عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

حدیث شریف معراج – حصہ 18

حدیث شریف معراج
مہدی مضامین و مقالات

حدیث شریف معراج – حصہ 18

حدیث شریف معراج
حصہ 18

یا أَحْمَدُ! وَلاَُزَیِّنَنَّهُ بِالهَیْبَةِ وَالعَظَمَةِ; فَهذا هُوَ العَیْشُ الهَنِىُّ وَالحَیاةُ الباقِیَةُ.
اے احمد میں اسے ہیبت ( لوگوں پر اسکا رعب) اور عظمت سے سجاتا ہوں ، یہ وہی عیش و آرام اور ابدی زندگی ہے۔

یا أَحْمَدُ! لاغِناءَ لِمَنْ لاعَقْلَ لَهُ، وَلا فَقْرَ لِمَنْ لاجَهْلَ لَهُ، وَلارِضى لِمَنْ لا یَرْضى بِالیَسیرِ کَما یَرْضى بِالرَّخآءِ.
اے احمد جس کے پاس عقل نہیں وہ بے نیاز نہیں ہے جس کے پاس جہالت نہیں وہ فقیر نہیں ہے جو قلیل نعمت پر کثیر نعمتوں کی طرح راضی نہیں وہ کبھی خوش نہیں رہے گا۔

یا أَحْمَدُ! هَلْ تَدْرى لاَِىِّ شَىْء فَضَّلْتُکَ عَلى سائِرِ الاَْنْبِیاءِ؟ قالَ: أَللّهُمَّ! لا. قالَ: بِالیَقینِ، وَحُسْنِ الخُلْقِ، وَسَخاوَةِ النَّفْسِ، وَرَحْمَةِ الخَلْقِ، وَکَذلِکَ أَوْتادُ الأَرْضِ لَمْ یَکُونُوا أَوْتاداً إِلاّ بِهذا.
اے احمد کیا تو جانتا ہے کہ میں نے تجھے کیوں سارے نبیوں پر فضلیت بخشی ہے ؟ نبی کریم (ص) نے عرض کی ؛ پروردگارا میں نہیں جانتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تیرا یقین ، نیک اخلاق ، سخاوت و بخشش اور لوگوں سے مہربانی ، یہ بھی جان لو کہ اوتاد ( اللہ کے پاک و محبوب بندے کہ زمین ان سے کبھی خالی نہیں) بھی ان صفات کی وجہ سے اوتاد ہوتے ہیں۔

یا أَحْمَدُ! إِجْعَلْ هَمَّکَ هَمّاً واحِداً، وَاجْعَلْ لِسانَکَ واحِداً، وَاجْعَلْ بَدَنَکَ مُتَواضِعاً، حَتّى لا تَغْفَلَ عَنّی أَبداً; فَمَنْ غَفَلَ عَنّی، لا اُبالی فی أَىِّ واد هَلَکَ.
اے احمد اپنی کوششوں کو ایک جہت( خدا کے لیے) پر قرار دے، اپنی زبان کو ایک (الہی) زبان قرار دے، اپنے بدن کو تواضع و انکساری کی عادت ڈالو تاکہ کبھی بھی مجھ سے غافل اور بے خبر نہ رہے ، یاد رکھو جو مجھ سے غافل ہو ، پھر میرے لیے اہم نہیں کہ وہ کس جگہ اور کس حال میں ھلاک ہوا ہے۔

یا أَحْمَدُ! إِسْتَعْمِلْ عَقْلَکَ قَبْلَ أَنْ یَذْهَبَ; فَمَنِ اسْتَعْمَلَ عَقْلَهُ، لا یَخْطى [ظ: لا یَخْطَئُ] وَلا یَطْغى، وَاعْمَلْ بِعِلْمِکَ الَّذی عَلَّمْتُکَ، حَتّى یَجْتَمِعَ لَکَ عِلْمُ الأَوَّلینَ وَالآخِرینَ، ثُمَّ أَخْتِمُ عَلى قَلْبِکَ بِالمَعْرِفَةِ ما لا یَقْتَدِرُ عَلى وَصْفِهِ الواصِفُونَ، وَأَجْعَلُ لَکَ مَعْلَماً حَیْثُ تَوَجَّهْتَ، وَأَسْلُکُ بِکَ کُلَّ خَیْر، وَاُرْشِدُکَ إِلى طَریقِ العارِفینَ، وَاُقَوِّیکَ عَلَى العِبادَةِ، وَاُحَبِّبُها إِلَیْکَ، وَاُعینُکَ عَلَیْها، حتّى لا یَکُونَ شَىْءٌ أَحَبَّ إِلَیْکَ مِنَ العِبادَةِ.
اے احمد اپنی عقل کو استعمال کرو اس سے پہلے کہ زائل ہو جائے ، جو اپنی عقل کو استعمال کرتا ہے وہ غلطی اور نافرمانی سے بچا رہتا ہے ، جو علم تجھے سکھایا اس پر عمل کرو تاکہ اولین و آخرین کا علم تجھ میں جمع ہو جائے ، تیرے دل پر معرفت کی ایسی مہر لگاؤں گا کہ بیان کرنے والے اسکی توصیف نہیں کرسکیں گے ، جدھر رخ کرے گا تیرے لیے راہنمائ کی علامت قرار دوں گا ، ہر امر خیر میں تیری رہبری کروں گا ، تجھے عارفوں کی راہ دکھاوں گا ، عبادت کے انجام دینے کی قوت عطا کروں گا، عبادت کی محبت تیرے دل میں ڈالوں گا ، اسکے انجام دینے پر تیری مدد کروں گا یہاں تک کوئی چیز تیرے لیے عبادت سے بڑھ کر محبوب نہیں ہوگی۔

جاری ہے
ترجمہ : استاد محترم آغا علی اصغر سیفی
عالمی مرکز مہدویت قم​

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید