زیارت آل یاسین
درس 14
امام مہدی عج ترجمان اور مفسر قرآن
استاد محترم قبلہ علامہ علی اصغر سیفی صاحب
۔۔ ﷽۔۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا تَالِیَ كِتَابِ ﷲِ وَتَرْجُمَانَہٗ
سلام ہو آپؑ پر اے قرآن کے قاری اور اس کی تفسیر کرنے والے
ہماری گفتگو زیارت آل یاسین میں ہے۔ اور ہم درج بالا سلام تک پہنچے ہیں۔ عرض کیا تھا کہ امام زمانؑ عج کو قرآن مجید کا حقیقی تلاوت کرنے والا قرار دیا۔ اور یہ بھی عرض کیا کہ پیغمبرؐ اسلام ﷺ نے اپنے بعد امت کی ہدایت کے لیے دو چیزوں کو چھوڑا ایک قرآن مجید اور دوسری اپنی عترؑت، اہلبیتؑ۔
قرآن کتاب ہدایت ہے اور ہر دور میں رسولؐ اللہﷺ کی عترت میں سے ایک فرد معلمِ قرآن ہے کہ جس کے ذریعے قرآنی ہدایت لوگوں کی طرف منتقل ہوگی۔
امام زمانؑ کا دوسرا لقب اس سلام میں ترجمان ہے۔
ترجمان یعنی امامؑ عج اس ہدایت الہیٰ کو دوسری زبانوں میں ترجمہ کرتے ہیں۔
حتی، خود عرب لوگ کہ جن کی اپنی زبان عربی ہے وہ بھی قرآن کی ہدایت لینے میں اور اس کی تفسیر لینے میں امام زمانؑ عج کے محتاج ہیں۔
یعنی!
پیغمبرؐ اسلام ﷺ کے بعد امام وقتؑ ہیں کہ جو قرآن کی حقیقی تفسیر کر سکتے ہیں۔
سبحان اللہ!
قرآن کے اندر بہت ساری چیزیں ہیں بعض آیات محکم ہیں بعض متشابہ ہیں بعض عام و خاص ہیں بعض ناسخ ہیں اور بعض منسوخ ہیں اور یہ تمام چیزیں امامؑ وقت بیان کرتے ہیں کیونکہ اہلبیتؑ ہی حقیقیت میں قرآن کے مخاطب ہیں۔ وہ قرآن کو اچھے انداز سے سمجھتے ہیں اور بہترین انداز سے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اصل میں قرآن کیا کہتا ہے۔
روایت:
کتابِ شریف الکافی میں روایت ہوئی ہے کہ ایک شخص جناب قتادہ بن دعامہ امام محمد باقرؑ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو امامؑ فرماتے ہیں کہ:
اے قتادہ مجھے یہ بتا، سنا ہے کہ آپ اہل بصرہ میں فقیہ ہیں۔
کہا : جی ہاں! لوگ ایسا سمجھتے ہیں۔
فرمایا : میں نے یہ بھی سنا ہے کہ تم لوگوں کے لیے قرآن کی تفسیر کرتے ہو۔
کہا : جی ہاں!
فرمایا : کیا اپنے علم سے کرتے ہو یا جاہلانہ انداز سے کرتے ہو؟
کہا : نہیں! میں اپنے علم سے کرتا ہوں۔
مولاؑ نے فرمایا : اس کا مطلب ہے کہ خود کو عالم سمجھتے ہو۔ ٹھیک ہے تو پھر میں تم سے ایک سوال کرتا ہوں۔
یہ جو قرآن مجید کی سورہ سبا کی آیت نمبر 18 میں پروردگار فرما رہا ہے کہ:
وَّقَدَّرْنَا فِيْـهَا السَّيْـرَ ۖ سِيْـرُوْا فِيْـهَا لَيَالِـىَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيْنَ
اور ہم نے ان میں منزلیں مقرر کر دی تھیں تم ان میں راتوں اور دنوں کو امن سے چلو۔
مجھے یہ بتاؤ کہ اس آیت میں اللہ نے کن لوگوں کے بارے میں بیان کیا
قتادہ کہنے لگا : اصل میں یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے کہ جو حج اور عمرہ کے لیے جاتے ہیں ، وہ کاروان کی شکل میں جاتے ہیں یا پھر اکیلے اور ان کے پاس حلال مال ہو اور حلال مال سے لی ہوئی سواری ہو تو اللہ ان کو امن و امان دے رہا ہے کہ جب آپ خانہ خدا کی زیارت کے لیےچلیں گے تو پروردگار آپ کے جانے اور گھر کو واپس لوٹنے کے امن و امان کی ضمانت دے رہا ہے۔
اب مولاؑ نے فرمایا:
مجھے خدا کی قسم! سوچ کر بتاؤ کہ یہ جو تفسیر تم اپنی جانب سے کر رہے ہو یہ بتاؤ کہ آیا وہ لوگ جو خانہ خدا کی زیارت کے لیے جاتے ہیں تو ان پر ڈاکو حملہ نہیں کرتے اور ان کا مال نہیں لوٹتے۔ حتی، بہت سارے لوگ تو ان ڈاکوؤں کے ہاتھوں مارے بھی جاتے ہیں تو پھر وہ الہیٰ ضمانت کہاں ہے
کہنے لگا : آپؑ ٹھیک فرما رہے ہیں۔ حملے تو ہوتے ہیں۔
فرمایا : پھر کیوں اپنی طرف سے تفسیر کر رہےہو
کیوں قرآن کو نہیں سمجھ پائے۔
اصل میں یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو خانہ خدا کے زوار ہیں اور ہم اہلبیتؑ سے محبت کرتے ہیں اور ہم سے آشنا ہیں۔ اللہ ان کو امن و امان فراہم کر رہا ہے۔ اور وہ امن و امان دنیاوی نہیں بلکہ اخروی ہے۔
فرمایا کہ: تم نے قرآن مجید کی آیت نمبر 37 میں یہ نہیں پڑھا کہ:
فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَـهْوِىٓ اِلَيْـهِـمْ
پھر کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے
یہاں اللہ کن کی جانب لوگوں کے دلوں کو مائل کردے اور کن کی محبت کی جانب متوجہ کردے یہاں اس سے مراد ہماری محبت ہے یعنی ہم اہلبیتؑ سے۔
وہ لوگ جو ہم سے محبت کرتے ہیں اور خانہ خدا کے زائر بھی ہیں تو روز قیامت یہ لوگ نار جہنم سے محفوظ ہونگے۔ کیونکہ ان کی زیارت اور ان کا حج ہماری محبت کی وجہ سے مورد قبول ہوگا۔ اور اس دن ہلاکت سے بچ جائیں گے۔
اصل تفسیر یہ ہے نہ کہ دنیا کے اندر پروردگار نے راستوں کی ضمانت قرار دی ہے بلکہ اخروی ضمانت قرار دی ہے۔
کہنے لگا: آج کے بعد میں اپنی جانب سے تفسیر نہیں کروں گا بلکہ جس طرح آپؑ نے فرمایا اس طرح کروں گا۔
مولا امام محمد باقرؑ العلوم نے فرمایا:
وائے ہو تم پر
قرآن کو صرف وہی سمجھتے ہیں کہ جن کو قرآن نے خطاب کیا اور جن کو قرآن نے خطاب کیا وہ صرف اور صرف پیغمبرؐ ﷺ اور ان کی پاک آل ہے۔
اللھم صل علی محمؐد ﷺ و آل محمؑد ﷺ
امیرالمومنینؑ فرماتے ہیں کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ علم میں راسخ ہیں۔ اور ہم اہلبیتؑ نہیں ہیں اور انہوں نے جھوٹ اورظلم کے ساتھ اپنے لیے یہ گمان رکھا اور اس وجہ سے کہ اللہ نے ہمیں بلندی اور عظمت دی اور انہیں پست رکھا اور اللہ نے ہمیں علم بخشا اور ان سے علم کو دور کیا اور اللہ نے اپنی بارگاہِ عنایت میں ہمیں داخل کیا اور انہیں خارج کیا۔
خدا یہ چاہتا ہے کہ ہمارے ذریعے لوگوں کو ہدایت ملے اور ان کا اندھا پن دور ہو۔ یہ منشائے پروردگار ہے۔ اور بلاشبہ اللہ نے درخت امامت کو قریش میں خاندانِ اہلبیتؑ میں قرار دیا ہے۔ اور یہ منزلت اور مقام دوسرے لوگوں کے لیے نہیں ہے کیونکہ وہ اس کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
یہ آئمہؑ اہلبیتؑ ہی ہیں کہ جن کے پاس علم الکتاب ہے ، جو وارث کتاب ہیں اور اہل ذکر ہیں۔
سبحان اللہ!
جیسے عبداللہ بن عطاء کہتا ہے کہ امام محمد باقرؑ کی خدمت میں عرض کیا:
عبداللہ ابن سلام کا بیٹا یہ سمجھتا ہے کہ یہ جو آیت ہے کہ:
ومن عنده علم الكتاب
اس سے مراد اُس کے بابا ہیں۔
فرمایا: وہ جھوٹ کہتا ہے۔
اس سے مراد فقط اورفقط علی ابن ابی طالب ہیں۔
بس، ہر دور میں ایک ہستی ہے جو قرآن کے ترجمان ہیں اور اس دور میں امیرالمومنینؑ تھے اور آج امام زمانؑ ہیں کہ جن کے ذریعے قرآن سے ہدایت کا سلسلہ امت تک پہنچ رہا ہے۔ ہاں! زمانہ غیبت میں ان کے نائبین یہی علماء اور فقہاء علوم آل محمدؑ ﷺ اور علوم قرآن کو لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔ البتہ اس میں ان کے سرپرست امام زمانؑ عج ہیں اور زمانہ ظہور میں امامؑ براہ راست یہ نظام برقرار کریں گے۔
انشاءاللہ!
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس زیارت سے فیض لینے اور مولاؑ امام زمانؑ سے فیض لینے کی توفیق عطا فرمائے۔
الہیٰ آمین!
والسلام،
عالمی مرکز مہدویت قم ایران