السّلام عَلیَ الحُسَین (ع)
وعَلی عَلِِیِ ابن الحُسَین (ع)
وعَلی اوْلادِ الحُسَین (ع)
و عَلی اَصحابِ الحُسَین (ع
زیارت اربعین
تیسرا درس
. زیارت اربعین کی تشریح
. قیام امام حسین علیہ السلام کا مقصد
. یزید لعین کے دور کی بدعات
. بنی امیہ بالخصوص یزید کے وکیل غامدی کو جواب
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
زیارت اربعین کی تشریح
ہم زیارت اربعین کی تشریح میں اس حصے پر پہنچے کہ
وَبَذَلَ مُهْجَتَهُ فِيكَ
اورتیری خاطراپنی جان قربان کی
لِيَسْتَنْقِذَ عِبَادَكَ مِنَ ٱلْجَهَالَةِ
تاکہ تیرے بندوں کو نجات دلائیں
وَحَيْرَةِ ٱلضَّلاَلَةِ
نادانی وگمرا ہی کی پریشانیوں سے
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں
کہ ہمارے جدا امجد سید الشہداء علیہ السلام نے اپنی جان تیری رہ میں فدا کی،تاکہ تیرے بندوں کو جہالت گمراہی سرگردانی سے نجات دے۔
قیام امام حسین علیہ السلام کا مقصد
زیارتی اربعین کا یہ حصہ اس حوالے سے بڑا اہم ہے کہ اس میں امام حسین علیہ السلام کے قیام کا ہدف بیان ہوا ہے یہ بتایا گیا ہے کہ امام نے یہ قیام کیوں کیا ان کا کیا ہدف ہے اور اس کے قیام کے لیے مولا نے اللہ کی راہ میں کیا دیا ہے؟
وہ جو چیز اللہ کی راہ میں دی وہ محجہ ہے
محجہ سے مراد
ہمارے بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہاں مراد خون ہے، اسی طرح بعض کہتے ہیں کہ یہ خون دل ہے، اور بعض کہتے مراد جان ہے یعنی انسان کے وجود کا قیمتی ترین جو حصہ ہے، وہی اس کی جان ہے وہی اس کے دل کا خون ہے جو انہوں نے اللہ کی راہ میں دیا کہ انسانوں کو گمراہی سے انسانوں کو بدعتوں سے جہالتوں سے بچایا جائے ۔
امام حسین علیہ السلام نے قیام سے پہلے اپنے بھائی محمد حنفیہ کو جو خط لکھا تھا اس میں بھی اپنے قیام کا ہدف بیان فرمایا وہ یہی تھا
فرماتے ہیں کہ میں اپنے نانا کے دین کی اصلاح کے لئے نکلا ہوں اور میں چاہتا ہوں کے امرباالمعروف کروں اور نہی عن المنکر کروں۔
دین کی اصلاح سے مراد یہاں یہ ہے کہ اس زمانے میں جو اہل دین جن بدعتوں میں مبتلا ہو گئے تھے۔
بدعت سے مراد
یعنی دین کے اندر نئے نئے طریقے نئی نئی چیزیں کہ جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ جو تعریف کی گئی بدعت کی یعنی ہر وہ چیز جو دین میں پہلے بیان نہیں ہوئی یعنی خدا اور رسول اسی طرح محمد وال محمد، ان کی طرف سے کوئی چیز جو دین میں پہلے بیان نہیں ہوئی اور کوئی شخص اسے اپنی طرف سے اختراع کرے اور دین میں ڈال دے اور پھر کہیں کہ اس کو کرنے کا ثواب ہوتا ہے تو وہ بدعت ہے۔
یزید لعین کے دور کی بدعات
اس زمانے میں بہت ساری چیزے دین میں ڈالی گئی تھی۔ یعنی دوسر لفظوں میں وہ چیزیں جو اب کو کسی کو بری نہیں لگ رہی تھی۔ حالانکہ وہ حرام تھی، اللہ کو غضب ناک کر رہیں تھیں
اس زمانے میں بنی امیہ کا جب دور شروع ہوا امیر شام اور بلخصوص یزید لعین کا جب دور شروع ہوا اس زمانے میں جو چیز دیکھی جا رہی تھی وہ یہ تھی کہ شراب عام ہو چکی تھی۔
اب یعنی کسی کو شراب بری نہیں لگ رہی تھی اس لیے کہ وہ شخص جو تخت پہ بیٹھا تھا کھلم کھلا شراب پی رہا تھا تخت پر بیٹھنے سے پہلے شراب پی رہا تھا اور اب تخت پر بیٹھ کر وہ جب شراب کھلم کھلا پی رہا تھا یعنی دوسرےلفظوں میں لوگوں کو ہوا دے رہا تھا کہ آپ بھی یہ کام کریں۔ اب کوئی روکنے والا نہیں تھا
چونکہ سلطنت کا مالک جو ہے وہ کھلم کھلا شراب پی رہا ہے، کھلم کھلا جوا کھیل رہا ہے، کھلم کھلا محارم سے زنا ہو رہا ہے، کھلم کھلا برائی ہو رہی تھے۔ یعنی اسلامی معاشرہ جو ہے ایک کافر معاشرے کی شکل اختیار کر چکا تھا۔
جہاں بظاہر دینی چیزیں تھیں مسجدیں تھیں، نماز جماعت تھیں لیکن ان مسجدوں کے اندر نمازیوں کی تعداد کم تھی نماز جماعت کے لیے جو امام تھے ان کے اندر شرائط نہیں تھیں کہ وہ عادل ہوں وہ اس کے اہل ہوں جہاں کھلم کھلا خلاف حق فتوے دیے جا رہے ہوں قاضی شریح جیسے لوگ بیٹھے ہوں اور جو اپنے اوپر جو حکام ہیں یا حاکم وقت ہیں ان کی مرضی کے فتوے دے رہے ہوں لوگوں کے اندر بے پردگی بے حیائی عام ہو چکی تھی رشوت عام ہو چکی تھی رباخواری عام ہو چکی تھی
اس زمانے کا اگر تاریخی اعتبار سے اور احادیث میں نقشہ دیکھیں اور حالات دیکھیں انسان حیران ہو جاتا ہے
کہتے ہیں مدینہ سے ایک جماعت اصحاب کی وہ دمشق میں گئی کہ نزدیک سے ہم اس حاکم وقت کو جو جدید حاکم اور اپنے آپ کو خلیفہ رسول کہہ رہا ہے ذرا دیکھیں تو سہی یہ کرتا کیا ہے اور جب کچھ عرصہ وہ رہے اور جب واپس آئے تو انہوں نے کہا کہ شاید ہم پر اب خدا کا عذاب نازل ہوگا کھلم کھلا برائی ہو رہی ہے خود وہ شخص جو بنام خلیفہ رسول ہے وہ کھلم کھلا برائی کر رہا ہے محارم سے زنا کر رہا ہے کھلم کھلا وہ قمار ہے جوا ہے شراب خوری ہے تو جب یہ چیزیں معاشرے میں عام تھیں
اور اس کے بعد پھر اگلا مرحلہ جو اس سے زیادہ سخت تھا وہ دین کو محو کرنے کی کوششیں شروع ہو گئیں یزید شراب کے نشے میں وہ ایسے کفریہ شعر پڑھتا تھا جس میں وہ دین کی نفی کرتا تھا کہتا تھا یہ بنی ھاشم کا کھیل ہے کوئی وحی نہیں آئی کوئی قرآن نہیں آیا۔
اب لازم ہو چکا تھا کہ امام حسین علیہ السلام اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لئے نکلیں کیونکہ امت بیمار ہو چکی تھی یزید جیسے لوگ حاکم بن چکے تھے یہاں امت کی اصلاح ہونی چاہیئے تھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں مولا نے کہا کہ میں یزید کے خلاف اٹھوں کیونکہ اگر وہ یزید کے خلاف اٹھتے مثلا یزید مارا جاتا تو یہی امت اسی طرح کا ایک اور حاکم لے آتی اصل میں امت کی اصلاح ضروری تھی امت کی آنکھیں کھولنی ضروری تھی امت کو سرگردانی سے بچانا تھا امام اپنی شہادت سے اپنا خون دل دے کر لوگوں کو بصیرت دے گئےلوگوں کو اگاہی دے گئے کہ ہم کیا ہیں ہمارا دین کیا ہے اور کیسے لوگ ہم پہ حاکم ہیں۔
بنی امیہ بالخصوص یزید کے وکیل غامدی کو جواب
مجھے حیرانگی ہے کہ ہمارے پاکستان کے اندر ایک دانشور بظاہر جو اپنے آپ کو بہت بڑا اسلامی سکالر کہتے ہیں جناب غامدی صاحب پچھلے دنوں ان کا ایک کلپ آیا جس میں وہ یزید کی حکومت کا دفاع کر رہے تھے اور امیر شام کو حق دے رہے تھے کہ اس طرح کی شخصیت کو جو کھلم کھلا برائیاں کر رہے ہیں اس کو اسلامی مملکت کا حاکم بنائیں خلیفہ الرسول بنائیں اور امام حسین علیہ السلام کے قیام کی نفی کر رہے تھے اور نعوذ باللہ ان کے قیام کی مخالفت اور حکومت یزید کی تائید میں۔۔۔
تو پہلے یہی دعا کروں گا اللہ ان کو یزید کے لشکر میں محشور کرے قیامت والے دن جن کے دلوں میں اتنی بصیرت بھی نہیں ہے اتنی نورانیت بھی نہیں ہے کہ فرزند الرسول کے قیام کو سمجھیں اس قیام کی وجہ کو سمجھیں
جن کے بارے میں پیغمبر اسلام فرما گئے تھے
کہ یہ بیٹھے ہوں یا کھڑے ہوں یہ امام ہیں ان کی امامت تو من اللہ ہے لیکن اب پتہ نہیں وہ کس قسم کے لقمے کھا رہے ہیں کہ انہیں بنی امیہ اور بالخصوص یزید میں حاکمیت نظر آ رہی ہے اور اس کے لئے وہ باقاعدہ دلیل دیتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا اس طرح کے شخص کو حاکم بنانے کا!!
جہاں اصحابِ رسول اور ان کی پاکیزہ اولادیں اور بالخصوص امام حسین علیہ السلام جیسے فرزندِ رسول جو کہ جنت کے جوانوں کے سردار اور جن کو امام ہمارے پیغمبر اپنی زندگی میں فرما گئے تھے ان کے ہوتے ہوئے یعنی حتمی ضروری تھا کہ امیر شام ہر صورت میں یزید کو حاکم بنائے؟!
اور پھر ایک معاہدہ ہوا تھا مجبوری کی صلح تھی صلح حدیبیہ جیسی ایک صلح تھی اس معاہدے کے رو سے انہیں حق نہیں تھا کہ اپنی اولاد میں کسی کو حاکم بنانے کا اور انہوں نے کھلم کھلا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے جو معاہدہ کیا تھا اس کے خلاف ورزی کر رہے تھے پھر بھی امیر شام کو حق دے رہے تھے اور یزید کی حکومت کی تائید غامدی صاحب جیسے شخص جو اللہ رسول کا نام لے رہے ہیں!!
اب پتہ چل رہا ہیں کہ ان لوگوں کو کہاں سے امدادیں آرہی ہیں اور کیوں یہ پھل پھول رہے ہیں اور اس طرح کے عناصر ہمارے پاکستان میں کیوں بڑھ رہے ہیں کیوں لوگوں کی آنکھیں بند ہو رہی ہیں کیوں حقائق سے یہ غافل ہو رہے ہیں؟!
تاریخ موجود ہے احادیث موجود ہیں روایات موجود ہیں۔
انسان مطالعہ کرے تحقیق کرے دونوں طرف کو دیکھے ایک غیر مسلم مستشرق حقائق کو سمجھ رہے ہیں اور جو اسلامی کتابیں لکھتا اور سکالر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس کی آنکھیں اتنی بند ہیں اور یہاں سے سمجھ آرہا ہے کہ قرآن مجید جو کہتا ہےکہ کچھ لوگوں کی آنکھوں پر پردہ ہے کچھ لوگوں کی دلوں پر مہر ہے
ہو سکتا ہے وہ پیغمبر کی صحبت میں بیٹھا ہو لیکن دلوں پر مہر ہے اور دلوں پر مہر ہونے کا مطلب ہے کہ حق اپنی تمام تر نورانیت کے ساتھ اس کو نظر نہیں آرہا ہے وہ دنیا میں ہی اندھا ہو چکا ہے اور ان سارے اندھوں کو اللہ یزید کے لشکر میں محشور کرے انشاءاللہ
تاکہ انہیں پتا چلے کہ وہ ساری زندگی کس کی وکالت کرتے رہے ہیں کس طرح کا مال کھا رہے ہیں یہ پتہ نہیں کہاں سے کھا رہے ہیں کون انہیں دے رہا ہے کہ جن کے منہ سے بنی امیہ بالخصوص یزید کی محبت میں جملے نکل رہے ہیں اور عداوت اہل بیت اور سید الشہداء امام حسین علیہ السلام جیسی شخصیت کی نفی اور ان کے قیام کی نفی نعوذ باللہ ( خدا پناہ دے ایسے لوگوں سے)منحرف اور گمراہ افکار سے۔
پس مولا نے یہاں واضح سے فرمایا کہ میرا قیام کس لئے تھا اور میں کیا کرنا چاہتا ہوں
اللہ تعالی ہمیں توفیق دے کہ ہماری زندگی اسی طرح حسینی قرار پائے جس طرح امام نے اپنے قیام کے اہداف بیان کیے اور ہم اسی سلسلے کو آگے لے چلیں تاکہ بالاخر اس قیام کا جو سرمایہ ہے یعنی امام مہدی علیہ السلام وہ ظہور فرمائیں اور وہاں یہ قیام اپنے عروج کو پہنچے اور دنیا جو ہے مشرق و مغرب پر اسی حقیقی اسلام جو بدعتوں سے پاک اسلام ہے اس کو نافذ ہوتا دیکھے الٰہی آمین انشاء اللہ
جاری ہے ۔۔۔
عالمی مرکز مہدویت_ قم