عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ درس تفسیر سورہ حدید – 22درس

سلسلہ درس تفسیر سورہ حدید
مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ درس تفسیر سورہ حدید – 22درس

آیت (28,29)
آیات کا ترجمہ و تفسیر ، ایمان کے بعد تقوی ، دوگنا اجر کسے ملے گا ، نور میں چلنے سے مراد ،فضل الہی اھل کتاب کے ساتھ خاص نہیں بلکہ خدا جسے انتخاب کرے گا، منتظر ہر لحظہ طالب فضل الہی

خلاصہ:
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّـٰهَ وَاٰمِنُـوْا بِرَسُوْلِـهٖ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَّحْـمَـتِهٖ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ نُـوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَاللّـٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ (28)
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت سے دوہرا حصہ دے گا اور تمہیں ایسا نورعطا کرے گا تم اس کے ذریعہ سے چلو اور تمہیں معاف کر دے گا، اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔

لِّئَلَّا يَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتَابِ اَلَّا يَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَىْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّـٰهِ ۙ وَاَنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللّـٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ ۚ وَاللّـٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِـيْمِ (29)
تاکہ اہلِ کتاب یہ نہ سمجھیں کہ (مسلمان) اللہ کے فضل میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے، اور یہ کہ فضل تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہے دے، اور اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے۔

پروردگار عالم نے اس آیہ مجیدہ کے اندر کچھ اہم نکات بیان کئے۔

اہم نکات:
اس سے پچھلی آیت میں اہل کتاب مسیحوں کا ذکر ہوا کہ جنہوں بظاہر رہبانیت کے باتيں اگرچہ اس کا حق ادا نہیں کیا اور ان کی اس گفتگو کے بعد اللہ تعالی نے اس آیت میں اہل ایمان کو حکم دیا کہ ;
مثلاً وہ مسیحیوں کی طرح من مانیاں نہ کریں بدعتیں ایجاد نہ کریں بلکہ تقوی الہی خوف خدا رکھیں اور اپنے رسول پر ایمان رکھیں۔ پھرخدا انہيں نور بخشے اور ان گناہوں کو بخشے گا۔

بعض مفسرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ نے مسیحوں کو خطاب کیا ہے اور ان کو فرما رہا ہے کہ: اس وقت جو پیغمبر ہیں یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاٸیں۔ اے عیسیٰ ؑ پر ایمان لانے والو پیغمؐبر اسلام پر ایمان لاؤ تاکہ پروردگار تمہیں اپنے رحمت کے داٸرے میں داخل کرے۔ اور تمھیں نور بخشے اور تمھارے گذشتہ گناہوں کو بخشے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ :
وہ مسیحی جو مجھ پر ایمان لائے انہوں نے اگر پہلے کوئی بدعتیں کی تھی اللہ نے انہيں معاف کر دیا، گویا انہوں نے اپنا رہبانیت کا حق ادا کر دیا ۔

اور یہ بھی درست ہے کہ ہم کہیں کہ ہم مسلمانوں کو خطاب ہے کہ اپنے ایمان کو اللہ اور رسول پر گہرائی بخشیں یعنی دل و جان سے مانیں۔

آیت کے پیغامات:
۔ خدا پر ایمان لانے کا جو نتیجہ ہے وہ پرہيزگاری ہونا چاہیے کیونکہ پرہیزگار شخص سے پتہ چلے گا یہ مومن ہے یا نہیں ۔ کیونکہ ایمان کے بعد اگلا مرحلہ جو نظر آئے انسان کے اعمال سے وہ اس کا حلال و حرام کا خیال ہے۔

جب انسان کے کاموں میں نظر آٸے : ایمان اور تقوٰی
تو پروردگار اسکو رحمت کے دو حصے عطا فرماٸے گا۔

ا۔كِفْلَيْنِ مِنْ رَّحْـمَـتِهٖ 
یہ لوگ ایمان و تقوٰی کی بنا پر دگنا اجر لیں گے۔

پھر خدا فرما رہا ہے میں انکے لیے نور قرار دوں گا اور ان کو آگے والے راستے نظر آئیں گے کبھی بھی یہ بند گلی میں گرفتار نہیں ہوں گے۔

کبھی بھی کسی ایسے اضطراب پریشانی میں جس میں انسان سمجھتا ہے کہ میں پھنس گیا ہوں اور مایوس ہوجاتا ہے کبھی بھی ایسی حالت میں قرار نہیں پائیں گے۔

مومن اگرچہ معصوم نہیں ہوتا لیکن تقویٰ اس کے لئے آگے راہیں کھولتا ہے اور تقوی انسان کے لیے سپر بھی ہے اس پر حملے ہوتے ہیں انسان تقویٰ کی بنا پر وہ حملے دور کر لیتا ہے۔

وَاللّـٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ 
پروردگار خوشخبری دے رہا ہے کہ اگر تقویٰ اختیار کروگے تو تمہارے گزشتہ گناہ بھی معاف کر دوں گا۔ جس شخص نے بھی اللہ کے الطاف لینے ہیں اس کی رحمت لینی ہے اس کی مغفرت لینی ہے اس وہ ایمان کے بعد تقوی اپنے اندر لائے۔

اس کے بعد والی آیت میں اللہ تعالی اہل کتاب کے بارے میں فرما رھا کہ تم یہ گمان نہ کیا کرو کہ تم فضیلتوں میں ہو اور مسلمانوں کے پاس کوئی فضل الہی نہیں ہے سب کچھ اللہ کا ہے اور اللہ جسے چاہے عطا کرتا ہے۔ اور عطا کرنے کی شرط وہی ہے جو پچھلی آیت میں بیان ہوٸے ایمان اور تقویٰ۔

اہل کتاب یہ نہ سمجھیں کے صرف فضل انہيں ملے گا فضل اللہ کا ہے اور جسے چاہے دے اور خدا اسی کو دے گا جو اس کے نبی پر ایمان رکھتے ہیں۔

فضل کیا ہے؟
فضل ہدایت ہے۔ بعض کہتے ہیں جنت ہے بعض کہتے ہیں مغفرت ہے ۔ فضل میں بہت ساری چیزیں ہیں فضل کی ہم حد بند نہیں کر سکتے۔

فضل الطاف الٰہی ہے۔

اور اس آیت کے اندر پروردگار فرما رہا ہے کہ اہل کتاب جان لیں یعنی خدا کو پسند نہیں ہے انحرافات و بدعات۔
اہل کتاب نے انحرافات اپنے مذھب میں پیدا کیے، توہمات پیدا کیے ، اس لئے خدا نے ان سے فضل کو دور کر لیا۔ پروردگار فضل ان لوگوں کی لیے رکھے گا جو دین پر عمل کریں نہ کہ بدعتیں پیدا کریں نا توھمات کے پیچھے چلیں۔

اس کے بعد فرمایا:
وَاَنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللّـٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ
میں خود صاحب فضل ہوں مالک میں ہوں میرے ہاتھ میں ہے اور خدا خود انتخاب کرتا ہے۔

فضل کسی کی یا کسی خاندان کس یا قبیلے کے کسی قوم کسی مذہب کی ملکیت نہیں ہے وہ اللہ کے ہاتھ میں ہے خدا اربوں انسانوں کی اس دنیا میں خود انتخاب کرتا ہے کہ وہ کسے اپنے فضل سے نوازے اور یہ انتخاب بحرحال ہر لحظہ ہوتا ہے۔

منتظر امام:
ایک منتظر ہر لحظہ اس فضل کا حریص ہے اور اس فضل کو لینا چاہتا ہے ایک مومن ایک موحد متقی اور منتظر امام وہی ہے جو ہر لحظہ اس فضل کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

پروردگار عالم ہم سب کو ان توفیقات سے نوازے۔

آمین

والسلام

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید