آمین اور اپنے وقت کے امام کا منتظر موحد بناے آمین۔

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *