عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ دروس انتظار – درس9

سلسلہ دروس انتظار
مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ دروس انتظار – درس9

موضوع:
منتظر کو بانشاط و پر تحرک کرنے کے دو اسباب، ملاقاتوں اور غیبت میں راہنمائی کا فلسفہ ، امام زمانہ عج کے پیغامات ، سلسلہ بشارت ، دیگر ادیان سے آج تک بشارت ہر رنگ میں رہی ہے۔

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ:
موضوع سخن انتظار ہے۔ ہم زمانہ غیبت میں جو اہم ترین وظیفہ رکھتے ہیں وہ مولاؑ کا عقیدہ ،علم و عمل ہر اعتبار سے انتظار ہے۔

انتظار کو بڑھانے میں دو چیزوں کا بڑا کردار ہے 

1۔ اسی زمانہ غیبت میں امامؑ عج کی علماء صالحین اور عام لوگوں سے ملاقاتیں ہوتیں ہیں۔

جب بھی دنیا تشیع انفرادی یا اجتماعی طور پر کسی مشکل کا شکار ہوتی ہے تو ایسا ہوتا ہے کہ مولاؑ ایک مہربان فرشتہ کی مانند خود یا کچھ افراد کے ذریعے لوگوں کی مشکلات دور کرتے ہیں اور ان کے مسائل حل کرتے ہیں۔ اور اہل توسل کی راہنمائی کرتے ہیں۔

اس طرح کے واقعات پر بہت ساری کتابیں ہیں خود بحار الانوار میں بہت سارے واقعات ہیں کتاب نجم الثاقب میں بہت سارے واقعات ہیں اور اس سے پہلے والی کتابیں ہیں جیسے غیبت طوسی ہے اور شیخ مفیدؒ اور شیخ صدوقؒ کی تالیفات میں ہم ان واقعات کو کثرت سے دیکھتے ہیں۔

یہ واقعات بتاتے ہیں کہ امام ؑ ہمارے درمیان موجود ہیں اور غفلت میں رہنے کے بجائے بیدار اور حرکت میں ہیں۔ ان کی ملاقات ہمارے لیے بشارت ہے کہ سلسلہ ہدایت ابھی جاری ہے ۔ اور بلخصوص ایسے ادوار کہ جن میں امام کا انکار ہوتا ہے یا لوگ یہ سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ پتہ نہیں ایسی کوئی شخصیت ہے بھی یا نہیں۔ تو اس دوران ایسے واقعات لوگوں کے ایمان کو تقویت بخشتے ہیں اور ایسے افراد جو منکرین یا اہل شک اور گمراہ ہیں تو ان کے لیے ایسے واقعات نوید ہوتی ہے۔

امام زمانہؑ عج کا بحارالانوار میں بھی فرمان موجود ہے: مولاؑ امام زمانہؑ عج الشریف نے فرمایا:
میں تو کسی بھی عالم میں تمھارے حالات کے حوالے سے کوئی کوتاہی بھی نہیں کرتا ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو دشمن تمھیں کب کا ختم کر چکے ہوتے ۔ بس بیدار رہیں اور اللہ تعالیٰ کا تقوٰی اختیار کریں۔

یہ فرمان بتا رہا ہے کہ ہمارا وارث ہمارا ولی موجود ہے اور ان کی جانب سےراہنمائی کا سلسلہ بھی موجود ہے۔

جیسا کہ مولاؑ کا فرمان موجود ہے۔ کہ زمانہ غیبت میں لوگ مجھ سے اسی طرح استفادہ کریں گے جیسے بادلوں کی اوٹ میں پنہاں سورج کی حرارت و روشنی سے استفادہ کرتے ہیں۔
یعنی مولاؑ فرما رہے ہیں کہ میں تمھارے درمیان ظاہر بظاہر تو نہیں ہوں گا لیکن میری ہدایت اور میری راہنمائی ، میرا فیض مختلف رنگوں میں تمھارے درمیان ہوگا تم فیض پاؤ گے اور تمھارا دین ترقی کرے گا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ تشیع نے جتنی ترقی زمانہ غیبت میں کی ہے کسی اور دور میں نہیں کی۔ ہم ہمیشہ گذشتہ ادوار میں تنگیوں اور تقیہ میں رہے۔ لیکن غیبت صغریٰ اور کبرٰی میں تقیہ ختم ہوا۔ شیعہ حکومتیں قائم ہوئیں شیعہ حوزات اور مراکز بنے بلآخر آج شیعہ مذہب دنیا میں اسلام حقیقی کا علمبردار ہے اور پوری دنیا اس حقیقت کو جان رہی ہے۔ اور شیعہ علماء ہر موضوع پر اسلامی رائے کو اور حقیقی معنی میں قرآن کی تفسیر اور سنت پیغمبرؐ کو پیش کر رہے ہیں۔

تو امامؑ ہمارے درمیان میں موجود ہیں وہ کہیں دور نہیں رہتے ۔ جہاں شیعہ ہیں مولاؑ وہیں ہیں۔ مولاؑ کسی جزیرے میں نہیں۔

اسی لیے امام صادقؑ فرماتے ہیں۔
تمھارے امام ؑ کا حق(حکومت ) جو ظالموں نے لے لیا ہے وہ مولاؑ تمھارے درمیان ہی آمد و رفت رکھتے ہیں۔ تم ابھی انہیں نہیں پہچانتے اور جب اللہ کا حکم ہو گا تو وہ تمھیں اپنی پہچان کرائیں گے۔

اسی طرح بعض روایات کہتی ہیں کہ:
امامؑ حج کے دنوں میں بھی وہیں موجود ہوتے ہیں لوگوں کو دیکھتے ہیں پہچانتے ہیں اور لوگ بھی انہیں دیکھتے ہیں لیکن پہنچانتے نہیں۔

جب توقیعات کا زمانہ تھا۔ لوگ امام ؑ کو خط لکھتےتھے۔ تو امامؑ نے شیخ مفیدؒ کو واضح کیا تھا کہ ” ہم تمھارے(شیعوں کے) حالات سے مکمل آگاہ ہیں اور کوئی بھی چیز ہم سے پوشیدہ نہیں۔

جب بھی بڑے بڑے شبھے آئے تو مولاؑ نے فقہاء کی مدد کی کہ وہ ان سوالات کے جوابات دے سکیں۔ جب بھی شیعہ قوم کا قتل عام ہوا تو مولاؑ نے بچایا۔

بحرین، ایران عراق جنگ کے حالات پڑھیں یا پاکستان میں کچھ شہادتیں ہوئیں لیکن اجتماعی طور پر ایسا وقت نہیں آنے دیا کہ شیعہ قوم مکمل طور پر قتل ہو۔ اگر ہم کہیں پر مصیبتیں دیکھ رہے ہیں تو دراصل اپنے زمانے کے امام ؑ کے لیے ہم صحیح معنوں میں وظائف پر عمل نہیں کر رہے ہم متحرک نہیں ہیں۔

سلسلہ بشارت:
دوسری چیز سلسلہ بشارت ہے تمام آسمانی کتابوں میں بشارت تھی۔ رسولؐ اللہ اور آئمہؑ نے بشارتیں دی تھی۔ مہدیؑ کی بشارت انسان کو حوصلہ دیتی ہے کہ یہ کام ہر صورت میں ہوگا اور طول غیبت میں مختلف حکایات و روایات ہمیں بتائی جا رہی ہیں کہ ہم انتظار کریں۔ وہ انتظار جو افضل عبادہ ہے۔ یعنی ہم میں بامقصد انتظار سامنے آئے اور وہ شیعہ قوم کی انفرادی و اجتماعی حرکت نیز قیام سامنے آئے اور بالآخر اللہ کا حکم ظہور آئے اور مولا ؑ ظہور فرمائیں۔

پروردگار عالم ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہماری زندگیوں میں ایسا انتظار پیدا ہو کہ جس کی بدولت ہم مولاؑ کے ظہور کو اپنی زندگیوں میں دیکھیں۔
والسلام۔

عالمی مرکز مہدویت قم۔

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید