عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ تفسیر سورہ حدید 12

سلسلہ درس تفسیر سورہ حدید
ماه رمضان مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ تفسیر سورہ حدید 12

سلسلہ تفسیر سورہ حدید
12 درس آیت (16)
آیت کا ترجمہ و تفسیر ، دل کیسے نرم پڑتے ہیں ، اہل کتاب کی قساوت ، ہر لحظہ یا ہمارے نفع میں یا نقصان میں۔

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

سورہ حدید
آیت نمبر 16
اَلَمْ يَاْنِ لِلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُـهُـمْ لِـذِكْرِ اللّـٰهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّۙ وَلَا يَكُـوْنُـوْا كَالَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْـهِـمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُـهُـمْ ۖ وَكَثِيْـرٌ مِّنْـهُـمْ فَاسِقُوْنَ (16)
کیا ایمان والوں کے لیے اس بات کا وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت اور جو دین حق نازل ہوا ہے اس کے سامنے جھک جائیں، اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں ان سے پہلے کتاب (آسمانی) ملی تھی پھر ان پر مدت لمبی ہو گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے، اور ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔

ایمان والوں کے لیے ہدایت:
یہاں اہل ایمان کے لیے خطاب ہے کہ اللہ کی یاد میں ہمیشہ رہیں۔ قرآن مجید سے متمسک رہیں۔ تاکہ ان کے دل خوف خدا میں نرم رہیں۔ آپس میں ایک دوسرے سے زیادتی نہ کریں اور اللہ کی نافرمانی نہ کریں۔ کیونکہ یہ دیکھا گیا ہے بہت سے اہل ایمان سخت دل ہوتے ہیں۔ بہت سارے عابدین سختی قلب جو شیطان کا دھوکہ ہے اس کی وجہ سے نافرمان ہو جاتے ہیں۔

اہل ایمان اور دیندار کو شیطان کے جدید حملوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ اور اس سے بچنے کے لیے پروردگار نے بتایا کہ ہمیشہ ذکر خدا میں رہیں جیسے استغفار اور درود پاک۔ اور قرآن کریم سے متمسک رہیں۔

فرمایا:
یہود و نصارا کی طرح نہ ہو جانا۔ پہلے انہوں نے قربانیاں دیں اور پھر دین میں تحریف کر کے اپنے دلوں کو سخت کر لیا اور اللہ کی لعنت کے مستحق ہوئے۔

کچھ تفاسیر کے اندر اس آیت کے دو شان نزول بیان ہوئے :
1۔ اہل ایمان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو بظاہر مومن ہیں لیکن اندر سے منافق ہیں۔
یہ لوگ جناب سلمان فارسی کو تنگ کرتے تھے کہ ہمیں تورات و انجیل کے قصے سنائیں کیونکہ آپ پہلے عیسائی تھے اور ہم نے سنا ہے کہ ان کتابوں میں بہت عجیب قصے ہیںَ تو اسوقت سورہ یوسف کی آیات نازل ہوئیں۔ تو جناب سلمان فارسی نے کہا کہ قرآن سے بڑھ کر بہترین قصوں والی کتاب کونسی ہے۔ تو قرآن سے فیض لیں۔ لیکن پھر بھی یہ لوگ جناب سلمان فارسی کو تنگ کرتے تھے۔ تو اللہ نے اس آیت کو بھیجا۔
2۔ بعض تفاسیر میں اس آیت کا شان نزول اس طرح بیان ہوا ہے۔ مکہ میں خشک سالی غربت اور مشرکین کی جانب سے تنگی تھی۔ لیکن جب مدینہ میں مسلمانوں نے ہجرت کی تو نعمات کی فراوانی تھی اور جنگوں میں بھی فتح اور مال غنیمت حاصل ہوا جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی ظاہری حالت تو بہتر ہو گئی لیکن قلب سخت ہوگئے۔
آج بھی معاشرے میں دیکھا جاتا ہے کہ جو مومنین پہلے غریب ہوتے ہیں لیکن جب ایک دم سے ان کو کچھ حاصل ہو جائے اور ان کی حالت بدلیں تو وہ سخت دل ہو جاتے ہیں اور وہ کسی کے حق میں کچھ دینے کو تیار نہیں ہوتے اور نتیجتاً گناہ ، نافرمانی اور دین سے دور ہو جاتے ہیں۔
ضروری ہے کہ ان کامیابیوں کے ساتھ ہمارا ایمان، یقین اور اللہ کا خوف بھی بڑھے۔ اور یہ قرآن سے متمسک ہوئے بغیر نہیں ملے گا اور بلخصوص امامؑ وقت سے متمسک ہوئے بغیر حاصل نہیں ہو گا۔

انسان کی زندگی ہر لحظے نفع یا نقصان میں ہے۔

دنیائے اقتصاد میں ہر سیکنڈ قیمتی ہے اسی طرح روحانی دنیا، دنیائے معرفت ، دنیا انتظار کا بھی ہر منٹ قیمتی ہے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم دیکھیں کہ ہمارا ہمنشین کون ہے۔ اگر ہمارا ہمنشین قرآن کریم اور امام ؑ وقت ہیں تو ہمارا ہر منٹ ہمارے فائدے میں ہے۔ لیکن اگر ہم ان دو چیزوں سے دور ہیں یعنی قرآن اور عترت سے ہم دور ہیں یعنی ہم وظائف انتظار سے دور ہیں، اور نہ ہی ہم ان کو اپنے اعمال پر ناظر سمجھتے ہیں اور نہ قرآن سے درس و عمل لیتے ہیں تو عبادت تو ہم کر رہے ہیں وہ ایک روٹین ہے اور یقنناً ہم گناہ کی جانب جا رہے ہیں اور گناہ ایکدوسرے کو کھینچ رہے ہیں۔ جس سے سخت دلی اور بے دینی کی جانب ہم بڑھ رہے ہیں۔

لیکن اگر ہم نیکی کی جانب بڑھ رہے ہیں اور گناہوں کو کم کر رہے ہیں اور ہمارا ہر لحظہ نیکیوں کو کھینچ رہا ہے تو یقیناً یہ علم، بصیرت اور زندگی انتظار ہے۔

ہمیں چاہیے کہ دن کی کچھ ساعتیں امام وقتؑ اور قرآن کریم کے لیے وقف کریں تاکہ ہمارے دل یاد الہیٰ سے لبریز رہیں ۔ سخت دلی اور نافرمانی پیدا نہ ہو۔ اہل ایمان سے صلہ رحمی اور ہمدردی رکھیں۔
تحریر و پیشکش🖋️
سعدیہ شہباز

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید