تازہ ترین پوسٹس

جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ۔ درس10۔ موضوع درس: گوھر شاہی سے آشنائی

موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ
موضوع درس: گوھر شاہی سے آشنائی
درس10
نکات : گوھر شاھی کے باطل نظریات ، تحریف قرآن ، عقیدہ تناسخ، دین اسلام کو بری شکل میں پیش کرنا ، انبیاء کی توہین، امام مہدی ہونے کا جھوٹا دعویٰ اور عجیب دلائل

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ہماری گفتگو کا موضوع فتنہ گوہر شاہی ہے۔
اس فتنے کا بانی ریاض گوہر شاہی ہے۔ گذشتہ درس میں اس حوالے سے کچھ نکات بیان ہوئے۔ اگرچہ ریاض گوہر شاہی مر چکا ہے لیکن اس کا نائب یونس الگوہر اس فتنے کو آگے بڑھا رہا ہے اور چونکہ ان کے ماننے والے موجود ہیں اور یہ امام زمانؑ عج کے نام پہ اٹھنے والا ایک جھوٹا دعویٰ ہے اور اس لیے ضروری ہے کہ اس پر تجزیہ کیا جائے اور لوگوں کو حقائق سے آگاہ کیا جائے۔

ایسے چند ایک موارد ہیں کہ جن کے ذریعے انہوں نے لوگوں کے ایمان کو نقصان پہنچایا۔

گوہر شاہی کتابیں:
دین الہی، روحانی سفر

۔ تحریف قرآن
یہ لوگ تحریف قرآن کے قائل ہیں۔ ریاض گوہر شاہی کہتا ہے کہ بظاہر قرآن کے تیس پارے ہیں لیکن! باطن میں دس پارے اور بھی ہیں۔ اور کہتا ہے کہ گویا قرآن چالیس سپاروں پر مشتمل ہے اور پھر کہتا ہے کہ یہ جو دس سپارے ہیں ان کے بارے میں مجھ پر عبادت اور ریاضت میں انکشاف ہوا۔
استغفراللہ!

یہ وہ چیز ہے کہ جو خود قرآن کی آیات کے خلاف ہے اور یہ وہ چیز ہے جس پر تمام احادیث اور علمائے کرام کے اجماعات اور تمام عالم اسلام کا جس بات پر اجماع ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی اور جو اس بات کا قائل ہے گویا وہ دین سے ہی خارج ہے۔

عقیدہ تناسخ:
یہ کہتا ہے کہ سب لوگوں کی روحیں ایک جسم سے مرنے کے بعد دوسرے جسم میں منتقل ہو جاتی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ امام مہدیؑ نے آنا ہے تو اس وقت تک یہ ساری روحیں بار بار دوسرے جسموں میں آ رہی ہیں اور وہ واپس خدا کی جانب اور برزخ کی طرف نہیں جاتیں۔ یہ وہی ہندوؤں والا عقیدہ تناسخ ہے جسے اس نے ایک اسلامی اور دینی عقیدہ بنا کر پیش کیا کہ جس پر کوئی قرآن اور احادیث سے کوئی دلیل نہیں دی۔ بلکہ برعکس عقیدہ معاد سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ کہ انسان مرنے کے بعد عالم برزخ کی جانب منتقل ہو جاتا ہے اور اس سلسلے میں کتنی ہی آیات قرآنی اور احادیث موجود ہیں لیکن پھر بھی یہ شخص تناسخ کا قائل ہے۔

دین اسلام کو بری شکل میں پیش کرنا:
اس نے دین اسلام کو عجیب شکل میں پیش کیا۔ دین اسلام کے اہم موضوعات میں اس نے کس انداز میں گستاخیاں کئیں۔
جیسے:

توہین پروردگار عالم:
نعوذ باللہ!
یہ کہتا ہے کہ اللہ مجبور ہے اگرچہ وہ لوگوں کی شہ رگ کے قریب ہے لیکن وہ نہیں دیکھ سکتا۔
نعوذ باللہ!
بھلا خدا سے بڑھ کر کون دیکھ رہا ہے۔ خدا قرآن میں جو کہتا ہے۔ میں ہر چیز کا عالم ہوں۔ میں بصیر ہوں۔
إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
بےشک اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ
بےشک اللہ بندوں کو دیکھتا ہے۔

انبیاء کی توہین:
نعوذ باللہ!
یہ کہتا ہے کہ حضرت آدمؑ حسد میں مبتلا تھے اور اپنے نفس کی بیماری میں مبتلا تھے۔ یا مثلاً ایک جگہ پر یہ لکھتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی قبر خالی ہے اور وہ مرکز شرک ہے اور حضرت خضرؑ قاتل ہیں۔
نعوذ باللہ!

امام مہدی ہونے کا جھوٹا دعویٰ :
گوہر شاہی ویب سائٹ: مہدی فاؤنڈیشن

اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جو امام مہدیؑ کے حوالے اس نے جو انحرافات ایجاد کئے۔ اس کا نائب یونس الگوہر کہتا ہے کہ ریاض گوہرشاہی نے اپنی ایک تقریر میں اعلان کیا تھا کہ ہمیں لال باغ سیون شریف سندھ پاکستان میں اللہ کی جانب سے ایک وحی ہوئی تھی کہ ہم امام مہدی ہیں۔
نعوذ باللہ!

کہتا ہے کہ اسی وجہ سے عبدالقادر جیلانی کا پوتا حیات الامیر ایک دن میری ملاقات کو آیا اور اس نے مجھے غوث الاعظم کا سلام پہنچایا۔

اہلسنت صوفیوں میں یہ بات مشہور ہے کہ :
عبدالقادر جیلانی غوث اعظم نے اپنے پوتے حیات الامیر کو کہا تھا کہ تو ایک دن مہدی کو دیکھے گا اور جب دیکھے تو میرا سلام کہنا۔ اور یہ حیات الامیر سینکڑوں سال طولانی عمر رکھتا ہے اور منتظر ہے کہ کب امام مہدی آئیں اور وہ انہیں غوث الاعظم کا سلام پہنچائے۔

عجیب دلائل:
یہ ایک عجیب سا عقیدہ اہلسنت کے صوفیہ میں ہے اور گوہر شاہی یہاں یہ کہتا ہے کیونکہ حیات الامیر آئے تھے اور انہوں نے مجھے سلام پہنچایا تو بس میں امام مہدی ہوں۔

ایک اور جگہ پر کہتا ہے کہ تقریباً 20 سال قبل اسے اللہ کی جانب سے اشارہ ہوا تھا کہ جب بھی تمھیں حالات مناسب لگیں تو مہدی ہونے کا اعلان کر دینا۔ اور ہم نے اب حالات کو مناسب سمجھا اور آہستہ آہستہ لوگوں کے دلوں میں اللہ کے نور کو روشن کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ لوگ مہدی کی شناخت کو پا لیں۔
ایک اور جگہ پر یہ شخص کہتا ہے کہ جب اللہ سے پوچھا جاتا اہے کہ کیوں یہ شخص ریاض گوہر شاہی فاسق اور فاجر لوگوں سے محبت کرتا ہے تو اللہ کہتا ہے کہ چونکہ یہ امام مہدی ہے اسی لیے یہ محبت کرتا ہے۔

استغفراللہ! یہ شخص کتنی چالاکی سے لوگوں کو یقین دلاتا ہے کہ یہی امام مہدی ہے (نعوذ باللہ!)
یہ کہتا ہے کہ :

1994 میں پوری دنیا میں لوگوں کو بشارت دی گئی تھی کہ چاند پہ امام مہدی کا چہرہ ظاہر ہوگا اور پھر یہ چہرہ دیکھا گیا اور سب نے تائید کی کہ یہ چہرہ ریاض گوہر شاہی کا ہے۔ پھر یہ سلسلہ شروع ہوگیا۔ کچھ نے اس کا چہرہ حجرہ اسود میں دیکھا کچھ نے مندروں میں کچھ نے مسجدوں میں دیکھا کسی نے کلیسا میں دیکھا کسی نے سورج میں دیکھا اور کسی نے مریخ پر دیکھا اور پھر دنیا میں گوہر شاہی کا چہرہ ظاہر ہونا شروع ہوگیا جو دلیل تھی کہ گوہر شاہی امام مہدی ہے کیونکہ اس کی علامت ہر جگہ پر ظاہر ہوگئی اور اس نے اپنا فیض دین الہیٰ کی شکل میں جاری کیا اور وہ یہ تھا کہ جو اس کی کتاب دین الہیٰ ہے۔

یونس گوہری لکھتا ہے کہ جب کتاب دین الہیٰ جب ظاہر ہوئی تو وہ ساری پیشن گوئیاں محقق ہوگئیں کہ جو ریاض گوہر شاہی بیان کر رہا تھا کہ ایک دن دین الہیٰ ظاہر ہونا ہے۔ کتاب دین الہیٰ

تمام تصویریں جو ویب سائٹ پر موجود ہیں یعنی چاند اور دیگر مقامات پر جو اس کی تصویریں ہیں وہ ایک دھوکا ہے اور خود ساختہ تصاویر ہیں۔

اس کے بعد یہی یونس الگوہری کہتا ہے کہ گوہر شاہی نے کہا تھا کہ جب امام مہدی ظاہر ہونگے تو تمام علمائے سو اس کی مخالفت کریں گے۔ اور پھر یہ دنیا کی طاقتیں اور پولیس اس کے پیچھے چل پڑے گی اور اسے گرفتار کرنے کی کوشش کرے گی اور اسلامی حکومتں اس کے مخالف ہوجائیں گی کیونکہ جیسا کہ پیشن گوئی آرہی ہے کہ جب امام مہدیؑ عج آئیں گے تو ساری حکومتوں کو ہاتھ میں لیں گے اس لیے ساری اسلامی حکومتیں اسے قتل کرنا چاہیں گی۔

نتیجہ کیا ہوا کہ یہ یونس الگوہری کذاب کہتا ہے کہ :
جب ریاض گوہر شاہی نے دعویٰ مہدویت کیا تو تمام علمائے سو اس کے خلاف ہو گئے اور بلخصوص وہابی فرقے نے اس کے خلاف عدالت میں شکایت کی اور پولیس اس کو گرفتار کرنے کے لیے چل پڑی اور سعودی عرب نے اس کے قتل کے لیے کرائے کے قاتل اس کے پیچھے بھیجے۔ دیوبندیوں اور وھابیوں نے اس کے سر کی قیمت لگائی اور پاکستان میں اس کے گھر پر بم پھینکے گئے۔ اور پھر جب یہ انگلینڈ چلا گیا تو وہاں بھی اس کے گھر پر بم پھینکے گئے اور اس کا گھر جل گیا۔

اب یہ واقعات تو اس کے ساتھ ہوئے ہیں جنہیں وہ اس انداز میں بیان کر رہا ہے۔ چونکہ اس نے جھوٹا دعویٰ مہدویت کیا تھا تو مسلمانوں نے اس کے خلاف اقدامات کئے۔ لیکن یونس الگوہر نے اس کو مہدی کی علامات قرار دیا ۔

پھر یہ یونس الگوہری کذاب کہتا ہے کہ امام مہدی نے کبھی اپنی زبان سے نہیں کہنا کہ میں مہدی ہوں یہ لوگوں کے روشن ضمیر ہیں جو اسے پہچانیں گے اور امر حق کا اعلان ہوگا۔ اور آج ایسا ہی ہوا ہے۔ ہر شخص جو روشن ضمیر ہے وہ جانتا ہے کہ ریاض گوہر شاہی کذاب ہی مہدی ہے اور وہ اسی کی پیروی کرے گا۔ اور اگر کسی کے لیے دشوار ہو کہ اسے امام مہدی تسلیم کرے تو آئے اور اس کی تصاویر کو دیکھے کہ کس طرح چاند کے اندر اور حجر اسود، اور سورج میں گوہر شاہی کا چہرہ ظاہر ہوا تھا اور پھر وہ کثرت سے اللہ کا ذکر کرے تاکہ اس کے دل میں وہ نور پیدا ہو کہ اللہ اسے توفیق دے کہ وہ گوہر شاہی کے امام مہدی ہونے پر ایمان لائے اور یہ ایک بہت بڑی توفیق ہوگی جو اسے نصیب ہوگی۔
نعوذ باللہ!

خلاصہ :
ان تمام چیزوں کو بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کس چالاکی سے ان لوگوں نے اس شخص کو بطور امام مہدی پیش کیا جس کی دلیل ان کے پاس فقط یہ ہے کہ اس کی شکل چاند اور سورج پر ظاہر ہوئی۔
۔ حکومتیں اور علما خلاف ہو جائیں گے۔ یعنی اس طرح کے بیانات سے انہوں نے کتنی عوام کو بےوقوف بنایا۔

ان چیزوں کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے دل و دماغ کی آنکھیں کھولیں اور آگاہ و بیدار ہوں ۔ کیونکہ مہدی ہونے کے جھوٹے دعوے اس لیے جاری ہیں تاکہ اصلی امام مہدیؑ عج کو روکا جائے اور ان کے ظہور میں تاخیر ہو۔

ایسے کذاب مہدیوں کی پناہ گاہیں انہیں استعماری حکومتوں اور انگلینڈ میں ہوتی ہیں۔ ریاض گوہر شاہی بھی انگلینڈ میں مرا۔

پروردگار عالم سے دعا ہے کہ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم مولاؑ عج کے سچے پیروکار اور فکری سپاہی بنیں تاکہ اس قسم کے جھوٹے مکاتب کا مقابلہ کریں۔
انشاءاللہ!

والسلام
عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *