عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

حدیث شریف معراج – دوسرا حصہ

حدیث شریف معراج
مہدی مضامین و مقالات

حدیث شریف معراج – دوسرا حصہ

حدیث شریف معراج 
دوسرا حصہ

یا أَحْمَدُ! إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَکُونَ أَوْرَعَ النّاسِ، فَازْهَدْ فِى الدُّنْیا، وَ ارْغَبْ فِى الْآخِرَةِ. فَقالَ: إِلهِى! وَ کَیْفَ أَزْهَدُ فِى الدُّنْیا؟ فَقالَ: خُذْ مِنَ الدُّنْیا کَفافاً [خَفّاً] مِنَ الطَّعامِ وَ الشَّرابِ وَ اللِّباسِ، وَ لا تَدَّخِرْ شَیْئاً لِغَدٍ، وَ دُمْ عَلَى ذِکْری. فَقالَ: یا رَبِّ! فَکَیْفَ أَدُومُ عَلَى ذِکْرِکَ؟ فَقالَ: بِالْخَلْوَةِ عَنِ النّاسِ، وَ بُغْضِکَ الحُلْوَ وَ الحامِضَ، وَ فَراغِ بَطْنِکَ وَ بَیْتِکَ مِنَ الدُّنْیا.
اے احمد اگر اپ چاہتے ہیں سب لوگوں سے زیادہ پرہیزگار ہوں تو دنیا میں زاہد ہوں (یعنی دنیا کی چیزوں سے دلبستگی نہ ہو) اور اخرت کی طرف رغبت پیدا کریں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: پروردگارا! میں کیسے دنیا میں زہد اختیار کروں؟
رب نے فرمایا دنیا میں کھانے، پینے اور لباس پہننے کے معاملے میں صرف ضرورت کی حد تک اور یہ کہ دنیا میں زندگی گزر جائے ،صرف اس حد تک استفادہ کریں اور کل کے لیے ان چیزوں کو ذخیرہ نہ کریں اور ہمیشہ میری یاد میں رہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: پروردگارا! میں کیسے ہمیشہ تیری یاد میں رہوں؟
تو پروردگار نے فرمایا: لوگوں سے خلوت اختیار کر (یعنی لوگوں کی محفلوں میں زیادہ نہ بیٹھ), دنیا کی کھٹی میٹھی چیزوں کو پسند نہ کر ،اپنے پیٹ اور اپنے گھر کو دنیاوی چیزوں سے خالی رکھ۔

یا أَحْمَدُ! وَ احْذَرْ أَنْ تَکُونَ مِثْلَ الصَّبِىِّ إِذا نَظَرَ إِلَى الأَخْضَرِ وَ الأصْفَرِ أَحَبَّهُ، وَ إِذا اُعْطِىَ شَیْئاً مِنَ الحُلْوِ وَ الحامِضِ، إِغْتَرَّ بِهِ. فَقالَ: یا رَبِّ! دُلَّنی عَلَى عَمَلٍ أَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَیْکَ. فَقالَ: إِجْعَلْ لَیْلَکَ نَهاراً، وَ اجْعَلْ نَهارَکَ لَیْلاً. فَقالَ: یا رَبِّ! کَیْفَ یَکُونُ ذَلِکَ؟ قالَ: إِجْعَلْ نَوْمَکَ صَلاةً، وَ طَعامَکَ الجُوعَ.
اے احمد؛ کہیں بچوں کی مانند نہ ہو جانا جو دنیا کے سبز و پیلے رنگ کو جب دیکھتے ہیں تو پسند کرتے ہیں اور دنیا کی کھٹی میٹھی چیزوں کے عاشق ہوتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :پروردگارا! مجھے وہ کام بتا کہ جس کی وجہ سے مجھے تیرا قرب حاصل ہو.
پروردگار نے فرمایا: اپنی رات کو دن بنا اور دن کو رات بنا.
تو نبی کریم نے عرض کی: میں کیسے ایسا کروں؟
فرمایا: اپنی نیند کو نماز قرار دے اور خوراک کو بھوک قرار دے؛
(یعنی رات کو کثرت سے عبادت کر اور دن کو بہت کم کھائیں پئیں ، پیٹ بھوکا رہے جیسے رات کو انسان نیند کی وجہ سے کئی گھنٹے نہیں کھاتا پیتا).

 جاری ہے

ترجمہ : استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

عالمی مرکز مہدویت قم​

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید