تازہ ترین پوسٹس

زیارت اربعین کی تشریح_چوتھا درس۔قاتلان سید الشہداء کی حقیقت

السّلام عَلیَ الحُسَین (ع)
وعَلی عَلِِیِ ابن الحُسَین (ع)
وعَلی اوْلادِ الحُسَین (ع)
و عَلی اَصحابِ الحُسَین (ع)

زیارت اربعین

چوتھا درس

. زیارت اربعین کی تشریح
. قاتلان سید الشہداء کی حقیقت

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

زیارت اربعین کی تشریح

موضوع سخن زیارت مبارکہ اور ہم یہاں پہنچے تھے امام صادق صلوات اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے جد امجد، سید الشہداء علیہ السلام اور ان کے اصحاب کے مد مقابل جو لوگ ہیں وہ کیسے لوگ تھے ان کی جو حقیقت اور ماہیت ہے اس کو مولا امام صادق علیہ السلام اس انداز سے بیان فرماتے ہیں فرماتے ہیں کہ

وَقَدْ تَوَازَرَ عَلَيْهِ مَنْ غَرَّتْهُ الدُّنْيَا

ایسے لوگ سید الشہداء اور ان کے اصحاب کے مدمقابل قرار پائے کہ جنہیں دنیا نے دھوکہ دے دیا تھا

وَبَاعَ حَظَّهُ بِٱلارْذَلِ ٱلادْنَىٰ
اور دنیا کی پست چیزوں کے مد مقابل اپنے آپ کو بیچ دیتے

وَشَرَىٰ آخِرَتَهُ بِٱلثَّمَنِ ٱلاوْكَسِ
اور آخرت جیسا عظیم و شان جہان کہ جہاں انسان نے ہمیشہ رہنا ہے اس کو نہایت ہی پست اور حقیر چیزوں کے مد مقابل بیچ دیتے

اس کے بعد فرماتے ہیں کہ

وَتَغَطْرَسَ وَتَرَدَّىٰ فِي هَوَاهُ
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خواہشاتِ نفسانی کی کھائیاں اور گڑھے میں اپنے آپ کو گرا دیا

وَاسْخَطَكَ وَاسْخَطَ نَبِيَّكَ
اے پروردگار انہوں نے اپنے ان جنایات اور اس نہایت قبیح عمل سے جو انہوں نے ظلم کیے حجتِ خدا پر اور ان کے اصحاب پر اور ان کی اولاد پر خاندان پر اس میں پروردگار کو غضبناک کیا اور پروردگار کے پیغمبر کو غضبناک کیا

وَاطَاعَ مِنْ عِبَادِكَ اهْلَ ٱلشِّقَاقِ وَٱلنِّفَاقِ
ظالم تفرقہ پھیلانے والے اور منافق لوگوں کی انہوں نے اطاعت کی

وَحَمَلَةَ ٱلاوْزَارِ ٱلْمُسْتَوْجِبِينَ ٱلنَّارَ
اور کون سے لوگ جنہوں نے گناہوں کے بوجھ گناہوں کے بار اٹھائے ہوئے ہیں اور جہنم کے مستحق ہیں

معصوم فرماتے ہیں کہ

فَجَاهَدَهُمْ فِيكَ صَابِراً مُحْتَسبا
حَتَّىٰ سُفِكَ فِي طَاعَتِكَ دَمُهُ

لیکن امام حسین علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں فقط خدا کی خاطر صبر سے کام لیا یہاں تک کہ ان کا خون بہا

وَٱسْتُبِيحَ حَرِيـمُهُ

مولا کی حرمت کو انہوں نے پامال کیا تباہ کیا ان کے گھر کو ان کے خاندان کو بچوں کو کسی چیز کو نہیں چھوڑا

اَللَّهُمَّ فَٱلْعَنْهُمْ لَعْناً وَبيلاًَ
امام فرماتے ہیں پروردگارہ ان پر سخت ترین لعنت بھیج

وَعَذِّبْهُمْ عَذَابًا الِيمًا
اور انہیں دردناک عذابوں میں مبتلا کر

 

قاتلان سید الشہداء کی حقیقت

یہاں امام صادق علیہ السلام جو ہیں وہ سید الشہداء علیہ السلام اور اصحاب کربلا کے مد مقابل جو بظاہر مسلمان ہیں
جو قاتلان ہیں سید الشہداء اور ان کے مظلوم اصحاب کے ان کی حقیقت سے پردہ اٹھا رہے ہیں کہ یہ کیسے لوگ ہیں
اگر ہم تھوڑی سی تحقیق کریں تو وہ لوگ جو دشمن بن کر وہاں آئے ہیں یعنی وہی یزیدی لشکر اس کے اندر تین طرح کے لوگ تھے۔

پہلا گروہ
کچھ تو وہ لوگ تھے جن کے اندر اہلِبیت کا بغض تھا اس لئے جب مولا امام حسین علیہ السلام نے ایک بار پوچھا کہ مجھے کیوں مارنا چاہتے ہو میں نے کونسا ایسا کام کیا ہے کہ جس کی سزا مثلاً قتل ہو تو اس گروہ نے کہا
کہ ہمیں آپ کے جو والد ہیں یعنی امام علی علیہ السلام اس کا بغض ہے ہمارے اندر یعنی ناصبی لوگ کچھ تو یہ تھے
جس طرح آج ہم تکفیری لوگ دیکھتے ہیں کہ جو علی والوں کو اس جرم میں مارتے ہیں کہ ان کی زبان پہ مولا علی علیہ السلام اور ان کی پاکیزہ آل کا ذکر ہوتا ہے یہ ان کے غم مناتے ہیں یہ ان کے دن مناتے ہیں یہ ان کی سیرت پہ چلتے ہیں ان کا جرم صرف یہی ہے۔

دوسرا گروہ
ایک وہ گروہ تھا جنہوں نے دنیاوی مفادات کی خاطر اس لشکر کو اختیار کیا بلکہ اس لشکر کے اہم ارکان بنے بلکہ اس کے سالار بنے جیسے ملعون عمر بن سعد یا شمر اس طرح کے اور بہت سارے لوگ جو اپنے قبیلوں کے سردار اور جنہیں پتہ تھا کہ امام حسین علیہ السلام حق ہیں اور مظلوم واقع ہو رہے ہیں خود ان کے عقیدے کی روح سے حق صرف امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیاوی مقامات کی خاطر دنیاوی عہدوں کی خاطر مولا کو مارنے کے لئے تیار ہو گئے جیسے عمر بن سعد کو ری کی حکومت کا لالچ دیا گیا ،شمر کو ایک عہدے کا لالچ ملا سارے لوگ اسی طرح تھے یا مال کی تمنا تھی یا دنیا کے کسی منصب اور مقام کی کسی سرداری کی کسی گورنری کی طمع تھی اور دنیا نے ان کو دھوکہ دیا ملا کچھ بھی نہیں ملا ہمیشہ کے لئے مورد لعین پروردگار بھی قرار پائے اور رہتی دنیا تک ہمیشہ جو ہیں ان پر لعنتیں برس رہی ہیں اور ان کو وہ کچھ ملا بھی نہیں جس کے لئے انہوں نے اتنی بڑی جنایت کی اتنا بڑا ظلم کیا۔

اس لئے امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ دنیا نے ان کو بری طرح دھوکہ دیا کیونکہ انہوں نے اپنی آخرت کو اپنی حقیقت کو اپنے وجود کو دنیا کی ناچیز چیزوں کے مد مقابل بھیج دیا۔
آغا جی حدیث میں پڑھ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو انسان کے بدن کی اطاعت کے عوض میں رکھا ہے یہ جو ہم جنت کے مشتاق ہیں اور سب جنت جانا چاہتے ہیں یہ جو ہم ظاہراً عبادت کرتے ہیں اللہ نے اس کا عوض جنت رکھا ہے لیکن یہ جو انسان اپنے دل میں اخلاص رکھتا ہے اپنے اندر سے بھی پاک ہوتا ہے اپنے فکر میں اپنے باطن میں اس کا عوض جو ہے وہ اللہ نے اپنی قربت رکھی رہی ہے کیونکہ جو اولیاء خدا ہیں جن کا ظاہر اور باطن دونوں پاک ہوتے ہیں وہ صرف جنت پر راضی نہیں ہوں گے وہ اللہ کا قرب مانگیں گےتو روح کی عبادت کا عوض قرب پروردگار ہے جسم کی عبادت کا عوض جنت ہے

لیکن یہ ایک ایسے لوگ تھےجنہوں نے اپنے ظاہر اور باطن کو دنیا کے بدترین لوگوں کی اطاعت میں صرف کیا ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اللہ کو غضبناک بنا دیا۔
یزید جیسے ابن زیاد جو کہ حرامی ہے جس کا والد زیاد بن ابیہ جس کے آگے جن کا کوئی باپ کا پتہ نہیں ہے مشہور ہے عرب میں ایک ایسا شخص جو سفاک ظالم اور نسل کے اعتبار سے حرامی اور یزید لعین کے جس کے بارے میں سب کو پتہ ہے کھلم کھلا خدا کی نافرمانی کرنے والا اعلانیاں شراب پینے والا حلالِ خدا کو حرام کرنے والا حرامِ خدا کو حلال کرنے والا دینِ خدا کا انکار کرنے والا اس کی اطاعت میں انہوں نے امامِ حسین علیہ السلام جو کہ واحد ہستی تھے کہ حق کا محور تھے اور ان کے مد مقابل قرار پائے اور انہیں شہید کیا کہ عمر ابن سعد جو ایک صحابی کا بیٹا ہے وہ صحابی جس نے بڑی زحمتیں کی ایران کو فتح کیا کوفہ شہر اس نے بسایا البتہ آخری عمر میں یہ لوگ جو جس طرح ہونا چاہیے تھے وہ ایسے نہیں رہے مولا علی علیہ السلام کے حوالے سے ان لوگوں کے افکار ٹھیک نہیں تھے جب مولا علی علیہ السلام کا زمانہ خلافت آیا تو اس نے بیعت نہیں کی اور آگئے یہی بغض جو ہے وہ عمر ابن سعد کی شکل میں سامنے آگیا کہ جو قاتل بنا اولادِ امامِ علیہ السلام اور عمر ابن سعد تو وہ ہے جس کی مذمت خود پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں فرما گئے تھے اور خود امیر المومنین نے علیہ السلام نے بھی اس کی مذمت کی۔
اس لیے کہتے ہیں کہ پیغمبرِ اسلام کی مذمت کی وجہ سے اس کے والد یعنی سعد بن ابی وقاص نے اپنے بیٹے یعنی عمر جو ہے اس کو حتی وراثت میں بھی کچھ نہیں دیا عاق کیا ہوا تھا۔
اب یہ شخص جو ہے یہ جانتا تھا کہ حق امامِ حسین علیہ السلام کے ساتھ ہے لیکن ری شہر کی گورنری کی خاطر جو ہے اتنا بڑا جرم کیا اور وہ بھی نہ اسے ملی اور شمر کون ہے اور اسی طرح کے اور لوگ جو ایک زمانے میں شاید مولا علی کے ساتھ تھے محبین تھے صفین میں امام کے ساتھ تھے لیکن کیا ہوا دنیا نے کس طرح دھوکہ دیا دنیا کے مفادات یا گناہوں کی کثرت کہ آج شیطان کے لشکر میں شامل ہیں رحمان کے مد مقابل قرار پر ہیں تو ایک یہ تھے جو دنیاوی مفادات کی خاطر اکٹھے ہوئے اور جنہوں نے شیطان کو خوش کیا اور رحمان کو غضبناک کیا۔

تیسرا گروہ
وہ ہے کہ جو عام لوگ تھے جنہیں پتا تھا حق امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ہے محبت بھی کرتے تھے لیکن مجبور تھے پیٹ کی مجبوری یا ابن زیاد کے ڈراوے یہ بھی اکھٹے ہوگئے مارنے کے لئے اور آپ دیکھتے نہیں جب بعد میں غارت کیا رو بھی رہے ہیں اور غارت بھی کر رہے ہیں یعنی سمجھتے ہیں یہی مظلوم ہیں حق ان کے ساتھ ہے لیکن دنیا نے کس طرح دھوکا دیا یہ آزمائشیں ہیں کبھی کبھی انسان کو اپنے ضروریات کو حق کی خاطر قربان کرنا چاہیے لیکن انہوں نے اپنی دنیاوی ضروریات کو مقدم رکھا اور حق کو قربان کر دیا تو یہ تین قسم کے لوگ جن کو دنیا نے دھوکا دیا اور اس حالت تک انسان ایسے نہیں پہنچتا کہتے ہیں گناہ کی پیش خیمہ ہے گناہ اور دنیا کی محبت ایسی چیز ہے کہ ممکن ہے ایک شخص جو ایک وقت میں لشکر رحمان میں ہو حجت حق کے لشکر میں ہو لیکن ایک گناہ کے بعد دوسرا تیسرا ایسی سیاہی باطن میں پھیلاتے ہیں کہ وہ پھر شیطان کا چیلا ہو جاتا ہے جس طرح کہ ہم نے تاریخ میں بڑے کرداروں کو بڑی شخصیتوں کو بدلتے ہو بھی دیکھا۔

اس لئے امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ وہ لوگ تھے جن کو دنیا نے بری طرح دھوکا دیا کچھ بھی نہ ملا خسر الدنیا والآخرہ اب یہ بظاہر جو ہیں بڑے دیندار بھی بنتے تھے لیکن ان کی دینداری کیسی ہے۔

اس حوالے سے امام حسین علیہ السلام کا وہ مشہور فرمان فرماتے ہیں
ان الناس عبید الدنیا

عام طور پر لوگ جو ہیں وہ دنیا کے غلام ہیں دنیا کے بندے ہیں خدا کے بندے نہیں ہیں وَدین لَعق عَلَىٰ أَلسِنَتِهِم
دین جو ہے وہ ان کی زبانوں پر بس چڑا ہوا جب گفتگو کریں گے تو بڑے دیندار لگیں گے دین کے بڑے مدافع اور وکیل بنیں گے لمبی لمبی گفتگو، لمبی لمبی دلیلیں اتنی دیر تک دین کا نام لیں گے جتنی دیر تک ان کا معاش ان کا اقتصاد، مال، پیسہ شہرت، عزت دین کے ساتھ وابستہ ہے اور جب ان پر کوئی آزمائش آئے گی کیونکہ دنیا بلاخر آزمائش کی جگہ ہے خدا نے ہر ایک کی آزمائش لینی ہے۔

مولا فرماتے ہیں
پھر اس وقت پتا چلتا ہے کتنے لوگ دیندار ہیں تھوڑے سے لوگ پھر دین پر رہ جاتے ہیں اور یہ سارے بھاگ جاتے ہیں یہ سارے لشکر شیطان میں شامل ہو جاتے ہیں یہ اپنے پیٹ کی خاطر اپنی شہرت، اپنی عزت اس تھوڑے سے دنیا مال کی خاطر دین کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں جس کی مثالیں ہم نے تاریخ کی جنگوں میں بالخصوص کربلا میں دیکھیں کہ سامنے والا لشکر وہ اکثر دیندار تھے اہلِ نماز تھے اور انہیں پتا تھا حق کس کے ساتھ ہے اور یہ بھی پتا تھا رحمان کدھر ہے اور شیطان کدھر ہے لیکن دنیا کے چند سکوں کی خاطر یا دنیا کے کسی منصب کی خاطر سب کچھ فروخت کر دیا شیطان کو اور ہمیشہ کیلئے لعنت اور دردناک عذاب اپنا مقدر بنا لیا۔

یہ ہمارے اور آپ کے لئے بھی بہت بڑا درس ہے
آج حجتِ خدا موجود ہے لیکن کیوں نہیں اس کا لشکر تیار ہو رہا ہے حالانکہ اتنے لوگ ہیں جو نام لیتے ہیں اس لیے کہ جب ہم اپنی نجی زندگی میں اپنی فردی اور اجتماعی زندگی میں دیکھیں اپنے آپ کو کہ ہم کس کے لشکر میں ہیں کس کی باتوں پر عمل کر رہے ہیں ہمارا عمل کیسا ہے اصل کیمیت یہاں نہیں چاہیے کیفیت چاہیے صرف زبان سے چند چیزوں کا ذکر کر دینا وہ کافی نہیں ہے ہمارا عمل بھی اس کے مطابق ہے۔
اس لیے ٱس وقت بھری دنیا میں وہی بہتر (72)ہی حقیقی معنوں میں امام حسین علیہ السلام کے اس لشکر کے لائق قرار پائےاور آج اتنی بڑی دنیا ہے مولا کو تین سو تیرہ چاہیے اور دس ہزار جوان چاہیے کیوں نہیں نظر آ رہے کیوں مولا کا انتظار طویل ہو رہا ہے واقعا نام لینا ذکر کرنا عزاداری کرنا زیارت کرنا یہ سب آسان ہے۔
لیکن اپنی فردی اور اجتماعی زندگی کو ان کی سیرت کے مطابق ان کے فرامین کے مطابق قرار دینا یہ سب سے اہم چیز ہے
اور ہم دیکھتے ہیں بسااوقات بہت سارے لوگ جو نام لیتے ہیں وقت کے امام کا سید الشہداء علیہ السلام کا لیکن اپنی زندگیوں میں بسا اوقات وہ شمر اور یزید سے کم نہیں ہوتے حق کھایا جا رہا ہے، ظلم کیا جا رہا ہے ،توہین کی جا رہی ہے ،خدا کے لیے آج بھی حسین ع موجود ہے مہدی عج کی شکل میں اور آج کی کربلا میں وہ اسی طرح منتظر ہیں جس طرح اُس زمانے کے حسین ع منتظر تھے آج کے حسین بھی منتظر ہیں جس طرح انہیں ناصر چاہیے تھے آج بھی مہدی علیہ السلام کو ایسے ہی ناصر چاہیے کیوں اتنی بڑی دنیا میں ابھی تک میرے مولا کے تین سو تیرہ بڑے سردار جنہوں نے قیادت کرنی ہے کمانڈ کرنی ہے اور دس ہزار وہ خالص جوان وہ خالص شیعہ جن کا انتظار صدیوں سے مہدی زہرا علیہ السلام کر رہے ہیں وہ کیوں نہیں سامنے آگئے خدا کے لیے وہ صفات پڑھیں وہ خصوصیات پڑھیں جو کربلا کے جوانوں میں اور کربلا کے شہداء میں تھیں اور جو مہدی ع کے ناصروں میں ہونی چاہیے اور جن کا ذکر کیا گیا ہے اہلِ بیعت کی روایات میں ہمارے اندر وہ صفات کیوں نہیں پیدا ہو رہی ہیں کیوں امام مہدی کا انتظار اتنا طولانی ہو رہا ہے اللہ کرے ہمارے مولا کا انتظار ختم ہو اور وہ تین سو تیرہ اصحاب خاص اور وہ دس ہزار جوانوں کا لشکر تیار ہو تاکہ اس عالمی انقلاب کی راہ ہموار ہو پروردگار اسی اربعین کے صدقے ہماری اس دعا کو قبول فرمائے انشاءاللہ۔
آئندہ کی جو اربعین ہو وہ ہم اپنے زمانے کے امام کی ہمراہی میں منائیں الہی امین۔

جاری ہے ۔۔۔

عالمی مرکز مہدویت _قم

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *