عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ درس انتظار – درس 3

سلسلہ دروس انتظار
مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ درس انتظار – درس 3

موضوع : انتظار کے حقیقی معنی پر دو روموضوعایت کی رو سے تشریح ، قائم لقب پر کھڑا ہونے کا مطلب، آیا اللہ نے امام زمانہ عج کے لیے سب کچھ کرنا یا ہم نے قربانیاں دینی ہیں؟

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ :
موضوع سخن
انتظار کا معنیٰ ہے۔ 

اس حوالے سے احادیث اور روایات کی رو سے امام زمانہؑ عج کا انتظار فقط ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا نہیں بلکہ عمل ، عبادت اور حرکت، ہے۔

اس حوالے سے دو روایات درج ذیل ہیں ۔

روایت 1:
ایک روایت جو غیبت نعمانی میں بیان ہوئی ۔ جس میں امام معصوم فرماتے ہیں۔

لیعدن احدکم لخروج القائم ولو سھما
ترجمہ :
تم میں سے ہر ایک کو قائم کے ظہور کے لیے تیار رہنا چاہیے اگرچہ یہ تیاری ایک تیر کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو ( یہ تیر و تلوار کا زمانہ تھا اور معصومؑ نے مثال دی ہے۔ اور اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ گھروں میں اسلحہ جمع کرنا ہے۔* *بلکہ جس چیز میں ہم ماہر ہیں اس چیز میں ہم اپنے مولا ؑ کے لیے تیار ہوں۔مولاؑ کی حکومت کو فقط فوج نہیں بلکہ ہر شعبہ سے افراد چاہیے

معصوم فرماتے ہیں کہ:

کیونکہ جب خداوند دیکھتا ہے کہ کوئی شخص امام مہدی عج کی نصرت کے لیے مسلح ہوا ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ اس کی عمر کو طولانی کر دیا جائے تاکہ وہ ان کے ظہور کو درک کر سکے اور آنحضرت کے اعوان وانصار میں شامل ہو سکے۔
آمین !

اب یہ روایت صحیح معنوں میں انتظار بیان، کر رہی ہے ۔ انتظار یعنی تیاری، انتظار یعنی حرکت، انتظار یعنی چشم براہ ہونا وہ چشم براہ ہوتے ہیں جو مکمل تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔

جیسے انجیل میں حضرت عیسیٰؑ ؑ آخری پیشوا کے لیے تیاری کے بارے میں فرماتے ہیں ۔ 
اپنی کمر باندھ کر رکھو اور دروازے پر نظر رکھو۔

جو بھی منتظر ہے وہ ہر حوالے سے تیار ہے یعنی روحانی، معنوی، علمی۔ اسے جو کچھ آتا ہے اور جس طرح کی خدمت کرنی آتی ہے وہ اس طرح کی تیاری کر کے بیٹھا ہے۔

اس منتظر پیشوا کا اہم ترین لقب قائم ہے ہمارے بزرگان یہ کہتے ہیں کہ جب بھی یہ لقب سنا جائے احتراماً قیام کرنا ضروری ہے۔

تو یہ احترامً سے کھڑا ہونا درحقیقت ہماری انتظار کی جانب راہنمائی کرتا ہے کہ منتظر انسان اپنی اس حرکت سے یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ امام زمانہ عج کی راہنمائی کے لیے آمادہ اور تیار ہے۔

آیت اللہ طالقانی ؒ فرماتے تھے :
کہ اس قیام کا حکم ممکن ہے احترام کی خاطر نہ ہو کیونکہ خدا، رسول اور باقی اولیاء کرام کے لیے احترام کے لیے بھی کھڑا ہونا ضروری ہوتا بلکہ یہ حکم اس لیے ہے کہ ان کی عالمی تحریک کے مقدمات فراہم کیے جائیں اور کھڑا ہونا اس حقیقیت کی پشت پناہی کی دلیل ہے یعنی امامؑ کے لیے تیاری کا اعلان ہے ان کی پشت پناہی کا اعلان ہے ۔ ہمراہی اور نصرت امام ؑ عج کا اعلان ہے۔

ہمارے بعض افراد کے اندر ایک غلط فکر موجود ہیں اور دنیا کے اکثر لوگ یہی سوچتے ہیں کہ یہ سارے کام خود بخود ٹھیک ہوجائیں گے اور کہتے ہیں کہ اللہ خیر کرے گا۔ یعنی ہم نے کوشش نہیں کرنی۔

جبکہ قرآن میں بیان ہو رہا ہے۔
خدا اسی قوم کے حالات بدلتا ہے جو اپنے حالات خود بدلتی ہے اور انسان کے لیے بغیر کوشش کے کچھ بھی نہیں۔

حالانکہ کائنات کی تاریخ یہ بتاتی ہے۔ کہ جب کسی قوم نے کوشش کی تو کامیاب ہو گئے۔ اور جب سستی کی، نااتفاقی اور تفرقہ بازیوں میں غرق ہوئے تو قومیں تباہ ہوگئیں۔ بے نشان ہو گئیں۔

فقط وہ قومیں برقرار رہیں جو محنت کوشش اور حرکت اور اصلاح سے کمال کی جانب حرکت کر رہی ہیں۔ اور آج بھی برقرار ہیں۔

امام زمانہؑ عج کے بارے میں بھی یہی غلط فکر ہر طرف چھائی ہوئی ہے۔ کہ مولا ؑ آئیں گے تو سارے کام خود ہی کر لیں گے۔ اللہ ان کے لیے سارے کام کر دے گا ۔ وہ جب آئیں گے ان کے ساتھ فرشتے اور معجزات ہونگے۔ وہ اشارہ فرمائیں گے تو مشرق مغرب ٹھیک ہو جائے گا۔ اور دنیا کے امور ٹھیک ہو جائیں گے۔

یہ ایک غلط فکر ہے اور ہمارے آئمہؑ کے دور میں بھی کچھ لوگ یہ فکر رکھتے تھے اور ہمارے آئمہ ؑ اس کی تصحیح فرماتے تھے۔

روایت : 2 

راوی کہتا ہے کہ میں نے امام باقرؑ کی خدمت میں عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں جب مہدی عج قیام کریں گے تو تمام امور خود بخود ٹھیک ہوجائیں گے اور ذرہ برابر خونریزی نہیں ہوگی۔

امام ؑ نے جواب میں فرمایا !

ہرگز نہیں خدا کی قسم! اگر کسی کے لیے خود بخود امور کا ٹھیک ہونا درست ہوتا تو یہ کام پیغمبرؐ کے لیے کیا جاتا ۔ جب آپ کے دندان مبارک شہید کئے گئے اور آپ کی صورت مبارک پر زخم آئے لہٰذا ہر گز ایسا نہیں ہے کہ امورخود بخود ٹھیک ہو جائیں۔ خدا کی قسم امور ٹھیک نہ ہوں گے جب تک ہم اور آپ خون و پسینہ میں غرق نہ ہو جائیں۔
پھر آپؑ نے اپنی پیشانی پر ہاتھ پھیرا۔

اس روایت سے واضح ہوا کہ: ہمیں ابھی سے زحمتیں اور قربانیاں دینی پڑیں گی ۔

ابھی سے ہم چھوٹے چھوٹے مسائل میں زحمتیں کریں گے تو کل بڑے بڑے مسائل میں ہم امام زمانہؑ عج کی ہمراہی کے قابل ہوں گے۔

یہ انقلاب ایسے نہیں آئے گا بلکہ اس میں بے پناہ خون دیا جائے گا۔

جیسے جب رسولؐ اللہ نے اپنی حکومت قائم کی اور وہ آہستہ آہستہ پورے حجاز میں پھیل گئی تو اس کے لیے کتنے اصحاب نے اپنی جانیں قربان کئیں۔

انتظار مطلب یہ نہیں کہ فقط ایک ذہنی مفہوم ہو جس کا معاشرے میں کوئی اثر نہ ہو۔

بلکہ یہ ایک عملی سرگرمیوں کا نام ہے ۔ یہ ایک جدوجہد ہے جس کے معاشرے میں مثبت برکات اور آثار ہیں۔

اس لیے جو حقیقی انتظار کرنے والے ہیں انہیں رسول اللہ کی ہمراہی میں دشمنان اسلام پر تلوار چلانے والوں کے ساتھ تشبہیہ دی گئی ہے۔

سبحان اللہ !
والسلام۔

عالمی مرکز مہدویت قم

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید