تازہ ترین پوسٹس

سلسلۂ دروسِ امامت_ درسِ5_ امام کی عصمت کے دلائل

درسِ امامت :5

امام کی عصمت کے دلائل

استاد محترم: علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب

موضوع: امام کے لیے عصمت کی ضرورت اور اس کے دلائل

اہم نکات:امر بالمعروف اور اطاعتِ مطلقہ کا تضاد،امام کو معصوم ہونا چاہیے تاکہ وہ عوام کا مکمل اعتماد حاصل کر سکے،

امام کا گناہ کرنا اسے عوام سے بھی کمتر بنا دیتا ہے،عالمِ بے عمل کی تباہی اور اس کے خطرناک نتائج،جھوٹے مدعیانِ امامت اور ان کے فتنے( مثال: میرزا قادیانی(

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ہماری گفتگو اس نکتے تک پہنچ چکی تھی کہ امام کے لیے عصمت ضروری ہے اور اس حوالے سے دو دلائل پہلے بیان ہو چکے تھے۔ آج ہم مزید دلائل کا جائزہ لیں گے۔

تیسری دلیل: امر بالمعروف اور اطاعتِ مطلقہ کا تضاد

قرآن کا حکم:اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

“یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ” ( سورۂ نساء،59)

“اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور اولی الامر کی بھی اطاعت کرو۔”

اہم سوال:شریعت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض ہے، یعنی اگر کوئی گناہ کرتا ہے تو اسے روکا جائے۔

اگر پیغمبرؐ یا امامؑ بھی گناہ کریں) نعوذ باللہ(، تو پھر کیا امت پر لازم ہوگا کہ وہ انہیں بھی نصیحت کرے؟

لیکن قرآن مطلق اطاعت کا حکم دے رہا ہے، یعنی رسولؐ اور اولی الامر کی اطاعت ہر حال میں لازم ہے۔

یہ اس وقت ممکن ہے جب رسولؐ اور اولی الامر معصوم ہوں، کیونکہ اگر وہ گناہ کریں گے تو اطاعتِ مطلقہ کا حکم دینا غلط ہوگا۔

اہل سنت کا نظریہ:اہل سنت بھی مانتے ہیں کہ اولی الامر کی اطاعت مطلق ہے، چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ کرے!

یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں اہل سنت کے علماء نے ظالم بادشاہوں اور حکمرانوں کی اطاعت کو جائز قرار دیا۔

شیعہ اس نظریے کو رد کرتے ہیں، کیونکہ اطاعتِ مطلق صرف اسی کی کی جا سکتی ہے جو ہر خطا سے پاک ہو۔

نتیجہ: “اگر امام معصوم نہ ہو، تو امر بالمعروف اور اطاعتِ مطلق کا تضاد پیدا ہوگا، جو کہ ممکن نہیں۔ اس لیے امام کا معصوم ہونا ضروری ہے۔”

چوتھی دلیل: امام کو معصوم ہونا چاہیے تاکہ عوام اس پر مکمل اعتماد کریں

اہم مسئلہ:   امام کا تقرر اللہ کی طرف سے ہوتا ہے تاکہ لوگ اس کی اطاعت کریں۔اگر امام معصوم نہ ہو اور گناہ کر سکتا ہو، تو لوگ اس پر اعتماد نہیں کریں گے۔جب امام کی اطاعت نہ ہو، تو امامت کا فلسفہ ہی ختم ہو جائے گا۔

نتیجہ:   “اگر امام معصوم نہ ہو، تو لوگ اس پر مکمل اعتماد نہیں کر سکتے، اور امامت کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔ لہٰذا امام کو معصوم ہونا ضروری ہے۔”

پانچویں دلیل: امام کا گناہ کرنا اسے عوام سے بھی کم تر بنا دیتا ہے

اہم نکتہ:عالم بے عمل سب سے زیادہ قابلِ مذمت ہوتا ہے۔حدیث میں ہے:روزِ قیامت ایسا عالم جو عمل نہ کرے، جہنم میں ڈالا جائیگا اور اہل جہنم بھی اسکی بدبو سے اذیت پائیں گے ۔(مستدرک الوسائل،جلد 12 ،صفحہ 205))

امام اگر گناہ کرے تو اس کا درجہ تو عام عوام سے بھی نیچے چلا جائے گا، کیونکہ وہ زیادہ علم رکھتا ہے۔

امام علیؑ کا فرمان:امام علیؑ ایک شعر  فرماتے ہیں: لو كان فى العلم من غیر التقى شرف لكان اشرف كل الناس ابلیس(دیوان امام علی علیہ السلام)

“اگر علم بغیر تقویٰ کے کوئی قدر و قیمت رکھتا، تو سب سے زیادہ عزت ابلیس کو ملتی” کیونکہ وہ تمام انبیاءؑ اور آسمانی کتابوں کا علم رکھتا تھا۔ لیکن چونکہ وہ عالمِ بے عمل تھا، اس لیے ملعون ہو گیا۔”

نتیجہ:    “اگر امام معصوم نہ ہو اور گناہ کرے، تو وہ سب سے بدترین مخلوق میں شمار ہوگا۔ لہٰذا امام کا معصوم ہونا ضروری ہے۔”

عالمِ بے عمل کے فتنے اور تاریخی مثالیں

مسئلہ:تاریخ میں کئی علماء نے اپنی خواہشاتِ نفس کی وجہ سے گمراہی پھیلائی۔ان میں سے بعض نے جھوٹی نبوت یا امامت کا دعویٰ کیا اور لاکھوں لوگوں کو گمراہ کیا۔عصر حاضر میں اسکی  ایک مثال میرزا غلام احمد قادیانی ہے۔یہ ایک عالم اور مناظر تھا، جو پہلے اسلام کا دفاع کرتا تھا۔برطانوی حکومت نے اسے خریدا، کیونکہ وہ طاقت، مال اور شہرت کا

خواہشمند تھا۔اس نے فتویٰ دیا کہ برطانوی حکومت کے خلاف جہاد حرام ہے۔برطانوی بادشاہ کو “اولی الامر” قرار دیا۔

پھر وحی کا دعویٰ کیا اور کہا کہ وہ “امتی نبی” ہے۔اس کے جھوٹے عقائد نے ایک نیا گمراہ فرقہ قادیانیت کو جنم دیا، جو آج بھی لاکھوں لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔

نتیجہ: “جب ایک عالم بے عمل ہو، تو وہ خواہشاتِ نفس کا شکار ہو کر لوگوں کو گمراہی میں دھکیل سکتا ہے۔ اس لیے امام کے لیے ضروری ہے کہ وہ معصوم ہو، تاکہ وہ کبھی بھی غلط راستے پر نہ جا سکے۔”

نتیجہ: 1۔امر بالمعروف اور اطاعتِ مطلق کا تضاد امام کے معصوم ہونے کی دلیل ہے۔

2۔اگر امام معصوم نہ ہو، تو لوگ اس پر اعتماد نہیں کریں گے، اور امامت کا فلسفہ ختم ہو جائے گا۔

3۔امام کو گناہ کرنے کی اجازت دینا، اسے عام لوگوں سے بھی نیچے لے آتا ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔

4۔تاریخ میں عالمِ بے عمل نے سب سے زیادہ فتنہ برپا کیا، جیسے میرزا قادیانی نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا۔

5۔لہٰذا امام کا معصوم ہونا عقلی اور نقلی ہر لحاظ سے ضروری ہے۔

والسلام علیکم

عالمی مرکز مهدویت

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *