عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

حدیث شریف معراج – حصہ 20

حدیث شریف معراج
مہدی مضامین و مقالات

حدیث شریف معراج – حصہ 20

حدیث شریف معراج
حصہ 20

یا أَحْمَدُ! لَیْسَ شَىْءٌ مِنَ العِبادَةِ أَحَبَّ إِلَىَّ، مِنَ الصَّوْمِ وَالصَّمْتِ; فَمَنْ صامَ وَلَمْ یَحْفَظْ لِسانَهُ، کانَ کَمَنْ قامَ وَلَمْ یَقْرَأْ فى صَلاتِهِ شَیْئاً، فَاُعْطیهِ أَجْرَ القِیامِ وَلا اُعْطیهِ أَجْرَ العابِدینَ.
اے احمد؛ میرے نزدیک روزہ اور عاقلانہ سکوت سے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں ہے ، جو روزہ تو رکھے لیکن اپنی زبان کو کنٹرول نہ کرے اس شخص کی مانند ہے جو نماز کے لیے کھڑا ہے لیکن کچھ نہیں پڑھ رہا۔
اسے نماز کے لیے قیام کرنے والوں کا اجر تو دوں گا لیکن عبادت کرنے والوں کا اجر نہیں دوں گا۔

یا أَحْمَدُ! هَلْ تَدْری مَتى یَکُونُ العَبْدُ عابِداً؟ قالَ: لا، یا رَبِّ! قالَ: إِذَا اجْتَمَعَ فیهِ سَبْعُ خِصال: وَرَعٌ یَحْجُزُهُ عَنِ المَحارِمِ; وَصَمْتٌ یَکُفُّهُ عَمّا لایَعْنیهِ;وَخَوْفٌ یَزْدادُ کُلَّ یَوْم فى بُکائِهِ;وَحَیاءٌ یَسْتَحی مِنّی فِى الخَلاءِ; وَأَکْلُ ما لابُدَّ مِنْهُ; وَیُبْغِضُ الدُّنْیا لِبُغضی لها; وَیُحِبُّ الآخِرَةَ لِحُبّی إِیّاها
اے احمد؛ آیا تو جانتا ہے کہ بندہ کس وقت عابد ہوتا ہے ؟
نبی کریم (ص) نے عرض کیا: نہیں میرے پروردگار ، تو رب العالمین نے فرمایا : جب اسکے اندر سات خصلتیں جمع ہوں :
ورع(تقوی کی بلند ترین حالت ) کہ جو اسے حرام کاموں سے روکے،
سکوت کہ جو اسے فضول باتوں سے محفوظ رکھے،
خوف(خدا) کہ جو ہر روز اسکا گریہ بڑھائے،
حیاء کہ جو اسے تنہائی و خلوت میں مجھ سے شرم دلائے ( چونکہ انسان عام طور پر تنہائی میں زیادہ گناہ کی طرف مائل ہوتا ہے حالانکہ خدا اسکے پاس ہوتا ہے اسکی حیاء نہیں کرتا)،
ضرورت کے مطابق کھائے(کہ اسکی جان بچی رہے) ،
دنیا کو دشمن سمجھے کیونکہ میں دنیا کو پسند نہیں کرتا ( مطلب دنیا سے وابستگی و محبت پیدا نہ کرے) ،
آخرت سے محبت کرے کیونکہ مجھے آخرت پسند ہے۔

یا أَحْمَدُ! لَیْسَ کُلُّ مَنْ قالَ: أَنَا اُحِبُّ اللَّهَ، أَحَبَّنی، حَتّى یَأْخُذَ قُوتاً، وَیَلْبَسَ دُوناً، وَیَنامَ سُجُوداً، وَیُطیلَ قِیاماً، وَیَلْزَمَ صَمْتاً، وَیَتَوَکَّلَ عَلَىَّ، وَیَبْکِىَ کَثیراً، وَیَقِلَّ ضِحْکاً، وَیُخالِفَ هَواهُ، وَیَتَّخِذَ المَسْجِدَ بَیْتاً۔۔۔.

اے احمد ؛ ایسا نہیں ہے کہ جو کہے میں اللہ سے محبت کرتا ہوں اور وہ واقعا مجھ سے محبت کرتا ہے۔مگر یہ کہ:
زندہ رہنے کی حد تک فقط کھائے ،
سادہ بغیر فیشن کے لباس پہنے ،
سجدوں میں سوئے( اتنے طولانی سجدے کہ تھک کر سو جانے والی حالت پیدا ہو)
طولانی قیام کرے،
اپنے عاقلانہ سکوت کو ہمیشہ قائم رکھے ،
بہت (میرے لیے) گریہ کرے ،
بہت کم ھنسے،
خواھشات نفسانی کی مخالفت کرے ،
اور مسجد کو اپنا گھر سمجھے۔۔۔

جاری ہے
ترجمہ و تشریح: استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

عالمی مرکز مہدویت قم​

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید