عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

درس عقائد (عدل) – درس 5

درس عقائد
مہدی مضامین و مقالات

درس عقائد (عدل) – درس 5

آیا خدا فعل قبیح پر قادر نہیں یا بجا نہیں لاتا؟ خدا کی اپنے افعال میں کوئی غرض و غایت ہے یا نہیں؟ اسلامی مکاتب کا اختلاف اور مکتب اہلبیت علیم السلام کی رائے

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ : 
موضوع سخن: پروردگار کی عدالت ہے اس حوالے سے کچھ مسائل بیان ہوئے۔

موضوع عدل کافی وسیع ہے۔ اس میں بہت سے موضوع، مسائل اور نکات ہیں جس میں مکاتبِ اسلامی آپس میں اختلاف رکھتے ہیں اور باآلاخر ہر مسئلے میں مکتب تشیع اپنی ایک نظررکھتا ہے اور ہم اسی درس کے عنوان سے وہ نظر جو مکتب اہلبیتؑ نے بیان کی اسے بیان کرتے ہیں۔

ایک مسئلہ جو مختلف اسلامی فرقوں نے چھیڑا وہ یہ ہے کہ:

آیا ﷲ تعالی غلط کام پر یا قبیح کام پر طاقت رکھتا ہے؟ یا نہیں رکھتا یا رکھتا ہے لیکن اس کا ارتکاب نہیں کرتا یا اصل طاقت ہی نہیں رکھتا؟

اب یہ مسئلہ بھی چونکہ عدل کے عنوان سے موضوع بحث بنا۔ عدل یہی ہے کہ ہر چیز اپنے مقام پر ہو۔

آیا ﷲ کی ذات و صفات جیسے ہمیں شناخت ہے وہاں ایسی بات ممکن ہے یا نہیں؟ انسانوں میں تو یہ ممکن ہے کہ وہ غلط کام پر طاقت بھی رکھتے ہیں اور کرتے بھی ہیں۔

ﷲ کی ذات کیسی ہے؟🫴اس میں دو نظریے ہیں:

ا۔ عام طور پر مکتب اہل بیت اور کچھ اہل سنت جو معتزلی ہیں ان کا نظریہ یہی ہے کہ پروردگار فاعل مختار ہے، ﷲ صاحب اختیار ہے اور قادر مطلق ہےاور وہ ہر چیز پر طاقت رکھتا ہے لیکن وہ بعض چیزوں کو یعنی غلط کام کو انجام نہیں دیتا ۔ کیونکہ پروردگار حکیم ہے صاحبِ حکمت و علم ہے اور وہ غنی مطلق ہے۔

جو غلط کام کرتے وہ کیوں کرتے ہیں؟ یا تو انہیں غلط کام کا پتہ نہیں ہوتا جاہل ہیں یہاں ﷲ عالم مطلق ہے۔ یا انہیں ضرورت ہوتی ہے غلط کام کی۔ خداغنی و بے نیاز ہے یا وہ غلط کام کو نہیں سمجھتے اور اس کے اثرات کو نہیں سمجھتے۔ پروردگار صاحبِ حکمت ہے تو اس لیے خدا یہ کام کبھی نہیں کرے گا یعنی افعال کے اعتبار سے محال ہے ﷲ کی ذات کے حوالے سے۔

بعض معتزلی کہتے ہیں کہ ﷲ قادر ہی نہیں ہے ہم مکتب اہلبیتؑ یہ کہیں گے کہ نہیں خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ لیکن یہ کام خدا کی ذات سے دور ہے وہ منزہ و پاک ہے۔

اصل میں یہ مسئلہ شروع اس طرح ہوا کہ مکتب اشاعرہ اکثر ہمارے پاکستان میں حنفی اہل سنت ہیں وہ یہی ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ خدا اگر چاہے تو بُروں کو جنت میں ڈال دے اگرچہ یہ بات ہمارے لیے قبیح ہے اور اگر چاہے تو نیکوں کو جہنم میں ڈال دے یہ بھی ہمیں قبیح لگے گی کیونکہ اسے ہماری عقل قبیح سمجھتی ہے۔ تو خدا ایسے کام نہیں کرے گا کیونکہ وہ تو ہمیں ایسے کاموں سے منع کرتا ہے تو وہ خود بھی ایسے کام کیسے کرے۔

2۔  ایک اور مسئلہ عدل کے موضوع کے اندر ہی اسلامی مکاتب کے اندر موضوع بحث بنا وہ یہ کہ: جس طرح ہم لوگ جب بھی کوئی کام کرتے ہیں تو ہماری کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے کام کرنے کی اور ہم اپنے اس غرض کے مطابق کام کرتے ہیں۔

آیا ﷲ کے کام اس کی بھی کوئی غرض ہے یا وہ بے غرض ہے: یہی جو ہمارے سامنے اشاعرہ (اہلسنت) ہیں وہ اکثر کہتے ہیں ﷲ کے کاموں میں کوئی غرض نہیں ہے۔

باقاعدہ ان کا ایک مشہور جملہ ہے:
“ہم اس کے نام سے شروع کرتے ہیں کہ جس کے اپنے افعال میں کوئی غرض نہیں”۔

یعنی گویا خدا بے ہدف اور بے غرض کام کر کر رہا ہے جیسے کوئی ربورٹ یا کوئی الیکٹرونک مشین نعوذ باللہ! 

شیعہ اور معتزلہ جو اہل سنت میں فرقہ ہے ہم اس کے مدمقابل کہتے ہیں کہ ﷲ کے تمام کاموں کی غرض ہے۔ کیوں غرض ہے؟

بآلاخر خدا فاعل مطلق ہے، صاحب اختیار ہے صاحب ارادہ و حکمت ہے۔ جب اس نے ہم جیسے چھوٹے چھوٹے موجودات کو بنایا جو ہر چیز میں ایک غرض رکھتے ہیں تو وہ جو سب سے بڑا فاعل ہے وہ کیوں نہیں غرض رکھ سکتا۔

چونکہ سب دنیا کے عاقل اس بات کو سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی فعل کوئی کام بغیر کسی غرض کے ہو تو وہ فضول بیہودہ اور عبس ہوتا ہے۔ اور ﷲ کی ذات ان فضول، بیہودہ اور عبس چیزوں سے پاک و منزہ ہے۔

خدا اور ہماری غرض میں فرق:

اللہ کی بھی غرض ہوتی ہے ہاں لیکن خدا کی ہماری غرض میں فرق یہ ہے کہ ہمارے سارے کاموں غرض ہمارے اپنے لیے ہوتی ہے ہم نے اس سے ایک چیز لینی ہوتی ہے جبکہ ﷲ کے افعال میں جو غرض ہے وہ ﷲ کی طرف نہیں لوٹتی خدا کو کسی چیز کی ضرورت نہیں وہ بے نیاز ہے۔ اس کی غرض ہماری طرف ہی لوٹ رہی ہوتی ہے۔ *مثلاً نماز کا حکم دیا تو اس کا فائدہ بھی ہمیں ہی ہو رہا ہوتا ہے نہ کہ خدا کو۔*

خدا کے افعال کی غرض میں ہمیں ہی نقصان ہوتا ہےخدا ہمیں منع کرتا ہے ۔

جیسے قرآن مجید کی سورہ آل عمران کی آیت 190 میں ﷲ فرما رہا ہے کہ:

اِنَّ فِىْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّـهَارِ لَاٰيَاتٍ لِّاُولِى الْاَلْبَابِ (190)
بے شک آسمان اور زمین کے بنانے اور رات اور دن کے آنے جانے میں البتہ عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

صاحبان عقل ﷲ کو حالت قیام میں قنوت میں اپنے پہلو میں ﷲ کا ذکر کرتے ہیں اور آسمانوں و زمین کی خلقت میں سوچ و بچار کرتے ہیں اور کہتے ہیں پروردگارہ تو نے یہ سب کچھ فضول اور باطل خلق نہیں کیا اور ہمیں ﷲ تعالی تو عذاب جہنم سے دور رکھ۔ تویہاں ساری اغراض مخلوقات کی طرف لوٹتی خدا تو کسی چیز کا محتاج نہیں۔ وہ نہ بھی جہان بناتا وہ پھر بھی خدا تھا۔ یہ اس کے وجود اور صفات کا تقاضا ہے کہ وہ تخلیق کرے وہ رزق دے وہ زندگی دے۔ جیسے سورج جب روشنی دیتا ہے تو وہ محتاج نہیں بلکہ اس کے وجود کا تقاضا ہے کہ وہ دنیا کو روشنی دے اور اس کے وجود کی روشنی سے نبادات جمادات، حیوانات انسان سب استفادہ کریں۔

وہ خود محتاج نہیں ہے وہ منبع نور ہے اور نور دیتا ہے البتہ یہ مثال ہے۔ پروردگار منبع کمال ہے وہ کمالات دیتا ہے۔ خدا کے اندر جتنے بھی کمالات ہیں یہ ان کے تقاضے ہیں کہ جہاں اتنا بڑا بنا ہوا اوراس میں اتنے کام ہو رہے۔ اور پھر خدا کے تمام کمالات کا ہدف بھی یہی ہے کہ ہم بھی کمالات تک پہنچیں۔ ہم قبح اور غلط کاموں سے محفوظ ہوں اور اللہ کی بارگاہ میں ترقی کریں اور خدا نے کہا ہے جیسے حدیث قدسی ہے کہ:
اے میرے بندے تو میرے کاموں میں مجھ جیسا ہو۔ یعنی دوسروں کی خیرخواہی کے لیے کام کر۔

خلاصہ یہ ہے کہ پروردگار کی جو غرض ہے وہ موجودات کے لیے ہے۔ اس کے افعال غرض رکھتے ہیں لیکن فائدہ موجودات اٹھاتے ہیں۔ ہر ہر چیز کو اللہ نے جو خلق کیا ہے تو اس کا ایک ہدف ہے۔

قرآن میں ایک جگہ ﷲ فرماتا ہے
“میں نے جن و انس کو خلق کیا کہ وہ عبادت کریں”

یہاں اللہ نے تخلیق کی غرض بیان کی اور عبادت کی غرض یہ کہ لوگ کمال پائیں۔

والسلام۔

عالمی مرکز مہدویت قم۔

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید