عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ اخلاق منتظرین

سلسلہ اخلاق منتظرین
مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ اخلاق منتظرین

حجت الاسلام و المسلمین علی اصغر سیفی​

اہم نکات
▪️ انبیاء ع صرف معلم نہیں بلکہ مربی بھی ہیں یعنی نفوس کی تربیت و تزکیہ کرنے والے ہیں۔
دین کے تین حصے ہیں:
عقائد، اخلاق اور فقہی احکام
عقائد ہمارے دین کی بنیاد ہیں۔ احکام سے معاملات میں حلال و حرام، واجب، مستحب و مکروہ کے حکم ہیں۔
اخلاق ہر انسان کی شخصیت کی پیمائش کا پیمانہ ہے۔ با اخلاق شخص ہی عزت پاتا ہے جب کہ بد اخلاق خواہ فقہی اور عقائد میں مضبوط ہو لیکن نہ خدا کے نزدیک با عزت ہے نہ مخلوق خدا کے نزدیک۔

▪️اخلاق سنوارنا اختیاری ہے۔ چاہے تو اعلی علیین میں مقام بنا لے چاہے اسفل السافلین کی پستی میں گر جائے۔

▪️ انسان کی اخلاقی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے اس کے سرکل کو جانیں کہ انسان اپنی زندگی میں کس کس سے مربوط ہے۔
خالق سے رابطہ ، مخلوق سے رابطہ
مخلوق سے ربط میں خود اس کا اپنا وجود بھی شامل ہے اور دیگر افراد

▪️ چار قسم کے اخلاق
خالق کے ساتھ اخلاق۔۔ اخلاق بندگی

اخلاق فردی۔۔۔اپنے ساتھ

اخلاق اجتماعی۔۔۔ خاندان، ہمسائے دوست احباب وغیرہ سب شامل ہیں۔

اخلاق طبیعت اور فطرت کے ساتھ۔۔۔ حیوانات/نباتات/ غرض کائنات کی ہر چیز

▪️ اخلاق بندگی
خدا کے ساتھ عبودیت کے اخلاق کے ذیل میں ایمان، خوف، توکل ، کفر، سرکشی وغیرہ سب پہلو شامل ہیں۔ کہ اپنے اندر ان کیفیات کو سمجھیں کہ کس درجے پر ہیں۔

▪️ اخلاق فردی اپنے وجود سے اخلاق میں صبر، حکمت کے پہلو ہیں۔ بری صفات میں پرخوری ، جلد بازی، بیوقوفی وغیرہ ان سب کا جائزہ لینا ہے۔ مختصرا یہ کہ انسان غور کرے کہ میں نے اپنے جسم، روح وعقل کے ساتھ کیسا ارتباط رکھنا ہے۔ مثلا پرخوری سے جسم کو بیماریوں کا شکار کرنا ہے یا محتاط رہنا ہے۔ بری صفات سے روح کو آلودہ کر کے خلاف عقل کام انجام دینے ہیں یا حکیمانہ تدبیر کرنی ہے۔

▪️ اخلاق اجتماعی اپنے اہلخانہ کے ساتھ عدالت، کشادہ دلی، خندہ پیشانی سے پیش آنا۔ حسد، تکبر و غرور سے تعلقات کو آلودہ نہیں کرنا ہے۔

▪️ طبیعت کے ساتھ اخلاق
یعنی کائنات کی ہر چیز کے بارے میں محتاط رہنا کہ ان کے بارے میں افراط و تفریط کا شکار نہ ہوں، ان پر ظلم نہیں کرنا ہے۔

▪️ نکتہ ان چاروں اخلاق میں قدر مشترک اخلاق ایمانی ہے۔ یعنی اخلاق کی ہر قسم میں مرکز و محور منشائے پروردگار ہے۔ یعنی اپنے اندر توحیدی حالت ایجاد کرے پھر ہی شخصیت کو کمال عطا کرنے والے نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔
مثلاً اخلاق اجتماعی میں ہم اچھی رفتار رکھیں لیکن اس کا محور لوگ ہیں تو لوگوں میں دنیا میں محبوب تو ہو جائیں گے لیکن توحید کو مد نظر رکھ کر اخلاق اجتماعی رکھیں گے تو نہ صرف خدا کی نظر میں بلکہ بعد از مرگ باقی تمام جہانوں میں بھی مقام ملے گا۔ اور خدا کا لطف و کرم شامل حال رہے گا۔
پس انسان کا انسانی و الہی فریضہ اعلیٰ اخلاق کے حصول کی کوشش کرنا ہے تاکہ خلیفہ خدا کے منصب پر فائز ہو سکے۔

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید