عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ دروس عصر ظہور – درس دوم- کتابچہ 11 – موضوع: عصر ظہور کے حتمی ہونے پر احادیث

کتابچه 11
مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ دروس عصر ظہور – درس دوم- کتابچہ 11 – موضوع: عصر ظہور کے حتمی ہونے پر احادیث

سلسلہ دروس عصر ظہور
درس دوم 

کتابچہ 11
موضوع: عصر ظہور کے حتمی ہونے پر احادیث

خطابت:
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

ہماری گفتگو عصر ظہور کے حوالے شروع ہے اور عرض کیا تھا کہ ویسے تو دنیا کے تمام مذاہب میں عصر ظہور کے حوالے سے گفتگو ہے لیکن اسلام نے اسے مکمل طور پر بیان کیا اور اسلام کے اندر مکتب تشیع جو ہے وہ عصر ظہور کو ناصرف بیان کرتا ہے بلکہ عصر ظہور تک پہنچنے کی راہ تک کو بھی بیان کر رہا ہے۔ اور وہ امام جس کے ذریعے عصر ظہور محقق ہو گا اور انسان کو وہ تمام سعادتیں مہیا ہونگی۔ مکتب تشیع کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ امامؑ عج اب بھی ہمارے اندر موجود ہیں صرف ان کی نصرت کی ضرورت ہے تاکہ ہم عصر ظہور تک پہنچیں۔

اب ایک سوال جو سامنے آتا ہے کہ عصر ظہور سے ہمارا ہدف کیا ہے۔ اور دنیا کے مذاہب اسے مختلف ناموں سے یاد کر رہے ہیں مثلاً
یوٹوپیا
Promise Society
باسعادت دور
آخرالزماں

ہمارا جو ہدف ہے (احادیث اور سورہ نور کی آیت 55 کو مدنظر رکھتے ہوئے) وہ یہ ہے کہ دنیا میں ایک ایسا اسلامی معاشرہ تشکیل پائے جو انسان کو کمال حقیقی تک پہنچائے اور یہ کمال حقیقی انسانوں کو اس صورت میں ملے گا جب اس کے اندر عبودیت اور توحید پرستی ہے اور پروردگار کے فرامین جو اس کی حجت عج کے ذریعے جاری ہونگے اس کی مکمل طور پر اطاعت ہے۔ اور ان تمام چیزوں میں اس کا مقصود بارگاہ پروردگار میں قربت حاصل کرنا اور رضائے الہیٰ ہے۔

یہ چیزیں اصل میں عصرظہور تک پہنچنے کے لیے بنیادی ہدف ہیں اور اس ہدف تک پہنچنے کے لیے ہم چار اہداف یا چار بہترین راستوں کا ہم انتخاب کریں گے کہ جس کے ذریعے ہم اس بڑے ہدف تک پہنچیں گے۔

پہلا ہدف:
پروردگار کے ساتھ رابطہ:
ہمارا پہلا ہدف ہے کہ پروردگار کے ساتھ درست رابطہ قائم کرنے پر کام شروع کر دیں۔ یعنی اپنے اندر توحید پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس کے لیے قرآن اور احادیث رسولؐ اور فرامین معصومین موجود ہیں۔ اور خود ہماری عقل بتا رہی ہے کہ شرک اور کفر کی کوئی حقیقت نہیں۔

بلآخر خالق تک پہنچنا ہے اسے پہچاننا ہے۔ خالق نے اتنے ھادیؑ بھیجے ہوئے ہیں اور توحید تک پہنچنے کے لیے سارے راستے مہیا ہیں صرف ہم کوشش نہیں کرتے ورنہ یہی جو آجکل کے جدید وسائل مہیا ہیں وہ ہمیں پہنچا رہے ہیں اسی موبائل سے گوگل پر ہم توحید ،خدا شناسی، خدا پرستی عبودیت لکھیں تو بےشمار چیزیں ہم جان سکتے ہیں۔

اللہ سے جو ہمارا ارتباط ہے اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور پھر جو ہمارا اپنے وجود کے ساتھ جو ارتباط ہے اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ نے ہمیں روح اور جسم عطا کیا جوبہت بڑی نعمت ہے جس سے ہماری زندگی تشکیل پائی ہے۔ تو اب ہم نے اپنے بدن سے کیسے کام لینا ہے اور اپنے نفس کی کیسے تربیت کرنی ہے اس حوالے سے جو اخلاقی ابحاث ہیں جو فردی تربیت کو سامنے لاتی ہیں اور انسان کی چار قوتوں کو کہ کیسے عقل جو ہے وہ قوتِ شہوت ، غضب اور وہم پر حاکمیت رکھتی ہے۔ بلآخر اخلاقی ابحاث کو سنجیدگی سے لیں کہ میں خود بحثیت فرد کے خود کو ٹھیک کروں گا میں کس طرح کسی اور کو ٹھیک کروں کیونکہ جب تک سارے مسائل میرے اندر موجود ہیں میں کیسے اپنے مولا ؑ عج کا ناصر بن سکتا ہوں۔

اللہ نے انسان کو کائنات کے اندر اتنی نعمات دیں ہیں۔ ہوا، پانی نور، غذائیں اور کتنی ہی بےشمار نعمات ہیں جو ہمارے لیے ہیں تو ہم ان نعمات کے مدمقابل کیسے ہوں ہم نے ان سے استفادہ کرنا ہے اور اسراف نہیں کرنا اور ہدف وہی ہے تقرب الہیٰ، اور عصر ظہور میں اپنے مولاعج کی ہمراہی ہے ۔ تو پوری کائنات اس کام میں مہیا ہے۔ اور ہمارا جو حقیقی معنوں میں ارتباط ہونا چاہیے ہمیں اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی طرح دیگر انسانوں کے ساتھ جیسے ہمارے خاندان والے ، رشتہ دار، اہل محلہ ان لوگوں کے ساتھ ہمارا ارتباط عدالت والا ہونا چاہیے۔ اور احسان اور نیکیاں کرنے والا ہونا چاہیے۔ اور ان کے ساتھ میں فقط اپنے مال اور شکم کی فکر نہ کروں بلکہ ان سب کو اپنا ایمانی بھائی اور بہن اور اخوت والے حقوق کو مدنظر رکھو۔ اپنی زوجہ کو واقعاً اپنی زندگی کا ساتھی اور اپنے بچوں کی کفالت کروں یہ میرے پاس اللہ کی امانتیں ہیں اور تمام حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے میں عدالت کے ساتھ چلوں۔

یہ تمام وہ راہیں ہیں جو اس بڑے ہدف تک پہنچائیں گی۔

اور اگر آج میں اپنے وظائف کو ادا نہیں کروں گا تو اور لوگ امام تک پہنچیں گے اور وہ کریں گے ۔ اور اسی حوالے سے ہوسکتا ہے کہ میرا حساب ہو ہم روز محشر ہم سے سوال ہوگا کہ تم نے عصر ظہور کو محقق کرنے کے لیے اپنا کردار کیوں نہیں ادا کیا ۔ ورنہ عصر ظہور وہ زماں ہیں کہ جس کے بارے میں اتنی ہی بشارتیں ہیں۔

رسول ؐ اللہ نے فرمایا:
اے لوگوں تمھیں بشارت ہو ظہور کی اور یہ اللہ کا وعدہ ہے۔
قرآن میں وعدہ ہے۔ جیسے سورہ نور55 میں وعدہ ہے۔
پھر فرمایا:
اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ
لَا یُخْلِفُ
اللہ نے اپنے صالحین سے وعدہ کیا ہے اور عصر ظہور ضرورمحقق ہوگا کیونکہ خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا ۔ خدا کا وعدہ ہر صورت میں پورا ہو کر رہتا ہے۔
وَ ھُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ 
وَفَتْحٌ قَرِيبٌ

انشاءاللہ دنیا پر وہ دور آنے والا ہے جب پوری دنیا پر دین خدا نافذ ہوگا اور خدا والے زندگی گذاریں گے۔ بلآخر ہر چیز کا آغاز ہے اور اختتام ہے۔ یہ دنیا کئی کڑوڑوں اربوں سالوں سے بنی ہے۔ تو اب ہم جس دور میں ہیں یہ دنیا کا آخری دور ہے۔ پیغبرؐ فرماتے تھے کہ میں آخر الزماں کا پیغمبرؐ ہوں اور ان کے آخری ھادی کی ہم امت ہیں اور اس ھادی عج کے درمیانی دور غیبت میں ہم ہیں اور عصر ظہور کے نزدیک ہیں اور ہماری حرکت اس جانب ہے اور یہ دور امام زماں عج کے ذریعے محقق ہونا ہے کہ جو عترت رسولؐ ہیں۔

کہ جن کی اتنی بشارتیں ہیں:
مشہور روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا:
منا آل محمدؐالمھدیؑ
مھدیؑ عج ہم آل محمدؑ میں سے ہیں۔

اہلسنت کی کتابوں میں بھی یہ سوال ہے جو رسولؐ اللہ سے ہوا کہ آیا امام مھدیؑ عج آپ سے ہیں؟۔ جسے جلال الدین سیوطی نے بھی اپنی کتاب العرف الوردی میں اور دوسری کتابوں میں بھی ذکر کیا ہے کہ مولاؑ علیؑ نے رسولؐ خدا سے پوچھا کہ کیا امام مھدیؑ عج ہم میں سے ہیں یا ہمارے غیر میں سے۔
رسولؐ اللہ نےفرمایا: 
ہم میں سے ہیں کہ اللہ ان کے ذریعے دین کو ختم کرے گا جیسے ہم سے آغاز کیا اور ہم وہ لوگ ہیں کہ جن کے ذریعے اللہ شرک کو دنیا سے ختم کرے گا۔

تو امام مھدی ؑ عج کی بشارت مسلمان شیعہ سنی کتابوں میں ہےاور ان کے ذریعے عصر ظہور محقق ہوگا۔ دنیا کو شرک سے نجات ملنی ہے۔ ہمارا بنیادی ہدف عصر ظہور میں توحید کو بپا کرنا ہے۔

رسولؐ اللہ مولا علیؑ سے فرماتے ہیں۔
میرے بعد 12 امام ہیں ان میں سب سے پہلے آپؑ ہیں یاعلیؑ اور آخری وہ قائمؑ عج ہیں کہ جن کے ہاتھوں سے پروردگار دنیا کے مشرق کو مغرب کو فتح کرے گا۔

یہ ساری عصر ظہور کی بشارتیں ہیںَ
حتی کہ کہ فرمایا:
لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ اَلدُّنْيَا إِلاَّ يَوْمٌ وَاحِدٌ لَطَوَّلَ اَللَّهُ ذَلِكَ اَلْيَوْمَ حَتَّى يَخْرُجَ فَيَمْلَأَهَا عَدْلاً وَ قِسْطاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْماً‘‘۔ 
اگر دنیا کا ایک دن بھی رہ جائے تو پروردگار اس دن کو طولانی کرے گا کہ میری نسل سے ایک شخص کو اٹھائے گا کہ جس کا نام میرا نام ہے اور وہ دنیا کو عدل و انصاف سے پر کرے گا کہ جس طرح وہ ظلم و ستم سے بھری ہوگی۔

اب اس سے بڑھ کر عصر ظہور کی بشارت اور کیا ہوگی۔ پیغمبرؐ ایک مثال دے رہے ہیں کہ اگر دنیا ختم ہونے میں ایک دن بھی رہ گیا تو یہ ظہور ہر صورت میں ہونا ہے۔

اسی طرح دیکھیں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ قیامت نزدیک ہے جبکہ ابھی تو عصر ظہور باقی ہے۔

حاکم نیشاپوری نے اپنی مٗسند اور احمد بن حمبل نے اپنی مسند میں اور اسی طرح اور بھی اہلسنت کے علما ء لکھتے ہیں
کہ پیغمبرؐ فرماتے ہیں کہ: 
قیامت بپا نہیں ہوسکتی جب تک زمین جو کہ ظلم و ستم سے بھر نہ جائے تو اسوقت میرے ہی خاندان سے ایک شخص قیام کرے گے جو زمین کو عدل و انصاف سے بھرے گا۔
یہاں ایک نکتہ ہے کہ دنیا ظلم سے بھرے گی نہ کہ ظالموں سے۔

ہم نے قیامت کا ابھی انتظار نہیں کرنا ابھی ہم نے عصر ظہور کا انتظار کرنا ہے جو ہر صورت میں امام مھدیؑ عج سے محقق ہونا ہے۔

عصر ظہور میں کیا ہوگا؟
کہ امام مھدیؑ عج اور پھر ان کے اوصیا جو آل محمد ؑ سے ہیں ان کی حکومت ہوگی۔
پیغمبرؐ فرماتے ہیں :
یہ امت محرومہ ہے اس کا نبیؐ بھی اسی میں سے ہے اور اس کا مھدیؑ عج بھی انہیں میں سے ہے۔ اس دین کا ہمارے ذریعے آغاز ہوا ہے اور ہمارے ذریعے ہی اختتام ہوگا۔ اورآنے والے زمانے میں ہماری ہی حکومت قائم ہوگی اور پھر کوئی اور حکومت نہ ہوگی۔
ہم ہیں وہ اہل عاقبت جن کے بارے میں قرآن میں گفتگو ہے۔
والعاقبة للمتقين
بلآخر انجام متقین کا ہے وہ متقین ہم ہیں۔ ہمارے ذریعے اہل تقوٰی اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ ہمارے ذریعے لوگ تقویٰ اختیار کریں گے۔
بلآخر دنیا پر تقویٰ کا رنگ چھائے گا۔

آج کی تمھیدی گفتگو کا نتیجہ: 
عصر ظہور ایک ایسی چیز ہے کہ جس کے بارے میں سنی شیعہ دونوں میں روایات موجود ہیں ۔ یہ عصر ظہور ہر صورت میں آنا ہے اور اس کو بپا کرنے والا نسل رسولؐ سے ان کا ہمنام مھدیؑ عج ہے۔ اور قیامت تک کے لیے ان کی ہی حکومت بپا ہوگی۔
قرآن میں جو آیا ہے
والعاقبة للمتقين ہی عصر ظہور ہے۔ 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پروردگار عالم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم اپنی اسی زندگی میں عصر ظہور کے لیے حقیقی معنوں میں عقیدہ پیدا کریں اور اس کی جانب حرکت کریں اور ناصر امام وقت عج بنیں اور اپنے امام کے لیے کچھ کریں اور عصر ظہور کی تعجیل کے لیے کچھ کریں اور فقط بیٹھ کر دعا نہ کریں۔ بلکہ امام کے ظہور کے لیے حرکت کریں

والسلام

عالمی مرکز مہدویت​

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید