عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ دروس انتظار – درس 15

سلسلہ دروس انتظار
مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ دروس انتظار – درس 15

موضوع: انتظار کے ثمرات ، ذکر اور اپنی اصلاح،غفلت اور وسوسوں سے بچنا ہے تو اہل ذکر بنیں ، کیسے ذکر کیا جائے، اصلاح نہ ہونے کے نقصانات ، تاریخ میں عبرت کے نمونے، اخلاق کا آغاز کس طرح ہوتا ہے،آئمہ علیہم السلام کے فرامین اور امام زمان عج کا شکوہ

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ : 
موضوع ِسخن : انتظار کے ثمرات:
اس حوالے سے صبرکا ذکر ہو چکا ہے جو ایک منتظر کے انتظار میں ایک اہم ترین ثمرہ ہے۔ مزید جو احادیث اور روایات کے اندر صبر کے ثمرات بیان ہوئے ہیں ان میں سے ایک ذکر ہے۔

ذکر :
ذکر یعنی انسان کی عبادت، دعائیہ مناجات ، صلواۃٰ یا استغفار پر مشتمل کلمات جو ہماری دعاؤں کی کتابوں میں موجود ہیں جیسے مفاتح الجنان۔ ہر دن کی مناسبت سے دعائیں اور زیارات ہیں۔ اسی طرح ہر دن کی انسان کی کیفیت اور حالات یعنی جو بھی انسان پر طاری ہوتا ہے یا آتا ہے اس پر کچھ نہ کچھ پڑھنے کا اللہ کو یاد رکھنے کا اور محمد ؐ و آل محمدؐ کے طفیل کچھ نہ کچھ مانگنے کا ہمیں جو ایک ذکر سیکھایا گیا ہے اس سے انس پیدا کرنا اور اپنی زبان پر بطور ورد جاری رکھنا یہ ایک منتظر کے انتظار کا ثمرہ ہے۔
سبحان اللہ!

کیونکہ ایک منتظر اس کو غیبت کے زمانے میں سب سے بیشتر جس چیز کا تشنہ ہے وہ قلبی سکون اور روحانی تسکین ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ مجھے کسی طرح وسوسوں اور غفلت سے نجات ملے اور وہ ایک طرف تو معلومات کو بڑھا رہا ہے جس سے اس کے اندر بصیرت، فھم اور اِدراک پیدا ہو رہا ہے ۔ اس کی نگاہ عمیق اور بہتر ہو رہی ہے ۔ اور دوسری جانب اسے شیطانی اور نفسانی وسوسوں سے بچنے کے لیے اسے ذکر کی ضرورت ہے۔

اس کی روزمرہ کی عبادت تو حتماً ہونی چاہیے۔ اس کی دینداری اور اس کا ایمان محفوظ رہے۔

ہم جو ذکر کرتے ہیں تو منتظر چونکہ مولاؑ کا ناصر بنے گا تو اسے کبھی بھی غافل نہیں ہونا چاہیے اور اسے ہر لمحے تیار ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ غفلت بعض مرتبہ پڑھے لکھے لوگوں کو بھی لاحق ہوتی ہے۔ لہذا یہاں فقط علم کارساز نہیں ہے بلکہ ذکر ہے جو چارہ ساز ہے اور وہ اسی سے فتنہ فساد اور وسوسوں سے بچیں۔ کیونکہ زمانہ غیبت میں شیطان ہے اور شیطان صفت لوگ حملےبڑے سخت ہیں اور ان کے جو مختلف قسم کے فتنے اور بدعتیں ہیں اور جو شیطان صفت لوگ جو بظاہر ایک روحانی شکل میں آتے ہیں اور راہ حق سے دور کرتے ہیں۔ اسی لیے ایک مومن کی روح کو قوی رکھنے کے لیے اور اس کے دل کی نورانیت کو زیادہ کرنے کے لیے اور زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان اذکار کی نورانیت اور اس عظیم عبادت کی حلاوت سے اپنی زندگی کو آباد رکھے گا اور پھر وہ ایک مستحکم انداز سے معاشرے کے اندر اپنے امور انجام دے گا اور کئی لوگوں کے لیے راہنمائی کا باعث بنے گا۔

 اصلاح :
تیسری چیز جو ہم ایک منتظر میں دیکھ رہے ہیں کہ انتظار نے اس کی اصلاح کر دی ہے اسے پاکیزہ کر دیا ہے اسے بااخلاق بنا دیا ہے۔ اخلاق حسنہ کا معنیٰ انتظار کے ثمرات میں سے ہے۔

ہم نے تاریخ  کے اندر کئی ایسے لوگ دیکھے جو آغاز میں آئمہؑ کے ساتھ تھے لیکن پھر انہوں نے آئمہ ؑ کا ساتھ چھوڑ دیا۔ اس کی مثال جناب طلحہ اور زبیر ہیں جو شروع میں امیرالمومنینؑ کے ساتھ تھے لیکن پھر بعد میں ان کو چھوڑ دیا یا پھر عمر سعد وغیرہ
اس کی وجہ یہی تھی کہ ان پر اخلاقی کمزوریاں چھا گئیں اور وہ اس کی اصلاح نہ کر سکے۔ امامؑ نے بلآخر منتظرین کو دنیا کی حکومت دینی ہے۔

