عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

درس عقائد (عدل) – درس 1

درس عقائد
مہدی مضامین و مقالات

درس عقائد (عدل) – درس 1

کیوں عدل ہمارے اصول دین کا حصہ ہے؟,حسن و قبح عقلی کی بحث کیا ہے؟ افعال انسان کے حسن و قبح پر مکاتب اسلامی کا موقف

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ: 
موضوع سخن اصول دین میں بحث عدل ہے۔ 
ہمارے مکتب کے اصول دین توحید ، عدل، نبوت امامت اور قیامت ہیں۔ جبکہ دیگر مکاتب جیسا کہ اہلسنت ہیں وہ توحید، نبوت اور قیامت کو بیان کرتے ہیں اور وہ اپنے اصول دین میں عدل اور امامت کا موضوع نہیں لاتے۔

لہذا تین اصول میں ہم سب مسلمان اکھٹے ہیں توحید ، نبوت، قیامت۔ اسلیے ان کو اصول دین کہا جاتا ہے۔ عدل اور امامت ہمارے شیعہ مکتب میں بیان ہوئے ہیں اس لیے ان کو اصول مذہب بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن ہم سب کو مجموعی طور پر اصول دین کہتے ہیں۔

توحید پر ایک مفصل گفتگو ہو چکی ہے جس میں پروردگار اور اس کی صفات اور افعال پر کچھ نہ کچھ نہ کچھ نکات بیان ہوئے۔ آج سے ہم عدل پر گفتگو کریں گے۔ صفت عدل اللہ کے افعال کی صفت ہے۔ یعنی پروردگار عالم اپنے افعال کے اندر عادل ہے۔

بہت سارے لوگوں کے ذھنوں میں یہ سوال آسکتا ہے۔ کہ آیا ہم شیعہ عدل کو اصول دین میں لا رہے ہیں اور اہلسنت نہیں لا رہے تو کیا وہ اللہ کے عادل ہونے کے قائل نہیں ہیں۔

اصل میں اس کی وجہ ایک اختلاف ہے نہ کہ وہ اللہ کو عادل نہیں سمجھتے۔ وہ عدل کا جو معنیٰ کرتے ہیں ہمارا اس معنیٰ میں ان کے ساتھ ایک اختلاف ہے جو آج بیان کیا جائے گا۔ کہ جس کی بِنا پر شیعہ مذھب نے ضروری سمجھا کہ وہ اصول دین میں اللہ کی عدالت کو مستقل طور پر بیان کرے ۔

یہاں ایک اور نکتہ بیان کریں کہ فقط شیعہ مکتب اس بات کا قائل نہیں کہ اصول دین میں عدل بیان ہونا چاہیے بلکہ اہلسنت کا ایک مکتب معتزلہ جو تاریخ میں پہلے موجود تھا اور آج بھی بعض ممالک میں موجود ہے۔ وہ بھی اپنے اصول دین میں شیعوں کے ہمراہ عدل لاتے ہیں اور معتزلہ اور شیعہ مل کر عدلیہ کہلاتے ہیں۔

عدل کی ابحاث:
حسن و قبح عقلی:
یعنی آیا ہمارے افعال عقلی اعتبار سے حسن و قبح رکھتے ہیں؟ اس پر گفتگو کا آغاز ہوگا اور یہیں سے شیعہ اور اہل سنت کے اکثر مکاتب کے درمیان اختلاف سامنے آئے گا اور مسئلہ عدل ہمارے لیے واضح ہوگا۔

تمہید : 
عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ انسانوں کے افعال جو وہ اپنے اختیار سے انجام دیتے ہیں وہ تین طرح کے ہوتے ہیں ۔ بعض ایسے افعال ہیں کہ جو اچھے ہیں اور کرنے بھی چاہیے جیسے عدل اور احسان کرنا۔ اور بعض ایسے ہیں جو بُرے ہیں اور نہیں کرنے چاہیے اور جن کی مذمت ہے۔ جیسے کسی کے حق میں برائی ، ظلم یا خود گناہ۔
اور بعض ایسے افعال ہیں جو مباح ہیں۔

ہمارے بعض علماء جیسے محقق طوسیؒ اور علامہ حلیؒ کشف المراد میں فقہاء کے شیوا پر چلتے ہوئے پانچ اقسام بیان فرمائیں۔

وہ کہتے ہیں کہ انسانوں کے افعال دو قسم کے ہیں :

اختیاری افعال : 
جو ہم اپنے عقل و شعور سے انجام دیتے ہیں۔
اخیتاری میں شریعت ہمارے افعال کے لیے پانچ حکم جاری کرتی ہے۔

واجب :
ہر وہ عمل جس کا انجام دینا انسان پر فرض ہے۔ جیسے نماز ، روزہ ، حج زکوۃ، خمس، امر بالمعروف و نہی عن المنکر ، جہاد۔ واجب کو ترک کرنے سے سزا ملتی ہے اور انجام دینے سے ثواب ملتا ہے۔

مستحب :
ہر وہ عمل جس کو انجام دینا انسان پر فرض تو نہ ہو لیکن اس میں موجود بہتری اور اصلاح کے اعتبار سے انسان کے حق میں اسے انجام دینا بہتر ہو۔ اگر قصدِ قربت کے ساتھ اسے انجام دیا جائے تو اس پہ ثواب ملتا ہے۔ جیسے صدقہ ، اچھا اخلاق، مومن کی حاجت کو پورا کرنا، باجماعت نماز پڑھنا وغیرہ۔ ایسے افعال کو ترک کرنے سے سزا نہیں ملتی۔

مباح : 
ہر وہ عمل جو انسان اپنی حیات کے امور چلانے کے لیے بغیر قصد قربت کے انجام دیتا ہے۔ جیسے کھانا پینا وغیرہ۔ ایسے کام انجام دینے سے نہ تو ثواب ملتا ہے نہ ہی ترک کرنے پہ گناہ ملتا ہے۔

حرام: 
ہر وہ عمل جس سے اجتناب کرنا انسان پر فرض ہو اور شارع مقدس نے اسکے انجام دینے سے روکا ہو۔ جیسے ظلم، زنا، جھوٹ بولنا ۔ ملاوٹ کرنا غیبت، وغیرہ انسان اگر اسے انجام دیتا ہے تو اسے سزا ملتی ہے۔

مکروہ : 
ہر وہ عمل جس سے اجتناب کرنا انسان پر فرض تو نہ ہو لیکن اس عمل میں موجود مفسدہ کی وجہ سے اس عمل کو ترک کرنا انسان کے حق میں بہتر ہو۔ اگر قصد قربت سے اسے ترک کیا جائے تو اس پہ ثواب حاصل ہوتا ے جیسے مومن جو مدد کا محتاج ہو اسے رد کرنا ، فضول باتیں۔ وغیرہ۔

غیر اختیاری افعال:
جیسے کوئی مجنون یا کوئی سویا ہوا شخص کوئی عمل انجام دے)۔ اور ان کے لیے شریعت کچھ بھی نہیں کہتی۔ نہ واجب ، نہ مکروہ نہ مباح

اب یہ جو ہم اچھے اور برے افعال کر رہے ہیں تو ان کا اچھا یا برا ہونا ہمیں کہاں سے پتہ چلتا ہے؟

اسلام کے اندر مختلف عقائد و نظریات کے اعتبار سے مکاتب ہیں۔ جیسے

فقہ کے اعتبار سے:
حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اور جعفری ہیں
عقائد کے اعتبار سے:
اشعری ، ماتریدی ، وھابی اور معتزلی (اہلسنت) ، امامی (شیعہ)
معتزلی کافی حد تک شیعوں کے نزدیک ہیں۔
اشعری: دیوبند اور بریلوی۔
ماتریدی: ایک اور فرقہ ہے۔

اصل مسئلہ جو تاریخی اعتبار سے چل رہا ہے وہ ہم شیعہ امامی ، معتزلی اور اشعری میں ہے۔

گفتگو یہ ہے کہ جو ہم اچھے افعال انجام دے رہے ہیں تو ان کا اچھا ہونا عقلی اور ذاتی ہے یا شرعی اور اعتباری ہے۔ یعنی ہر فعل کے اندر اچھائی موجود ہے اس لیے وہ اچھا ہے۔ مثلاً عدل اچھا اس لیے ہے کہ وہ واقعاً اچھا ہے یا پھر شریعت نے اسے اچھا کہا ہے تو وہ اس لیے اچھا ہے۔ ظلم اگر قبیح ہے تو واقعی قبیح ہے اسی لیے اس کی مذمت ہوتی ہے یا پھر شریعت نے کہا ہے تو وہ قبیح ہے۔

اب یہاں دو نظریے ہیں۔
امامیہ اور متعزلی یہ کہتے ہیں کہ: انسانوں کے اچھے برے افعال کا اچھا برا ہونا ذاتی ہے اور خود ہماری عقل انہیں سمجھتی ہے۔ اور شریعت اس کی تائید کرتی ہے مثلاً عقل جانتی ہے کہ کوئی مسلمان ہو یا نہ ہو۔ دنیا کے کسی کونے ، ملت یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو وہ جانتا ہے کہ عدل اچھا ہے اور ظلم قبیح ہے یہاں کوئی دین کا بتانا ضروری نہیں۔ چونکہ عدل کے اندر حسن اس کا ذاتی ہے اور ہر عاقل کی عقل اسے درک کرتی ہے اور ظلم کے اندر قبح اس کا ذاتی ہے اور ہر عاقل کی عقل اسے درک کرتی ہے۔

شارع مقدس ( پروردگار اور اس کی جانب سے آنے والے نمائندے) بھی ہمیں عقل کے اس درک کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ کریں اور وہ نہ کریں۔ نہ کہ وہ حکم جو کہ شارع دے رہا ہے ان کے کہنے سے عدل اچھا نہیں ہے اور ظلم برا نہیں ہے یہ پہلے سے ہی ایسا تھا جب سے انسانی معاشرہ تشکیل پایا۔ یہ حسن و قبح ان افعال کی ذات میں موجود تھا۔

شریعت نے آکر بھی اس موجود حسن و قبح کی وجہ سے ان کے کرنے یا نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ شیعہ اور معتزلہ فرقے کا نظریہ ہے۔

جبکہ عقائد کے اعتبار سے اہلسنت کا مدمقابل فرقہ اشاعرہ (اشعری) یہ پاک و ہند میں بھی ہیں۔ یہ فقہی کے اعتبار سے حنفی ہوں شافعی ہوں فرق نہیں رکھنا لیکن عقائد کے اعتبار سے اشعری ہیں اور اکثریت میں ہیں۔ اور یہ کہتے ہیں کہ افعال کا حسن و قبح ذاتی نہیں ہے بلکہ اعتباری ہے۔

یعنی کوئی بھی عمل جو ہم اچھا یا برا انجام دیتے ہیں وہ اسلیے اچھا یا برا ہے کیونکہ اللہ نے کہا ہے۔

مثلاً عدل و ظلم میں کوئی فرق نہیں۔ عدل اسلئے اچھا ہے کہ اللہ نے کہا ہے اور ظلم اس لیے برا ہے کہ اللہ نے اسے برا کہا ہے۔ ہم شریعت کے تابع ہیں۔ جس کام کو شریعت اچھا کہے وہ اچھی ہے اور جس کام کو شریعت برا کہے وہ بری ہے۔

الحسن ما حسنه الشرع والقبيح ما قبحه الشرع 

امور کی لگام شریعت کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جسے چاہے اچھا یا برا کہے کل شریعت نے جس فعل کو اچھا کہا ہے اب اسے برا کہہ دے تو وہ برا ہے یعنی ہماری عقل کا کوئی درک نہیں ہے اور خود کاموں میں ایسی چیز نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ یہ کام بذات خود اچھا یا برا تھا۔

یہ جھگڑا شروع ہوا ہے اور اس پر دلائل قائم ہوئے اور اس پر مکتب عدلیہ قائم ہوا اور ہم اسے اصول دین میں موضوع بحث لاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم عدلیہ ہیں اور ہم اللہ کے عادل ہونے کے قائل ہیں۔

یعنی ہم کہتے ہیں کہ عدل ذاتاً حُسن رکھتا تھا اس لیے اللہ نے اس کا حکم دیا اور وہ کہتے ہیں کہ نہیں عدل اس لیے اچھا ہے کیونکہ اللہ نے اسے اچھا کہا ہے۔

ہم کہتے ہیں ظلم ذاتاً قبیح تھا اسلیے اللہ نے منع فرمایا لیکن وہ کہتے ہیں کہ نہیں ظلم اس لیے بُرا ہے کیونکہ اللہ نے اسے بُرا کہا ۔ اگر آج اللہ حکم دے دے کہ ظلم اچھا ہے تو پھر ظلم اچھا ہو جائے گا اور اگر اللہ عدل سے منع کر دےتو پھر عدل برا ہو جائے گا۔

ہم اس چیز کو نہیں مانتے۔ اور اس پر باقاعدہ دونوں طرف کے دلائل ہیں جو انشاءاللہ بیان کیے جائیں گے۔

پروردگار عالم سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو عقائد کے اعتبار سے پختہ فرمائے تاکہ ہم حجت خدا کے فکری اور علمی اعتبار سے محکم اور استوار سرباز بنیں۔
آمین۔
والسلام

عالمی مرکز مہدویت قم۔

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید