درس : 12
زیارت آل یاسین
امام مہدی عج الہیٰ ارادہ پر دلیل ہیں اس سے مراد؟
استاد محترم قبلہ علامہ علی اصغر سیفی صاحب
سلسلہ دروس زیارت مبارکہ آل یاسین اور ہم اس سلام پر پہنچے ہیں۔
۔ ﷽۔۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا حُجَّۃَ ﷲِ وَدَلِیْلَ اِرَادَتِہٖ
آپ پر سلام ہو اے خدا کی حجت اور اس کے ارادے کے مظہر
ہماری گفتگو حجت خدا میں جاری ہے اور اس حوالے سے مذید کچھ نکات بیان کریں گے اور پھر ہماری اصلی گفتگو اللہ تعالیٰ کے ارادے پر ہے۔
جیسا کہ بیان کیا کہ اِس وقت حجت الہیٰ امام زمانؑ عج ہیں۔ اور اللہ کی حجت واضح ہونی چاہیے۔ اور آج کے دور میں پروردگار کی حجت امام زمانؑ عج سے ہٹ کر قرآن مجید بھی ہے۔ لیکن! قرآن حجت صامت ہے اور امام مہدیؑ عج حجت ناطق ہیں۔
آئمہؑ نے ہمیشہ اپنے آپ کو حجت الہیٰ سے تعبیر کیا ہے۔ جیسے کہ ہم احادیث میں دیکھتے ہیں کہ آئمہؑ فرماتے ہیں کہ ہم اصل میں قرآن کے وارث ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر حجت ہیں۔ جیسا کہ اصول کافی میں *امام محمد باقرؑ* کا فرمان ہے کہ :
“ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے بندوں پر حجت ہیں”۔
ایک راہب نے امام صادقؑ سے پوچھا کہ آپؑ کو آیا تورات ، انجیل یا دیگر انبیاؑء کی کتب کے بارے میں بھی علم ہے؟؟
مولاؑ نے فرمایا: وہ سب ہمارے پاس ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں انبیاءؑ کی وراثت کے طور پر عطا کیا۔ جس طرح خود پیغمبرؑوں کو عطا ہوا یہ ہمارے پاس بھی ہے اور ہم اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔
پھر امام صادقؑ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ کی کوئی بھی حجت زمین پر ایسی نہیں ہے کہ اس سے کوئی چیز پوچھی جائے اور وہ کہے کہ میں نہیں جانتا۔
سبحان اللہ!
ایک عالم دین کے لیے یہ کہنا تو صحیح ہے کہ اگروہ کسی مسئلے میں کہہ دے کہ مجھے علم نہیں ہے یا میں اسے تحقیق کرکے آپ کی خدمت میں بیان کروں گا۔ لیکن! ایک معصومؑ جو حجت خدا ہے، اس کے لیے یہ شایستہ نہیں کہ وہ یہ کہے کہ میں نہیں جانتا۔ اسی لیے اللہ نے اپنی حجتوں کو تمام تر علوم حتی گذشتہ انبیاؑء کی کتب سے بھی نوازا ہے۔
وَدَلِیْلَ اِرَادَتِہٖ۔ مراد۔
اب ہم گفتگو کریں گے کہ اس سلام میں امام زمانؑ عج کو جو اللہ کے ارادے کی دلیل کے طور پیش کیا گیا ہے۔ تو یہاں ارادے سے کیا مراد ہے؟
پروردگار کے ارادے پر بہت زیادہ گفتگو ہے اور مختلف علوم اس پر گفتگو کرتے ہیں۔ ہم صرف آپ کی خدمت میں چند نکات بیان کریں گے۔
یہ جو کہا گیا ہے کہ امام ؑ عج اللہ کے ارادے کی دلیل ہے تو یہاں مراد یہ ہے کہ امامؑ کے ذریعے ہم پر اللہ کا ارادہ واضح ہوتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ شرعی امور کیا ہیں۔ خدا نے ہمارے لیے کس چیز کو حلال اور حرام قرار دیا ہے اور خدا ہمارے لیے کیا فرامین صادر کر رہا ہے۔ اور اللہ کے ارادے سے جو چیزیں صادر ہورہی ہیں وہ امام کے ذریعے ہم تک پہنچ رہی ہیں۔ البتہ اس زمانے میں جب پیغمبرؐ اسلامﷺ خود تشریف فرما تھے تو ان کے ذریعے پہنچتی تھیں اور ان کے بعد ان کے جانشینوں جو کہ حجج الہیٰ ہیں ان کے ذریعے ہم تک پہنچ رہی ہیں۔
ہماری احادیث کی کتابوں میں ارادہ الہیٰ پر دقیق گفتگو ہے اور آئمہؑ کے بہت زیادہ علمی اور بہت زیادہ قابل غور فرامین ہیں لیکن ہم ان میں سے ہم چند نکات لیں گے۔
اصول کافی میں ایک مقام پر معصومؑ یہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے علم سے اس کی مشیت اور اس کی منشاء ظاہر ہوتی ہے اور اس کی مشیت اور منشاء سے اس کا ارادہ ظاہر ہوتا ہے اور اس کے ارادے سے اللہ نے جو تقدیر اور مقدر قرار دینا ہوتا ہے ظاہر ہوتا ہے اور اس مقدر سے خدا کے حکم ظاہر ہوتے ہیں ۔
فرماتے ہیں کہ:
علم جو ہے وہ اللہ کی مشیت پر مقدم ہے اور مشیت اللہ کے ارادے پر اور ارادہ اللہ کی قرار دی ہوئے تقدیر پر مقدر ہے۔
اسی طرح اصول الکافی میں امام صادقؑ کا یہ بھی فرمان ہے کہ:
زمین و آسمان میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس میں یہ الہیٰ سات خصوصیات نہ ہوں۔
1۔ وہ خدا کی مشیت اور منشاء کے مطابق ہے۔
2۔ وہاں اللہ کا ارادہ ہے۔
3۔ اللہ نے وہاں لوح محفوظ میں ایک تقدیر ، ایک مقدر قرار دیا ہے۔
4۔ قضا جو اللہ کا حکم ہے اسکے مطابق ہے ۔
5۔ پھر اس پر اذن اللہ بھی ہے۔
6۔ پھر وہ خدا کی تکوینی کتاب ہے وہ وہاں بھی لکھی جا رہی ہے
7: اور وہ زمانے میں بھی داخل ہے۔
کوئی بھی ان سات خصوصیات سے نہیں نکل سکتا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ ان میں سے ایک خصوصیت نکل جائے تو گویا اس نے کفر کیا۔
ایک اور بہت ہی قابل غور فرمان ہے۔
امام محمد تقی جوادؑ فرماتے ہیں کہ:
اللہ کے دو طرح کے ارادے ہیں۔
1۔ قطعی اور یقینی ارادہ کہ جس نے ہر صورت میں نازل ہونا ہے۔
2۔ غیر قطعی ارادہ
جس طرح ہم بسا اوقات دیکھتے ہیں کہ ہمارے اعمال باعث بنتے ہیں کہ زندگی طولانی ہو یا مختصر ہو۔ موت جلدی آئے یا دیر سے۔
معصومؑ فرما رہے ہیں کہ اللہ کا ایک ارادہ ہر صورت میں نافذ ہونا ہے اور وہاں ہمارا کوئی عمل یا بات اثر نہیں رکھتی جبکہ ایک جگہ پہ اللہ کا ارادہ غیر قطعی ہے۔ یعنی وہاں اللہ ظاہر کچھ اور کرتا ہے۔ مثلاً پروردگار بظاہر روک رہا ہے لیکن! اصل میں چاہ رہا ہے۔ اور ایک جگہ پہ پروردگار حکم دے رہا ہے لیکن! اصل میں وہ نہیں چاہ رہا۔
اس کے بعد معصومؑ فرماتے ہیں کہ
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے حضرت آدؑم اور ان کی روجہ کو منع کیا تھا کہ آپؑ نے اس درخت سے نہیں کھانا۔ حالانکہ خدا یہ چاہتا تھا کہ یہ اس شجر سے کھائیں اور یہ چیز ان کے دنیا میں جانے کا بہانہ بنیں۔ اسی لیے اصل میں اللہ کی جو مشیت تھی وہ یہی تھی کہ وہ کھائیں نہ کہ وہ نہ کھائیں ۔ حالانکہ ان کا ارادہ اللہ کے ارادے پر مقدم نہیں ہوا اور انہوں نے وہی کیا جسطرح اللہ چاہتا تھا۔
اسی طرح حضرت ابراہیمؑ کو حکم اللہ نے حکم دیا کہ اسماعیلؑ کو ذبح کریں۔ حالانکہ اللہ یہ نہیں چاہتا تھا۔ اور اگر واقعاً اللہ یہ چاہتا تو حضرت ابراہیؑم اس عمل سے بچ نہ پاتے اور وہ حتماً انہیں ذبح کرتے۔ آخر میں یہ چیز ظاہر ہوئی کہ اللہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ اسماعیلؑ ذبح ہوں۔
یہاں ایک سوال ہے کہ یہ اللہ کا ارادہ اس کی صفت ذاتی ہے یا صفت فعل ہے؟؟ کیونکہ دونوں میں فرق ہے۔
صفت ذاتی :
پروردگار کی زندگی ، علم ، قدرت وغیرہ
صفت فعل:
جیسے خدا خلق کرتا ہے کبھی خلق نہیں کرتا، زندہ کر رہا ہے، مار رہا ہے، بخش رہا ہے، انتقام لے رہا ہے۔
اصول الکافی کے مصنف مرحوم کلینیؒ لکھتے ہیں کہ یہ بظاہر صفت فعل ہے چونکہ اللہ کے ارادے میں جو چیزیں نظر آرہی ہیں وہ دونوں طرح کی ہیں یعنی موافق اور مخالف دونوں اطلاق ہورہی ہیں۔ مثلاً خدا کبھی بخشتا ہے تو کبھی انتقام لیتا ہے۔
ہم دنیا میں دیکھ رہے ہیں اللہ بعض چیزوں کو چاہتا ہے بعض کو نہیں چاہتا ، بعض چیزوں پر راضی ہے بعض پر نہیں راضی تو اگر اللہ کا ارادہ اس کی صفت ذات ہوتا تو پھر کسی کی جرات نہ ہوتی کہ اللہ کے ارادے یعنی اس کی صفت ذات کی خلاف ورزی کرے تو بس یہاں معلوم ہوتا ہے کہ یہ افعال کی صفات ہیں اور یہاں گویا پروردگار نے ہمیں اختیار دیا ہوا ہے تو اس اعتبار سے لوگ جو ہیں وہ دونوں طرح کی صفتیں لے رہے ہیں کچھ جو عمل کرتے ہیں وہ نیک ہیں جو نہیں کرتے وہ فاسق اور گنہگار اور کافر ہیں۔
صفت ذات اور صفت عمل میں یہی فرق ہے۔ جیسے اللہ کا علم اس کی صفت ذات ہے اور اس کے مدمقابل جہالت ہے اور وہ اللہ پر اطلاق نہیں ہو سکتی۔ یعنی صفت ذات میں مخالف اطلاق نہیں ہوگی۔
صفت فعل یعنی جو اللہ کی اطاعت کرتے ہیں تو اللہ ان سے محبت کرتا ہے۔ اور جو نافرمانی کرتے ہیں اللہ ان سے دشمنی رکھتا ہے ۔ اور یہ دونوں کا اطلاق ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ان علمی اور فکری نکات کو سمجھیں اور پروردگار کے ساتھ ساتھ اس کے ولی کی معرفت کو بھی سمجھیں۔
وَدَلِیْلَ اِرَادَتِہٖ پر گفتگو جاری ہے۔۔۔۔
والسلام
عالمی مرکز مہدویت قم ایران