منتظر وہ ہے کہ  جس نے اپنے آپ کو تمام اخلاقی و نفسانی بیماریوں و کمزوریوں سے پاک رکھنا ہے۔ جتنا وہ پاکیزہ ہوگا اتنا ہی وہ ترقی کرے گا اور بہتر انداز سے مولاؑ کی نصرت کر سکے گا۔ اخلاق کا آغاز نبیؐ کریم کے اس فرمان سے شروع ہو گا۔ :

رسولؐ اللہ نے فرمایا :
الْمُسلِمُ مَنْ سَلِمَ النّاسُ مِنْ لِسانِهِ وَ يَدِهِ.
مسلمان وہ ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ ہیں۔
یہاں سے اخلاق کا آغاز ہے۔
فرمایا:
من اصبح و لم یھتم بامور المسلمین فلیس بمسلم
کہ جو اس حالت میں صبح کرے اور اسے مسلمانوں کی فکر نہ ہو۔
یعنی جو فقط اپنے گھر اور پیٹ کی فکر نہ رکھے بلکہ اسے امور مسلمین کی بھی فکر ہو۔

اخلاق ہمیں یہ کہتا ہے کہ اگر آپ دنیا کے دیگر مسلمانوں کی مدد نہیں کر سکتے تو ان کے لیے دعا تو کر سکتے ہیں۔

انسان کو با اخلاق ہونا چاہیے اسے تمام اخلاقی خصوصیات سے مزین ہونا چاہیے اور تمام اخلاقی برائیوں سے پاک ہونا چاہیے ۔

اسی لیے جب بھی آئمہؑ سے ایک منتظر کا تعارف پوچھا گیا تو انہوں نے اخلاق حسنہ کی بات کی۔ کہ جو شخص اخلاق حسنہ رکھے گا اور صاحب تقویٰ ہوگا وہ منتظر ہے۔

غیبت نعمانی اور بحار الانوار میں بھی ہے کہ آئمہؑ فرماتے تھے کہ جناب قائمؑ عج کا ظہور اچانک ہو سکتا ہے۔ 

فرماتے تھے کہ:
امام قائمؑ کا ظہور اچانک ہو سکتا ہے تو تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ ہر وہ کام جو ہماری محبت کا باعث بنے اسے اپنائیں اور جو کام ہماری ناراضگی کا سبب بنے اس ترک کریں۔ کیونکہ ہمارا فرمان اچانک ہوگا اور اس وقت پھر توبہ اور کسی کا لوٹنا فائدہ نہ دے گا۔ گناہ اور پشیمانی کسی کو ہمارے غضب سے نہیں بچائے گی۔ کیونکہ جتنے بھی گناہگار ہیں بلاخر وہ اس زمانے میں ضرب کھائیں گے کیونکہ انہوں نے دوسروں پر ظلم وستم کیا ہوگا۔ یا پھر اپنے گناہوں کے سبب خاص ترقی نہیں کر پائیں گے۔ اور بلآخر وہ ان لوگوں میں سے ہونگے کہ جو اپنے گناہوں کے سبب مولاؑ کے مد مقابل قرار پائیں گے۔۔۔

اور امام عج کی دشمنی پر اٹھ کھڑے ہوں کیونکہ گناہ انسان کو نبیؐ اور امامؑ کے مقابلے میں بھی لے آتے ہیں اسی لیے تو اپنی اصلاح پر بہت زیادہ زور ہے۔ جیسے آج لوگ بداخلاقی میں اللہ کی پرواہ بھی نہیں کرتے تو اس وقت وہ گناہوں کی بیہودہ لذت کی خاطر امام ؑ کے مد مقابل اٹھ کھڑے ہوں۔ اسی لیے ہمارے زمانے کے امام ؑ ہمارے اخلاق کے حوالے سے بہت زیادہ فکر مند ہیں۔

شیخ مفید ؒ کے نام امام زمانہؑ کی جو توقیع صادر ہوئی تھی اس میں فرمایا تھا کہ وہ چیز جو ہمیں ہمارے شیعوں سے دور کر رہی ہے وہ ان کے ناپسندیدہ اعمال ہیں جو ان کی طرف سے ہم تک پہنچتے ہیں۔ اور وہ ہماری خوشی کا باعث نہیں بلکہ ہمارے غم کا باعث ہیں۔

امام جعفر صادقؑ سے پوچھا گیا کہ قائم کا ناصر کیسا ہونا چاہیے فرمایا : 
جو شخص بھی حضرت قائم کے انصار میں سے ہونا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ منتظر رہے اور اس حالت میں پرہیزگاری اور اخلاق حسنہ کو اپنا شعار بنائے۔ ”

تمام خوبیاں اس منتظر میں ہوں اور بدیاں نہ ہوں۔ اور اس کا تعارف بعنوان اخلاقی شخصیت ہو۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس طرح کے ثمرات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔
والسلام

عالمی مرکز مہدویت قم۔

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید