عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ دروس عصر ظہور – کتابچہ: 11 – موضوع :عصر ظہور کی اجمالی تصویر – پہلا درس

کتابچه 11
مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ دروس عصر ظہور – کتابچہ: 11 – موضوع :عصر ظہور کی اجمالی تصویر – پہلا درس

سلسلہ دروس عصر ظہور
کتابچہ: 11
موضوع :عصر ظہور کی اجمالی تصویر
پہلا درس

خطابت:
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

تمھیدی گفتگو۔
اس سے پہلے ہماری گفتگو علامات اور اسباب ظہور میں اور اس سے متعلق مختلف موضوعات میں جاری رہی ہے ۔ انشاءاللہ اب سے ہماری گفتگو عصر ظہور میں شروع ہورہی ہے۔

پوری دنیا یہ امید رکھتی ہے کہ اس جہان کا بلآخر اختتام یوٹوپیا پر ہوگا یعنی وہی مدینہ فاضلہ وہی باسعادت دور کہ جہاں تمام انسانی کمالات ظاہر ہونگے۔ بعض مفکر اسے
Promise Society
کے عنوان سے بھی یاد کرتے ہیں یعنی جامع موعود۔ یعنی وہ معاشرہ جہاں حق والے پلٹیں گے۔ انسانی فضیلتیں اور خوبیاں پلٹیں گی۔ اور دنیا کی جو سیاہ تاریخ ہے اور سیاہ حالات وہ ختم ہو جائیں گے اور دنیا کی ایک روشن تاریخ شروع ہو جائے گی۔

ویسے تو پوری دنیا امیدوار ہے لیکن پوری دنیا میں اسلام اور بلخصوص مکتب تشیع اس عصر ظہور پر قطعی اور یقینی عقیدہ رکھتا ہے۔ اور باقاعدہ عصر ظہور کی راہ کو ہموار کرنے کے لیے کوشش بھی کر رہا ہے۔ کیونکہ عصر ظہور یہ وہ باسعادت دور ہے کہ بہت ساری قرآنی آیات اس دور کی تصویر کو پیش کرتی ہیں یعنی اسے مجسم کرتی ہیں۔

سورہ النور 55
وَعَدَ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّـهُـمْ فِى الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْۖ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَـهُـمْ دِيْنَهُـمُ الَّـذِى ارْتَضٰى لَـهُـمْ وَلَيُـبَدِّلَـنَّـهُـمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِـمْ اَمْنًا ۚ يَعْبُدُوْنَنِىْ لَا يُشْرِكُـوْنَ بِىْ شَيْئًا ۚ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْفَاسِقُوْنَ (55)
اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور زمین کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔

بعنوان مثال سورہ نور کے اندر آیت نمبر 55 میں اگر ہم اس آیت کے اندر پروردگار کی جانب سے جو عصر ظہور کے متعلق مختلف نکات بیان ہوئے اگر ہم ان کی جانب توجہ کریں۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتنا حقیقی اور یقینی عقیدہ ہے کہ جو بلآخر محقق ہوگا کیونکہ اس کو بیان کرنے والا خالق کائنات ہے اور خالق جب وعدہ کرتا ہے تو اس وعدے کی مخالفت نہیں کرتا ۔ وہ پروردگار جو ہمیں وعدہ پورا کرنے کا حکم دیتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وعدہ پورا نہ کرے۔

اس آیت مجیدہ میں پروردگار عالم فرما رہا ہے۔
سورہ نور آیت: 55
*وَعَدَ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ*
یہ اللہ کا وعدہ ہے ان لوگوں میں سے کہ جو تم میں سے صاحب ایمان ہیں اور عمل صالح انجام دیتے ہیں۔

ان میں دو شرطیں ہیں یعنی ایمان بھی رکھتے ہیں اور عمل صالح بھی انجام دیتے ہیں۔
ایمان یعنی توحید عدل، نبوت ، امامت، قیامت یعنی اصول دین پر حالت ایمان یعنی حالت یقین ہے اور یہ وہی معرفت پروردگار و رسولؐ و حجت خدا ہے۔ اور دوسری شرط وہی عمل صالح کرتے ہیں یعنی اس ایمان کے مطابق اتباع کرتے ہیں۔ وہ رب کی عبادت کرتے ہیں اور رسولؐ اور حجت خدا کی اتباع کرتے ہیں۔

پروردگار ان لوگوں سے جو واقعاً اہل ایمان اور عمل صالح انجام دینے والے ہیں جو آج کے دور میں اہل انتظار ہیں۔ کیونکہ مومنین ہر دور میں اسی حجت خدا کے عنوان سے پہچانے جاتے ہیں۔ اور آج حجت خدا کا تقاضا انتظار ہے اور آج کے مومنین اسے عنوان سے پہچانے جاتے ہیں۔

اور آج کے دور میں اہل انتظار سے اللہ کا وعدہ ہے کہ:
لَيَسْتَخْلِفَنَّـهُـمْ فِى الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْۖ

پروردگار انہیں زمین پر اسی طرح خلافت دے گا جس طرح اس سے پہلے والوں کو اللہ نے زمین پر خلافت بخشی۔ جیسے حضرت ذوالقرنینؑ، حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ اور بھی ہستیاں ہونگی کہ جنہیں ہم نہیں جانتے۔ تو پروردگار نے انہیں زمین پر حکومت دی ان کو بھرپور نعمات سے نوازا بھرپور وسائل، قوت وطاقت، کرامات و معجزات ، ملائکہ حتی کہ چرند پرند اور کائنات کی تمام اشیاء ان کی حکومت میں ان کی مددگار تھیں اور پروردگار عالم ان لوگوں کو جو اہل ایمان اور عمل صالح کرنے والے ہیں بشارت دے رہا ہے کہ خدا تمھیں ہر صورت میں زمین پر اسی طرح خلافت و حکومت عطا کرے گا کہ جس طرح اس سے پہلے والوں کو دی تھی۔

وَلَيُمَكِّنَنَّ لَـهُـمْ دِيْنَهُـمُ الَّـذِى ارْتَضٰى لَـهُـمْ 
اور صرف بات خلافت اور حکومت کی نہیں ہے بلکہ وہ دین وہ قانون وہ ضابطہ حیات کہ جسے اللہ نے تمھارے لیے پسند کیا ہے اللہ اس کو بھی زمین پر مستحکم بپا کرے گا اس حوالے سے ہمارے پاس بہت ساری روایات ہیں کہ اسلام شرق و غرب پر نافذ ہو گا۔ جیسا کہ امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ:

دنیا کا کوئی ایسا کونہ نہ ہوگا کہ جہاں سے اشھد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد رسولؐ اللہ یہ صدائیں آذان ہر جگہ سے آئے گی اور ہر جگہ اسلام کی حکومت ہو گی۔ یعنی پروردگار ایک تو حکومت کی بشارت دے رہا ہے ایک دین اسلام کی پوری دنیا پر نافذ ہونے کی بشارت اور ایک:
وَلَيُـبَدِّلَـنَّـهُـمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِـمْ اَمْنًا ۚ 
کہ تمھارے ہر خوف کو امن میں تبدیل کر دے گا۔ یعنی پھر کوئی خوف خوف ہی نہ رہے گا۔ اب انسان کو آج کے دور میں جتنے بھی خوف ہوتے ہیں یعنی جان و مال، عزت و ناموس، صحت اور کتنے ہی خوف ہمیں دن رات گھیرے رکھتے ہیں لیکن یہ وہ دور ہو گا کہ جس میں پروردگار عالم ہمیں امن و اطمینان ، سکون ، آرامئش اور سعادت میں بدل دے گا۔ اس کے بعد کوئی خوف بچے گا ہی نہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ:
يَعْبُدُوْنَنِىْ لَا يُشْرِكُـوْنَ بِىْ شَيْئًا ۚ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ 
کہ پھر اس وقت پوری دنیا روئے زمین پر پروردگار کی عبادت کرے گی اور کسی چیز کو اللہ کا شریک نہیں قرار دیں گے۔ آج کل تو ہم مختلف قسم کے شرک میں مبتلا ہوں شرک خفی ، شرک جلی۔ بعض اوقات ہم اللہ کی منشا کو چھوڑ کر اپنے نفس کی مان لیتے ہیں بعض مرتبہ لوگوں کی مان لیتے ہیں بلآخر آج بھی کئی قسم کی بت پرستی ہو رہی ہے۔

یہ وہ زمانہ ہے کہ جس میں کسی قسم کا شرک نہیں ہوگا ۔ لیکن اس کے بعد پھر پروردگار تنبیہہ بھی کر رہا ہے۔

فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْفَاسِقُوْنَ
کہ لیکن اگر کوئی اتنی نعمات کے بعد بھی کفر کرے یعنی عمل صالح کرنے والوں کو حاکم بنایا۔ دین کو نافذ کیا عدالت سے زمین کو بھر دیا اور عبادت کے مواقع دیے شرک کو ختم کر دیا لیکن اگر پھر بھی کوئی ہوائے نفس کے تحت چلا اور شرک کیا تو پھر وہ لوگ فاسق ہیں اور اہل فسق کی جگہ جہنم ہے۔

اب قرآن مجید نے عصر ظہور کو کتنے خوبصورت اور تفصیل سے بیان کیا ہے کہ وہ عصر ظہور جس میں دین اسلام جو پوری دنیا پر نافذ ہے اور لوگوں پر روحانی اور معنوی اوصاف اجاگر ہیں۔ حجت خدا مہدیِ زہراؑ عج کی ولایت اور امامت پوری دنیا پرنافذ ہیں اور لوگ عدالت، امن اور سعادت مند زندگی گذار رہے ہیں۔

جیساکہ ہماری روایات میں ہے کہ :
یملأ الارض قسطا و عدلا
زمین کو مہدی زہرا عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ جس کا جو بھی حق ہے وہ اس کو ملے گا۔ جو بھی لوگوں کے حق کو ضائع کرتے ہیں انہیں سزا ملے گی لیکن مظلومین کو ان کا حق ملے گا۔ کیونکہ یہ دنیا کا وہ دور ہے کہ جب دنیا اس آخری کمال اور ہدف کو مکمل کرے گی کہ جس کی خاطر اللہ نے اس دنیا اور انسانوں کو خلق کیا۔

پروردگار عالم نے فرمایا کہ میں نے انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے خلق کیا تو اس زمانے میں لوگ اس ہدف کو پائیں گے۔ یعنی روح عبادت اور عبودیت تمام معاشروں پر حاکم ہوگا۔

بعض لوگ اس لیے عبادت کرتے ہیں کہ شیطان کا خوف ہے۔ شیطان انہیں فقرسے ڈراتا ہے اور بدکاری کی جانب لاتا ہے۔ لیکن اس زمانے میں یہ ساری چیزیں ختم ہو جائیں گی۔ ہر قسم کا فتنہ و فساد اور ظلم ختم ہوگا ، خود ابلیس بھی ختم ہو جائے گا۔

دنیا عدل و انصاف سے بھر جائے گی اور بے پناہ برکات ہونگی۔ آسمان سے برکتوں والی بارشیں ہونگی کہ جس سے انسانوں کو احساس رحمت ہوگا۔ زمین کے بے پناہ خزانے اور برکات ظاہر ہونگی۔ کہ جس سے بے پناہ علم اور صنعت ترقی کرے گی اور ایجادات ہونگی۔ لوگ ظاہری طور پر بھی ترقی یافتہ ہونگے اور عقلی اور روحی طور پر بھی کمال پر ہونگے۔ تمام دنیا کے ممالک آباد اور خوش و خرم زندگی گذاریں گے۔ پھر نہ کوئی ویرانی ہوگی نہ خشک سالی نہ جنگ بلکہ ہر جگہ پر آبادی اور رونق ہوگی۔

دنیا میں ہر کوئی خوشحال ہونگے۔ جیسے کسان خوشحال ہونگے۔ زمین بے پناہ ثمرہ دے گی۔ دنیا میں اقتصاد بے پناہ ترقی کرے گا۔ لوگوں کے پاس بے پناہ پیسہ ہوگا سب لوگ بے نیاز ہو جائیں گے حتی کہ لوگوں کو زکوۃٰ ، اور زکوۃٰ دینے کے لیے کوئی فقیر نہیں ملے گا۔ سب خوشحال ہونگے۔

علم طب اتنی ترقی کرے گا کہ دنیا میں کوئی بیماری نہیں رہے گی۔ جیسے احادیث میں بھی آتا ہے کہ دنیا میں کوئ بیماری نہ رہے گی اور آج کے انسان سے اسوقت کے لوگ دس گنا زیادہ صحت مند ہونگے۔ اس لیے ان کی عمریں بھی طولانی ہونگی۔

دنیا کے امور کو چلانے کے لیے مولاؑ عج صالح لوگوں کا انتخاب کریں گے اور ایک ایسی عادلانہ حکومت کو قائم کریں گے کہ جس کے اندر کام کرنے والے تربیت یافتہ، بااخلاق، موحد اور لوگوں کی خدمت کرنے والے اور رفاع اور امنیت مہیا کرنے والے ہو نگے ۔ یہ وہ پرامس سوسائٹی ہوگی۔ یہ وہی یوٹوپیا ہے۔ جسے قرآن و احادیث نے بیان کیا یہ وہی عصر ظہور ہے کہ جس کے بارے میں سب گفتگو کر رہے ہیں۔ لیکن قرآن اس کے بارے میں گفتگو کر رہا ہے۔

قرآن میں بار بار اسلام کہہ رہا ہے کہ:

یہ ساری برکات اس لیے حاصل ہونگی کہ جب اسلام تمام ادیان پر غالب آئے گا یعنی تمام جھوٹے مکاتب اور لوگوں کے بنے ہوئے نظریات پر جب دین خدا غلبہ کرے گا اس وقت زمین اس انداز میں روشن ہوگی جس طرح بیان کیا گیا ہے۔

اور یہ بشارتیں صرف اسلام سے شروع نہیں ہوئی بلکہ شروع سے چلی آرہی ہیں ۔اگر ہم پچھلے ادیان کے بارے میں مطالعہ کریں تو حضرت آدمؑ سے لیکر خاتمؐ تک ایک ایسے منجی کے بارے میں ایک ایسے نجات دہندہ کے بارے میں مسلسل بشارتیں چلی آرہی ہیں بعنوان بقیتہ اللہ ایک ایسی ہستی کو روئے زمین پر خدا باقی رکھے گا، غائب رکھے گا کہ جب تک اللہ ارادہ کرے گا دنیا میں سعادت مند دور شروع ہو۔

تمام ادیان بلخصوص ادیان ابراہیمی ہیں، جیسے دین یہود، مسیحی، وغیرہ اس کے اندر بے پناہ بشارتیں ہیں کہ سب لوگ منتظر ہیں اس مسیحا کے جو لوگوں کو مس کرے لوگوں کے سروں پر ہاتھ رکھے گا اور ان کی تکلیفوں اور مصیبتوں کو حل کرے اور اس طرح دنیا کی ہر مصیبت اور مشکل کو حل کرے جیسے ایک ماں اپنے بچوں کی تکالیف ومسائل کو حل کرتی ہے۔

تمام ادیان، زرتشت، ہندو، بدھ مت اس کی خبر دے رہے ہیں۔ ہندو کلکی کے منتظر ہیں۔ بت مت پانچویں بدھا کی خبر دے رہے ہیں۔ زرتش سوشیانش کی خبر دے رہے ہیں۔

لبرال لوگ جن کے اندر کوئی الہیٰ مذہب کا تصور نہیں وہ بھی دنیا کے انجام کو اچھی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ایک مشہور مفکر فوکویامہ اپنی کتاب میں دنیا کے انجام کے بارے میں اچھے تصورات لکھتا ہے۔ بلآخر دنیا ایسی نہیں رہے گی۔ دنیا میں ترقی یافتہ ، رشد اور کمالات کا عروج ہوگا۔

اسلام سب سے زیادہ اس موضوع کو بیان کرتا ہے اور ہمارے دیگر مکاتب جیسے اہلسنتؔ وہ بھی امام مہدیؑ عج کے ظہور پر عقیدہ رکھتے ہیں اور ان کی کتابوں میں یہ عقیدہ بیان ہوا اور ان کے اور ہمارے درمیان کوئی خاص فرق نہیں ہے۔

لیکن مکتب تشیع بہت ہی صراحت کے ساتھ اس موضوع کو بیان کرتا ہے بلکہ یہ بھی بیان کرتا ہے کہ جس ہستی کے ذریعے یہ عظیم اور باسعادت دور شروع ہونا ہے وہ ابھی بھی موجود ہے۔ اور وہ منتظر ہے کہ کب ہم لوگ اس عظیم دور کے لیے اٹھیں تیاری کریں اور وہ اسباب مہیا کریں کہ مولاؑ عج ظہور فرمائیں۔

مکتب تشیع صرف اس دور کی تصویر پیش نہیں کر رہا البتہ ہمارے ہاں بہت روایات ہے عصر ظہور کی بلکہ ہمارے لیے اس عصر ظہور تک پہنچنے کا راستہ بھی بیان کر رہا ہے اورتیسری چیز اہداف بیان کر رہا ہے کہ ہم اس دور میں کیا حاصل کرنا چاہ رہے ہیں اور کیا حاصل کریں گے۔ (اصلی اہداف اور فرعی اہداف)۔ اور کس لیے یہ دورشروع ہو رہا ہے اور کب تک چلے گا اور اس کے اہم ترین مراحل سب کو مکتب تشیع کھل کر بیان کر رہا ہے۔

عصر ظہور میں ہمارے اہداف۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔

دعا ہے کہ پروردگار ہم سب کو اس دور سے متصل کرے اور ہم سب کو ہمارے امام عج کی زیارت اور ان کے ظہور پرنور سے مشرف کرے۔

پروردگارا بحق محمدؐ و آل محمدؑ ہماری زندگیوں میں ہی یوسف زہراؑ کا ظہور فرما اور ہمیں ان کے خدمتگار ناصروں میں شمار فرما۔

آمین۔
والسلام

عالمی مرکز مہدویت قم

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید