السّلام عَلیَ الحُسَین (ع)
وعَلی عَلِِیِ ابن الحُسَین (ع) وعَلی اوْلادِ الحُسَین (ع)
و عَلی اَصحابِ الحُسَین (ع)
درس زیارت اربعین
پہلا درس
.زیارت اربعین کی اہمیت
.سلام کی اہمیت اور فلسفہ کیاہے
.زائر زیارت سے پہلے کیا کرۓ؟
.کیسے حقیقی معرفت حاصل ہوگی؟
.جو اربعین پر نہیں پہنچ سکے وہ کیسے زیارت کریں ؟
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
زیارت اربعین کی اہمیت
ہماری گفتگو کا موضوع زیارت اربعین ہے اور یہ اربعین کے ایام ہے، اور دنیا سے اہل ایمان، اہل انتظار مولا امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے رواں ہیں، اللہ تعالیٰ سب کی زیارت کو قبول فرمائے۔
زیارت اربعین کی بہت زیادہ اہمیت ہےاور یہ زیارت مبارکہ جو مولا امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہوئی
اس کی اہمیت پر امام عسکری علیہ السلام کا فرمان نقل کروں گا
ہمارے گیارہویں مولا امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
مومن کی پانچ علامات ہیں
پچاس یا اکاون رکعت نماز
اربعین کی زیارت یعنی پہنچنا مولا امام حسین علیہ السلام کی قبر مبارک پر اور اس زیارت کی تلاوت کرنا
البتہ جو نہیں پہنچ سکے کچھ مشکلات کی وجہ سے یا استطاعت نہیں ہے تو اپنے گھر پر بھی بیٹھ کر اس کی تلاوت کرسکتے ہیں
بہتر یہ ہے کہ گھر کی چھت پر جاکر یا اونچی جگہ پر مولا حسین علیہ السلام کی قبر مبارک کی طرف رخ کرکے تلاوت کرے تو وہی ثواب ہے
دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا یعنی نگینہ پہننا
جیسے ہمارے ہاں یہ سنت رائج ہے کہ مومنین ہاتھ میں پہنتے ہیں
سجدے میں اپنی پیشانی خاک پر رکھتا ہے اور یہ بھی ہمارے ہاں مرسوم ہے کہ سجدہ گاہ رکھتے ہیں
اپنی واجب نمازوں میں بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم کی بلند آواز میں تلاوت کرتا ہے۔
اس زیارت کو ہمارے بہت بڑے علماء نے اپنی کتابوں نقل کیا ہے جیسے شیخ مفید کے استاتذہ ابن قولویہ اور شاگردوں میں ان کے شاگرد شیح طوسی رح نے کتاب تہذیب اور مصباح میں اس زیارت کو امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے۔
زیارت مبارکہ اربعین
اَلسَّلَامُ عَلٰى وَلِيِّ اللّٰهِ وَ حَبِيْبِهِ
اَلسَّلَامُ عَلٰى خَلِيْلِ اللّٰهِ وَ نَجِيْبِهِ
سلام ہو پروردگار کے ولی پر اور اس کے محبوب پر
سلام ہو اللہ کے دوست پر اور جو برجستہ شخصیت ہیں ان پر
اَلسَّلَامُ عَلٰى صَفِيِّ اللّٰهِ وَ ابْنِ صَفِيِّہ
سلام ہو اللہ کے منتخب اور برگزیدہ بندے پر اور جو برگزیدہ بندے کے فرزند ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَى الْحُسَيْنِ الْمَظْلُوْمِ الشَّهِيْدِ
سلام ہو حسین علیہ السلام پرجو مظلوم تھے اور شہید ہوۓ
اَلسَّلَامُ عَلٰى اَسِيْرِ الْكُرُبَاتِ وَ قَتِيْلِ الْعَبَرَاتِ
سلام ہو اس ہستی پر جو بڑی مشکلات کے شکار ہوۓ اور یہ وہ ہستی ہے کہ جب بھی ان کا ذکر ہوتا آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں
( یہ وہ شہید ہیں یہ وہ مقتول ہیں کہ جن کے لیے آنسو ترستے ہیں اور جن پر ھمشہ آنسو جاری ہوتے ہیں)
یہ آنسو صرف ہمارے جاری نہیں ہوے اس سے پہلے بھی سرور کائنات کے آنسو بھی جاری ہوئے جب امام حسین علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہوئی اس وقت بھی یہ آنسو جاری ہوئے ۔
حتی گزشتہ انبیاء کے سامنے ذکر ہوا امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت کا اور شہادت کا تو ان کے بھی آنسو جاری ہوئے
سلام کی اہمیت اور فلسفہ کیاہے؟
احادیث میں آیا ہے اور ان احادیث کو سب سے پہلے محقق کلینی رح اور جناب قولویہ جو استاد ہیں بہت بڑی شخصیت شیخ مفید رح کے انہوں نے جو کچھ نقل کیا اس کے مطابق یہ ہے کہ
امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک اصحاب کا گروہ مولا کی خدمت میں آتا ہے اور ان میں سے ایک بڑے اصحابی نے عرض کیا کہ
میں آپ پر قربان ہو جاؤں میں بہت دفعہ امام حسین علیہ السلام کو یاد کرتا ہوں شب وروز تو لیکن میں کیا کہوں انہیں یعنی جب مجھے امام حسین علیہ السلام کی یاد آتی ہے تو میں کیا کہا کروں تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ
تم تین مرتبہ یہ کہا کرو
السلام علیک یا ابا عبداللہ
چاہیےآپ نزدیک ہو یا دور اس سے پتہ چلتا ہے کہ سید الشہداء کی زیارت اور سلام کی کتنی اہمیت ہے۔اور ان پر سلام بھیجنے کی تاکید کی ہے
سب معصومین نے صرف مولا حسین علیہ السلام کا ذکر کیاہے ویسے تو سب کی زیارت مستحب ہے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے کر آخری معصوم تک
لیکن جتنا شوق اور تاکید سیدالشہدا کی زیارت کے لئے دلایا گیا ہے اس حد تک کہ کسی معصوم کے لیے اتنی تاکید نہیں ہے ۔
آج ہم لفظ سلام کے معنی پر غور کریں گے کیونکہ جب بھی کوئی شخص جاتا ہے زیارت کے لئے تو سب سے پہلے سلام کرتا ہے
جیسے ہم نے بھی چند سلام مولا کی بارگاہ میں اپنی عقیدت کا نظرانہ پیش کیا ہے تو یہ جو ہمارے سلام ہوتے ہیں ان کا مطلب کیا ہے
دو معنی اپنے ذہن میں رکھیں
ویسے تو اسلام اللّٰہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
اور جب بھی کو شخص کسی کو سلام کرتا ہے تو اس میں وہ یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی حفاطت کریں
لیکن جب ہم زیارتوں میں سلام کہتے ہیں معصومین علیہم سلام کی خدمت میں تو یہاں دو چیزیں مدنظر رکھیں کہ یہاں سلام دو معنی رکھتا ہے
ایک تو سلام جو ہے وہ تسلیم کے معنی میں ہے یعنی انسان اپنے آپ کو مولا کی اطاعت میں قرار دیتا ہے یعنی اپنے آپ کو ان کے سامنے تسلیم کرتا ہے
اور مدمقابل ہستی کو اپنے لیے واجب الاطاعت قرار دیتا ہےکہ مولا میں آپ کا مطیع ہوں جسطرح آپ کہیں گے میں اسی طرح اپنے آپ کو قرار دوں گا اور آپ کی راہ میں اپنی جان ومال سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔
دوسرا معنی سلام کا وہ سلامتی ہے یعنی انسان جب معصومین پر جیسے امام حسین علیہ السلام پر جب سلام بھیجتا ہے تو اُن کی سلامتی چاہتا ہے سلامتی چاہنے کا مطلب ہے کہ مولا کو کوئی گزند نہ پہنچے مولا کو کوئی تکلیف نہ پہنچے
اب ہوسکتا ہےکہ آپ کے ذہنوں میں یہ سوال ہو کہ وہ امام معصوم اور بالخصوص وہ امام جو شہید ہے اور اس وقت اللہ کی بارگاہ میں نعمتوں میں غرق ہیں ان کو کس طرح ہو سکتا ہے کوئی تکلیف پہنچے ؟؟
جی پہنچ سکتی ہے اور وہ تکلیف کب پہنچتی ہے جب ہم گناہ کرتے ہیں جب ہم ایسی زندگی گزارتے ہیں ہمارے آئمہ راضی نہ ہوں ہمارے گناہ جو ہے وہ سب سے بڑی تکلیف ہے ہمارے آئمہ کے لئے بالخصوص امام زمان عجل اللہ شریف کا جو شکوہ نقل ہوا ہے
اس میں آپ نے اپنے لیے سب سے بڑی جو تکلیف اور رنج ہے وہ اپنے چاہنے والے اور اپنے منتظرین شیعوں کا جو ہے وہ گناہ قرار دیا ہے
تو یہ گناہ جو ہے جسطرح اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے اس کے غضب کا سب ہے
اسی طرح اس کی جو حجتیں ہیں اور بالخصوص وہ حجتیں ہیں جس کی بارگاہ میں ہم حاضر ہیں اُن کی بھی ناراضگی اُن کی بھی رنج کا حتیٰ ان کے قلب مبارک کو تکلیف دینے کا سبب ہے
زائر زیارت سے پہلے کیا کرے؟
اس لیے زائر جو ہےاُسےچاہیے کہ وہ جب بھی کسی امام کی بارگاہ میں سلام کرے سب سے پہلے توبہ کرے اپنے تمام گناہوں کی اور اپنے آپ کو پاکیزہ کرے تمام آلودگیوں سے بالخصوص اپنے زبان کو اپنے وجود کو اور پھر خالصتا للہ اپنے امام کی سلامتی کے لیے دعا کرے امام پر سلامتی بھیجے جب ہم اس انداز سے اپنے امام کی بارگاہ میں سلام بھیجتے ہیں تو پھر اس سلام کا جواب بھی ہمیں ملتا ہے
جسے کہتے ہیں بہت بڑے آیت اللہ زنجانی جو ہیں ان کے والدے بزرگوار وہ بھی بہت بڑی ہستی تھے اپنے زمانے میں وہ ایک دفع پیدل اربعین کی زیارت پر جارہے تھے تو آپ سے کسی کسان نے پوچھا آپ کہاں جارہے ہیں
تو میں نے کہا کہ میں زیارت سیدالشہدا علیہ السلام کے لیے جارہا ہوں تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جب آپ سلام کرتے ہیں تو آیا آپ کو مولا جواب دیتے ہیں تو انہوں نے کہا یقیناً جواب دیتے ہوں گے
اس نے کہا کبھی آپ نے جواب سناہے تو انہوں نے کہا نہیں تو اس نے کہا میں سلام کرتا ہوں پھر آپ دیکھیں کہ مولا جواب دیں گے اور اس نے جب سلام کیا تو آیت اللہ زنجانی نقل کرتے ہیں کہ مجھے ایسے لگا کہ جیسے چاروں طرف سے آواز آرہی ہے اور وہ مولا حسین علیہ السلام کی آواز ہو اور اس آواز میں اس کے سلام کا جواب دے رہے ہوں وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ وہ صدا کے ساتھ جواب دے رہے ہیں تو بڑے حیران ہوۓ اور ان کو بتا چلا کہ عمل کی کمیت مطلوب نہیں ہوتی بلکہ کیفیت کہ اس کے کسان نے جو بظاہر کسان تھا اور عام شخص تھا لیکن خلوص میں اس مقام پر پہنچا ہوا تھا اتنا پاک تھا کہ امام کا جواب
سن رہا تھا اور بلکہ انہوں نے بھی وہ جواب سنا
تو پس جب ہم اس زیارت کے شروع میں سلام بھیجتے ہیں تو گویا ہم سب سے پہلے توبہ کرتے ہیں اور اپنے آپ کو اس قابل قررا دیتے ہیں کہ اپنے مولا اور اپنے آقا کی بارگا میں سلام بھیجتے ہیں اور ان کے لیے اللہ سے سلامتی چاہیں اور ہمارے کسی عمل سے ہمارے کسی قول و فعل سے خدا نہ کریں ہمارے آقا مولا امام معصوم کو کوئی تکلیف پہنچے
تو پس یہاں سلام کا مطلب جو ہے وہ دو چیزیں ہوں گی
ایک اپنے آپ کو امام کی اطاعت میں قرار دینا ان جیسی زندگے گزارنے کا عہد
اور دوسرا یہ کہنا کے اب تک جو ہوا میں اس کی معذرت چاہتا ہوں توبہ کرتا ہوں اور اب میرے کسی قول و فعل سے آپ کے قلب مبارک کو تکلیف نہیں پہنچے گی
اور ایک تیسر معنی بھی ہمارے علماء جو ہے وہ بیان کرتے ہیں اور وہ یہ کہ جو شخص امام کی بارگاہ میں سلام بالخصوص امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں پیش کرے اور وہ یہ کہہ کہ میں آپ کو اپنے زندگی میں نمونہ اور الگو اور آپ کو اپنے تمام امور میں پیشوا قرار دیتا ہوں اور میں جس طرح آپ ظلم کے مد مقابل کھڑے ہوئے میں بھی آپ کی طرح ظلم کا مقابل کروں گا اور ہر ظالم سے ٹکراوں گا چاہیے وہ ظالم میرے اندر میرے نفس ہو یا باہر کوئی بھی شخص ہو اور آج کے دور میں جو بھی ظالم ہے چاہیے وہ عالمی سطح پر ہوں چاہیے وہ ہمارے اردگرد ہوں ان سب سے ٹکرانا ان سب کے سامنے قیام کرنا یہ حسینت ہے اور یہی ایک اربعین کے زائر سے توقع ہے۔
یہ جو سلام بھیجے جارہے ہیں اس میں امام حسین علیہ سلام کو انبیاء کا وارث قررا دیا ہے اس میں حبیب خدا یعنی ہمارے بیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ہے۔
اس میں خلیل خدا حضرت ابراہیم کا بھی ذکر ہے تو اس ذکر کا ہدف وہ یہ ہے کہ امام حسین علیہ سلام کا قیام جو ہے وہ دین اسلام بلکہ اس سے پہلے جتنے بھی انبیاء آۓ اُن سب کی کوششوں اور اُن سب کے اخلاص اور زحمتوں کی بقاء کا سبب بنا
*اس لیے امام میں حسین علیہ سلام کا جب بھی ذکر ہو* اس میں تمام آئمہ کا ذکر ہوتا ہے چونکہ مولا سب کے وارث ہیں اُس زمانے کا یزید دین اسلام کو ختم کرنا چاہتا اور امام نے اللہ کی بارگاہ میں سب کچھ دے کر اس دین کو بچایا اور یہ وہی سنت ابراہیمی ہے جس میں حضرت ابرہیم علیہ سلام جو ہے وہ حتى آگ میں جانے کے لیے تیار ہو گئے توحید کی بقاء کے لیے حصرت ابراہیم کا یہ پہلا امتحان نہیں تھا کہ اللہ نے اس سے پہلے بھی امتحان لیے ایک دفعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مال کا امتحان لیا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انہوں نے سارا مال جو ہے وہ خرچ کر دیا
اسے طرح اپنی جان کا اللہ کی بارگا میں توحید کی بقاء کے لیے وہ آگ میں چلے گئے حتى اپنی آولادحضرت اسمائیل علیہ سلام کو ذبح کرنے کے لیے حکم خدا پر تیار ہوۓ ان تمام امتحانوں میں جسطرح ابراہیم کامیاب ہوئے اسی طرح امام حسین علیہ السلام جو کہ فخر ابراہیم ہیں وہ بھی تمام امتحانوں میں کامیاب وہ سب کچھ اللہ کی راہ میں دیا اپنی اولاد حتى اپنا آپ اور جو کچھ بھی تھا سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے سب کچھ اللہ کی بارگاہ میں دیا ہے۔
اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ مولا امام حسین علیہ السلام سے جملہ نقل ہوتا ہے
کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں پھینکا جارہا تھا اس وقت حضرت ابراہیم علیہ سلام نے یہ ذکر پڑھا تھا اور امام حسین علیہ السلام بھی وہ اسی ذکر کو تلاوت فرماتے ہیں اور یہ وہ ذکر ہے کہ جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے آپ کو اللہ کے جب حوالے کرتے ہیں اس میں جملہ جو حضرت ابراہیم فرماتے ہیں اور وہ جملہ وہ یہ ہے اور اس کو احادیث کی شکل میں وہ امام حسین علیہ سلام سے جناب عبداللہ ابن عباس نے نقل کیا امام حسین علیہ سلام فرماتے ہیں
کہ جب ابراہیم خلیل کو آگ میں پھینکا نکا جادہا تھا اس وقت جناب ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا
حسبی اللہ ونعم الوکیل
مولا فرماتے ہیں کہ میں بھی اپنے دادا ابراہیم کی طرح یہ ہی جملہ کہوں گا جب آپ مدینہ سے مکہ کی طرف جارہے تھے تو پس یہاں حضرت ابراہیم خلیل اللہ کا جو بالخصوص ذکر ہے وہ اسی لیے ہے
اور اسی طرح پیغمبر اسلام جو حبیب خدا ہیں ان کا ذکر مبارک اسی لی ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بڑکر کسی نے اللہ کی بارگاہ میں خلوص نہیں دکھایا اور پیغمبر سے بڑکر کسی نے زحمتیں نہیں کی اس لیے آپ سب نبیوں کے سردار اور خاتم الانبیاء قرار پائے اور ان کے دین کی بقاء کے لیے کس طرح مولا امام حسین علیہ السلام نے قدم اٹھایا یہ سب کچھ ہمارے لیے وہ درس ہے کہ
ہم اس ہستی کی بارگاہ میں ہیں کہ جو سارے نبیوں اور بالخصوص محبوب خدا کے وارث ہیں اور ہم بھی ان کی بارگاہ میں اپنے آپ کو ان کی اطاعت میں قرار دیتے ہیں
اور ان کی اطاعت اور ان کی ایک اقتداءکو اپنے لیے زندگی کا سرمایہ قرار دیتے ہیں۔
یہاں ایک نکتہ جو ہے وہ یہ ہے کہ سب سے پہلا جو سلام ہے وہ امام حسین علیہ السلام کا بعنوان ولی خدا ہے
اس سے پتا چلتا ہے کہ ولایت کی کتنی اہمیت ہے اس لیے آپ دیکھیں کہ ہماری احادیث کے اندر آیا ہے کہ ایک مسلمان جو ہےاس کی زندگی کے اندر چند چیزیں ستون ہےجسے نماز ہے، جسے زکوٰۃ ہے ،حج ہے ،روزہ ہے اسی طرح ولایت ہے
اور ولایت کے بارے میں احادیث یہ کہتی ہیں کہ یہ سب سے اہم ترین ستون ہے ولایت کی وجہ سے دین کی تشریح ہوئی ہے اور اسی ولایت کی وجہ سے دین کی بقاء ہے اور آج بھی ہم یہ ولی خدا کی بارگاہ میں ہے جو کہ وارث ہیں سید الشہداء علیہ السلام ہیں اور جو کہ منتقم سید الشہداء ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ پروردگار ہم سب کو جب ہم یہ سلام کر رہے ہوتے ہیں اپنے امام کی بارگاہ میں تو اس سلام کے اہل قرار پائے اور ہم تائب ہوکر گناہوں سے پاک ہوکر پاک امام کی بارگاہ میں سلام کریں اور مولا کا جواب سنیں اور اس لائق ہوں کہ امام کی نگاہوں میں آئے ان کی دعاؤں میں آئے اور مولا ہمارے سلام کا جواب دیں و علیکم السلام برحمة الله و برکاتہ کہیں آمین۔
عالمی مرکز مہدویت_ قم