السّلام عَلیَ الحُسَین (ع)
وعَلی عَلِِِّیِ ابن الحُسَین (ع)
وعَلی اوْلادِ الحُسَین (ع)
و عَلی اَصحابِ الحُسَین (ع)
زیارت اربعین
نواں درس
شیعہ عقائد کا اظہار
اور آل محمد پر صلوات کا مطلب
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
زیارت اربعین کی تشریح
شیعہ عقیدہ کا اظہار
امام صادق علیہ السلام آخر میں سب سے پہلے ایک شیعہ عقیدہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایک شیعہ کا عقیدہ یہی ہونا چاہئے
حجت خدا کے مدمقابل۔
فرماتے ہیں کہ:
وَٲَشْھَدُ ٲَنِّیْ بِكُمْ مُؤْمِنٌ وَبِاِیَابِكُمْ
مُوْقِنٌ بِشَرَائِعِ دِیْنِیْ وَخَوَاتِیْمِ عَمَلِیْ
میں گواہی دیتا ہوں کہ میں آپ پر اور آپ کی رجعت پر یقین رکھتا ہوں۔
کیونکہ امام حسین علیہ السلام رجعت فرمائیں گے اور رجعت کرنے والوں میں سے پہلی ہستی خود امام حسین علیہ السلام ہوں گے۔
رجعت پر ہمارے پاس احادیث اور روایات ہیں کہ
اول من یرجع الحسین ابن علی
پہلی ہستی جو قبر سے اٹھیں گے اور امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ ظہور میں اللہ انہیں زندہ کرے گا اور دوبارہ دنیا کی طرف پلٹائے گا وہ امام حسین علیہ السلام ہوں گے ۔
البتہ اور بھی ہستیاں ہوں گی جیسے شہداء کربلا یہ بھی زندہ ہوں گے اسی طرح ہمارے باقی آئمہ اور حتیٰ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پچھلی امتوں سے بھی لوگ صالحین جیسے مومن آل فرعون کا ذکر ہے ، اصحاب کہف کا ذکر ہے حضرت موسیٰ کی قوم سے ستر صالحین کا ذکر ہے، بہت سارے لوگ حتیٰ ہم میں سے وہ لوگ جو زمانہ ظہور کی آرزو رکھتے ہیں کہ اس زمانے کو پائیں اگر دنیا سے چلے بھی گئے تو اللہ ہم کو بھی یہ موقع دے گا انشاء اللہ۔
تو یہاں سب سے پہلے عقیدہ رجعت اور امام حسین علیہ السلام کی رجعت پر ایک مومن کو جس طرح اپنے عقیدے کا اظہار کرنا چاہئے اس کی طرف امام صادق علیہ السلام اشارہ فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میں آپ پر اور آپ کی رجعت پر یقین رکھتا ہوں اور اپنے کاموں میں آپ کے احکام کے مطابق عمل کروں گا اس کی میں گواہی دیتا ہوں۔
وَقَلْبِیْ لِقَلْبِكُمْ سِلْمٌ
میرا دل آپ کی دل سے جڑا ہوا ہے۔
اور حقیقت میں ایک شیعہ کا دل اپنے آئمہ سے اور بالخصوص زمانے کے امام سے اسی طرح جڑا ہوا ہوتا ہے اس لئے تو ان کے غموں میں غمگین اور ان کی خوشیوں میں خوش ہوتا ہے۔
وَٲَمْرِیْ لِاَمْرِكُمْ مُتَّبِعٌ
وَنُصْرَتِیْ لَكُمْ مُعَدَّۃٌ
حَتّٰی یَٲْذَنَ ﷲُ لَكُمْ
میں اپنے کاموں میں آپ کے احکام کے مطابق چلوں گا ان کا پیروکار ہوں اور آپ کی نصرت مدد کیلئے ہمیشہ آمادہ ہوں یہاں تک کہ پروردگار اذنِ ظہور دے۔
فَمَعَكُمْ مَعَكُمْ، لَا مَعَ عَدُّوِكُمْ
ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں کبھی بھی آپ کے دشمنوں کا ساتھ نہیں دوں گا۔
یہاں مومن سب سے پہلے تو اپنے عقیدے کا اظہار کرتا ہے اور دوسرے مرحلے میں امامِ قائم کی نصرت کا اعلان کرتا ہے اور ان کے ظہور کا انتظار ہے اسے بیان کر رہا ہے۔
عقیدے کے اظہار کی اہمیت
یہاں ایک چیز جو واضح کریں گے کہ عقیدے کا اظہار کی کتنی اہمیت ہے مفاتیح الجنان میں ایک دعا ہے یا ایک ذکر ہے جس کے بارے میں حکم ہے کہ اسے اپنی نمازوں کے بعد تلاوت کرنا چاہئے بالخصوص یومیہ نمازوں کے بعد کہ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہےکہ اگر کسی کا ایمان ناقص ہے تو وہ کامل ہو جاتا ہے تاکہ اگر کسی پر لحظہ موت آجاۓ جیسے کہ اس کا ٹائم مقرر ہے تو وہ کامل ایمان کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو اور وہ ذکر یا وہ دعا کونسی ہے۔
یہ جو ذکر ہے یہ خود رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے اس سے پہلے کہ یہ ذکر آپ کی خدمت میں تلاوت کریں، امامِ صادق علیہ السلام کا فرمان اس ذکر کے حوالے سےکہ کسی راوی نے چھٹے مولا کے خدمت میں عرض کیا کہ آپ کے شیعہ یہ کہتے ہیں کہ ایمان کی دو قسمیں ہیں:
. ایک ایمان مستقر ہے یعنی ہمیشہ جو محکم ترین ایمان ہے جس میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔
. ایک ایمان امانت والی شکل میں ہوتا ہے اور کبھی کبھی وہ زائل بھی ہو جاتا ہے جیسے امانت ہاتھ سے نکل جاتی ہے تو مجھے ایک ایسی دعا کی تعلیم دیں کہ میں جب بھی اس سے پڑھوں تو میرا ایمان جو ہے وہ کامل ہو تو امام صادق علیہ السلام نے پھر اسی دعا کی تعلیم دی اور فرمایا یہ وہ دعا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوئی اب یہ دعا مشہور ہے اور آپ سب یقیناً اس کی تلاوت کرتے ہیں یہاں سے شروع ہوتی ہے۔
رَضِیتُ بِاللهِ رَبّاً وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ نَبِیّاً وَبِالْاِسْلامِ دِیناً با القرآن کتابا بالکعبۃ قبلۃ وَبِعَلِیٍّ ولی إمَاماً وَبِالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ وَعَلِي بْنِ الْحُسَنِ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِی وَجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ وَمُوسَى بْنَ جَعْفَرِ وَعَلِی بْنِ مُوسَى وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِی وَعَلِی بْنِ مُحَمَّدِ وَبِالْحَسَنِ بْنِ عَلِی وَالْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ صلْوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَعِمَّةً اللَّهُمَّ إِنِّي رَضِیتُ بِهِمْ أَئمَّةً فَرْضنِي لَهُمْ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٍ
یہ دعا مفاتیح الجنان میں بھی موجود ہے البتہ اس کا جو مضمون ہے اس میں تھوڑا سا فرق ہے بعض ہماری دعاوں کی کتابوں میں تھوڑا سا فرق کے ساتھ بیان ہوا کوئی مسئلہ نہیں جس طرح کبھی آپ کو ملے آپ اسے ہر نماز کے بعد تلاوت کریں۔
دعا کا فائدہ
اس کا ایک اہم ترین جو فائدہ ہے کہ انسان جب بھی دنیا سے جائے گا تو کامل ایمان کے ساتھ جائے گا۔
آل محمد پر صلوات کا مطلب
اس کے بعد اسی زیارت کا آخری حصہ جس میں اہلِ بیت علیہ السلام پر صلوات کا ذکر ہے امامِ صادق علیہ السلام اس انداز سے زیارت اربعین کے آخر میں صلوات کا ذکر کرتے ہیں اور اس زیارت کو ختم فرماتے ہیں فرماتے ہیں کہ:
صَلَوَاتُ ﷲِ عَلَیْكُمْ
وَعَلٰی ٲَرْوَاحِكُمْ وَٲَجْسَادِكُمْ
وَشَاھِدِكُمْ وَغَائِبِكُمْ
وَظَاھِرِكُمْ وَبَاطِنِكُمْ
اٰمِیْنَ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ
اللہ تعالیٰ کی صلوات ہو آپ پر، آپ کی مقدس ارواح پر ،آپ کے پاکیزہ اجسام پر ،آپ کے حاضر پر، آپ کے غائب پر ،آپ کے آشکار ہوئے پر اور آپ کے جو پنہاں ہیں اُس پر آمین یا رب العالمین۔
اب یہاں جو ہے وہ محمد و آلِ محمد پر صلوات بھیجنے کا ذکر ہوا یہاں ایک سوال ہوتا ہے کہ محمد و آلِ محمد پر جب ہم صلوات بھیجتے ہیں تو اس سے مراد کیا ہے؟؟
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئكَتَه یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ، یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا
قرآنِ مجید میں سورہ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے دونوں طرح کی صلوات بھیجی ایک خود پیغمبرِ اسلام پر اور مومنین پر اللہ کی طرف سے اور اس کے فرشتوں کی طرف سے جو صلوات ہے یہ درحقیقت رحمتِ پروردگار ہے اور رحمت جو ہے وہ نورانیت پیدا کرتی ہے۔
مومنین یا عام لوگوں پر نورانیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جو ہے انہیں گناہوں کی ظلمات سے نکال کر توبہ اور اعمالِ صالح کی نورانیت میں لاتا ہےلیکن محمد و آلِ محمد تو پہلے ہی نورانی پیکر ہیں اور وہ اللہ کی اطاعت میں کمال تک پہنچے ہیں اور اللہ کے قرب میں ہیں تو وہاں اس سے مراد کیا ہے؟؟
اب یہاں مختلف روایات کو اگر دیکھا جائے تو اس سے یہ نظر آتا ہے کہ ان پر رحمت بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ذریعے پھر دوسرے لوگوں پر جو عام لوگ ہیں یا جو ان کی امت ہے ان پر رحمت آتی ہے یعنی وہ اللہ سے رحمت لے کر پھر وہ رحمت کا فیض آگے منتقل کرتے ہیں چونکہ وہ خود ہی نورانی ہیں جیسا کہ پروردگار فرماتا ہے:
وَ جَعَلْنا لَهُ نُوراً یَمْشی بِهِ فِی النّاسِ
وہ تو چلتے پھرتے نور ہیں یہ ہستیاں جو لوگوں میں نور پھیلاتے ہیں لوگوں کو جگاتے ہیں لوگوں کو گناہوں سے نکالتے ہیں تاریکیوں سے نکالتے ہیں بلکہ خود آئمہ علیہ السلام سے نقل ہوا:
بَلْ قُلُوبُنَا اوِعيَّةٌ لِمَشِيَةِ اللَّهِ
ہمارے جو دل ہیں وہ تو اللہ کے ارادے کے ظرف ہیں۔
یعنی ہم پروردگار کی رحمتوں میں اس کی مشیت میں غرق ہیں ہم وہ ہی کرتے ہیں جو اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے جو وہ ارادہ کرتا ہےاس لئے ہم دیکھتے ہیں صاحبہ تفسیر میزان علامہ طباطبائی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
محمد والے محمد پر صلوات بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ پروردگار ان پر اپنی رحمتیں بھیجتا ہے تاکہ ان کے ذریعے ان کی امتوں تک وہ رحمتیں منتقل ہوں یعنی وہ الہی رحمتوں کا مجری فیض ہوتے ہیں ان کے ذریعے فیض آگے منتقل ہوتا ہے جس طرح وہ ہدایت آگے منتقل کر رہے ہیں جس طرح وہ اللہ کے علوم کو آگے منتقل کر رہے ہیں خدا کے پیغامات کو آگے منتقل کر رہے ہیں اس کی رحمت بھی آگے منتقل کرتے ہیں۔
یہ رحمت ہوتی کیا ہے ؟؟
یہ اجابت دعا ہے کہ امت جب دعا مانتی ہے تو اسی رحمت کے صدقے جو ہے ہماری احادیث اور روایات میں بارہا کہا گیا ہے کہاپنی دعاؤں کو محمد والی محمد کی صلوات کے ساتھ بھیجا کریں یہ صلوات باعث بنے گی کہ وہ دعا اجابت کے مقام تک پہنچے گی،اس لئے ہمارے ہاں معمولاً دعا سے پہلے یا بعد میں یا ہمیشہ پہلے اور بعد میں صلوات ہوتی ہے تو یہ صلوات کے اندر جو ہم رحمت اللہ تعالیٰ کی مانگتے ہیں محمد والی محمد اور ان کے ذریعے جو ہم تک پہنچتی ہے وہ در حقیقت ہماری دعاؤں کی اجابت ہے اور ان کا مستجاب ہونا ہے اور یہ حقیقتاً انہیں کا مقام ہے کہ اللہ ان پر رحمتیں نازل کرے اور یہ بھی پروردگار کے عالی ترین مقامات کو پائیں اور ان کے ذریعے امت پروردگار کے قرب میں عالی ترین مقام تک پہنچے ان کے زیرے سایہ آمین ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم زمانے کی حجت کے زیرے سایہ پروردگار کے قرب کو حاصل کریں اور ان عالی ترین مراتب تک پہنچیں جو پروردگار نے انسانوں کے لئے رکھے ہوئے ہیں خدا یا بحق محمد والی محمد ہمیں ان تمام مراتب تک پہنچنے کی توفیق عطا فرمایا آمین۔
زیارت اربعین کے تشریح کے حوالے سے جو کچھ کوشش کی اور پروردگار کے ہم بے پناہ شکر گزار ہیں کہ یہ توفیق ملی انشاءاللہ ہمارے اور آپ کے لئے یہ بہت ساری توفیقات کا باعث بنے الٰہی آمین اور پروردگار ہمارا یہ عمل اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے آمین۔
والسلام۔
عالمی مرکز مہدویت_ قم