عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ دروس انتظار – درس 17

سلسلہ دروس انتظار
مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ دروس انتظار – درس 17

موضوع: انتظار کے ثمرات ، منتظر بابصیرت ہے ، بصیرت کیا ہے کیسے حاصل ہوگی ، امام سجاد ع کی نگاہ میں غیبت کے بابصیرت منتظرین کا مقام ،امام صادق ع کی بشارت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فضیلت بیان کرنا

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ:
موضوع سخن انتظار ہے اور انتظار کے ثمرات ہیں۔
اس سلسلے میں کچھ نکات بیان کئے جارہے ہیں۔

6 ۔
منتظر با بصیرت ہے:

انتظار کا چھٹا ثمرہ بصیرت ہے۔ ایک منتظر خود کو ہر پہلو سے تیار کرتا ہے اور انسانی زندگی میں اہم ترین پہلو فکری ہے۔ ایک مومن منتظر کی فکری
جدوجہد کا نتیجہ بصیرت اور معرفت ہے۔ یعنی جب وہ مطالعہ اور غور و فکر کرتا ہے اور مختلف دینی ماہرین سے تمام دینی پہلوؤں کو جانتا ہے ان پر علم حاصل کرتا ہے اور غور و فکر کرتا ہے تو اسے ایک گہرائی حاصل ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پھر جو زندگی میں مختلف حادثات، فتنہ و فسادات، بدعات، انحرافات جب بھی پیش آئیں گے تو وہ کبھی بھی متزلزل نہیں ہوگا۔ وہ اپنی بصیرت کی وجہ سے اپنے حقیقی ایمان اور حقیقی دین اور ولایت پر قائم و دائم رہے گا۔

امیرالمومنینؑ فرماتے ہیں۔ :
“فانماالبصیر من سمع فتفکر و فنظر فابصر”
یعنی ایک بابصیر انسان کی علامت ہے کہ وہ سنتا ہے اس میں غور و فکر کرتا ہے۔ بلآخر وہ حقائق کو دیکھتا ہے اور سمجھتاہے۔

مکتب تشیع شروع سے ہی دشمنوں کے حملوں کی زد میں ہے اور زمانہء غیبت میں بہت زیادہ باہر سے بھی حملے ہو رہے ہیں اور اندرونی حملے بھی ہو رہے ہیں۔ جو کہ منحرف، غالی، بدعتیں کرنے والے دین میں مختلف گمراہیاں پیدا کر رہے ہیں۔ اب بابصیرت منتظر یہاں صحیح معنوں میں دین کا دفاع کرے گا اور دشمنوں کو بھی دندان شکن جواب دے گا۔ اور دوسری جانب جو اندر گمراہیاں ہو رہیں ہیں ان کا بھی مقابلہ کرے گا۔

جیسے شہدائے کربلا کا کردار ہے۔ سید الشہداء دین میں انحراف کے خلاف اٹھے تھے۔ منتظر بھی یہاں شہدائے کربلا کی طرح اپنے امام زمانہؑ سے وفا کریں گے۔ اور حضرت ابوالفضل العباسؑ ان کے لیے درس بصیرت ہونگے یعنی منتظر ان کو اپنا اسوہ قرار دیں گے۔

منتظر مومن جو بصیرت رکھتا ہے کہ وہ ہمیشہ بیدار ہے کیونکہ وہ فکری اعتبار سے اتنا پختہ ہوگیا ہے کہ اب وہ تمام سوالوں اور شہبات کا جواب دے رہا ہے۔

امام سجادؑ اسی مناسبت سے منتظرین کی خاص انداز میں تعریف فرماتے ہیں کہ:
یا ابا خالد! ان اھل زمانہ القائلین بامامتہ والمنتظرین لظھورہ افضل من کل زمان لان اللہ تبارک و تعالیٰ اعطاھم من العقول والافھام والمعرفتہ ما صارت بہ الغیبتہ عندھم منزلتہ المشاھدۃ۔

اے ابا خالد! زمانہ غیبت کے لوگ ، ان کی امامت کے معتقد اور ان کے ظہور کے منتظر تمام زمانوں کے لوگوں سے بہتر ہیں کیونکہ خداوند نے انہیں اس قدر عقل وہ شعور دیا ہے کہ ان کے لیے غیبت ظہور کی طرح ہے۔
سبحان اللہ!

امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا :
طوبی لمن تمسک بامر نا فی غیبتہ قائمنا فلم یزغ قلبہ بالھدایتہ
خوشخبری ہے ایسے شخص کے لیے جو ہمارے قائم کے زمانہ غیبت میں ہمارے فرمان سے متمسک رہتا ہے جس کے نتیجہ میں اس کا ہدایت یافتہ دل باطل کی طرف نہیں جھکتا۔

تو بس ان لوگوں کی ہمیشہ عظمت بیان ہوئی کیونکہ یہ ایمان میں کمال اور یقین تک پہنچے۔ ان کی تعریف *نبیؐ کریم* کچھ اس انداز سے فرماتے ہیں۔:

اے علی! جان لو کہ لوگوں میں باکمال اور ایمان میں صاحب عظمت وہ گروہ ہے جنہوں نے آخرالزمان میں پیغمبر ؐ کو نہیں دیکھا اور اپنے امام ؑ سے دور ہیں۔ ”

یعنی غیبت کے باوجود وہ لوگ باایمان اور باعمل ہیں۔ 

بصیرت یعنی ایمان و عمل میں پختہ ہونا اور آج ہمارے پاس ساری سہولیات، علماء اور ماہرین موجود ہیں۔ ذرائع ابلاغ موجود ہیں۔ ہمارے ہاتھوں میں موبائل اور انٹرنیٹ موجود ہیں جن کی بدولت ہم ان ہستیوں تک رسائی کرسکتے ہیں۔ ہمارے پاس اس حوالے سے کتابیں اور مواد موجود ہیں لیکن! اے کاش کہ ہمارے پاس وقت ہوتا اور ہم اس کام کے لیے اپنا وقت وقف کرتے اور با بصیرت منتظر بنتے اور یہ وہ چیز ہے کہ جس سے ظہور جلد ہوگا۔ اور ظہور میں تاخیر ختم ہوگی۔

پروردگار ہمیں ایسے بابصیرت منتظرین بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ 
والسلام

عالمی مرکز مہدویت قم

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید