السّلام عَلیَ الحُسَین (ع)
وعَلی عَلِِِّیِ ابن الحُسَین (ع)
وعَلی اوْلادِ الحُسَین (ع)
و عَلی اَصحابِ الحُسَین (ع)
زیارت اربعین کی تشریح
آٹھواں درس
امام حسین علیہ السلام کی نسل سے آئمہ کی صفات
عصمت ، اور حجت کی وضاحت
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
ہم زیارت اربعین کے اس مرحلے میں پہ پہنچے کہ جہاں امام صادق علیہ السلام اپنے جد امجد کی بارگاہ میں یہ فرماتے ہیں:
وَٲَشْھَدُ ٲَنَّ الْاَئِمَّۃَ مِنْ وُلْدِكَ كَلِمَۃُ التَّقْوٰی
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ جو امام آپ کی اولاد میں سے ہیں وہ پرہیزگاری کے ترجمان
وَٲَعْلَامُ الْھُدٰی وَالْعُرْوَۃُ الْوُثْقٰی
ہدایت کے نشان، محکم تر سلسلہ
وَالْحُجَّۃُ عَلٰی ٲَھْلِ الدُّنْیَا
اور دنیا والوں پر خدا کی دلیل و حجت ہیں
امام حسین علیہ السلام کی نسل سے آئمہ علیہم السلام کی صفات
یہاں امام حسین علیہ السلام کی نسل سے آنے والے تمام آئمہ علیہ السلام کی صفات عالیہ کو بیان کیا جارہا ہیں ہماری احادیث میں آیا ہےاور بالخصوص امام صادق علیہ السلام کے فرمان میں یہ بات نقل ہےکہ اللہ تعالیٰ نے امام حسین علیہ السلام کو اس عظیم قربانی کے صلہ میں دنیا میں جو اجر دیا وہ یہ کہ پروردگار نے ان کی نسل میں امامت کا سلسلہ رکھا یعنی باقی نو امام سیدالشہداء کی نسل مبارک میں قرار پائے۔
امام صادق علیہ السلام جو ہیں امام حسین علیہ السلام کی نسل مبارک میں آنے والے آئمہ کی صفات بیان کر رہے ہیں۔
پہلی صفت
یہ سارے کے سارے کلمۃ تقوی ہے تقوی کا معنی ہم سب جانتے ہیں کہ جس میں پروردگار کی مکمل فرما برداری ہے اور اللہ کی نافرمانی سے مکمل پرہیز ہے، تو تقوی کا حقیقی اور کامل ترین اگر معنی یا مصداق ہم نے دیکھنا ہےتو وہ خود ہمارے آئمہِ معصومین علیہ السلام ہیں تو لہذا ان کی سب سے پہلی جو صفت ہے وہ یہی ہے کہ وہ سب صاحبانِ تقوی ہیں بلکہ کامل ترین تقوی جسے ہم عصمت سے تعبیر کرتے ہیں۔
اور یہ ہمارا شیعہ عقیدہ ہے کہ ہم انبیاء کی طرح اپنے آئمہ کو معصوم مانتے ہیں یعنی ذرا سی خطا یا گناہ حتی بھول چوک بھی ان کے لئے روا قرار نہیں دیتے وہ ان تمام چیزوں سے پاک اور منزہ ہیں یہ شیعہ مکتب کی عظمت ہے کہ جن ہستیوں کو اپنا امام مانتا ہےان کے لئے پہلی صفت جو ہے وہ عصمت قرار دیتا ہےکہ وہ ہر طرح کی خطا سے پاک ہوں کیونکہ وہ ہی امام حقیقی معنوں میں ہادی بن سکتا ہے کہ جو خود ہر طرح کی خطا سے پاک ہو وہ ہی امت کو صحیح معنوں میں ہدایت دے سکتا ہےجس کے اندر خود خطا ہو لرزش ہو بھول چوک ہو تو اس کو تو خود ہدایت کی ضرورت ہے وہ کیسے دوسروں کو ہدایت دے سکتا ہے۔
اس لئے شیعہ مکتب کی عظمت اور حقانیت یہ ہے کہ یہ اپنے لئے امام کو اس مقام تک دیکھتے ہیں جو ہر طرح کی خطا لرزش ،گمراہی ،عیب، نقص حتی بھول چوک سے بھی پاک ہونا چاہیے۔
عصمت اور حجت کی وضاحت
عصمت کا جو عقیدہ ہے ہمارے آئمہ علیہ السلام کے بارے میں ایسے ہی ہم نے خود گھڑا نہیں ہے جس طرح کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں نہیں بلکہ اس پر قرآنی دلائل ہیں اور احادیث میں باقاعدہ اس موضوع پر صحیح السند احادیث ہیں اور پھر اس پر عقلی براہین بھی موجود ہیں۔
قرآنی دلائل کے حوالے سےمشہور ترین آیات جیسے آیت اولی الامر ہے، آیت تطہیر ہے، آیت ابتلاء ابراہیم جس میں حضرت ابراہیم کے امتحان اور پھر اللہ نے ان کو جب مقام امامت دینے اعلان کیا اور انہوں نے اپنی آولاد کے لئے مانگا تو پھر اللہ نے فرمایا کہ گناہگاروں کو یہ عہدہ نہیں ملے گا۔
اسی طرح آیت صادقین ہے، آیت مودت ہے، آیت صلوات ہے یہ ساری اپنی جگہ مختلف انداز سے آئمہ علیہ السلام کی عصمت پر دلالت کرتی ہیں۔
آحادیث میں جو مشہور آحادیث ہیں جیسے حدیث ثقلین ہے، حدیث آمان ہے، حدیث سفینہ ہے اور اسی طرح ہر امام پر مخصوص آحادیث ہیں وہ ان کی عصمت کی گواہی دیتی ہیں اور اس پر تو ہمارے علماء نے بہت ساری کتابیں لکھی ہیں اور باقاعدہ ہماری آحادیث کی کتابوں میں اس پر ابواب ہیں جس میں بے پناہ آحادیث ہیں اور اس موضوع کو مختلف جہات سے واضح کیا ہے کہ کیوں ایک امام کا نبی کی مانند معصوم ہونا ضروری ہے اور اس کے فوائد کیا ہیں؟؟
یہ بھی واضح کیا کہ غیر معصوم جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا وہ امام بن ہی نہیں سکتا۔
عصمت پر ہمارے ہاں دو تعریفیں ہیں۔
پہلی تعریف
ایک تعریف جو ہمارے قدیم علماء نے فرمائی وہ فرماتے ہیں:
عصمت ایک ایسا لطف الہی ہے جو ہمارے آئمہ کو پروردگار کی طرف سے شامل حال ہے جس کی بناء پر وہ ہر قسم کے گناہ قبیح کام حتی ہر طرح کے نقص سے پاک ہیں۔
دوسری تعریف
لیکن ہمارے باقی جو محققین ، علماء کلام حتی فلاسفہ وہ اس کی تعریف یہ کرتے ہیں کہ عصمت ایک ایسا ملکہ یعنی ایک ایسی پختہ عادت ہے جو ہمارے آئمہ نے خود کسب فرمائی یعنی خود حاصل کی ہے جس کے نتیجے میں وہ ہر قسم کے گناہ ، غلطی اور خطا سے پاک اور منزہ ہیں۔
عصمت اب کس اعتبار سے ہے؟؟
عصمت گناہ کے اعتبار سے بھی ہے یعنی گناہ صغیرہ اور کبیرہ سے محفوظ ہیں۔
اسی طرح عصمت نقص ، فراموشی غفلت نسیان ہر طرح کی خطا اشتباہ سے بھی وہ پاک ہیں۔
ہمارے بعض محققین احادیث کی رو سے یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ عصمت کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ ہر طرح کے نقص سے خالی ہوں یعنی ان کے اندر کوئی جسمانی نفسیاتی باطنی کوئی ایسی بیماری بھی نہ ہو جس کے وجہ سے انسان نفرت کرتا ہو یا اسے غیر عادی سمجھتا ہو وہ ہر اعتبار سے سالم اور مکمل اور ہر اعتبار سے اعلیٰ اور افضل ہیں۔
آئمہ کی صفات میں یہ بیان ہوا کہ یہ اعلام الھدی ہیں یعنی ہدایت کی واضح نشانیاں ہیں اور عروۃ الوثقی یعنی بہت مضبوط حلقے ہیں جو آپس میں متصل ہیں اور یہ بھی ہمارے آئمہ علیہ السلام کی ہر اعتبار سے وحدت کی طرف اشارہ ہے یعنی وہ فکری، نظریاتی، عملی اعتبار سے وہ ایک جیسے ہیں۔
اس لئے ہم کہتے ہیں پہلے بھی محمد، آخری بھی محمد اور اوسط بھی محمد اور سب کے سب محمد ہیں صلوات اللہ علیہ اجمعین یعنی جو قول پہلے کا ہے وہی آخری کا ہے اسی اعتبار سے فرق نہیں ہے۔
صحیح سند احادیث کے رو سےایک جیسی گفتار، ایک جیسا کردار اور ایک جیسا انداز ہے صرف زمانے کے تقاضوں کے اعتبار سے وہ اپنا فریضہ متعین فرماتےہیں۔
آخری جو صفت ہےوہ یہ کہ یہ اہل دنیا پر حجت ہیں، اب یہاں سوال ہے کہ حجت کا مطلب کیا ہے ؟؟
حجت کا مطلب برہان اور دلیل بھی ہوتا ہے اور حجت ایک ایسی صفت ہے جو اللہ نے اپنے لئے بھی قرار دی اور سورہ انعام کی آیت نمبر 149 میں پروردگار نے فرمایا:
قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُۚ-فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ
کہہ دیجئے اللّٰہ کے پاس نتیجہ خیز دلائل ہیں،پس اگر وہ چاہتا تم سب کو وہ( جبرآ) ہدایت دے دیتا۔
یعنی پروردگار نے اپنے لئے سب سے بڑی حجت قرار دی جو قیامت والے دن ظاہر ہوگی جب وہ لوگوں کا حساب لے گا اس وقت اللہ تعالیٰ ان پر حجت تمام کرے گا۔
اسی اعتبار سے امامِ صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ پروردگار روزے قیامت پوچھے گا اپنے بندوں سے کہ تم جانتے تھے اور تم نے گناہ کیا اسی وجہ سے تو عذاب ہوگا کیونکہ وہ شخص جو نہیں جانتا جس سے پتہ نہیں تھا تو اللہِ عادل اسے تو عذاب نہیں کرے گا حجت اس طرح سے تمام ہوگی۔
اب یہ کہ بندوں پر جو حجت ہے وہ کس طرح کی ہے؟؟
یہاں امامِ کاظم علیہ السلام کا فرمان : مولا فرماتے ہیں کہ:
اے ہشام اللہ تعالیٰ کی لوگوں پر دو طرح کی حجت ہے ایک حجتِ ظاہرہ ہے اور ایک حجتِ باطنہ ہے، فرماتے ہیں کہ حجتِ ظاہرہ یہی انبیاء ہیں اور انبیاء کے بعد ان کے اوصیاء ہیں جو ہر زمانے میں ہوتے ہیں۔
حجتِ باطنہ سے مراد عقل ہے جس طرح عقل کا کام یہ ہے کہ وہ انسان کو صحیح راستہ دکھاتی ہے اور برے راستے کے انجام سے ڈراتی ہے اور صحیح راستے کے فوائد سے اگاہ کرتی ہے۔
حجتِ ظاہرہ بھی یہی کرتی ہےانبیاء اور آئمہ بھی اسی لئے آئے کہ لوگوں کو صحیح راہ دکھائیں انہیں بتائیں صحیح اور حقیقی زندگی کا ضابطہ جو ہے وہ کیا ہے انہیں بتائیں کہ اللہ کی راہ میں اگر کمال حاصل کرنا ہے قربِ الٰہی کی منازل پر پہنچنا ہے اگر سعادتِ الٰہی کو حاصل کرنا ہے تو اس کا راستہ کیا ہے ،بہشت تک جانے کا راستہ کیا ہے اور اللہ کے قرب کو پانے کا راستہ کیا ہے؟؟
یہ آئمہ علیہ السلام اور اس سے پہلے انبیاء وہ یہی کچھ تو بتانے کے لئے آتے ہیں اب انسان اگر خود حق کو چھوڑ دے اور باطل کو اپنا لے تو اس پر گویا حجت تمام ہو چکی ہےتو ہر دور میں ایک حجت کا ہونا ضروری ہے یعنی صحیح الہی راستہ دکھانے والے کا ہونا ضروری ہے اس اعتبار سے ہر امام اپنے زمانے کے لوگوں پر حجت ہے تو اسی طرف اشارہ فرما رہے ہیں امامِ صادق علیہ السلام کہ آپ اس وقت اہلِ دنیا پر حجت تھے تو ہر دور میں ہر امام حجت ہیں جیسے آج صاحب العصر و الزمان کا دور ہے اور وہ ہم پر حجت ہیں اگرچہ ابھی غیبت کا زمانہ ہے ان کا زمانہ ظہور نہیں آیا لیکن اسی غیبت کے زمانے میں حجتِ خدا ابھی بھی لوگوں کی رہنمائی کر رہی ہے۔
ظاہری رہنمائی کے لئےسلسلہ اجتہاد، فقہاء، علمی مراکز حوزوی اور دینی مراکز ہیں اور یہ مجتہدین ان کے حکم پر ہماری رہنمائی کررہے ہیں۔
باطنی اعتبار سےعقل کے ساتھ ساتھ مولا بھی بعنوانِ حجتِ خدا ہمارے قلوب کو تسخیر کرتے ہیں ہمیں صحیح راہ دکھاتے ہیں۔
اب یہ علیحدہ بات ہےکہ ہم ان چیزوں کو سمجھنے کے باوجود وہ راہ حق کو نہیں دیکھتے یا نہیں دیکھنا چاہتے گناہوں کی طرف چل پڑتے ہیں ورنہ حجت ہم پر ہمیشہ تمام ہوتی ہے ہمارے اردگرد بہت ساری چیزیں حجت ہیں خود ہمارے گھروں میں پڑھا ہوا قرآن حجت ہے کہ ہمارا فریضہ ہے ہم اس سے درس لیں اگر ہم اس کو نہیں کھولتے اس سے استفادہ نہیں کرتے تو یہ ہمارا اپنا قصور ہے علماء اور فقہاء تک پہنچ ہے اور اگر ہم نہیں پہنچ پاتے اور ان سے فیض نہیں لیتے تو یہ ہمارا اپنا قصور ہے اور اپنے آپ کو پاکیزہ کر کے امام کی نگاہوں میں ان کی دعاوں میں قرار پانا تاکہ ان کا براہ راست نور یعنی وہ جو فیض ہے وہ ہمیں ملے یہ بھی ہمارے اختیار میں ہے اور اگر ہم نہیں لیتے تو یہ ہمارا اپنا قصور ہے اس اعتبار سے ہم پر حجت ہمیشہ تمام ہو جاتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم ان تمام حجتوں سے استفادہ حاصل کریں اور اس راہ کے راہی بنیں جو اللہ نے ہمارے لئے قرار دیا اور جسے بتانے کے لئے یہ الہی حجتیں آئیں انشاءاللہ الہی آمین۔
جاری ہے ۔۔۔
عالمی مرکز مہدویت_ قم