تازہ ترین پوسٹس

زیارت آل یاسین_امام مہدی عج الٰہی مددگار اور یاعلی مدد پر قرآنی دلائل

زیارت آل یاسین
درس 10
امام مہدی عج الٰہی مددگار اور یاعلی مدد پر قرآنی دلائل

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

موضوع سخن زیارت مبارکہ زیارت آل یاسین ہےہم سلسلہ گفتگو میں اس سلام تک پہنچے ہیں
السلام علیک یا خلیفۃ اللہ ناصر حقہ
سلام ہو آپ پر اے اللہ کے خلیفہ اور اس کے حق کے مددگار (یعنی اس کے حق کو انجام دینے والے)

پچھلے درس میں خلیفۃ اللہ پرتو گفتگو کی لیکن یہ جو دوسرا حصہ ہے (خدا کے حق کے مددگار)اس سے کیا مراد ہے ؟
ہمارے پاس زیارت آل یاسین کے دو نسخے ہیں یعنی دو طرح کی زیارت موجود ہے اور ان میں تھوڑا فرق بھی ہے !
مثلاً ہمارے پاس یہ جو مشہور زیارت موجود ہے اس میں ( ناصر حقہ)آیاہے۔
لیکن جو دوسرا نسخہ ہے اس میں آیا ہے ناصر خلقہ یعنی خدا کی مخلوق کے مددگار ۔

؟اب یہاں خدا کی مخلوق کے مددگار یا حق کے مددگار سے مراد کیا ہے؟
اس پرآج تھوڑی گفتگو کریں گے انشاء اللہ ،اور اس پر اہم سوال بھی آیا ہے کہ
آیا امام مخلوقات میں سے کسی کی مد کرسکتے ہیں یا نہیں ؟
آیا یاعلی مدد کہنا یا یامہدی مدد کہنا صحیح ہے کہ نہیں ؟

سورہ حمد کے اندر آیا ہے کہ
إِیّاکَ نَعْبُدُ وَ إِیّاکَ نَسْتَعینُ
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور فقط تجھ ہی سے مد مانگتے ہیں
آیا یہ سب کہنا اس کے ساتھ تضاد ہے کہ نہیں ؟
سب سے پہلی بات کہ ناصر حقہ سے مراد کہ امام زمان عجل زمین پر پروردگار کے امور کو انجام دینے والے ہیں خدا نے جو مشن آپ کو دیا ہےاس کو زمانہ غیبت میں بھی انجام دے رہے ہیں اور جب ظہور ہوگا تواس وقت بھی وہ لوگ جو باطل پر ہیں یا جو مشرک ہیں یا جو ظلم کرنے والے ہیں ان سے جنگ کریں گے
اور ان کے ظلم کو زمین سے ختم کریں گئے اور پوری زمین پر حق کو اجراء کریں گے اور اس زمانے میں جو اللّٰہ کا پسندیدہ دین اسلام ہےاور اللّٰہ ک آخری دین ہےاس کو پوری دنیا پر نافذ کریں گے انشاء اللہ ۔

اب امام ع کی جنگ کن سے ہو گی؟
یقیناً جو اللّٰہ کے دشمن ہیں اور علی الاعلان کافر ہیں اور علی الاعلان مشرک ہیں اور علی الاعلان ملحد ہیں ان سے جنگ ہو گئی۔
اسی طرح جو گمراہ ہیں ظاہراً مسلمان ہیں لیکن ان کے عقائدشرک آلود ہیں جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مسلمان ٹائپ کے لوگ ہیں انکے فرقے خدا کو انسانی جسم کی طرح سمجھتے ہیں اور اس حوالے سے ان کا کیا عقیدہ ہے ہم جانتے ہیں یہ کون لوگ ہیں ان کو بھی ہدایت دیں گئے اور ان کی عقائد کی اصلاح کریں گئے،
لیکن اگر یہ حق کو قبول نہیں کریں گے اور حق کے مدمقابل کھڑے ہوں گےاورحق کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں گے تو مولا ع کی جنگ ان سے بھی ہو گی۔
تو پس مولا امام زمانہ علیہ السلام خدا کے مددگار ہیں زمین پر اسی لیے ہماری بعض روایات میں آیا ہے کہ
واقعہ غدیر سے پہلے دوشہادتین کافی تھی
1۔خداکی گواہی
2۔اور نبی کی گواہی
لیکن جب امامت ،ولایت کا ،خلافت کااور زمین پر قیامت تک حجت خدا کے تسلسل کا اعلان ہوا چونکہ جب واقعہ غدیر میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف امام علی علیہ السلام کی امامت کا اعلان نہیں کیا بلکہ باقی گیارہ جانشینوں کا بھی ذکر کیا اور آخری حجت جو امام مہدی علیہ السلام ہیں ان پر تو بائیس یا تئیس کے قریب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جملے ہیں اور ان کا تو بہت زیادہ ذکر ہےاس کےتا قیامت آنے والے خلفاء کا ذکر ہے ۔
اب واقعہ غدیر اور اعلان غدیر کے بعد اعلان امامت و ولایت کے بعد عقائد کے لیے دو شہادتیں کافی نہیں ہیں
اب اسلام اور ایمان کا دائرہ پہلے سے تنگ ہوگیا اور وہی شخص حقیقی معنوں میں مسلمان ہےاور مؤمن ہےجو
اللّٰہ کی شہادت بھی دیتا ہے
اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
اور زمانہ کے امام اور ولی کی شہادت دیتا ہے کیونکہ وہ اس وقت خلیفۃ اللہ اور ناصر حق پروردگار کے مددگار ہیں

دوسرا متن!
جسکے اندر آیا ہے کہ ناصرخلقہ
مولا ع امام زمان علیہ السلام اللہ کی مخلوق کے مددگار ہیں اس وقت زمانہ غیبت میں لوگوں کے مشکل کشاہیں اور ان کے مسائل میں ان کی مدد کرتے ہیں جب بھی کبھی کوئی پکارتا ہے یا صاحب الزمان ادرکنی عج
تو مولا اس کی مدد کرتے ہیں۔
اگر کوئی یاعلی مدد کہتاہےتواس وقت جو زمانے کا علی ہےجواس علی علیہ السلام کاپوتاہے وہ ان کی نسل سے ہےوہ علی بن کے ان کی مدد کرتے ہیں
جب ظہور فرمائیں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھریں گے لوگوں کے ساری مصیبتیں ومشکلات دور کریں گےاور اس وقت وہ زمین پر اللّٰہ کی مخلوق کے تنہا ترین مددگار ہوں گے اورجو حجت خدا کی شکل میں لوگوں کے رنج و مصیبتیں دور کریں گے اور تمام مخلوقات چین وسکون وآسائش کا دور دیکھیں گے اور زمین اسی طرح عدل سے بھرے گی اور ظلم سے خالی ہو گی جس طرح ان کے جد بزرگوار حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بشارت دی تھی۔

اب یہاں سوال سامنے آیا کہ یہ جو ہم کہتے ہیں یاعلی مدد یہ صحیح ہے کہ نہیں ؟
آج کل ہمارے بعض شیعہ کے اندر یہ بحث چل پڑی ہے البتہ اس کے مدمقابل فریق یا مکتب ہےجو شرارتی لوگ ہیں وہ اس طرح کی باتیں زیادہ کرتے ہیں حالانکہ کے حقیقت ان کو بھی معلوم ہے لیکن یہ لوگوں کو تنگ کرنے کے لیے گمراہ کرنے کے لیے یہ ساری باتیں کرتے ہیں ۔
جیسے کہ سورہ حمد میں پروردگار فرما رہا ہے کہ
ایاک نعبد و ایاک نستعین
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
اللّٰہ تعالیٰ نے عبادت اور مدد کے لیے اپنے آپ کو بیان کیا ہےاور اب خدا کے علاؤہ اگر کسی کو پکاریں تو یہ شرک ہے
لہذا یہ جو شیعہ کہتے ہیں یاعلی مدد تو یہ بھی شرک ہے۔
اس کا سادہ سا جواب ہے کہ اگر خدا خود کہے کہ فلاں سے مدد طلب کروتو پھر کیا کہیں گے
یعنی اگر وہ خدا کہ کہے ہوئے کے مطابق مدد طلب کرے گا تو پھر بھی وہ شرک ہے
اصلا شرک کسی سے مدد مانگنا ہے اگر شرک کسی سے مدد مانگنا ہے تو پھر دنیا میں کوئی بھی نہیں بچے گا کیونکہ سب لوگ معمولا ایک دوسرے سے مدد لیتے ہیں
کوئی ہے جو دنیا میں تنہا زندگی گزار سکے بغیر کسی کی مدد کے ؟
بلکہ اللّٰہ جو ہے وہ بھی نبیوں رسولوں اماموں کی مدد سے اپنے دین کو پھیلاتا ہے اپنی دعوت سب تک پہنچاتا ہے
بلکہ خدا خود مدد مانگتا ہے جیسے حدیث میں آیا ہے کہ
پروردگار روزِمحشر کہے گا کہ اے میرے بندے میری مشکل میں تم نے میری مدد کیوں نہیں کی وہ حیران ہو گا کہ تو تو رب ہے پھر پروردگار اشارہ کرے گا کہ فلاں مومن جو تیرا ہمسایہ تھا مشکلات میں پڑا تھا تو نے اس کی مدد نہیں کی
یعنی یہاں خدا جو ہے مشکل میں پڑھے ہوئے مومن کی جگہ اپنے آپ کو بیان کر رہا ہے گویا اس کی مدد کرنا اللّٰہ کی مدد جیسے یہاں ہم نے کہا کہ امام جو ہیں وہ اللّٰہ کی مخلوق کی مدد کرتے ہیں یعنی خدا کی مدد کرتے ہیں یعنی امام جو ہیں وہ ناصر حق ہی ہیں یعنی خدا کے امور کو انجام دینے والے
پروردگار نے سورہ ماہدہ آیت نمبر35میں فرمایا کہ

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(35)

اے ایمان والو اللہ سے ڈرو تقوی خدا رکھواوراس کی طرف وسیلہ پیدا کرو(یہاں خدا وسیلے کی بات کر رہا ہے)
اسی لیے جب ہم انبیاء اور آئمہ علیہم السلام سے مدد مانگتے ہیں یہ اسی وسیلہ الٰہی کے عنوان سے ہے نہ کہ ہم انہیں معبود سمجھتے ہیں یا خدا!! کوئی بھی مسلمان مومن ایسا تصور نہیں کرسکتا
قرآن مجید میں ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاء نے مدد مانگی اور انبیاء سے لوگوں نے مدد مانگی کیونکہ خدا نے خود کہا ہے کہ فلاں فلاں سے مدد مانگو۔
یہ تو کاملاً توحید ہے اگر اللّٰہ کے علاؤہ کسی کو الٰہی وسیلہ سمجھ کے مدد مانگنا یہ عین توحید ہے
وہ جو چیز شرک ہے وہ کسی کو خدا کی مانند سمجھناکسی کو خدا کے برابر سمجھنا یا یہ سمجھنا کہ وہ مستقل ہے اور بے نیاز ہے اور وہ ہماری مددکرسکتاہےاگرہم اس طرح کی بات کریں گے تو یہ شرک و کفر ہے
لیکن ہم اگر اللّٰہ کے حکم کے مطابق اسی کے وسیلے سے مدد مانگے گے تویا جس سے اللّٰہ نے کہا مدد مانگواس سے مدد مانگے
یا کسی کو خدا کا نمائندہ سمجھ کے یا حجت سمجھ کے مدد مانگےکہ وہ حکم خدا سے کہ وہ ہماری مدد کرے گا تو یہ شرک نہیں یہ عین توحید ہے ہے
قرآن مجید میں سورہ بقرہ آیت نمبر 45میں پروردگار فرما رہا ہے کہ

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَ(45)

اورصبراور نمازکاسہارالواور یہ(نماز)بارگراں ہے, مگر خشوع رکھنے والوں پر نہیں

یہاں صبر سے مراد احادیث کی روسے روزہ ہےیعنی روزہ اور نماز سے مدد مانگو
نماز روزہ عبادت ہے اللّٰہ نے خود دو اعمال بیان کردے ہیں ان سے مدد مانگو حالانکہ ان سے مدد مانگنا خدا سے مدد مانگنا ہے
اسی طرح کسی حجت سے مدد مانگنا گویا خدا سے مدد مانگنا نہ کہ ہم خدا کو ایک طرف کرکے اسی کو سارا کچھ سمجھ رہے ہیں
کوئی بھی شیعہ کوئ بھی مومن یا مسلمان حتیٰ کوئی بھی اہلسنت اس طرح کا عقیدہ نہیں رکھتا ۔
وہ خدا جو کہہ رہا ہے کہ مجھ سے مدد مانگو اور اسی نے پھر کچھ چیزیں بھی بیان کی ہیں اور اس کا مطلب ہے اللّٰہ سے مدد مانگنے کے کئی طریقے ہیں
!خداسے براہ راست بھی مدد مانگ سکتے ہیں
!اور اس کی بتائے ہوئے چیزوں سے بھی مدد مانگ سکتے ہیں اور یہ ساری چیزیں عین توحید ہیں۔

سورہ قصص کی آیت نمبر 15میں ایک واقعہ موجود ہے کہ

وَدَخَلَ الْمَدِيْنَةَ عَلٰى حِيْنِ غَفْلَـةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيْـهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِۖ هٰذَا مِنْ شِيْعَتِهٖ وَهٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ ۖ فَاسْتَغَاثَهُ الَّـذِىْ مِنْ شِيْعَتِهٖ عَلَى الَّـذِىْ مِنْ عَدُوِّهٖۙ فَوَكَزَهٝ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَيْهِ ۖ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ ۖ اِنَّهٝ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيْنٌ (15)

اورموسی شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب شہر والے بے خبر تھےپس وہاں دو آدمیوں کو لڑتے پایا،ایک ان کی قوم میں سے تھا اور دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا تو جو ان کی قوم میں سے تھا اس نے اپنے دشمن کے مقابلے کے لیے موسیٰ کو مدد کے لیے پکاراتو موسیٰ نے اس(دوسرے)کو گھونسا مارااوراس کا کام تمام کردیا ،پھرموسی نے کہا:یہ تو شیطان کاکام ہوگیا ،بے شک وہ صریح گمراہ کن دشمن ہے

حضرت موسیٰ علیہ السلام شہر میں آتے ہیں تو ان کے پیروکاروں میں سے کسی نے ان کو مدد کے لیے پکارا
فاستغاثہ یعنی طلب غوث ہے میری مدد کو پہنچے کون کہہ رہا ہے ان کا شیعہ دشمن کے مد مقابل تو جناب موسیٰ نے فوراً اس کی مدد کی یہ نہیں کہا کہ تو شرک کررہا ہے تو خدا کو پکار

سورہ انفال آیت نمبر 72میں پروردگار فرما رہا ہے کہ

ۚ وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِى الـدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَـهُـمْ مِّيْثَاقٌ ۗ وَاللّـٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْـرٌ (72)

اے مہاجرین سے مومنین وہ لوگ جو پیچھے رہ گے ہیں اگر وہ تمہیں دین کے مسئلے میں پکارے تو تم سے مدد طلب کرے توتم پر واجب ہے ان کی مدد کرنا
اب یہاں خدا کیوں نہیں کہہ رہا کہ ان کو حق نہیں ہے کہ وہ تمہیں پکاریں بلکہ وہ مجھے پکاریں
بلکہ خدا کہہ رہا کہ وہ تمہیں پکاریں ان کا پکارنا بھی ٹھیک ہے اور تمہارے مدد کرنا واجب ہےیہ ایک امر الٰہی ہے
یہاں خدا خود کہہ رہا ہے کہ مومنین کا ایک دوسرے کی مدد کرنا واجب ہے جب مومنین ایک دوسرے کو پکاریں تو دوسرے عام مومن پر بھی واجب ہے مدد کرنانہ کہ اللّٰہ یہاں شرک و توحید کی بحث لے کر بیٹھ جائیں کہ کیوں انہوں نے میرے علاؤہ کیوں تمہیں مدد کے لیے پکارا اور تم کیوں ان کی مدد کر رہے ہوتم گویا ان کے اللّٰہ ہو نعوذباللہ
کوئی ایسی بات نہیں دونوں طرف مومن ہیں اورخدا کو سجدےکرنے والے ہیں
پتہ نہیں لوگ یہ بحث کیوں کرتے ہیں
اتنی واضح سی بات ہے اگر ہم اس طرح کی چیزوں کا انکار کر بیٹھے تو سارا نظام دربرہم ہو جائے گا ہم تو اپنے امور میں ہزاروں لوگوں سے مدد مانگتے ہیں ہمارے تمام امور اسی طرح چلتے ہیں جیسے مریض ڈاکٹرسے مدد لیتا ہے یا جیسے گھر بنانے کے لیے مستری کی مدد لیتے ہیں انجینئر کی مدد لیتے ہیں یا کپڑے سلائی کروانے کے لیے درزی سے مدد لیتے ہیں یا کھانا بنانا ہو تو باورچی کی مدد لیتے ہیں یا گھروں میں ماں وباپ ایک دوسرے سے مدد لیتے ہیں یا بچے ماں وباپ سےیا میاں بیوی انسانی زندگی ایک دوسرے کی مدد پر منحصر ہے لیکن کوئی کسی کو خدا نہیں سمجھ رہا بلکہ سب ایک دوسرے کو الٰہی وسیلہ سمجھ رہے ہیں کہ اللّٰہ نے ماں وباپ کو بچوں کی مدد کے لیے اور بچوں کو ماں وباپ کی مدد کے لیے میاں وبیوی کی مدد کے لیے یا لوگوں کو اپنے علم و تجربے اور مہارت میں ایک دوسرے کی مدد کے لیے بلکہ یہ چیزیں واجب ہیں
اسی لیے ہماری شریعت میں آیا ہے کہاگر کسی جگہ ڈاکٹر نہیں ہےتو وہاں ڈاکٹر بننا واجب ہے لیکن اگر ایک بندہ ڈاکٹر بن جائے اور اس سے سب کی مدد ہو رہی ہے تو پھر یہ وجوب سب سے ختم ہو جائے گا
اگر کسی شہر کے اندر درزی نہیں ہے انجینئر نہیں ہے تو سب پر بننا واجب ہو جاتا ہے لیکن اگر چند لوگ بن جائے تو سب پر یہ وجوب ساقط ہو جاتا ہے کیونکہ اب کچھ بن گے ہیں اور سب کی مدد ہو رہی ہےیہ تو نظام زندگی ہے اللّٰہ کو بنایا ہوا نظام ہے

اب یہاں خدا خود کہہ رہا ہے کہ اے مہاجرین اب وہ لوگ جو مکے میں رہ گئے ہیں وہ مدد کے لیے پکاریں تو ان کی مدد کرے۔

سورہ نمل آیت نمبر 38میں پروردگار فرما رہا ہے کہ

قَالَ يَآ اَيُّـهَا الْمَلَاُ اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِىْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ يَّاْتُوْنِىْ مُسْلِمِيْنَ (38)

سلیمان نے کہا:اے اہل دربار !تم میں سے کون ہے جو ملکہ کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ فرمانبردار ہو کر میرے پاس آئیں ؟

یہاں پیغمبر مدد کا تقاضا کر رہے ہیں تو کیا یہ شرک ہے یہ نہیں ہوسکتا اور خدا یہاں مذمت نہیں کررہا کیونکہ نبی معصوم ہوتا ہےوہ نہ کوئی خلاف توحید کوئی بات کہ سکتا ہے نہ کوئی عمل کرسکتا ہے
پیغمبر نے یہاں خود اپنے درباریوں سے مدد مانگی نہ مدد مانگنا خلاف توحید ہے اور نہ مدد کرنا خلاف توحید ہے

اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ جناب آصف بن برخیاہ نے پلک جھپکنے کی مدت میں وہ تحت حاضر کردیاتو جناب سلیمان نے اس کو اپنے رب کو فضل قرار دیا (انہوں نے یہ نہیں کہا کہ آصف نے اپنی طاقت سے ہی حاضرکیا ہے ) بلکہ کہا یہ میرے رب کا فضل ہے
یہاں سلیمان توحید بیان کر رہے ہیں میرے رب کی دی ہوئی قوت وعلم سےاس نے تحت کو حاضر کیا ہے
جب ہم ایک دوسرے سے مدد مانگتے ہیں تواپنے رب کے دیے ہوئے حکم وطاقت سےاس کے دے ہوے علم و تجربے سے مہارت سےایک دوسرے سے مدد مانگتے ہیں کہ اس کے پاس یہ علم ہےتجربہ ہے

جب ہم مولا علی ع سے یا امام مہدی علیہ السلام سے مدد مانگتے ہیں تورب کے دے ہوے حکم سے کہ یہ وسیلہ ہیں پروردگار کی طرف ان سے توسل کیا جا سکتا ہےاور ان کے پاس جو علم و طاقت ہے وہ اللّٰہ کی دی ہوئی ہے اللّٰہ نے ان کو ہمارے امور کے لیے بھیجا ہوا ہےاس عنوان سے مدد مانگتے ہیں نہ کہ کوئی ان کو خدا یا خدا کے برابر سمجھتا ہے

؟توحیداور شرک کے اندر ایک فرق ہے ؟
وہ یہ کہ جہاں ہماری نیت ہو کہ یہ ہمارے رب کی طرح کا ایک رب ہےاور اس کی طرح کی طاقتیں رکھتا ہے اور یہ ساری طاقتیں اس کی ذاتی ہیں اور اس سے مدد لی جا سکتی ہے یہ خلاف توحید ہےاور یہی شرک ہے
لیکن اگر ہم کہیں کہ نہیں یہ میرے رب کا ایک بندہ ہے اور رب نے اس کو یہ علم و مہارت دی ہے یہ طاقتیں اور منصب دیاہےاور اس نے حکم دیا ہے کہ ایک دوسرے سے مدد لے سکتے ہیں تو پھرمدد خلاف توحید نہیں ہے تو یہ جو حجج الٰہی ہیں یہ تو منصوب ہی اس لیے ہیں کہ لوگوں کی مدد کریں اور ان کی ہدایت دیں ان کو گمراہیوں سے نکالیں اور ان کی مشکلوں میں ان کے لیے دعا کریں اور اس کے علاؤہ تمام امور میں ان کے مددگار بنے روحانی مددگار بنےمادی مددگار بنے اور ان کی مدد وہ الٰہی مدد ہی ہوتی ہے
خدا کی دی ہوئی طاقت ومنصب وعلم سے مدد کرتے ہیں اور یہ عین توحید ہے
قرآن کے اندر اتنی مثالیں ہیں کہ ایک جگہ خدا اپنے آپ کو پیش کررہا ہے اور دوسری جگہ کتنی ہی ہستیوں کو اور پھر جو عمومی طور پر حکم دیا ہےکہ تمام مومنین ایک دوسرے کی مدد کریں ایک دوسرے کی نیک کاموں میں
تعاونو علی البر یعنی جتنے بھی نیک کام ہیں ان میں آپ مدد کرسکتے ہیں

نتیجہ:
اگر کوئی کسی کو رب کے مقام پر کھڑا کرکے مدد لے تو یہ شرک ہے
لیکن اگر وہ اس کو خدا کا خلیفہ یاعبدیا حجت سمجھ کر اس سے اپنے امور میں مدد مانگے اس کو معبود نہ مانے ر نہ اس کو مستقل مانے نہ بے نیاز مانگے تو یہ عین توحید یے چونکہ اس کی مثالیں خود قرآن مجید میں ہیں اور اگر انسان ایک دوسرے کی مدد نہ مانگے تو سارا نظام دربرہم ہو جائے گا اور اگر حجت خدا سے ایسے مدد مانگنا شرک ہے توہماری اپنی پوری زندگی دشوار ہو جائے گی ہم پھر زندگی کرہی نہیں سکتےہم ایک دوسرے کی مد کے بغیر رہ ہی نہیں سکتےجب ایک دوسرے سے مدد لینا جائز ہے تو پھر حجت خدا سے تو مدد لینا بھی بدرجہ اولی جائز ہے اور یہ حکم خدا بھی ہے
تو بعض اوقات اس طرح کی بحثیں عمدا لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرنے کے لیے کی جاتی ہیں کوئ بھی کسی سے مدد مانگتے ہوئے حتیٰ نبی یا امام سے اس کو خدا نہیں سمجھتااور اس کو خدا کا عبد ہی سمجھتا ہے اور خدا کی جودی ہوئی طاقتیں ہیں اور جو اجازت دی ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے وسیلہ بناتا ہے

خداوند متعال ہمیں ان تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے آمین
والسلام
تحریر
عالمی مرکز مہدویت – قم ایران

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *