درس حدیث مہدویت
آخر الزمان میں ھدایت کا پرچم کونسا ہوگا؟
خراسانی کی حقیقت
استاد محترم قبلہ علامہ علی اصغرسیفی صاحب
ثم قال علیہ السلام:
خُرُوجُ الثّلاثَة: الخُراسانِیّ وَالسُّفْیانیّ وَالیَمانِیّ فِی سَنَةٍ واحِدَةٍ فِی شَهْرٍ واحِدٍ فِی یَوْمٍ واحِدٍ
فرماتے ہیں کہ خراسانی، سفیانی اور یمانی یہ تینوں رہبر ایک ہی سال میں، ایک ہی مہینے میں حتی ایک ہی دن خروج کریں گے۔
سفیانی کا خروج سرزمین شام سے ہوگا خراسانی کا خروج مشرق سے ہے اور یمانی کا خروج سرزمین یمن شہر صنعاء سے ہوگا، یہ تینوں رہبر ایک ہی سال میں ایک ہی مہینے میں ایک ہی دن میں مختلف مقامات سے قیام کریں گے۔
احادیث کے مطابق وہ مہینہ ماہِ رجب ہے۔ یعنی ایک مرتبہ اسلامی دنیا کا نقشہ تبدیل ہو جائے گا کیونکہ تین رہبر ایک وقت میں اٹھیں گے۔ یعنی ! خراسانی خراسان سے اور اب یہ کون سا خراسان ہے یہ بھی معلوم نہیں کہ قدیم زمانے کا خراسان ہے ۔ جیسا کہ قدیم زمانے کے خراسان کی سرحدیں ملتان تک جاتیں تھیں۔ یعنی! حتی ملتان کے لوگ بھی اس میں شامل ہونگے۔ اسی طرح سندھ ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے علاقے بھی اس کے اندر آتے ہیں۔ قدیم زمانے کے خراسان میں ازبکستان، تاجکستان، افغانستان، صوبہ سرحد کے علاقے بھی شامل ہیں۔
کہتے ہیں کہ جب خراسانی کی افواج نکلیں گی تو ملتان سے گذرتی ہوئی جائیں گی۔ یعنی! اس کا مطلب یہ ہے کہ خراسانی ایک بہت بڑا رہبر ہوگا جو بہت بڑی تعداد کے ساتھ نکلے گا۔
روایت یہ ہے کہ یہ تینوں رہبر ایک ہی وقت میں قیام کریں گے اور دنیائے اسلام بڑی بڑی تحریکوں کو دیکھے گی۔ اس لیے تو ہم کہتے ہیں کہ ابھی کوئی ایسی تحریک سامنے نہیں آئی۔ ابھی ایسے ہی کسی بھی شخص کو یمانی، خراسانی اور سفیانی نہیں کہنا چاہیے۔ اور جب یہ تین طاقتیں اٹھیں گی تو دنیا کا نظام عجیب و غریب ہو جائے گا۔
اس کے بعد جو فیصلہ کن بات ہے وہ یہ ہے:
وَلَیْسَ فِیها رایَةٌ بِأَهْدی مِنْ رایَةِ الْیَمانِیّ یَهْدِی إِلَی الْحَقِّ
ان سب کے پرچموں میں ہدایت والا پرچم یمانی کا ہے۔
یعنی ! ہمارا جو وظیفہ ہے وہ یمانی کا ساتھ دینا ہے۔رسولؐ اللہﷺ فرماتے ہیں کہ یمانی کا پرچم ہدایت والا ہوگا۔
اور یمانی کیوں پرچمِ ہدایت رکھتا ہے؟؟
کیونکہ ! یمانی ہمیں امام زمان عج کی جانب دعوت دیں گے۔ پھر فرماتے ہیں کہ جو یمانی کے مدمقابل کھڑا ہوگا وہ جہنمی ہے۔کیونکہ
الْیَمانِیّ یَهْدِی إِلَی الْحَقِّ
یمانی حق کی جانب دعوت دینے والے ہونگے۔
غور فرمائیں:تین طاقتیں اٹھیں گی:
یمانی،خراسانی،سفیانی
اور ہمیں جس طاقت کا ساتھ دینے کا حکم ملا ہے وہ یمانی ہیں۔
خراسانی:
ایران کے اندر بہت سارے اہل منبر خراسانی کا بہت زیادہ ذکر کرتے ہیں۔ جبکہ خراسانی کے حوالے سے ایسا کوئی ذکر نہیں کہ آپ اس کے پاس جائیں اور اس کا ساتھ دیں۔
وہ ہستی جس کا ساتھ دینے کا حکم ہے وہ جناب یمانی ہیں کہ وہ امام حسین کی نسل سے ہیں۔ جبکہ خراسانی کے نسب پر اعتراض ہے۔ ہمارے بعض علماء خراسانی کو سید نہیں مانتے۔ روایات میں ہے کہ وہ ایک ھاشمی جوان ہیں اور بعض انہیں قبیلہ بنی تمیم سے کہتے ہیں۔
کچھ لوگ منبر سے ایران کے رھبر کو خراسانی کہتے ہیں حالانکہ روایات میں جس ہستی کو خراسانی کہا گیا ہے اس کا سید ہونا مشکوک ہے۔ پھر اس کا قیام بھی چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہے۔ اس نے بھی رجب میں قیام کرنا ہے اور محرم میں امام مھدی عج کا ظہور ہے۔ انشاءاللہ۔
یہ ساری چیزیں بعض مرتبہ ہمارے منبر سے پھیلائی جاتی ہیں جبکہ تحقیقی لحاظ سے اگر ہم غور کریں تو حقائق کچھ اور ہیں۔
خراسانی کی اصل مشکل یہ ہے کہ وہ خود مہدی ہونے کا دعوٰی کرے گا۔ ہمارے شیعہ علماء کے جن میں آغا علی کورانی کہ خدا ان کو غریق رحمت کرے۔ ان کے علاوہ کوئی بھی خراسانی کے حوالے سے مثبت نظریہ نہیں رکھتا۔
جناب کورانی نے ایک کتاب لکھی تھی (عصر ظہور)۔
یہ معروف کتاب ہے اس کتاب میں انہوں نے خراسانی کو بہت اچھی شکل میں پیش کیا کہ خراسانی امام مہدی عج کی جانب دعوت دے گا۔ اور جناب شعیب ابن صالح ان کی ہمراہی کریں گے اور آخر میں یہ امام مہدی عج کے ساتھ مل جائیں گے۔ اور ایران میں یہ تفکر علی کورانی کا ایجاد کردہ ہے اور ہمارے محقیین نے اس پر سخت انتقاد (تنقیدی نظر) کیا ہے۔
خود کتاب عصر ظہور کی پیشتر روایات اہلسنت کی ہیں۔ مثلا اسکا ایک بڑا منبع کتاب الفتن ابن حماد ہے، اور کتاب الفتن ابن حماد ہمارے نزدیک معتبر نہیں کیونکہ وہ بالآخر معصوم سے صادر نہیں۔
علی کورانی کی نگاہ کچھ زیادہ معروف نہیں،ہم خود اس حوالے سے روایات کو جمع کریں تو ہمارے سامنے حقائق واضح ہو جائیں گے۔ اس روایت میں معصوم نے دو مرتبہ فرمایا:
کہ جتنے پرچم مہدی عج کے ظہور سے قبل بلند ہونگے ان میں سے سب سے ہدایت والا پرچم یمانی کا ہے۔ کیونکہ یہ ہمیں صاحب الزمان عج کی جانب دعوت دے گا۔ حتی کہ معصوم نے فرما دیا کہ جو بھی یمانی کے مدمقابل کھڑا ہوگا وہ جہنمی ہے۔
فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان کے لیے قرار نہیں کہ وہ یمانی کے مدمقابل آئے اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ جہنمی ہے۔
خراسانی کے حوال سے اگر بیان کریں تو اسلامی سرزمینوں کا مشرق معلوم کیا جائے تو مدینہ و مکہ سے مشرق یہی علاقے بنتے ہیں۔ افغانستان، ازبکستان، ایران وغیرہ۔ تو اس جگہ سے خراسانی کا قیام ہے اور اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کا پرچم سیاہ ہے۔ اور یہ ایک جوانِ ھاشمی ہے اور لازمی نہیں کہ یہ سید ہو اور اس کے دائیں ہاتھ پر خال ہے یعنی تِل کا نشان ہے، ہمارے بعض اہل منبر حتی میڈیا پر ہے کہ کچھ لوگوں نے اس کا معنیٰ خلل کیا اور اس کو رہبر معظم سے تطبیق دی جو کہ غلط ہے۔
خراسانی : سیاہ پرچموں کے ساتھ نکلے گا اور اس کا ہدف کوفہ عراق ہوگا۔ یہ کوفہ کو اپنا مرکز بنانا چاہتا ہوگا کیونکہ مہدی ہونے کا دعویٰ رکھتا ہے اور سفیانی بھی ادھر سے کوفہ کو اپنا مرکز بنانا چاہتا ہے، اور یمانی بھی پہنچیں گے تاکہ شعیان مہدی عج کو ان کے مظالم سے بچائیں۔
والسلام۔
عالمی مرکز مہدویت_ قم