تازہ ترین پوسٹس

سلسله دروس امامت_درس 9_آئمہ علیہم السلام کی افضلیت

درس امامت :9

آئمہ علیہم السلام کی افضلیت

استاد محترم حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی صاحب

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تمہید:ہمارا آج کا موضوع آئمہ علیہم السلام کی افضلیت ہے۔ ہم پہلے امام کی عصمت پر تفصیل سے گفتگو کر چکے ہیں اور ثابت کر چکے ہیں کہ امام کا معصوم ہونا ضروری ہے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امام کو امت کے تمام افراد سے افضل ہونا چاہیے؟

اہل تشیع کا عقیدہ ہے کہ امام، ہر لحاظ سے امت سے افضل ہوتا ہے کیونکہ وہ ہدایتِ الٰہی کا مرکز اور پیغمبرؐ کا جانشین ہوتا ہے۔ تاہم، دیگر مکاتب فکر، خاص طور پر اہل سنت، امام کی افضلیت کے قائل نہیں ہیں۔ ان کے ہاں یہ نظریہ پایا جاتا ہے کہ:

1۔ ضروری نہیں کہ امام، امت کے تمام افراد سے افضل ہو۔

2۔ (مفضول (کم درجے والا شخص بھی) افضل (اعلیٰ درجے والے پر خلیفہ ہو سکتا ہے۔

  1. افضلیت اچھی چیز ہے، لیکن قیادت کے لیے لازم نہیں۔

 

آج کے درس میں ہم ان نظریات کا عقلی و نقلی بنیادوں پر تجزیہ کریں گے اور دیکھیں گے کہ امام کی افضلیت کیوں ضروری ہے۔

1۔ اہل سنت کا نظریہ اور اس کی کمزوریاں

اہل سنت کے بعض علماء نے تسلیم کیا ہے کہ امیرالمؤمنینؑ تمام اصحاب سے افضل تھے، لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ امت نے مفضول کو افضل پر مقدم کیا اور اللہ کی منشا بھی اسی میں شامل تھی۔

ابن ابی الحدید معتزلی کا اعتراف

ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ کے مصنف اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

“میں اس اللہ کی حمد و ثنا کرتا ہوں جس نے مفضول کو افضل پر ترجیح دی۔”

یہ نظریہ عقل، منطق اور قرآن کے صریح اصولوں کے خلاف ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ سب سے لائق افراد کو قیادت کے لیے منتخب کیا ہے۔

2۔ امام کی افضلیت کے تین ممکنہ نظریے

امام کی افضلیت کے حوالے سے تین امکانات ہو سکتے ہیں:

1۔مام امت کے باقی لوگوں سے کم درجے کا ہو

2۔ امام امت کے باقی لوگوں کے برابر ہو

3۔ امام امت کے باقی لوگوں سے برتر ہو

پہلے دو امکانات باطل ہیں، اور تیسرا امکان صحیح اور عقل و قرآن کے مطابق ہے۔ آئیے ان پر تفصیل سے غور کرتے ہیں۔

1۔امام کا امت سے کم درجے کا ہونا باطل نظریہ

یہ نظریہ عقلی اور فطری اصولوں کے خلاف ہے، کیونکہ:کسی بھی نظام میں قیادت کے لیے سب سے زیادہ اہل شخص کو منتخب کیا جاتا ہے۔کسی شاگرد کو استاد پر، یا کسی جونیئر کو سینئر پر ترجیح دینا غیر منطقی ہے۔اگر امام کم درجے کا ہو، تو وہ امت کی رہنمائی کس طرح کرے گا؟

 

قرآنی دلیل:

سورہ یونس (آیت 35)میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

أَفَمَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمَّنْ لَا يَهِدِّي إِلَّا أَنْ يُهْدَىٰ ۖ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ

“تو پھر (بتاؤ کہ ) جو حق کی راہ دکھاتا ہے وہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود اپنی راہ نہیں پاتا جب تک اس کی رہنمائی نہ کی جائے ؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے تم کیسے فیصلے کر رہے ہو؟”

یعنی ہدایت دینے والا خود مکمل طور پر ہدایت یافتہ ہونا چاہیے۔ جب ایک عام شخص کو خود ہدایت کی ضرورت ہو، تو وہ دوسروں کو کیسے ہدایت دے سکتا ہے؟

امام کا امت کے برابر ہونا ،باطل نظریہ

اہل سنت کے بعض علماء کہتے ہیں کہ اگر امام، امت کے برابر بھی ہو تو کافی ہے۔

سوال یہ ہے:جب دو افراد برابر درجے کے ہوں، تو ایک کو دوسرے پر قیادت کے لیے کیوں ترجیح دی جائے؟

جواب:قیادت کے لیے کسی نہ کسی امتیاز (فضیلت) کا ہونا ضروری ہے۔ اگر دو افراد برابر ہوں، تو کسی ایک کو ترجیح دینے کی کوئی عقلی اور منطقی بنیاد نہیں رہتی۔

قرآنی دلیل:

سورہ الحجرات( آیت13 )میں ارشاد ہوتا ہے: اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ

“بے شک اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔”

اللہ تعالیٰ ہدایت اور قیادت کے لیے سب سے زیادہ پرہیزگار اور علم والے افراد کو منتخب کرتا ہے۔اگر امام اور عام لوگ برابر ہوں، تو امام کے لیے خصوصی ہدایت اور قیادت کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟

3۔ امام کا امت سے افضل ہونا ،صحیح نظریہ

شیعہ عقیدہ:امام کو ہر لحاظ سے امت سے افضل ہونا چاہیے، کیونکہ وہ ہدایت اور شریعت کا محافظ ہوتا ہے۔

امام کا علم، تقویٰ، شجاعت، عقل، اخلاق اور نسب سب سے بلند ہونا چاہیے۔

اہل سنت کا اعتراض: تمام امام ایک ہی خاندان سے کیوں ہیں؟”

اہل سنت کا ایک مشہور اعتراض ہے کہ شیعہ اماموں کو صرف ایک ہی خاندان (بنی ہاشم)سے منتخب کیوں کرتے ہیں؟

جواب:

1۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اپنے نبیوں کو بہترین خاندانوں میں سے انتخاب کیا ہے۔

2۔ حضرت محمد ﷺ کے بعد ان کے سب سے قریبی یعنی عترت اور اہل بیت میں سے معصوم ہستیاں امام منتخب ہوئیں۔

3۔ اہل بیتؑ، نسب کے لحاظ سے بھی سب سے افضل تھے، تاکہ لوگ ان پر اعتراض نہ کر سکیں کہ نسب کیوں کمترلہذا ہم اطاعت نہیں کریں گے۔اس لیے امام  سب سے زیادہ نبی کریم (ص) کے قریبی ہوں۔

امام موسیٰ کاظمؑ اور خلیفہ ہارون کا مناظرہ

خلیفہ ہارون نے امام موسیٰ کاظمؑ سے کہا:

“آپ بھی سادات ہیں، ہم بھی سادات ہیں۔ آپ بھی رسول اللہؐ کے قرابت دار ہیں، ہم بھی ہیں۔ تو پھر کیا فرق ہے؟”

امام موسیٰ کاظمؑ نے جواب دیا:

“اگر رسول اللہ ﷺ زندہ ہوتے، تو وہ تیری بیٹی سے شادی کر سکتے تھے، لیکن میری بیٹی سے نہیں، کیونکہ ہم ان کی نسل میں سے ہیں، اور تم ان کے رشتہ داروں میں سے ہو۔”

یہ فرق واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ اہل بیتؑ، بنی ہاشم کے تمام افراد سے بھی افضل ہیں۔

نتیجہ:

1۔ امامت کے لیے امام کا امت سے افضل ہونا ضروری ہے۔

2۔ قرآن، سنت اور عقل اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ قیادت کے لیے سب سے زیادہ اہل، متقی اور علم والا شخص چنا جاتا ہے۔

3۔ اہل بیتؑ نہ صرف علمی، روحانی اور اخلاقی برتری رکھتے تھے، بلکہ نسب کے لحاظ سے بھی سب سے اعلیٰ تھے۔

4۔امام کے بغیر امت گمراہی میں چلی جاتی ہے، اوربافضل  امام کی ہدایت ہی انہیں ہدایت کی روشنی عطا کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اہل بیتؑ کی سیرت اور تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین!

وعلیکم السلام

عالمی مرکز مهدویت قم

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *