عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ دروس کتاب لقاء اللہ (سیر و سلوک) – درس 7

سلسلہ دروس لقاء الله
کتاب لقاء اللہ کے دروس مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ دروس کتاب لقاء اللہ (سیر و سلوک) – درس 7

سلسلہ دروس کتاب لقاء اللہ (سیر و سلوک)
(آیت اللہ العظمی میرزا جواد ملکی تبریزی رح)
درس 7

نکات :اگر انسان کی عقل اسکے محسوسات کے تابع ہو تو کیا نتیجہ نکلے گا اور اگر انسان اپنا تزکیہ کرے اور عقل و شرع کے مطابق ہو تو مقام علیین کو پائے گا ، امیر المومنین ع کا خوبصورت فرمان، عالم علوی کیا ہے؟ کب انسان اپنے خدا جیسا جوھر بنتا ہے کب وہ انسان ہوتا ہے اور فرشتوں کے زمرہ میں داخل ہوتا ہے؟..

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ :
موضوع سخن: کتاب شریف* *لقاءاللہ آیت اللہ العظمی میرزا جواد ملکی تبریزی رح* ✍️ *فرماتے ہیں کہ تین عالم ہیں۔
۔ محسوسات کی دنیا
۔ مثال کی دنیا
۔ معقولات کی دنیا یعنی عالم عقل

اگر انسان محسوسات اور مثال کو عقل کے تابع کرے تو انسان ایسی روحانی ترقی اور وہ معنوی مقام حاصل کرے گا جو کسی کے وہم و خیال میں بھی نہیں آسکتا۔ اللہ اس پر اتنا کرم کرے گا۔ لیکن اگر اس کی عقل حواس خمسہ کے تابع ہو جائے تو پھر اسی دنیا میں جکڑا جائے گا۔ اور اس کی مثال ایسے ہے کہ :
اخلد الی الارض
کہ وہ زمین میں ہی رہ جائے گا۔

یعنی ایسا شخص کہ جب اس کی روح موت کے وقت اس کے بدن سے جدا ہوگی تو وہ درد میں ہوگا اور کتنا ہی اندھیرا اور تاریکی ، مصیبتیں اور شقاوت کہ روزِ قیامت لوگ اس کی حیوانیت اور گناہوں کو دیکھیں گے۔ چونکہ یہ زمین اور زمین سے مربوط چیزوں سے ہی جکڑا رہا اور اس نے کوئی روحانی اور معنوی ترقی نہیں کی اور اپنے بدن کی خواہشات کو یعنی اس کی عقل فقط حیوانیت اور نباتاتیت کو ہی پورا کرنے میں لگی رہی۔ اور ان خواہشات کو ہی پورا کرتا رہا۔

فرماتے ہیں کہ اگر انسان اپنے اخلاق کا تذکیہ کرے، اپنے اعمال اپنی حرکت اور سکون کا میزان اور معیار شریعت اور عقل قرار دے۔ یعنی جو کچھ شریعت اور عقل حکم کریں اس کے مطابق اس کی صفات اور اخلاق تشکیل پائیں۔ پھر یہ اس دنیا اور اس جہان ظلمت سے اس کی روح ترقی کرے گی اور وہ عالم علیین کہ وہ عظیم روحانی مقامات تک پہنچے گا۔ اسے پھر اللہ کی معرفت ، آسمانی کتابوں میں جو اللہ نے علوم بھیجے وہ ان سے آشنا ہوگا۔ الہیٰ پیغمبروں کی معرفت حاصل کرے گا۔ اور اسے قیامت اور معاد کی سمجھ آئی گی۔ پھر وہ مقام معرفت کی اس بلندی پر پہنچے گا کہ وہ ایک روحانی شخص بنے گا ۔ نہ کہ فقط جسمانی۔

یعنی ایسا موجود ہوگا کہ واقعاً انسان ہے نہ کہ ایسا موجود کہ صرف حیوان ہے۔

اللہ اکبر!

فرماتے ہیں کہ:
کتاب غُرَرُ الحکم میں امیرالمومنینؑ سے روایت فرماتے ہیں کہ کسی نے سوال کیا کہ عالم علوی کیا ہے۔ تو مولاؑ نے فرمایا: 

انسان کو اللہ نے اسطرح خلق کیا ہے کہ اس کو نفس ناطقہ عطا کیا یعنی ایسا نفس کہ جس میں عقل، درک اور بصیرت ہے۔ اور یہی فرق ہے انسان اور حیوان میں۔

فرماتے ہیں:
کہ وہ اپنے اسی نفس ناطقہ کے ذریعے اپنے علم و عمل سے اپنے آپ کو تذکیہ دیتا ہے یعنی پاک کرتا ہے مادی خواہشات سے۔ اور پھر یہ پہلی علت کی شبہیہ بن جاتا ہے۔ یعنی تخلیق کی پہلی علت یعنی پروردگار کی شبہاتیں آجاتیں ہیں۔ تو یہ بھی ایسے جوہر میں تبدیل ہوگا کہ اپنی پہلی علت کے مشابہ ہو جاتا ہے۔

یعنی پروردگار عالم جس طرح کی الہیٰ تجلی چاہتا ہے اس طرح کی تجلی اس میں آجاتی ہے۔ 

درست ہے کہ انسان کو اللہ نے ماں باپ کے ذریعے وجود دیا۔ علتوں کی ایک لڑی ہے لیکن اگر انسان اپنا تذکیہ نفس کرے گا تو یہ پہلی علت کی مانند ہو جائے گا۔ یعنی پہلی علت خود پروردگار ہے کہ جس نے آغاز میں انسان کو خلق کیا اور اللہ چاہتا ہے کہ انسان میں تجلیات الہیٰ ہوں ۔ یعنی اوصاف میں خدائی صفات ہوں۔ جیسے اللہ سخی ہے تو وہ بھی سخی بنے۔ اللہ کریم ہے تو وہ بھی کریم بنے۔

پروردگار اسی لیے تو اپنا علم انسان کو عطا کرتا ہے کہ علم پر عمل کر کے انسان کا وجود الہیٰ وجود بنے۔ وہ اتنا پاک و پاکیزہ ہو جائے کہ اس کو دیکھ کر اللہ یاد آئے ۔

مولاؑ بھی یہی فرما رہے ہیں:
اگر وہ اپنے نفس کو علم و عمل سے تذکیہ کرے تو وہ اپنی اس پہلی علت جیسا جوہر بنے گا۔ اور پھر فرماتے ہیں کہ اگر وہ اپنے نفس کے مزاج کو معتدل کرے تو یعنی ہم مادی اشیاء کے لیے نہ زندہ ہوں بلکہ مادی اشیاء کو اس حد تک لیں کہ ہماری زندگی گذرے۔ ہمارا ہدف دنیا سے ہٹ کر وہ جہاں ہو اور معرفت پروردگار ہو۔

فرماتے ہیں کہ:
اگر کوئی شخص اپنے نفس ناطقہ کو اقبال کے مقام تک پہنچا دے۔ اور ہر وہ چیز جو اس کی روحانیت کے خلاف ہے اور وہ اس سے جدا ہوجائے تو فرماتے ہیں کہ:
وہ سات آسمانوں جتنا محکم اور ثابت قدم ہو جائے گا۔

اللہ اکبر!

اور پھر مزید مقام پر میرے مولاؑ فرماتے ہیں کہ: 

اگر کوئی اپنے اخلاق کو خوبصورت کرے اور بہترین اخلاق کا مالک ہو تو ایسا موجود بنے گا کہ جو فقط انسان ہے یعنی اس میں حقیقی انسانی صفات تجلی کریں گی۔ نہ کہ وہ ایک ایسا موجود ہو گا جو حیوانی ہے۔

ہم اپنے اردگرد مختلف انسانوں کو حیوانی شکل میں دیکھتے ہیں ان میں انسانی اوصاف نہیں ہوتے۔ ان میں طمع حرص، لڑائی جھگڑے ہیں اور خواہشات نفسانی ہیں فقط حیوانی ہیں اور کچھ بھی نہیں۔

فرماتے ہیں کہ:
پھر وہ ایسا انسان بنے گا جو محض انسان ہے اور پھر وہ اس وقت فرشتوں کی بارگاہ میں داخل ہوگا۔

فرماتے ہیں کہ:
پھر اس مقام سے بالا تر اور کوئ مقام نہیں جہاں وہ داخل ہو۔
سبحان اللہ!۔

خلاصہ یہ ہے کہ مولاؑ یہ فرما رہے ہیں کہ:
اگر کوئ شخص اس عالم ظلمت اور اس جہان خاک و آب سے ترقی کرے تو وہ خود کو معرفت نفس کے مقام تک پہنچا سکتا ہے ۔

یعنی وہ اپنے نفس و روح کی حقیقت کو جان لے گا اور پھر اس ایک کلید ملے گی کہ وہ اپنے رب کی معرفت کو حاصل کرے گا۔ کیونکہ رب کی معرفت کی کلید نفس کی معرفت ہے۔

دعا ہے کہ پروردگار ہم سب کو یہ روحانی اور معنوی ترقی ہماری زندگیوں میں ہی نصیب فرمائے۔

آمین۔
والسلام۔

عالمی مرکز مہدویت قم۔​

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید