تازہ ترین پوسٹس

درس آل یاسین_ امام مہدی ؑ عج الہیٰ ارادہ اور قرآن کے حقیقی قاری

درس آل یاسین

درس:13
امام مہدی ؑ عج الہیٰ ارادہ اور قرآن کے حقیقی قاری

استاد محترم قبلہ علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب

۔۔۔ ﷽ ۔۔۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا حُجَّۃَ ﷲِ وَدَلِیْلَ اِرَادَتِہٖ
آپؑ عج پر سلام ہو اے خدا کی حجت اور اس کے ارادے کے مظہر
سلسلہ دروس زیارت مبارکہ آل یاسین ہیں اور ہماری گفتگو اللہ تعالیٰ کے ارادہ میں ہو رہی ہے۔ یہ نظام کائنات اللہ تعالیٰ کے ارادے کی دلیل ہے لیکن! کیوں امام معصومؑ عج کو اللہ تعالیٰ کے ارادے کی دلیل کہا گیا ہے؟؟

اسی کی اہم وجہ یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کا جو ارادہ تشریعی ہے یعنی شریعت کے امور کا ارادہ ہے وہ انبیاءؑ اور آئمہؑ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے ان سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پروردگار کون سی چیز چاہتا ہے اور کون سی نہیں چاہتا۔ شریعت کے حلال و حرام، واجبات و مستحبات، مکروہات و مباہات سب ان ہستیوں کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے۔

پیغمبرؐ اسلام ﷺ اپنے زمانے میں اللہ کے ارادے کی دلیل تھے اور ان کے بعد ان کے اوصیاؑء ہیں۔ کیونکہ کچھ دین پیغمبرؐاسلامﷺ نے ضرورت کے مطابق اپنے زمانے میں بیان کیا اور باقی اپنے اوصیاءؑ کے حوالے کیا اور ہر دور میں ایک وصیؑ اور ایک امامؑ خدا کے ارادے کو بیان کر رہا ہے اور یہ وہی علوم ہیں کہ جو اسے پچھلے امامؑ اور پیغمبرؐﷺ سے حاصل ہوئے۔

ہم ہرگز یہ نہیں کہتے کہ ہمارے امامؑ عج پر کوئی علیحدہ سے کوئی وحی ہوتی ہے۔ نہیں بلکہ آخری شریعت کی وحی خود نبیؐ اکرمﷺ پر ہوئی اور یہ دین بالترتیب بیان ہو رہا ہے۔ اور جب امامؑ عج ظہور فرمائیں گے کہ تو اُس وقت بھی دین کے کچھ مسائل جو ابھی بیان نہیں ہوئے ہونگے انہیں بیان ہونگے۔ اور لوگوں کو لگے گا کہ “یاتی بدین جدید” کہ مولاؑ کوئی نیا دین لے کر آئیں ہیں۔ حالانکہ یہ وہی دین ہے کہ جسے پیغمبرؐ اسلامﷺ نے بیان کرنا شروع کیا تھا۔ پھر ان کے اوصیاؑ بیان کرتے رہے اور اب امام زمانؑ عج اس دین کو مکمل بیان کریں گے۔

معصومینؑ کو ارادہ الہیٰ کہنے کی ایک اور وجہ:
ان ہستیوں کو الہیٰ ارادے پر دلیل کہنے کی ایک اور وجہ بھی ہو سکتی ہے۔ کہ ان ہستیوں کے جلوے اور انداز اللہ کے ارادے کو بیان کرتے ہیں کہ اگر یہ ہستیاں کسی پر راضی ہیں تو اللہ راضی ہے اور اگر یہ ہستیاں کسی پر ناراض ہیں تو اللہ ناراض ہے۔ یعنی خدا ان ہستیوں کے ذریعے اپنی رضائیت کا اظہار کر رہا ہے۔ کہ اگر یہ ہستیاں کسی کی شفاعت کر رہی ہیں تو اللہ شفاعت کر رہا ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ پروردگار قرآن مجید میں فرما رہا ہے کہ اے پیغمبرؐﷺ تو تیر نہیں مار رہا بلکہ میں مار رہا ہوں۔

پیغمبرؐ ﷺ کے ہاتھ کو اللہ نے اپنا ہاتھ قرار دیا۔ یعنی پیغمبرؐﷺ کے تمام احساسات، گفتگو اور عمل وہ گویا ارادہ الہیٰ کو پیش کر رہا ہے۔

اس کے بعد والا سلام ہے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا تَالِیَ كِتَابِ ﷲِ وَتَرْجُمَانَہٗ
سلام ہو آپؑ پر اے قرآن کے قاری اور اس کی تشریح کرنے والے

پروردگار کی کتاب کی تلاوت:
تلاوت سے مراد:
اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید کو پڑھنے اور قرائت کے عمل کو تلاوت کہتے ہیں۔ اور ویسے تلاوت کے معنیٰ کلمات کا ایک دوسرے کے بعد آنا۔

لفظ ‘ *تلاوت* ‘ ہماری دینی ادبیات میں صرف قرآن مجید کے لیے استعمال ہوا ہے اور قرآن کے علاوہ کسی اور کتاب کو یا کسی اور چیز کو یہ نہیں کہہ سکتے بلکہ کہیں گے کہ ہم اس کو پڑھ رہے ہیں۔ لیکن! قرآن مجید کو ہم جب بھی پڑھیں گے تو احترام اور اس کے ادب کے پیش نظر ہم اس عمل کو تلاوت کہیں گے۔ قرآن مجید کا یہ ادب ہمیں خود پروردگار نے سیکھایا ہے۔

قرآن مجید کی سورہ یونس کی 61 نمبر آیت میں پروردگار فرما رہا ہے کہ:

وَمَا تَكُـوْنُ فِىْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ
اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں سے کچھ تلاوت کرتے ہو

اب یہاں پروردگار نے خود تلاوت کی گفتگو فرمائی۔

سورہ فاطر 29 میں پروردگار فرما رہا ہے کہ:
اِنَّ الَّـذِيْنَ يَتْلُوْنَ كِتَابَ اللّـٰهِ
بے شک جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت ہیں

سورہ البقرہ 121
اَلَّـذِيْنَ اٰتَيْنَاهُـمُ الْكِتَابَ يَتْلُوْنَهٝ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ
وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے پڑھتے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے

تو کلمہ تلاوت آسمانی کتابوں یعنی وحی الہیٰ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

امام زمانؑ عج کو کیوں یا تالی کتاب اللہ کہا گیا ہے اے قرآن مجید کے قاری

دنیا میں اتنے مسلمان ہیں کہ جو قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں مگر امام زمانؑ عج کو کہا گیا کہ اے قاری قرآن کیونکہ اصل میں امامؑ عج ہی قرآن کی تلاوت کرنے والے ہیں کہ جن کو پتہ ہے قرآن کے اداب کیا ہے اور حق تلاوت کیا ہے۔

اصل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ ہستی کہ جس کی ذمہ داری ہے اور جس ہستی کا وظیفہ ہے کہ وہ قرآن مجید کی تلاوت کرے تو وہ امام معصومؑ ہیں۔ یعنی! اللہ تعالیٰ نے امامؑ معصوم کو تلاوت قرآن کا مقام رسمی طور پر دیا اور ہم لوگ جب قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو وہ اپنے امامؑ عج کی پیروی اور اقتداء میں کرتے ہیں۔ ورنہ اصل وارث قرآن تو الہیٰ حجت ہیں۔

سورہ فاطر کی آیت نمبر 32 میں پروردگار نے ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ:
ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡکِتٰبَ الَّذِیۡنَ اصۡطَفَیۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا
پھر ہم نے اس کتاب (قرآن) کا وارث ایسے لوگوں کو بنایا جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چُن لیا
یہ وہ ہستیاں ہیں کہ جنکے پاس قرآن کا علم ہے

سورہ الرعد 43
قُل کَفیٰ بِاللہِ شَھیداً۔ بَینی و بَینَکم۔ وَمَن عِندَہ علمُ الکتٰب43
اے پیغمبرؐﷺ آپؐ کہیں کافی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور آپ کے درمیان کافی ہے کہ وہ لوگ گواہ قرار پائیں کہ جن کے پاس علم کتاب ہے۔

اور پھر امام زمانؑ عج وہ ہستی ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت اور طاقت دی ہے کہ وہ قرآن کی تفسیر کریں۔ دین کے اندر حقیقی مفسر قرآن ہمارے پیغمبرؐ اسلامﷺ ہیں۔ اور ان کے بعد ان کے اوصیا ہیں کہ جن کو حق تفسیر ہے اور اگر کوئی اور ان کے علاوہ تفسیر کرے گا تو یہ تفسیر بالرائے ہے کیونکہ ان کے علاوہ کسی کو تفسیر کرنے کا حق نہیں یہ خود ایک بہت بڑا گناہ ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

پروردگار ہمیں توفیق دے کہ ہم زیارت آل یاسین سے روحانی فیض لیں۔ اور زیارت پڑھتے وقت ہمارے سامنے امام معصومؑ عج کا حقیقی مرتبہ ظاہر ہو تاکہ ہماری معرفت مکمل ہو۔ انشاءاللہ۔
والسلام۔
عالمی مرکز مہدویت قم ایران

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *