عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ دروس انتظار – درس 7

سلسلہ دروس انتظار
مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ دروس انتظار – درس 7

موضوع: منتظر کا نظم رکھنا، کھانے پینے ، سونے ،ورزش ، عبادات ، مطالعہ ہر چیز میں منظم، کونسا عمل افضل، منتظر کے اعمال کی خصوصیات

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ:

موضوع گفتگو انتظار ہے اور اس کے مختلف پہلو ہیں۔
فکری پہلو
روحانی پہلو

اور ایک چیز جو انتظار میں قابل توجہ ہونی چاہیے وہ خود شخص منتظر کا نظم ہے۔
منتظر منظم زندگی گذارنے والا شخص ہے۔ کیونکہ اس کے کاندھوں پر بہت بڑی ذمہداری ہے اور وہ ظہور کی تیاری ہے۔

ظہور کی تیاری کے لیے اس کی زندگی کے تمام پروگرام ، راہ و روش اور اہداف دقیق ہوں اور پھر مسلسل کوشش اور تلاش بھی ہو۔

ہر چیز کے لیے منتظر ایک منظم پروگرام رکھے یعنی مثال کے طور پر اگر کھانے پینے کا کے اندر اپنی صحت کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے اپنے لیے کھانے پینے کا بہترین چارٹ بنائے۔ کہ جس سے صحت کے اندر بہتری محسوس ہو اور بیماریاں نہ ہوں یا کم ہوں۔

ہمارے آئمہ ؑ نے کھانے کے حوالے سے بہترین اصول بیان کئے ہیں کہ صبح کس طرح کھایا جائے ، دوپہر کو کتنی مقدار میں کھایا جائے اور شام کو کتنا کھایا جائے اسی طرح کب مناسب کھانا ہے اور کب کم کھانا ہے ۔ اور کس وقت کھانا ہے اور کس وقت نہیں کھانا۔

اگر ہم کھانے کے اصولوں کو مدنظر رکھیں اور ایک نظم پیدا کریں تو ہم بیماریوں سے دور ہو جائیں گے۔

امیرالمومنینؑ نے مطلقاً کھانے کے بارے میں ایک اصول بیان کیا تھا :
” کھانا کھاتے وقت ابھی بھوک ہو تو کھانا چھوڑ دیں۔ یعنی کبھی بھی پیٹ بھر کر نہ کھائیں۔ ”

بہت سارے لوگ یہ بتاتے ہیں کہ جنہوں نے اس اصول پر عمل کیا تو وہ بیماریوں سے بچ گئے۔

اسی طرح ایک منتظر کے پاس سونے کے حوالے سے بھی ایک منظم ترتیب ہو کہ کتنا سونا ہے اور کب سونا ہے اور کب نہیں سونا۔

مثلاً رات کو کتنا حصہ سونا ہے اور کتنا حصہ عبادت میں گذارنا ہے۔

روایات میں ہے کہ دو طلوع کے درمیان نہیں سونا یعنی سحری اور فجر کے طلوع کے وقت نہ سوئے۔

اس وقت کو قرآن، مطالعہ ، ورزش یا کام کاج یا کچھ بھی کرے۔ روایات کے اعتبار سے یہ سونا بدترین سونا ہے۔ اس وقت کے سونے سے انسان بہت ساری چیزوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ جیسے صحت ، زندگی اور مستقبل۔

اس طرح کے سونے سے سارا دن سستی اور نحوست سی رہتی ہے۔ قدیم زمانے میں چرواہے اپنے جانوروں کو بھی اس وقت سونے نہیں دیتے تھے۔ کیونکہ پھر سارا دن جانور سست رہتے تھے۔

دن کے درمیان 20 منٹ سونا مستحب ہے۔ جسے ہم قیلولہ کہتے ہیں۔ ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ اس وقت کا سونا گویا رات کے کئی گھنٹے سونے کے برابر ہے یعنی بدن سے تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے۔

یعنی ہم نے ہر چیز میں نظم پیدا کرنا ہے یعنی کھانا پینا سونا اور ورزش جو نہایت ضروری ہے۔ ایک منتظر امام زمانہؑ عج کا سپاہی ہے۔ اس کی ایک منظم زندگی ہونی چاہیے۔

عبادات ہوں، واجب اور مستحب عبادات کا پابند ہوں، قرآن پاک کی تلاوت، اللہ کی آیات میں غور و فکر ہو یعنی تھوڑا ہی کرے لیکن یہ اس کی زندگی میں شامل ہوں۔ وہ صاحب مطالعہ ہو۔
ہر وہ چیز پڑھے جو اسکے لیے اور ظہور کے حوالے سے مفید ہے۔

کلی طور پر ایک منتظر کے سامنے جب دو عمل ہوں تو وہ بہترین اور افضل عمل کو انجام دینے والا ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ کونسا میرے لیے آسان ہے۔

امیرالمومنینؑ اپنے ایک بھائی کی تعریف فرما رہے تھے : کہ میرے بھائی کے سامنے جب دو عمل ہوتے تھے۔ تو جو اس کی خواہشات کے قریب تر ہوتا تھا وہ اس کو چھوڑ دیتا تھا۔

دوسرا عمل اسے کے لیے مشکل ہوتا تھا لیکن لیکن وہ سب سے زیادہ طاقت اسے دیتا تھا اور اعلیٰ ترین اقدار تک اسے لے جاتا تھا۔

روایات میں بھی ہے: 
سب سے افضل عمل سب سے مشکل ہے۔
منتظر کام کرتے ہوئے ماحول کو نہیں دیکھتا کہ لوگ کیا کہیں گے لیکن وہ جنت اور جہنم کو دیکھتا ہے۔ کہ آیا میرا یہ عمل مجھے جنت کی جانب لے کر جارہا ہے یا جہنم کی جانب ۔ کیونکہ انسان کی ہر حرکت یا تو اسے جنت کی جانب لے کر جاتی ہے یا پھر جہنم کی جانب ۔

ایک منتظر اپنے عمل کے حجم و مقدار یا کیفیت کو نہیں دیکھتا کہ میرا عمل کتنا بڑا ہے اور کیسا ہے۔ بلکہ وہ اپنی توانائی اور استعداد کو دیکھتا ہے کہ میرے اندر اللہ نے کتنی طاقت پیدا کی ہے اور میں کتنا عمل کر سکتا ہوں ۔

قرآن مجید میں ارشاد ہو رہا ہے۔ :
سورہ النجم 
وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى (39)
اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جو کرتا ہے۔

جتنی انسان کوشش کرے گا اتنا ہی اس کو ثمرہ ملے گا۔

ایک منتظر باموقع عمل کرتا ہے۔ یعنی زمان اور مکان کے اعتبار سے جو ضروری ہے وہ کرتا ہے۔ وہ ایسے عمل نہیں کرتا کہ اب اس کا فائدہ ہی نہیں رہا۔

توابین کا قیام:
شیعوں کی پہلی تحریک جو واقعہ عاشورا اور امام حسینؑ اور آپ کے باوفا اصحاب کی شہادت کے بعد شیعوں میں سے وہ حضرات جنہوں نے آپؑ کو بیعت کا وعدہ دے کر کوفہ آنے کی دعوت دی تھی لیکن بعد میں غفلتوں یا مجبوریوں کی بناء پر امام حسین علیہ السلام کی مدد کو نہ پہنچ سکے تو انہوں نے اپنے کئے پر پشیمان ہوکر اپنے گناہ سے توبہ اور اپنی غلطی کا ازالہ کرنے کی ٹھان لی۔

توابین نے ہزاروں کی تعداد میں خون دیا لیکن فائدہ نہیں ہوا تھا۔ اگر ہی ہزاروں کا لشکر نو محرم کو کربلا پہنچ جاتا تو آج اسلام کی تاریخ بدل جاتی۔ لیکن بعد میں فائدہ نہ ہوا۔

ایک منتظر کا عمل قرآن و سنت کے مطابق ہے۔ نہ تو قرآن و سنت سے دور ہے اور نہ ہی وہ اپنی طرف سے دین میں چیزوں کا اضافہ کر رہے ہیں۔ اور نہ ہی بدعتیں کر رہے ہیں۔

منتظر کا ہمیشہ ایک ہی ہدف ہے اور وہ ہے حق۔ وہ حق کی کبھی بھی مخالف سمت نہیں چلے گا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ وہاں ھلاکت ہے۔ اور منتظر کبھی بھی اپنے عمل پر مغرور نہیں ہے بلکہ متواضع ہے۔

حاسبوا ،قبل أن تحاسبوا
اپنا محاسبہ خود کریں اس سے پہلے کوئی آپ کا محاسبہ کرے۔

بلآخر زندگی میں نظم ہو۔ منظم انتظار ہی نتیجہ دیتا ہے۔ ہمیشہ دقیق اور منظم پروگرام نتیجہ دیتا ہے۔

امام خمینیؒ:
انہوں نے ایک مملکت میں انقلاب بپا کیا۔ ان کی زندگی اتنی منظم تھی کہ لوگ اپنے معاملات کو ان کے وقت کے مطابق ترتیب دیتے تھے۔ ان کو پتہ تھا کہ امام خمینیؒ نے فلاں کام فلاں وقت پر کرنا ہے۔ان زندگی کا ہر کام منظم ہوتا تھا اور وہ اس سے ایک منٹ بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے تھے۔

تو ایسی شخصیت انقلاب گر ہے۔ اور ہر ہر منتظر ایسا ہونا چاہیے۔

پروردگار عالم ہم سب کو اس طرح کے مولاؑ کے سپاہی بننے کی توفیق عطا فرمائے۔

والسلام

عالمی مرکز مھدویت قم

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید