عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

حدیث شریف معراج – پانچواں حصہ

حدیث شریف معراج
مہدی مضامین و مقالات

حدیث شریف معراج – پانچواں حصہ

حدیث شریف معراج
پانچواں حصہ

یا أَحْمَدُ! إنَّ فِى الجَنَّةِ قَصْراً مِنْ لُؤْلُؤَةٍ فَوْقَ لُوْلُؤَةٍ، وَ دُرَّةٍ فَوْقَ دُرَّةٍ، لَیْسَ فیها نَظْمٌ وَ لا وَصْلٌ، فیهَا الخَواصُّ، أَنْظُرُ إِلَیْهِمْ فى کُلِّ یَوْمٍ سَبْعینَ مَرَّةً، وَ اُکَلِّمُهُمْ کُلَّما نَظَرْتُ إِلَیْهِمْ، وَ أَزیدُ فى مُلْکِهِمْ سَبْعینَ ضِعْفاً. وَ إِذا تَلَذَّذَ أَهْلُ الجَنَّةِ بِالطَّعامِ وَ الشَّرابِ، تَلَذَّذَ اُولَئِکَ بِذِکْری وَ کَلامی وَ حَدیثی. قالَ: یا رَبِّ! ما عَلامَةُ اُولَئِکَ؟ قالَ: مَسْجُونُونَ، قَدْ سَجَنُوا أَلْسِنَتَهُمْ مِنْ فُضُولِ الکَلامِ، وَ بُطُونَهُمْ مِنْ فُضُولِ الطَّعامِ.
اے احمد: جنت کے اندر سفید چمکتے نگینوں اور مروارید سے بنا ہوا ایک محل ہے کہ جس پر یہ سفید چمکتے ہوئے نگینے اور مروارید بکھرے ہوئے ہیں اور اپس میں جڑے ہوئے نہیں ہیں اور یہ اللہ کے خاص بندوں کے لیے ہے
میں انہیں ہر روز 70 بار دیکھتا ہوں اور جب بھی دیکھتا ہوں تو ان سے ہمکلام ہوتا ہوں اور ہر بار ان کی شان و شوکت میں اضافہ کرتا ہوں باقی جنت والوں کی لذتیں کھانے پینے سے ہیں لیکن یہ میرے خاص بندے ان کی لذت میری یاد، مجھ سے گفتگو اور میری کلام سے ہے۔
نبی کریم نے فرمایا: پروردگارا ان کی نشانی کیا ہے تو پروردگار نے فرمایا: اپنی زبان کو فضول کلام سے کنٹرول میں رکھتے ہیں اور اپنے شکم کو زیادہ کھانے سے کنٹرول میں رکھتے ہیں

یا أَحْمَدُ! إِنَّ المَحَبَّةَ لِلّهِ، هِىَ المَحَبَّةُ لِلْفُقَرآءِ وَ التَّقَرُّبُ إِلَیْهِمْ. قالَ: یا رَبِّ! وَ مَنِ الْفُقَرآءُ؟ قالَ: أَلَّذینَ رَضُوا بِالْقَلیلِ، وَ صَبَرُوا عَلَى الجُوعِ، وَ شَکَرُوا عَلَى الرَّخآءِ، وَ لَمْ یَشْکُوا جُوعَهُمْ وَ لا ظَمَأَهُمْ، وَ لَمْ یَکْذِبُوا بِأَلْسِنَتِهِمْ، وَ لَمْ یَغْضَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ، وَ لَمْ یَغْتَمُّوا عَلَى ما فاتَهُمْ، وَ لَمْ یَفْرَحُوا بِما آتاهُمْ
اے احمد مجھ اللہ سے محبت درحقیقت فقراء سے محبت ہے اور ان کے قریب ہونا ہے، نبی کریم نے فرمایا : پروردگارا فقراء کون ہیں؟
رب کریم نے فرمایا : وہ جو زندگی کی تھوڑی سی چیزوں پہ راضی ہیں اور اپنی بھوک پر صابر ہیں ،آسائش اور نعمت پر شکر گزار ہیں، بھوکے پیاسے ہونے پر شکایت نہیں کرتے،ان کی زبان پر جھوٹ جاری نہیں ہوتا،اپنے رب پہ ناراض نہیں ہوتے، جو کچھ (دنیا کا) ان کے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے اس پہ غمگین نہیں ہوتے اور جس (دنیاوی سہولت) چیز کو پا لیتے ہیں اس پہ خوشحال نہیں ہوتے

 

جاری ہے

ترجمہ: استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

#سلسلہ درس حدیث معراج
#درس مکتوب
# درس معرفت و سیر و سلوک

عالمی مرکز مہدویت قم​

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید