السّلام عَلیَ الحُسَین (ع)
وعَلی عَلِِیِ ابن الحُسَین (ع)
وعَلی اوْلادِ الحُسَین (ع)
و عَلی اَصحابِ الحُسَین (ع)
زیارت اربعین
پانچواں درس
. شہداء کربلا کی صفات
. اور کربلا کا سب سے بڑا درس
سیاست عین دیانت
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
زیارت اربعین کی تشریح
یہاں سے پانچویں مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ امام صادق صلوات اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَابْنَ رَسُوْلِ ﷲِ
سلام ہو آپ پر اے فرزند رسول
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَابْنَ سَیِّدِ الْاَوْصِیَاءِ
سلام ہو آپ پر اے سید الاوصیاء یعنی امیر المؤمنین، صلوات اللہ علیہ کے فرزند،
ٲَشْھَدُ ٲَنَّكَ ٲَمِیْنُ ﷲِ وَابْنُ ٲَمِیْنِہ
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے امین ہیں، امانتدار ہیں اور پروردگار کے امین کے فرزند ہیں
عِشْتَ سَعِیْدًا، وَمَضَیْتَ حَمِیْدًا
آپ نے سعادت مند زندگی گزاری اور بہت بہترین انداز سے دنیا سے گئے اور ایسی حالت میں آپ نے دنیا سے وداع کیا کہ
وَمُتَّ فَقِیْدًا، مَظْلُوْمًا شَھِیْدًا
اپنے وطن سے دور تھے آپ پر ظلم ہوا تھا اور آپ اللہ کی راہ میں شہید ہو چکے تھے
وَٲَشْھَدُ ٲَنَّ ﷲَ مُنْجِزٌ مَا وَعَدَكَ
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ نے جو آپ سے وعدہ کیا خدا اس کی وفا کرنے والا ہے
وَمُھْلِكٌ مَنْ خَذَلَكَ
اور جنہوں نے آپ کو تنہا چھوڑا پروردگار انہیں ہلاک کرنے والا
وَمُعَذِّبٌ مَنْ قَتَلَكَ
اور جنہوں نے آپ کو شہید کیا خدا انہیں عذاب کرنے والا ہے
وَٲَشْھَدُ ٲَنَّكَ وَفَیْتَ بِعَھْدِ ﷲِ
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے بھی اللہ سے جو عہدو پیمان کیا تھا اس سے وفا کی
وَجَاھَدْتَ فِیْ سَبِیْلِہ حَتّٰی ٲَتَاكَ الْیَقِیْنُ
اللہ کی راہ میں آپ نے جہاد کیا یہاں تک کہ آپ مرحلے یقین تک پہنچے
شہداء کربلا کی صفات
امام صادق علیہ السلام واقعہ کربلا میں سید الشہداء کا جو جہاد ہے اور جو آپ نے اللہ کی راہ میں زحمتیں اٹھائیں اس کا ایک گوشہ بیان کیا واقعہ کربلا بے پناہ الہی صفات سے بھرپور ہے تمام زیارات میں اور بالخصوص زیارت اربعین میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب باوفا کے جو فضائل بیان ہوئے ہیں اور جو ان کی خصوصیات اور جو عظمتیں صفات کے اعتبار سے بیان ہوئی ہیں اگر ہم ان پر ایک سرسری سی نظر ڈالیں تو وہ کچھ یوں ہوں گی اگر ہم فردی اعتبار سے دیکھیں یعنی شخصی اعتبار سے تو یہ خصوصیات سید الشہداء اور ان کے باوفا اصحاب میں سامنے آتی ہیں۔
پہلی صفت
ایک تو توحید نظر آتی ہے کہ فقط اللہ کی خاطر یہ قیام ہوا اور وہ اپنے تمام امور میں ان سب کی نگاہ پروردگار کی منشاء پر ہے
اور یہاں ان کا عرفان ان کی معرفت الہی جو ہے وہ بھی سامنے آ رہی ہے اسی طرح ان کی عبادت بندگی کہ وہ ہر لحظہ حالت تسبیح میں تھے جو بھی کام کر رہے تھے وہ کام ان کا پروردگار کے تقرب کیلئے تھا اس لئے عبادت حتی انہوں نے ایک رات بھی جو ہے وہ خصوصی طور پر اللہ کی عبادت تسبیح مناجات اور قرآن کی تلاوت کیلئے مانگی۔
دوسری صفت
اسی طرح ایک جو صفت سامنے نظر آ رہی ہے وہ یہ کہ وہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے وہ غنی تھے بے نیاز تھے اپنی خواہشات نفسانی سے وہ پاک تھے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو چاہتے تھے اور اس کے مدمقابل تسلیم تھے یعنی مشیتِ الٰہی ان کے لئے سب کچھ تھی
اس لئے آپ دیکھیں جب امامِ حسین علیہ السلام مکہ سے روانہ ہونے لگے تو بہت سارے لوگوں نے روکا ان میں سے ایک محمد حنفیہ بھی تھے ان کے بھائی انہوں نے جب روکا تو اس وقت امامِ حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ
اللہ کی مشیئت یہی ہے کہ میں اس راہ میں شہید ہو جاؤں حتی میرے ساتھ جو میری بہنیں بیٹیاں ہیں وہ بھی اس راہ میں اسیر ہوں یہ ایک مقدس جہاد ہے جس میں ہم نے اپنے فرائض پورے کرنے ہیں اور اس سے دین بچنا اور انسانیت بچنی ہے
اسی طرح ہم دیکھ رہے ہیں کہ امامِ حسین علیہ السلام اور ان کے اصحابہ باوفا کو پتا تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور یہ بھی پتا تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہونا ہے
جیسے کہتے ہیں
ایک سفر کے ایک مرحلے میں جب امام نے خواب دیکھا اور
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
پڑھتے ہوئے اٹھے اور جنابِ علی اکبر نے سوال کیا تو امام نے جواب دیا کہ ایک شخص کو خواب میں دیکھا جو یہ کہہ رہا تھا کہ یہ قافلہ جو ہے وہ موت کی طرف بڑھ رہا ہے اور موت بھی ان کی طرف تو اس گفتگو میں جنابِ علی اکبر نے جب یہ سوال کیا کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟
تو فرمایا کیوں نہیں ہم حق پر ہیں پھر مولا حسین علیہ السلام کے فرزند کا جواب بھی تاریخ میں لکھا کہ پھر ہمیں کوئی پرواہ نہیں کہ موت ہم پر آجائے یا ہم موت پر آجائیں
یعنی سب کو پتہ تھا کہ ہم کس راہ پہ جا رہے ہیں اور ہمارا آگے مقدر اور آگے انجام وہ کیا ہے ؟
وہ بھی پتہ تھا یہ سب کچھ کیوں ہو رہا تھا کیونکہ مشیتِ الٰہی یہی تھی۔
تیسری صفت
پھر ایک خصوصیت جو ہم دیکھتے ہیں جو ہمارے لئے بھی اسوہ ہے بلکہ یہ ساری خصوصیات ہمارے لئے اسوہ ہیں وہ شجاعت ہے کہ ذرا بھی نہیں گھبرائے ذرا بھی خوف نہیں آیا ذرا بھی حزن طاری نہیں ہوا اور اسی طرح پائیداری استقامت جو کچھ بھی مشکلات آتی رہی شہداء کے لاشے گرتے رہے پیاس کا غلبہ تھا جنگ کی سختیاں بڑھتی گئیں جو کچھ بھی دیکھا اس کے مدمقابل استقامت اور پائیداری کو جو ہے اسی طرح باقی رکھا جس طرح شروع سے چلی آرہی تھی
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں عزتِ نفس اپنی جان بچانے کے لئے کوئی ہاتھ نہیں پھیلائے ان کی نہیں مانی خدا کی مانی اللہ کے نزدیک اپنی عزت کو باقی رکھا دنیا سے بے نیاز نظر آئے اور اسی طرح بخشش اگر کسی نے آکے معافی مانگی حر جیسے اور بھی کتنے تھے تقریباً تیس سے زیادہ ایسے لوگ ہیں جو لشکرِ یزید کو چھوڑ کر مولا سید شہداء علیہ السلام کی خدمت میں پہنچتے ہیں امام نے سب کو بخش دیا بعض نے جنگ کی دشمن سے اور مقامِ شہادت کو پایا اور بعض وہاں سے چلے گئے اپنے ہاتھوں کو مولا ع کے خون سے نہیں رنگا اسی طرح ہم دیکھ رہے ہیں موت کا خوف نہیں ہے بلکہ استقبال ہے شہادت کا بےتابی ہے شہادت کی
اور جو اجتماعی طور پر ہمیں جو چیز نظر آرہی ہے وہ ایثار ہے یعنی اپنے آپ کو فدا کیا جا رہا ہے دین پر اور دوسروں کا خیال رکھا جا رہا ہے دوسروں کی ضروریات کا خیال رکھا جا رہا ہے اور وفاداری اللہ کے ساتھ وفا ہے، اپنے امام کے ساتھ وفا ہے، اپنے ہدف کے ساتھ وفا ہے اور یہاں سارے اللہ کی بارگاہ میں برابر ہیں کوئی غلام کوئی آقا نہیں سب کے ساتھ امام کا برتاؤ جو ہے وہ محبت والا ہے وہاں کوئی غلام ہے کوئی حبشی ہے کسی کا رنگ وخون سیاہ ہے تو وہ بھی مولا کی گود اور ان کے زانوں میں اسی طرح آخری وقت میں آیا جس طرح علی اکبر آئے کوئی فرق نہیں ہے، بھائی ہے، بیٹا ہے صحابی ہے ،غلام ہے ،سب سے امام کی محبت یکساں ہے۔
کربلا کا سب سے بڑا درس سیاست عین دیانت
اور اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں سیاست جو ہے وہ عین دیانت ہے مولا جس ہدف کے لئے چلے تھے وہ دینی ہدف تھا نہ کہ دین ایک علیحدہ ہ چیز ہے اور ہماری زندگی کے اجتماعی اہداف ایک علیحدہ چیز ہے۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ امر بالمعروف اور نہی عن منکر ہے امام نے بھی کئی بار سامنے والے لشکر کو نصیحت کی ڈرایا کہ خدا کی نافرمانی نہ کریں اور اپنے لئے جہنم کو انتخاب نہ کریں راہ بہشت دکھائی حتی تمام شہداء جو باری باری گئے مد مقابل جو شیطانی لشکر تھا یزید کا سب نے شروع میں خطاب کیا لوگوں کو راہ حق دکھانے کی کوشش کی اور اس کے نتائج بھی نکلے کئی لوگ جن کے ذہن بدلےامام حتی آخری لمحات تک جب شمر آیا اور ان کو شہید کرنا چاہتا تھا اپنے کند خنجر سے تو مولا نے اس کو بھی آخری دفعہ نصیحت کی امر بالمعروف کیا اور کہا کہ حجت خدا کو قتل کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ تم نے اب تک جو ظلم کیا ہے شاید کوئی بخشش کی راہ نکل آئے لیکن میں حجت خدا ہوں میں زمین پر تنہا وارث ہوں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میرے خون سے اپنے ہاتھوں کو نہ رنگو ورنہ کوئی تمہارے لئے بخشش کی راہ باقی نہیں رہے گی یعنی اس کو بھی آخر تک اپنے قاتل کو بھی سمجھانے کی کوشش کی۔
اسی طرح جو چیز ہمیں نظر آرہی ہے کہ اگرچہ یہ لوگ اقلیت میں تھے مدمقابل دشمن اکثریت میں تھا لیکن یہ اپنے آپ کو فتح مند اور کامیاب سمجھتے تھے اور اس پر یقین رکھتے تھے یعنی کامیابی کا تعلق اکثریت سے نہیں ہے بلکہ اس سے ہے کہ کہاں کلمہ حق ہے کہاں الہی مشیت ہے، کہاں تقرب اللہ ہے ،کہاں حق کی پیروی ہے مد مقابل ایک ظالم کی پیروی کر رہے تھے اور یہاں خدا رحمان کی جو ہے وہ فرما برداری ہو رہی تھی اللہ کی اطاعت ہو رہی تھی اور اس کی حجت کی اتباع ہو رہی تھی۔
اسی طرح جو چیز ہم دیکھتے ہیں وہی ہے کہ یہاں مصلحت کو سامنے نہیں رکھا گیا حقیقت کو سامنے رکھا گیا یہ نہیں کہا گیا کہ اب چلیں کچھ نہ کچھ مذاکرات کر کے اسی طریقے سے اپنے آپ کو اس مشکل سے نکال لیں کچھ ان کی مان لیں کچھ اپنی منوالیں جس طرح کہ عام طور پر ہوتا ہے نہیں باطل کی بالکل نہیں مانی گئی صرف اور صرف حق اور حقیقت کو سامنے رکھا گیا اور اس کی خاطر جان تک چلی گئی یہ سب سے بڑا درس ہے
یہی درس امیر المومنین علیہ السلام میں بھی تھا کہ آپ نے اپنے زمانے میں جب گورنر تعین کی اس وقت بہت سارے لوگوں نے اس زمانے کی سیاست کے مطابق کہا کہ آپ کچھ کو باقی رکھیں ان سے کچھ استفادہ کریں تو آپ نے فرمایا
جو اس چیز کا اہل نہیں ہے جو اللہ کا نہیں ہے وہ میرا بھی نہیں ہے اور وہ واقعا لوگوں کا بھی نہیں ہے آپ نے صرف اہل اور متقی لوگوں کو منصب دئیے جس کے اندر صرف تقوی الہی دیکھا کوئی اور چیز کوئی دنیاوی شہرت کوئی خاندان کوئی دولت کوئی اور چیز آپ نے نہیں دیکھی یہاں بھی یہی ہے کہ ظاہری مصلحتوں کو نہیں دیکھا گیا صرف اور صرف حقیقت کو دیکھا گیا
اور اسی طرح ایک آمر ایک ڈکٹیٹر کی بیعت نہیں کی بلکہ بتایا کہ وہ جن کی بیعت ہونی چاہیے وہ ہم ہیں ہمیشہ انسان نے اگر کسی شخص کی بیعت کرنی ہے کسی کے پیچھے چلنا ہے کسی کے اتباع کرنی ہے وہاں کم از کم خدا کو تو مدنظر رکھنا چاہیے اور اس شخص کے اندر کم از کم تقوی تو ہونا چاہیے۔
امام نے یہاں بہت بڑا درس دیا
کہ ظالم آمر چاہے اس کے پاس دنیاوی طاقتیں ہوں سب کچھ ہو لیکن جب حق مظلوم واقع ہو رہا تو اس وقت اس کے سامنے نہیں جھکنا صرف حق کو مدنظر رکھنا ہے حق کا علم اور پرچم بلند رکھنا ہے اور کسی ظالم کے آگے نہیں جھکنا اور اسی کو ہم اس انداز سے بھی کہیں گے کہ مولا نے واضح سے فرمایا کہ
سیاست عین دیانت ہے سیاست دیانت سے جدا نہیں ہے۔
ایک چیز جو اس زمانے میں بھی ہو رہی تھیں اور اس کے بعد چلتی رہی اور آج تو ہر جگہ پہ وہ یہ ہے کہ مسلمان ممالک یہی کچھ سمجھتے ہیں کہ دین ایک اور چیز ہے مسجد ہے وہاں جائیں نماز پڑھیں سال میں روزے رکھیں اگر حج زیارت عمرے کی استطاعت حاصل ہو جائے تو وہ بھی کریں اس کے علاوہ کبھی کسی غریب کی مدد کر دیں بس یعنی یہ چند چیزوں میں دین کو منحصر رکھنا باقی جو روزمرہ کے اعمال ہیں جیسے گھر کے امور ہیں یا اگر کوئی شخص کسی کمپنی میں کسی ادارے میں بیٹھے ہیں اور وہاں کے جو مسائل ہیں یا اگر کوئی شخص گورنمنٹ کی ملازمت میں ہے حتیٰ جو حکومت سنبھال ہوئے ہیں وہ باقی چیزوں میں اپنی من مانی کرتے ہیں یا ان کے لئے انہوں نے ایک علیحدہ اصول اور ایک علیحدہ قوانین رکھے ہوئے ہیں جہاں اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اگر اسلام سے بھی کچھ لیا ہوئے ہیں تو عمل میں ہر کوئی اپنی مرضی کے مطابق چل رہے ہیں اپنی مرضی کے مطابق جہاں وہ قوانین پاس کرواتے ہیں ان میں ترمیم ہوتی ہے یعنی ایک گھر سے لے کر ایک بڑی مملکت تک جو کچھ بھی چل رہا ہے جتنے بھی ادارے ہیں جتنے بھی پروگرام ہیں جو کچھ بھی ہو رہے ہیں وہ لازم نہیں ہے وہ اسلام کے مطابق ہو ہوتے یہ سارے مسلمان ہیں اسلام اس وقت نظر آتا ہے جب یہ نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں جب یہ کوئی دینی عمل انجام دے رہے ہوتے ہیں چاہے وہ دن میں چند منٹ کے لیے اسلام ہوتا ہے باقی ان کی اپنی زندگی ہے اس میں بعض وقت کھلم کھلا نافرمانی بھی ہے ،حرام کام بھی ہو رہے ہوتے ہیں اور وہ عیب بھی نہیں سمجھے جاتے اور وہی شخص چند منٹ بعد جو ہے وہ نماز بھی پڑھ رہا ہوتا ہے اور بعد میں وہی کام وہی زندگی گھر میں بیٹھے ایک دوسرے کے ساتھ ظلم بھی کر رہے ہوتے ہیں ایک دوسرے کا حق بھی کھا رہے ہوتے ہیں ملاوٹ کا بازار گرم ہے لوٹ ہے رشوت ہے ہزار قسم کی اجتماعی فردی بیماریاں ساری اپنی جگہ ہوتی ہیں اور ساتھ اسلام بھی ہوتا ہے
یزید بھی یہی چاہتا تھا یعنی خلافت الراشدہ کے بعد یہ ساری چیزیں زیادہ نمایاں ہو گئیں یعنی حکومت اور سیاست اور یہ تمام چیزیں ایک علیحدہ چیز ہے۔
ایک اسلامی جو زندگی ہے یعنی چند ایک اعمال سے جو وابستہ زندگی ہے وہ ایک علیحدہ چیز ہے دین کو سیاست سے جدا کیا ہے امام اسی لئے اٹھے کہ دین اور سیاست ایک چیز ہے ہماری سیاست بھی دینی ہو میں چاہے گھر کا سربراہ ہوں یا ایک مملکت کا میرے تمام امور اسلامی ہوں میرا حکم دینا اسلام کے مطابق ہو اگر کوئی قانون پاس ہو رہا ہے وہ اسلام کے مطابق ہو ایک شخص کا اپنے ماتحت سے جو رویہ ہے وہ اسلام کے مطابق ہو اداری قوانین سارے اسلام کے مطابق ہوں کسی بھی شعبے کسی بھی ادارے حتی کوئی کمپنی کچھ بھی ہم دیکھیں باہر کی دنیا میں بازاروں میں دکانداروں کے رویوں میں گورنمنٹ کے ملازموں میں نجی کمپنیوں کے ملازموں میں افسر کا نیچے والے سے جو رویہ سب چیزوں میں ہمارے تمام تر رویے ایک گھریلو رویے سے لے کر ایک ادارے کے اعتبار سے رویے سے لے کر ایک حکومت کے ملازم کے اعتبار سے حتی حکومت کے سربراہ کے اعتبار سے تمام تر ہمارے رویے اسلامی ہونے چاہئے مولا یہ درس دے رہے تھے کہ آپ حکومت کو اور دین کو جدا نہ کریں کہ دین صرف یہ چند چیزوں کا نام ہے باقی میں جو مرضی کروں شراب پیو کھلم کھلا نافرمانی کروں
اور مسلمان خلیفہ بن کر بھی بیٹھا رہوں جس طرح آج کل ہم دیکھتے ہیں اکثر ہمارے مسلمان ممالک ایسے ہیں کہ جہاں مسلمان حاکم ہیں آبادی بھی مسلمانوں والی ہے قوانین انگریزوں کے مطابق بنے ہوئے ہیں اگر اسلام کے نام سے بھی بنے ہوئے ہیں لیکن ہر کوئی اپنی مرضی کے مطابق اجرا کر رہا ہے جہاں مفادات ہیں وہ قانون اجرا ہو رہا ہے ورنہ ترمیم کر کر کے قوانین کی شکل بھی بگاڑ دی جاتی ہے تو یہ جو زندگی ہے یہ دیانت جدا ہے سیاست جدا ہے۔
امام جو ہیں وہ فرما رہے ہیں کہ میں اپنے نانا کی سیرت پر چلوں گا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مدینہ کی حکومت قائم کی تھی وہاں سیاست عین دیانت تھی میں اپنے بابا کی سیرت پر چلوں گا مولا علی علیہ السلام نے کوفہ میں جس حکومت کا آغاز کیا تھا وہ سیاست عین دیانت تھی امام کا بعنوان حاکم ہر ہر عمل عین دین تھا کوئی چیز دین سے خالی نہیں تھی۔
روایت
یہ امالی شیخ طوسی علیہ الرحمہ اسی طرح بحار الانوار میں موجود ہے چھٹے مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی ایسے حاکم کی اتباع کرے جس سے اللہ نے منصوب نہ کیا ہو جیسے عام طور پر ہم دیکھتے ہیں دنیا میں اور وہ شخص چاہے اپنی فردی زندگی میں کتنا ہی دیندار کیوں نہ ہو اللہ اسے عذاب کرے گا اور اگر کوئی شخص کسی ایسے شخص کی اتباع کر رہا ہے جس سے اللہ نے منصوب کیا ہے یعنی اس کا امام اس کا حاکم خدا کا منصوب کردہ ہے اب اگر وہ اپنی زندگی میں گناہگار بھی ہوگا تو پھر بھی پروردگار اسے سزا نہیں دے گا اسے بخش دے گا کیونکہ اس نے اجتماعی طور پر بلاخر ایک اللہ کے منصوب کردہ شخص کی اتباع کی ہے ظاہر ہے جب اس کی اتباع کیا تو اس کے اندر اچھائیاں بھی ہیں اب اگر کوئی برائیاں بھی ہو گئی ہیں کوئی گناہ بھی ہو گئیں ہیں تو اسے اللہ تعالیٰ بخش دے گا اور اس کے بعد معصوم فرماتے ہیں
کہ وہ جنہوں نے ایک ظالم کی یعنی خدا کی طرف سے جو منصوب نہیں تھا اس کی اطاعت کی تھی اور اسے اپنا حاکم بنایا تھا تو اس کے ظلم اور اس کے خدا کو غضبناک کرنے والے کام جو ہیں اس کے شخصی جو نیکیاں ہیں فردی اعتبار سے جو وہ بہت نیک اور صالح تھا ان سب کو ضائع کر دیں گے اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے منتخب کردہ کو اپنا حاکم بنایا اور اس کے پیچھے چلے تو اس حاکم اور اس امام کے جو بڑے بڑے الہی کام تھے وہ ان کی زندگیوں میں اگر کوئی گناہ ہوں گے تو وہ ان کو بھی ڈھانپ لیں گے کیونکہ انہوں نے بالآخر تقویت بخشی ہے استحکام دیا ہے وہ اللہ کے مقرر کردہ شخص کو دیا ہے یہ ہے فلسفہ۔
تو پس انسان کے لئے جو سب سے پہلا مرحلہ ہے* وہ یہ ہے کہ میں نے کس کو اپنے لئے حاکم بنانا ہے کس کو اپنے اوپر اختیار دینا ہے کس کے مطابق چلنا ہے؟
اول تو ہمیں نیک بننا چاہیے اور صاحبِ تقویٰ ہونا چاہیے لیکن اگر کوئی گناہ بھی ہو گئے ہیں اور نہیں ہونے چاہیے ان کی توبہ ہو پھر بھی یہ جو ہم نے استحکام دیا ہے اللہ کے بنائے ہوئے لوگوں کو تو یہ باعث بنے گا کہ ان کا بھی کفارہ ہو جائے گا تو انسان کے لئے جو پہلا مرحلہ ہے وہ یہ ہے کہ اپنے لئے جس کو حاکم بنانا ہے وہ الہی شخص ہو اور یہی وہ لوگ ہیں جو نجات پائیں گے
حدیث
یہ جو مشہور حدیث ہے شیعہ سنی کتابوں میں اس میں واضح طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
یہودیوں کے 71 فرقے ہوئے تھے جن میں سے ایک نے نجات پانی ہے اور باقی ستر جو ہیں وہ ہلاک ہوں گے اور مسیحوں کے عیسائیوں کے بہتر فرقے ہوئے جن میں سے ایک نے نجات پانی ہے اور اکہتر جو ہیں وہ جہنم میں جائیں گے اور مسلمانوں کے فرمایا تہتر فرقے ہوں گے اس میں ایک نے نجات پانی ہے اور باقی سب جو ہیں وہ جہنم میں جائیں گے اور وہ کونسا ہوگا تو وہ کونسا ہونا چاہیے اب یہاں محمد وال محمد کے فرامین ہیں۔
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے منتخب کردہ کو اپنا حاکم مانا اور اس کے مطابق چلے اور اس کے لئے کوشش کرتے رہیں
جیسے ابھی بھی ہم سب کا فریضہ ہے کہ آخری جو اللہ کی طرف سے حاکم ہے اور اس وقت موجود بھی ہیں امام مہدی علیہ السلام ان کے لئے کوشش کریں ان کی حکومت کے لئے ان کے ظہور کے لئے ان کے قیام کے لئے اس راہ میں رہیں اگر ہماری زندگی میں ظہور ہو جائے تو نور اللہ نور لیکن اگر ظہور نہ بھی ہوا تو ہم ان کی حکومت کے لئے ان کے اقتدار کے لئے وہ پیش خیمہ فراہم کرنے کے لئے راہ ہموار کرنے کے لئے ہم کوشش کرتے کرتے دنیا سے گئے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں سے منسلک رکھے گا کہ جو ایک الہی حاکم کی اتباع میں دنیا سے گئے ہیں اور یہی ہماری جو ہے وہ انشاء اللہ بخششں کا ذریعہ قرار پائے گا۔
پروردگار ہم سب کو زمانے کی حجت سے متمسک ہونے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین۔
جاری ہے ۔۔۔
عالمی مرکز مہدویت _قم