عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

حدیث شریف معراج – چودھواں درس

حدیث شریف معراج
مہدی مضامین و مقالات

حدیث شریف معراج – چودھواں درس

حدیث شریف معراج 
چودھواں درس
یا أَحْمَدُ! إِنَّ العِبادَةَ عَشْرَةُ أَجْزآء: تِسْعَةٌ مِنْها طَلَبُ الحَلالِ; فَإِذا طَیَّبْتَ مَطْعَمَکَ وَمَشْرَبَکَ، فَأنْتَ فى حِفْظی وَکَنَفی. قالَ: یا رَبِّ! ما أَوَّلُ العِبادَةِ؟ قالَ: یا أَحْمَدُ! أَوَّلُ العِبادَةِ، أَلصَّمْتُ وَالصَّوْمُ. قالَ: هَلْ تَعْلَمُ ـ یا أَحْمَدُ! ـ ما میراثُ الصَّوْمِ؟ قالَ: لا، یا رَبِّ! قالَ: میراثُ الصَّوْمِ قِلَّةُ الأَکْلِ وَقِلَّةُ الکَلامِ. وَالْعِبادَةُ الثّانِیَةُ، أَلصَّمْتُ، وَالصَّمْتُ یُورِثُ الحِکْمَةَ، وَتُورِثُ الحِکْمَةُ المَعْرِفَةَ، وَتُورِثُ المَعْرِفَةُ الیَقینَ;فَإِذَا اسْتَیْقَنَ العَبْدُ لا یُبالى کَیْفَ أَصْبَحَ; بِعُسْر أَمْ بِیُسْر; فَهذا مَقامُ الرّاضینَ
اے احمد ! عبادت کے دس حصے ہیں کہ اس میں نو حصے حلال روزی کی طلب و جستجو ہے۔جب تیری خوراک پاک ہو جائیگی تو میری حفاظت و حمایت میں قرار پائیگا۔
نبی کریم (ص) نے عرض کی ؛ میرے رب : عبادت کا آغاز کس سے ہوتا ہے(یعنی اسکا سر چشمہ کیا ہے) تو پروردگار نے فرمایا؛ اے احمد: عبادت کا آغاز خاموشی اور روزہ ہے ۔
اے احمد! جانتے ہو روزے کا نتیجہ و ثمرہ کیا حاصل ہوتا ہے؟ نبی کریم (ص) نے عرض کی نہیں میرے رب میں نہیں جانتا، تو پروردگار نے فرمایا: روزے کا ثمرہ کم کھانا اور کم بولنا ہے۔ دوسری عبادت عاقلانہ سکوت ہے ( مطلب جب ضروری ہو بات کرے باقی غیر ضروری اور غیر شرعی باتوں سے پرہیز کرے) اسکا نتیجہ علم اور حکمت ہے (حکمت سے مراد دانائی و فکر کا اعلی ترین مقام ہے) حکمت کا نتیجہ شناخت ہے (یعنی معرفت کا حصول ، ایک عاقل شخص کائنات میں غور فکر کرتے ہوئے اس کائنات کی تخلیق کے ھدف اور اسکے خالق کی منشاء اور اسکی ذات و صفات اور افعال کے فلسفہ کو سمجھتا ہے اور شناخت و معرفت کا مقام حاصل کرتا ہے) اور شناخت کا نتیجہ یقین ہے جو بندہ بھی مقام یقین تک پہنچتا ہے اسے فرق نہیں پڑتا زندگی سخت گذر رہی ہے یا آسان، اور یہ اھل رضا کا مقام ہے۔
فَمَنْ عَمِلَ بِرِضاىْ، اُلْزِمْهُ ثَلاثَ خِصال: اُعَرِّفْهُ شُکْراً لا یُخالِطُهُ الجَهْلُ; وَذِکْراً لا یُخالِطُهُ النِّسْیانُ، وَمَحبَّةً لا یُؤْثِرُ عَلى مَحَبَّتى حُبَّ المَخْلُوقینَ;
جو میری رضا کے مطابق عمل کرتا ہے اسے تین صفات عطا کرتا ہوں: ایسا شکر عطا کرتا ہوں جس میں جہالت کی آمیزش نہیں ہوتی ( یعنی خداکی نعمات اور اسکے مقام کی آگاہی کے ساتھ رب کا شکر ادا کرتا ہے نہ جاھلوں جیسا) ایسا ذکر عطا کرتا ہوں کہ جو فراموشی سے پاک ہو ( یعنی ہمیشہ ذکر الہیٰ کرتا ہے اپنے رب کی یاد کو نہیں بھولتا) وہ محبت عطا کرتا ہوں کہ پھر میری محبت پر مخلوقات کی محبت کو ترجیح نہیں دیتا۔

جاری ہے
ترجمہ و تشریح ؛ استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید