عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

درس عقائد توحید/ معرفت پروردگار سے مراد قسط 2

درس عقائد توحید
مہدی مضامین و مقالات

درس عقائد توحید/ معرفت پروردگار سے مراد قسط 2

درس عقائد (توحید) دوسرا درس
معرفت پروردگار سے مراد

استاد محترم، آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ :

معرفت پروردگار سے مراد کیا ہے؟
1 ۔ ذات پروردگار کی شناخت حاصل کرنا چاہتے ہیں یعنی اللہ کی حقیقیت کو جاننا چاہتے ہیں۔
اور آیا یہ ممکن ہے کہ ہم پروردگار عالم کی حقیقت کو جانیں کہ وہ کیا ذات ہے؟
تو یہاں ہمارے علمائے کرام تمام آئمہؑ اور خود رسولؐ اللہ یہ کہیں گے کہ پروردگار عالم کی ذات کو جاننا ہمارے لیے ناممکن ہے اسلیئے کہ وہ لامحدود ہے اور ہم محدود ہیں۔

محدود موجودات لا محدود کو کبھی بھی مکمل جان نہیں سکتے کیونکہ محدود کا علم بھی محدود ہے جس کی لا محدود تک رسائی نہیں۔ کہ ہم پروردگار عالم کی شناخت پیدا کریں۔

اللہ کی ذات بہت عظیم اور لا محدود ہے۔ تو اب کیسے ممکن ہے کہ ہم کیسے ناقص اور محدود علم کے ذریعے ایک مطلق اور لامحدود ذات کو سمجھ سکیں۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے سمندر کو ایک کوزے میں بند کرنا ناممکن ہے۔

قرآن مجید میں سورہ طحہ 110 نمبر آیت میں ارشاد ہو رہا ہے کہ :

يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْـهِـمْ وَمَا خَلْفَهُـمْ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا

وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے اور پیچھے ہے اور ان کا علم اسے احاطہ نہیں کر سکتا۔

تو اب معرفت پروردگار سے مراد کیا ہے؟
معرفت کا پہلا مرتبہ:
خدا کے موجود ہونے کا قائل ہونا:

ہم ذات پروردگار کو تو نہیں سمجھ سکتے لیکن یہ کائنات خالق رکھتی ہے مالک رکھتی ہے ، رازق رکھتی ہے اس کو جاننا معرفت پروردگار ہے یعنی اللہ موجود ہے۔ جب ہم مختلف دلائل سے اللہ کے موجود ہونے کو جان لیں گے تو یہ ایک مرتبہ توحید جو ہمارے اندر پیدا ہو گا اور ہم ملحدین (اللہ کا انکار کرنے والے) سے جدا ہو جائیں گے۔ یا ایک طبقہ ہے جوشکاک کہلاتا ہے یعنی اللہ کے وجود میں شک کرنے والے۔ تو ہم ان لوگوں سے جدا ہوکر الہیٰ لوگوں میں آجائیں گے۔
معرفت کا دوسرا مرتبہ :
اللہ کے اوصاف اور اس کے افعال کو جاننا:

قرآن مجید میں پروردگار عالم کی بہت ساری صفات بیان ہوئیں

مثلاً وہ واحد ہے وہ سمعی ہے ، بصیرہے ، سخی ہے، وہ علیم ہے اتنے اسما اور صفات اور افعال سے مراد یہ ہے کہ وہ علم جس میں ہم خدا کے خالق ہونے کو رازق ہونے کو، کائنات کے نظام کو چلانے والا، زندہ کرنے والا اور مارنے والا جب ہم ان افعال کو جانتے ہیں اور کچھ صفات ذات سے تعلق رکھتی ہیں جیسے خدا حی، عالم ، قادر ہے.

یہ معرفت کا دوسرا مرحلہ ہے۔جب ہم پروردگار کی توحید کے قائل ہیں تو مخالفین سے جدا ہو جائیں گے۔ جیسے مسیحی کہتے ہیں خدا کا بیٹا ہے ، خدا کا جسم ہے نعوذ باللہ ان سب سے دور ہو جائیں گے۔
اور مسلمانوں میں بھی ایسے طبقات ہیں جو اللہ کے جسم کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا انسانی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے تو ہم ان سے بھی دور ہو جائیں گے۔ اور خالصتاً ہم وہ مسلمان اور مومن ہو نگے جو خدا واحد لاشریک کے قائل ہیں۔

ایسا خدا کہ :
ليس كمثله شيء

جس کی مانند کوئی چیز نہیں وہ خدا جو لامحدود ہے جو جسم و جسمانیت کی قید میں نہیں آتا جو ہماری آنکھوں کی قید میں نہیں آتا۔ جیسے اللہ نے حضرت موسیٰ ؑ کو کہا تھا تو ہرگز مجھے نہیں دیکھ سکتا۔
ایسے فرقے بھی ہیں جو کہتے ہیں اللہ آخرت میں نظر آئے گا کچھ کہتے ہیں کہ اللہ دنیا میں بھی نظر آئے گا۔ ہم اس طرح کے گمراہ عقیدوں سے جدا ہوجاتے ہیں اور معرفت اور توحید کے مقام کو سمجھتے ہیں۔

نکات:
خدا کی معرفت کے دو مرتبے ہیں ۔
1 ۔ خدا کے موجود ہونے کو جان لیں
2۔ خدا کے اوصاف اور افعال کو سمجھیں ۔

ترتیب و پیشکش: سعدیہ شہباز

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید