عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ اخلاق منتظرین – انسان کی ناشکری اور اسکے نتائج نیز کیسے بچا جائے.

سلسلہ اخلاق منتظرین
مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ اخلاق منتظرین – انسان کی ناشکری اور اسکے نتائج نیز کیسے بچا جائے.

استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب

قرآن مجید بہت سارے مقامات پر انسان کی ایک خاص صفت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ انسان کی ناشکری ہے بلخصوص سورہ یونس آیت نمبر 21-23

وَاِذَآ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْـمَةً مِّنْ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْـهُـمْ اِذَا لَـهُـمْ مَّكْـرٌ فِىٓ اٰيَاتِنَا ۚ قُلِ اللّـٰهُ اَسْرَعُ مَكْـرًا ۚ اِنَّ رُسُلَنَا يَكْـتُبُوْنَ مَا تَمْكُـرُوْنَ (21)
اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں اس تکلیف کے بعد جو انہیں پہنچی تھی تو وہ ہماری آیتوں کے متعلق حیلے کرنے لگتے ہیں، کہہ دو کہ اللہ بہت جلد حیلہ(کو جواب دینے) والا ہے، بے شک ہمارے فرشتے تمہارے سب حیلوں کو لکھ رہے ہیں۔

پھر پروردگار عالم اشارہ فرما رہا ہے

هُوَ الَّـذِىْ يُسَيِّـرُكُمْ فِى الْبَـرِّ وَالْبَحْرِ ۖ حَتّــٰٓى اِذَا كُنْتُـمْ فِى الْفُلْكِۚ وَجَرَيْنَ بِـهِـمْ بِـرِيْـحٍ طَيِّبَةٍ وَّفَرِحُوْا بِـهَا جَآءَتْـهَا رِيْحٌ عَاصِفٌ وَّجَآءَهُـمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّظَنُّـوٓا اَنَّـهُـمْ اُحِيْطَ بِـهِـمْ ۙ دَعَوُا اللّـٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَـهُ الـدِّيْنَ لَئِنْ اَنْجَيْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُـوْنَنَّ مِنَ الشَّاكِـرِيْنَ (22)

وہ وہی ہے جو تمہیں جنگل اور دریا میں سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں بیٹھتے ہو، اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعہ سے لے کر چلتی ہیں اور وہ لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں تیز ہوا چلتی ہے اور ہر طرف سے ان پر لہریں چھانے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ بے شک وہ لہروں میں گھر گئے ہیں، تو سب خالص اعتقاد سے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس مصیبت سے بچا دے تو ہم ضرور شکر گزار رہیں گے۔

یہ کہانی کسی خاص گروہ کی نہیں بلکہ ہم میں سے ہر شخص کی ہے ہم بہت سی مشکلات اور بیماریوں میں مبتلا ہوئے ۔ اور ہم نے دعا ئیں اور توسل کئے جب اللہ نے ہمیں نجات دی تو ہم نے جو وعدے کئے تھے وہ سب بھلا دیے اور دوبارہ ظالم ہوگئے ۔

حدیث قدسی میں ہے:
اے آدم ؑ کے بیٹے تو انصاف کیوں نہیں کرتا میں تو تجھے نعمتیں دیتا ہوں اور تو گناہوں کے ساتھ میری دشمنی کرتا ہے۔

یہ حیلہ سازی انسان کو تکبر میں مبتلا کر دیتی ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ میں بے نیاز ہو گیا ہوں اور مجھے کسی کی ضرورت نہیں۔ یہ حالت تکبر ہے۔

اس کے بارے میں امیر المونینؑ فرماتے ہیں

“اس طرح کی حالت جہنمیوں کی ہے۔ ”

اسی سلسلے میں
امام محمد باقر ؑ فرماتے ہیں کہ
” اگر انسان اس طرح کی بے نیازی کرے کہ جس میں تکبر ہے۔ تو وہ پھر کفر و سرکشی میں مبتلا ہو جاتا ہے تو پھر وہ خدا کی آیات کا منکر ہے۔”

جب کہ اس بے نیازی والی حالت میں بھی انسان محض ایک مجبوراور کمزور وجود کے مالک ہیں کہ ہم ہر آن پروردگار کےرحمت کے طالب ہیں اس کی نگاہ لطف سے وابستہ ہیں۔

اگر پروردگار عالم ہماری سانس واپس کھینچ لے تو ہمارے پاس کچھ نہیں۔

ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جیسے جیسے نعمتیں بڑھ رہی ہیں ہم ظالم اور ناشکرے ہو رہے ہیں ایک دوسرے کے حق میں تکبر اور قطع رحمی کر رہے ہیں ۔ ایک دوسرے کی حق تلفی ایک دوسرے پر ظلم۔ جسے تھوڑی سی طاقت ملے وہ دوسرے پر ظلم کرنے چل پڑتا ہے۔

یہ تمام حالتیں ناشکری اور جہنمیوں کے اوصاف ہیں۔

امام حسینؑ فرماتے ہیں
” لوگ اگر تمھاری طرف محتاج ہیں تو یہ خدا کی نعمتیں ہیں ان کو عذاب میں تبدیل نہیں کرو ورنہ خدا کل یہ چھین لے گا اور تم کل ان کے محتاج ہو گے۔ ”

ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے لوگوں کو ڈھونڈے جن کو ضرورت ہے۔ لیکن پیشہ ور لوگ جو مانگتےہیں اور کام نہیں کرتے ان کی مدد نہیں کرنی چاہیے۔

لیکن ایک کام کرنے والا جو بہت محنت کرتا ہے لیکن اس کی ضرورتیں اور مسائل زیادہ ہیں ان کی مدد کرنی چاہیے ۔ اپنے رشتداروں اور ہمسایوں اور عزیزوں کی مدد کریں خدا کے بندوں کے دکھ درد دور ہوں۔

جب خدا کی نعمتیں بڑھتی ہیں تو ہمارے گناہ بھی بڑھتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ جتنی نعمت بڑھے اتنی عبادتیں بھی بڑھیں۔

امام حسن عسکریؑ فرماتے ہیں کہ عمار ؔ نے ایک مرتبہ اللہ کی بارگاہ میں یہ دعا کی کہ میں نے یہ سنا ہے جب نعمتیں بڑھتی ہیں تو انسان سرکش ہو جاتا ہے۔ تو عمارؔ کہا کہ اے پروردگار عالم مجھے اس دولت کی ضرورت نہیں کہ میں تیرا سرکش بن جاؤں۔

یہ ہیں پروردگار عالم کے حقیقی بندوں کی دعائیں۔

امام علی رضاؑ فرماتے۔
اے لوگوں اللہ سے ڈرو اور تقوٰی اختیار کرو ۔ اور جو نعمتیں تو اللہ نے عطا کئیں ہیں ان کو گناہوں کی وجہ سے دور نہ کرو۔
ایسا کرنے سے بندہ خدا کی نگاہ سے دور ہو جاتا ہے۔ اور وہ روحانی گروہ سے نکل کر شیطانی گروہ میں چلا جاتا ہے۔ اور پھر اس پر ظلم کرنے والے آجاتے ہیں۔

ایسی بہت ساری روایات ہیں کہ جن میں محمؐد و آل محمدؑ نے ہمیں خدا کا شاکر بندہ بننے کی نصیحت فرمائی ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے شکر گزار بندے بنو تاکہ یہ نعمتیں بڑھیں۔

وہ ہستیاں جو اپنے پروردگار عالم کے شکرگزار بنیں۔ ہمارے لیے اسوہ ہیں کہ ہم ان کی اتباع میں اپنے رب کے شکر گزار ہوں ۔ قیامت والے دن ہم ظالمین میں سے نہ ہوں بلکہ تیرے شکر گزار بندوں میں سے ہوں۔

والسلام

عالمی مرکز مہدویت قم

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید