عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ دروس انتظار – درس 8

سلسلہ دروس انتظار
مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ دروس انتظار – درس 8

موضوع: منتظر کا ھدف ، دنیا کے تمام مذاھب و ادیان کا مشترکہ عقیدہ،مومن منتظر کے لیے کیوں دنیا قیدخانہ،عالمی مصلح کے انتظار میں اسلام اور شیعیت کا کردار ،شیعہ ظہور کے آغاز میں ہر اول دستہ

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ: 
موضوع سخن انتظار امام زمانہؑ عج الشریف ہے۔ گذشتہ گفتگو میں ہم نے ایک منتظر شخص کی زندگی کے مختلف پہلو بیان کئے۔

منتظر کا ہدف امام عج کے ظہور کی راہ کو ہموار کرنا ہے اور اسی ہدف کی خاطر وہ فکری ، روحانی، جسمانی اور نظم و ضبط کے حوالے سے تمام پہلوؤں کو اپنی منتظرانہ زندگی میں سمو لیتا ہے۔ تاکہ ایک باصلاحیت ناصر کی شکل میں اپنے امامؑ عج کی خدمت کرے۔

ویسے تو دنیا میں سب لوگ ایک منجی کے منتظر ہیں کیونکہ یہ وہ حقیقت ہے جسے تمام انبیاء نے بیان کیا اور تمام آسمانی کتابوں میں اس کی بشارت ہوئی ہے۔ اور آخری آسمانی کتاب قرآن مجید میں سورہ انبیاء کی 105 آیت میں ارشاد ہو رہا ہے کہ:
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِى الزَّبُـوْرِ مِنْ بَعْدِ الـذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُـهَا عِبَادِىَ الصَّالِحُوْنَ (105)
اور البتہ تحقیق ہم نے ذکر کے بعد زبور میں لکھ چکے ہیں کہ بے شک زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے۔

پس یہ وہ بشارت ہے جو ہزاروں سالوں سے انسانوں کو مل رہی ہے اور بلآخر ایک دن یہ بشارت پوری ہونی ہے۔ حتی دنیا میں ایسے دین اور قومیں موجود ہیں جن کا کسی آسمانی دین سے تعلق نہیں جیسے ہندو ہیں، بدھ مت ہیں اور سکھ اور بہت سے ایسی قومیں اور عجیب و غریب قسم کے لوگوں کے بنائے ہوئے مذہب ہیں۔ لیکن ایک چیز جو ان تمام آسمانی اور زمینی ادیان میں مشترک ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک منجی نجات دہندہ آئے گا جو دنیا کا رنگ بدلے گا اور دنیا میں انصاف اور اصل انسانی خصلتیں جلوہ گر ہونگی۔ اور لوگ یہ حیوان کی مانند زندگی چھوڑ دیں گے جیسا کہ اس وقت حیوانیت کا غلبہ ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو لوٹ رہے ہیں ایک دوسرے کا حق غصب کر رہے ہیں قتل و غارت کا بازار گرم ہے۔
انسان ، قومیں ، ممالک ہر طرف ظلم ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے بعض ممالک بڑے متمدن ہیں جن کو ہم دنیائے اول کہتے ہیں وہ تیسری دنیا کے ممالک کو لوٹ رہے ہیں ان کی معدنیات کو لوٹ رہے ہیں ۔ یہ پڑھے لکھے غارت گر اور ڈاکو ہیں۔ جو اعلانیہ طور پر دوسرے انسانوں کا خون چوس رہے ہیں۔

تو اب دنیا میں جتنے بھی مظلوم طبقات ہیں وہ سارے بے چین ہیں۔ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ناکام ہو چکے ہیں اوران مشکلات میں جکڑی ہوئی دنیا ایک مضبوط اور مستحکم وسیلے کی تلاش میں ہے اسے ڈھونڈ رہی ہے۔ کہ جہاں اسے روحانی تسکین ملے اور ایک ایسا چشمہ جو اسے سیراب کرے۔ اور اس کی ساری مشکلات دور ہوں اور جس سے اس کی ساری روحانی و جسمانی بیماریاں دور ہوں۔ ایسا منجی کہ جس کے توسل سے اس سے اضطراب دور ہو۔ اور پھر پتہ چلے کہ یہ انسانوں کی دنیا ہے نہ کہ حیوانوں کی۔ یعنی ایک انسان عاقلانہ، حکیمانہ اور بابصیرت زندگی گذارے۔

دنیا کے اندر جو بڑے بڑے مفکرین مختلف مقالے اور مضامین لکھ رہے ہیں ان میں ایک چیز جو بیان ہو رہی ہےکہ موجودہ انسان ان بحرانوں سے تنگ آچکا ہے اور اس کی نگاہ آسمانوں پر ہے۔ اور ایک پرامید مستقبل پر کہ جس کے اندر نہ ظلم ہو نہ جہالت ہو نہ تنگی ، نہ فقر اور ھلاکت ہو۔

اگرچہ ہم مادی اعتبار سے تو ترقی یافتہ ہیں لیکن اخلاقی اعتبار سے بدترین پستی اور انسانی تذلیل کا شکار ہیں۔ اب تو ایسا لگتا ہے زمین پر انسانی نسل کی بقا کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ ایسے ایسے ہتھیار انسانوں نے ایک دوسرے کو مارنے کے لیے بنا لیے ہیں۔

اکیسویں صدی کا انسان روحانی و معنوی پہلو کے سے ناکام ہے۔ اوراس کا اظہار بہت سارے مغربی مفکرین نے بھی کیا کہ آج کی دنیا تھک چکی ہے۔

جسمانی خواہشات کا یہ عالم ہے کہ جب انسان ان کے ساتھ کچھ مدت گذارتا ہے تو تھک جاتا ہے۔ امریکہ میں کسی جگہ پر مظاہرہ ہوا تھا جہاں لوگوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ:

” ہم مظاہرہ کر رہے ہیں تاکہ خدا واپس لوٹ آئے۔”

یعنی دنیا فقط جسم و جسمانی خواہشات کے ساتھ ہی گذارا نہیں کر سکتی بلکہ اسے روحانیت اور اخلاقیات چاہیے۔ چونکہ دنیا میں مادنیت کا دور دورہ ہے اس لیے مومن جو آدھا روحانی ہے کہ اپنی روح کے تقاضوں کو بھی پورا کرتا ہے اور اپنے جسم کے تقاضوں کو بھی پورا کرتا ہے۔ اس کے لیے اس قسم کی دنیا زندان ہے۔

اس لیے روایات میں کہا گیا کہ : دنیا مومن کے لیے زندان ہے۔ 

امیر المومنین نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر 193 میں بھی اس جانب اشارہ فرماتے ہیں۔

اگر یہ موت جس کو اللہ نے ہمارے لیے وقت پر لکھا ہے اگر یہ مکتوب نہ ہوتی تو مومنین کی روحیں ان کے جسموں میں ایک لحظہ بھی نہ رہتی۔ (جو آج دنیا کے حالات ہیں)

مومن اس دنیا میں آزمایا جا رہا ہے اور آخر ایک دن اس نے دوسرے عالم کی جانب پرواز کرنی ہے۔

جیسے کسی نے مثال دی کہ اگر کسی برتن میں پانی کو ابالا جائے تو اس کے اندر جو کثافت ہے وہ اوپر آجاتی ہے اور پانی ہلکا ہو کر بخارات میں تبدیل ہو جاتا ہے اور اگر برتن کا منہ کھلا ہو تو بخارات پرواز کرجاتے ہیں۔

اسی طرح جب انسان کے گناہوں کی کثافتیں دھل جائیںگی اور اس کی روح پاک ہو جائے گی اور اسے ایمان اور تقویٰ کی چاشنی ملے گی تو پھر وہ ایک اور عالم کی جانب پرواز کرے گا۔ جو اس کا حقیقی عالم ہے نہ کہ یہ ظلم و جور سے بھرا مادی عالم۔ جو کہ کافر کے لیے تو دنیا ہے لیکن ایک مومن کے لیے زندان ہے۔

مومن کے لیے اس لیے بھی زندان ہے کہ اس کا ظرف وسیع ہے اور اس کے سامنے یہ متاعِ دنیا بہت قلیل ہے ۔ ایک مومن فکری ، روحی اور جسمانی لحاظ سےترقی کر چکا ہے اور دنیا اس بچے کی مانند ہے جو فضول سوال کر کر کے بڑوں کو تھکا دیتی ہے۔ اس لیے مومن اس دنیا کے حصار سے باہر دیگر عوالم کو دیکھتا ہے اور اس کی نگاہ اس زندگی ابدی اور جاودانی پر ہے نہ کہ یہ پست دنیا کہ جس میں سوائے دکھ اور رنج کے اور کچھ بھی نہیں۔

دنیا کے اندر تمام مفکرین یہی کہہ رہے ہیں کہ اب تک جتنے اصلاح اور انقلاب کے دعوے ہوئے سب ناکام ہوگئے ہیں۔ اور ابھی تک وہ مدینہ فاضلہ کہ جس کا افلاطون نے نقشہ کھینچا تھا کہ جس میں نہ ظلم ہو نہ فقر ہو اور فقط عدل و انصاف ہو کہ جس کی بشارت تمام ادیان نے دی اور بلخصوص قرآن کی تین سو کے قریب آیات اور نبی ؐ اکرم کی سینکڑوں اور ہزاروں احادیث جو محمد ؐ و آل محمدؑ کے ذریعے ہم تک پہنچیں۔ وہ دنیا ابھی تک سامنے نہیں آئے۔

وہ دنیا سامنے آئے گی ۔ بلآخر لوگوں نے اٹھنا ہے جب دنیا کے بنائے ہوئے سارے نظام اور حکومتیں ناکام ہوجائیں گی اور اصلاح کی حقیقی لہر دنیا میں اٹھے گی اور لوگ خود کو اس منجی و مسیحاٰ کے لیے تیار کریں گے۔ کہ جس کا انہیں پتہ نہیں فقط خیال ہے لیکن اسلام اس شخصیت کی حقانیت اور اس کا حسب نسب بتا رہا ہے۔

اور بلخصوص تشیع کا یہ دعوٰی ہے اور عقیدہ ہے کہ وہ موجود ہے اور اپنی سپاہ اور اپنے ناصروں کا منتظر ہے ۔ اسی لیے شیعہ انتظار کی حقیقت کی عملی شکل میں بہت قریب ہیں اور ایک ہلکی سی کروٹ تشیع کو اس حجت الہیٰ کے دامن و خیمہ تک پہنچا سکتی ہے اور پھر دنیا ایک عظیم تبدیلی کا آغاز دیکھے گی۔ اس لیے شیعہ اول دستہ اسے سب سے پہلے میدان میں آنا ہے۔ جب یہ صحیح معنوں میں بدلیں گے اسوقت اس عالمگیر انقلاب کا آغاز ہوگا۔

اسوقت امام زمانہؑ عج کی حجت تمام ہوگی۔ امام زمانہؑ عج کو وہ تین سو تیرہ عظیم سرباز و ناصر ملیں گے جنہوں نے پیشوا بننا ہے مختلف حکومتوں کا اور پھر یوں دنیامیں ایک عظیم الہیٰ حرکت شروع ہوگی ۔ کہ جس کا اختتام عدل وانصاف کی عالمی حکومت پر ہوگا۔ کہ جس سے پوری دنیا میں ظلم و ستم ختم ہو جائے گا۔
انشاءاللہ۔

پروردگار ہمیں اس ہدف کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب فرمائے اور ہماری زندگی میں امام زمانہؑ عج کا ظہور ہو اور ہماری آنکھیں ان کے جمال سے منور ہوں۔ اور ہمارا دل و وجود ان کی نصرت سے شاد و معطر ہو۔
آمین!

والسلام۔

عالمی مرکز مھدویت قم۔

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید