امام مہدی(عج) کا ظہور کب ہوگا اور مولا سے ملاقات کیسے ہوتی ہے؟
مدرسہ الامام المنتظر قم مقدس میں دعائے ندبہ کے بعد طلاب مدرسہ کو درس
21 نومبر 2025 بروز جمعہ
استاد محترم قبلہ علامہ علی اصغر سیفی صاحب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اہل معرفت کے لیے امام محمد باقر(ع) علیہ السلام(ع) کا ایک بہت ہی خوبصورت بیان ہے:
بحارالأنوار، جلد 23، صفحہ 77
فقال امام محمد باقر(ع) علیہ السلام:
(من ماتَ عارفاً لِإمامِهِ کانَ کَمَن هو مَع القائم فی فُسطاطِه)
فرماتے ہیں کہ:
وہ شخص جو زمانے کے امام (عج) کی معرفت رکھتا ہے اور یقین رکھتا ہے۔ تو وہ اس شخص کی مانند ہیں کہ جو قائم (عج) علیہ السلام کے ساتھ ان کے خیمہ میں ہو۔اللہ اکبر!
جیسا کہ ہم نے عرض کیا تھا کہ عِلم اور معرفت میں یہی فرق ہے۔ ممکن ہے کہ صاحب علم ، صاحب معرفت نہ ہو۔ لیکن صاحب معرفت حتماً صاحب عمل ہے کیونکہ وہ مقام یقین پر ہے۔ کیونکہ معرفت یقین سے پیدا ہوتی ہے اور اہل معرفت اہل یقین ہیں۔ یقین کے کئی مراحل ہیں۔
۔ علم الیقین
۔ عین الیقین
۔ حق الیقین
اور یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔ امام زمان عج کی جو معرفت رکھتے ہیں امام محمد باقر(ع) نے ان کی ایک توصیف بیان کی ہے۔ اور فرما رہے ہیں کہ : جو شخص اس حال میں دنیا سے جائے کہ زمانے کے امام کی معرفت رکھتا ہو تو وہ اس شخص کی مانند ہے کہ جو قائم عج علیہ السلام کے ساتھ ان کے خیمہ میں ہو۔ یعنی! اہل معرفت امام عج کے قریب ہیں۔ اور ان کا مقام ان کے برابر ہے کہ جو امام عج کے خیمہ میں ان کے ساتھ رہ رہے ہوں۔
اسی لیے کہتے ہیں کہ اہل معرفت کے لیے فرق نہیں پڑتا کہ ظہور پہلے ہو یا بعد میں ہو۔ چونکہ وہ ہمیشہ امام عج کو محسوس کرتے ہیں وہ اپنے آپ امام عج کی بارگاہ میں محسوس کرتے ہیں۔
ہمارے اور دیگر مکاتب میں فرق یہی ہے کہ ان کے لیے مہدویت فقط ایک علمی او اعتقادی موضوع ہے۔ یعنی! تمام مکاتب اسلام طبق آیات و طبق روایات یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آخرالزمان میں رسول اللہ(ص) کی نسل سے ایک ہستی بنام مہدی عج قیام کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھریں گے۔ اس پر باقاعدہ سنی شیعہ کتابوں میں احادیث ہیں اور ان کی کتاب صحاح ستہ میں باقاعدہ اس پر موضوع پر باب ہیں اور باقاعدہ انہوں نے احادیث کے مجموعے لکھے ہیں۔ اور ہمارے ہاں بھی احادیث کے مجموعے لکھے گئے ہیں اور احادیث بیان ہوئی ہیں
امام مہدی عج ہمارے اوپر نگہبان اور سرپرست ہیں۔ ہم میں اور دیگر مسلمان مکاتب میں فرق یہ ہے کہ دیگر مسلمان یا شیعہ مکاتب کا مہدی فقط علمی، کلامی اور اعتقادی ہے۔
لیکن ہمارے مہدی عج علیہ السلام علمی کلامی اور اعتقادی کے ساتھ ایک زندہ وجود کی حیثیت سے ہمارے اوپر نگہبان اور سرپرست ہیں۔ اور ہم ایک زندہ امام عج پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ جو اس وقت ہمارے درمیان موجود ہیں۔ بلکہ اس وقت ہمارے بہت سارے امور وہ انجام دے رہے ہیں۔ اگرچہ ہمیں ان کی خبر ہو یا نہ ہو۔ وہ تو بتدریج ہم سمجھتے ہیں۔
تشیع کے اندر امام زمان عج علیہ السلام تقریباً گیارہ سو سال سے زائد کا عرصہ گذر گیا ہے کہ امام وقت ہمارے درمیان تشریف فرما ہیں۔ ہمارے امور ان کے ہاتھ میں ہیں۔
دعائے ندبہ
لَیْتَ شِعْرِی أَیْنَ اسْتَقَرَّتْ بِکَ النَّویٰ بَلْ أَیُّ أَرْضٍ تُقِلُّکَ أَوْ ثَریٰ
أَبِرَضْویٰ أَوْ غَیْرِھَا أَمْ ذِی طُویٰ
اے کاش میں جانتا کہ اس دوری نے آپ کو کہاں جا ٹھہرایااور کس زمین میں اور کس خاک نے آپکو اٹھا رکھا ہے آپ مقام رضویٰ میں ہیں یا کسی اور پہاڑ پر ہیں یا وادی طویٰ میں۔
یہاں جو رَضْویٰ اور ذِی طُویٰ کا ذکر آیا ہے یہ امام زمان عج علیہ السلام کی جائے سکونت ہے۔
احادیث کی رو سے اور دعائے ندبہ کے متن کی رو سے مدینہ کے اطراف میں جو کوہ رضویٰ ہے یا جو پہاڑی سلسلہ ہے ذی طویٰ وہاں امام عج کی جائے سکونت ہے اور امام عج قبل از ظہور بھی اسی جگہ سے خروج فرمائیں گے۔ یہ روایات میں ہے کہ مولا عج مکہ میں رسمی اعلان سے پہلے مدینہ سے نکلیں گے اور پھر مکہ پہنچیں گے اور پھر مکہ میں مسجد الحرام میں آپ کے ظہور کا رسمی اعلان ہوگا۔ وہ جمعہ کا دن ہوگا۔ عاشورہ کا دن ہوگا۔ لیکن! اس سے پہلے آپ اپنے ساتھیوں کے مدینہ سے مکہ جائیں گے۔
اُس زمانے کا ظالم سفیانی کہ جو ایک علامت کے طور پر بھی ذکر ہوتا ہے کہ اس کا قبضہ وہاں تک ہوگا۔ یعنی! مکہ ، مدینہ تک خسف بیداء:
ایک لشکر کا زمین میں دھنسنا:
وہ سفیانی ایک فوج بھی بھیجے گا کہ جو مولا عج کے پیچھے ہوگا تاکہ ان کو گرفتار کرے تو جب وہ مکہ مدینہ کے درمیان ایک وادی کہ جس کو بیداء کہا گیا ہے وہاں اللہ کے حکم سے وہ لشکر زمین میں دھنس جائے گا۔
یعنی قبل از قیام پروردگار عالم امام مہدی عج علیہ السلام کی یہ بہت بڑی مدد کرے گا۔ دشمن یہ چاہتا ہوگا کہ امام عج قیام نہ کر پائیں اور شہید ہوجائیں لیکن! مدد خدا پہنچے گی اور وادی بیداء میں زمین پھٹے گی اور یہ پورا لشکر یہاں پر دھنس جائے گا۔
خسف بیداء یعنی! بیداء کی زمین میں ایک لشکر کا دھنسنا۔ اور یہ بہت بڑی علامت ہے اور یہ علامت بیدار کرنے والی علامتوں میں سے ہے۔ آج بھی بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو مرضی کریں ، اور کوئی نہیں ہے۔
کیوں نہیں ہے پروردگار کا ولیؑ عج موجود ہے ۔ صرف ناصروں کی تیاری کا مرحلہ باقی ہے۔ ورنہ ساری چیزیں آمادہ ہیں۔ پروردگار نے بھرپور طریقے سے امام زمانؑ عج کی مدد کرنی ہے اور امام ؑ عج کے وہ ناصر کہ جو پہلے سے تیاری کریں گے اور بالآخر پوری دنیا میں انقلاب بپا ہوگا۔ اور جسے پوری دنیا دیکھے گی اور جسے احادیث میں تعبیر کیا گیا ہے کہ:
زمین کا عدل سے بھرنا۔
الّذی یملا الارض عدلاً و قسطاً کما ملئت جوراً و ظلماً.
(وہ زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دیں گے، جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔
کمالالدین، جلد 1، صفحہ 287)
بلکہ روایات کہتی ہیں کہ اُس زمانے میں عدل اس طرح لوگوں کے گھروں میں داخل ہوگا کہ لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی عدل کا لطف لیں گے۔
عظیم انقلاب گر ہستی امام مہدی عج الشریف ہمارے درمیان موجود ہیں:
روایات کہتی ہیں کہ اس طرح عدل داخل ہوگا جس طرح سردی داخل ہوتی ہے تو آپ روک نہیں سکتے اور گرمیوں میں گرمی داخل ہوتی ہے اور آپ روک نہیں سکتے۔ یعنی! عدل صرف باہر کی دنیا میں نہیں ہوگا حتی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوگا۔ یعنی! گھروں کے امور میں بھی عدل ہوگا۔ یہ آج جو اتنے مسائل ہیں ، (میاں بیوی، بہن بھائی، ماں باپ، بچے اور خاندانوں کے اندر) تو صرف ظاہری حکومت عادلانہ نہیں ہوگی بلکہ یہ عدل لوگوں کے گھروں میں ان کے رویوں میں ان کے کرداروں میں داخل ہوگا۔ کہ انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی عدل الہیٰ پر استوار ہوگی۔
تو یہ عظیم انقلاب جس ہستی نے بپا کرنا ہے وہ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ لیکن! جو چیز نہیں ہے وہ ان کے ناصرین کی تیاری نہیں ہے۔ یہ تیاری ہماری جانب سے نہیں ہے وگرنہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے سارے کام ہو چکے ہیں۔
یہ جو کہتے ہیں کہ ظہور کب ہوگا۔ تو اصل سوال تو یہ ہونا چاہیے کہ ہم کب تیار ہوں گے؟؟
پروردگار نے جس ہستی کو بھیجنا تھا انہیں تو گیارہ سو سال پہلے ہی بھیج دیا اور امامؑ اپنے تمام تر علم کے ساتھ اور تمام تر الہٰی توفیقات کے ساتھ موجود ہیں۔ لیکن! قرار یہ نہیں ہے کہ یہ کام معجزے سے ہو یا تنہا امامؑ عج نے یہ کام کرنا ہے۔ *جس طرح رسولؐ اللہﷺ کتنا عرصہ مکہ میں کام کرتے رہے۔ مورد ظلم قرار پائے۔ لیکن! عرب پر حکومت قائم نہیں کر سکے۔* کب حکومت قائم کر سکے؟؟ جب اہل یثرب آئے جب ناصرین آئے، جب مدینہ طیبہ والے آئے انہوں نے یقین دلایا اور بیعت کی اور مدینہ میں فضا ہموار ہوئی اور نبیؐ اسلامﷺ نے مدینہ ہجرت فرمائی اور اہل مدینہ نے جان و مال سے بھرپور حمایت کی۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ عرب کی سرزمین پر ایک عظیم الہیٰ حکومت قائم ہونا شروع ہو گئی اور بعد میں پورے حجاز میں قائم ہوئی اور پھر آدھی دنیا تک پہنچی۔
وہ درست ہے کہ ہمارے مسلمان حکمرانوں کی نااہلیوں کی وجہ سے آج مسلمان یہ دور دیکھ رہے ہیں ورنہ یہی آخری الہیٰ دین ہے کہ جس کے اندر یہ طاقت ہے اور اسی کے مجاہدین میں یہ طاقت ہے کہ پوری زمین کے کنٹرول کو اپنے ہاتھوں میں لیں۔ اور زمین کے وارث بنیں۔
اگرچہ دنیا بہت کوشش میں ہے کہ زمین کے وارث بنیں لیکن! نہ ان کے پاس طاقت ہے اور نہ ہی الہی توفیقات ہیں۔ الہیٰ توفیقات ساری مسلمانوں کے ساتھ ہیں لیکن! ضرورت اس چیز کی ہے کہ یہ بیدار ہوں اور یہ اٹھیں۔
مسلمانوں کے پاس آخری کتاب قرآن مجید ہے، آخری نبی(ص) کی تعلیمات ان کے پاس ہیں اور سب سے بڑھ کر زمانے کی حجت عج ان کے ہمراہ ہے۔
لیکن قرار یہ نہیں ہے کہ یہ کام معجزے سے ہوں۔ اللہ نے دنیا کو دارالاختیار بنایا ہے۔ دنیا مقامِ آزمائش ہے اور ہم نے اپنے عمل سے اس دنیا کو بھی جنت بنانا ہے اور آخرت میں بھی جنت میں پہنچنا ہے۔ جب تک ہم خود نہیں اٹھیں گے جب تک خود حرکت میں نہیں آئیں گے۔
قرآن میں خدا نے کیا اصول فرمایا ہے:
سورہ الرعد 11
اِنَّ اللّـٰهَ لَا يُغَيِّـرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّـٰى يُغَيِّـرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِـمْ
یعنی خدا اسی قوم کے حالات بدلتا ہے جو اپنے حالات خود بدلنے کے لیے اٹھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں، اٹھتے ہیں۔ تو ہم اٹھیں گے اور قدم بڑھائیں گے کیونکہ! حرکت میں ہی برکت ہے۔
ہم میں اور اہلسنت میں یہی فرق ہے۔:
ہمارا عقیدہ اُس امام عج پر ہے کہ جو موجود ہے اور اہلسنت اور ہم میں یہی فرق ہے۔ وہ بھی مہدویت پر ایمان رکھتے ہیں بلکہ ان میں احادیث ہیں کہ جو امام مہدی عج پر ایمان نہیں رکھتا وہ منکر اور کافر ہے۔ لیکن! فرق یہی ہے کہ ہم اس وقت کے حیّ و حاضر اور زندہ امام عج پر ایمان رکھتے ہیں جو ہمارے درمیان موجود ہیں۔
واقعات ملاقات امام زمان عج
اس حوالے سے اگر آپ دیکھیں تو ملاقات امام عج کے حوالے سے اتنے واقعات نقل ہوئے ۔ شیخ طوسی نے کتاب الغیبہ میں ملاقات کے حوالے سے اتنے واقعات نقل فرمائے۔ اس کے بعد بحار الانوار اور ہر دور میں بڑی بڑی کتابوں میں ہیں۔ میں جس کتاب کی جانب اشارہ کرنا چاہتا ہوں وہ محدث النوری کی کتاب “النجم الثاقب” ہے۔
کتاب النجم الثاقب
یہ ایک بہترین کتاب ہے کہ جو ایک فقیہ کی لکھی ہوئی کتاب ہے کہ جو ایک محدث بھی ہیں۔ اور یہ بہت بڑی شخصیت ہیں اور انہوں نے یہ کتاب النجم الثاقب امام زمان عج کے موضوع پر لکھی ہے۔ اور اس کا ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ اس کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔ اس میں صالحین اور فقہاء کے بہت سے واقعات ہیں۔
اب ہمارے ہاں ایک بحث ہے کہ ہم ان واقعات کو مانیں یا نہ مانیں۔ بعض لوگ اس کو ایک علمی انداز میں بھی پیش کرتے ہیں۔ اور امام زمان عج کی آخری توقیع کا حوالہ دیتے ہیں کہ جو ان کے آخری نائب جناب علی بن محمد سمری کے لیے صادر ہوئی تھی کہ مولا عج نے فرمایا تھا کہ:
سفیانی کے خروج اور آسمانی ندا سے پہلے اگر کوئی میرے مشاہدہ کا دعویٰ کرے وہ کذاب ہے۔
اب اس کو بعض لوگ سامنے رکھتے ہوئے ملاقات کا انکار کرتے ہیں کہ نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک علمی موضوع ہے۔ چونکہ آپ بھی اہل علم ہیں۔ اسی لیے یہاں صرف اشارہ کروں گا۔
امام نے لفظ “مشاہدہ ” استعمال کیا ہے۔
خَرَجَ اَلتَّوْقِيعُ إِلَى أَبِي اَلْحَسَنِ اَلسَّمُرِيِّ
يَا عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ اَلسَّمُرِيَّ
ادعای مشاهده
وَ سَيَأْتِي مِنْ شِيعَتِي مَنْ يَدَّعِي اَلْمُشَاهَدَةَ أَلاَ فَمَنِ اِدَّعَى اَلْمُشَاهَدَةَ قَبْلَ خُرُوجِ اَلسُّفْيَانِيِّ وَ اَلصَّيْحَةِ فَهُوَ كَذَّابٌ مُفْتَرٍ
اب ہم مشاہدے کو عربی لغت کے اعتبار سے دیکھیں گے۔ امام نے یہاں رویت کی نفی نہیں کی۔ امام عج نے یہاں ملاقات کی نفی نہیں کی، زیارت کی نفی نہیں کی۔ بلکہ مشاہدے کی نفی کی ہے۔
عربی ادب کے اندر مشاہدہ کیا ہے؟
علماء کرام یہی معنیٰ کرتے ہیں کہ مشاہدہ وہ ملاقات ہے وہ رویت ہے کہ جس کے اندر ایک دعویٰ بھی ہو۔ یہ جو چوتھے نائب خاص کو امام عج فرما رہے ہیں کہ اب اگر کوئی میرے مشاہدہ کا دعویٰ کرے۔ ۔۔
یہاں جو اس پر تجزیہ اور تحقیق ہے تو فھم احادیث ایک اہم ترین موضوع ہے اور اسے سادہ طریقے سے انسان نہ ترجمہ کرے۔ یعنی! جب بھی کسی حدیث کا ترجمہ ہو تو اس کے سیاق و سباق کو دیکھا جائے اس میں دیکھا جائے کہ کیا قرائن ہیں اور مولا عج کیا چاہتے ہیں۔ ہر جگہ پہ ہم لفظ مشاہدہ کا وہی معنیٰ لاتے ہیں کہ جو اردو میں ہے ۔ اردو میں مشاہدہ اور دیکھنا ایک معنیٰ ہے۔
لیکن عربی میں مشاہدہ کا معنیٰ ایسا نہیں ہے۔ یہاں مشاہدہ سے مراد نیابت کا دعویٰ تھا کہ اب اگر کوئی یہ کہے کہ میری امام عج سے ملاقات ہوتی ہے اور انہوں نے مجھے یہ ذمہ داری دی ہے۔ تو جو نائب بننے کی کوشش کرے وہ کذاب ہے۔ اب نیابت خاصہ ختم ہے۔ لہذا علمائے کرام یہ کہتے ہیں کہ مشاہدہ سے مراد وہ ملاقات ہے کہ جو ساتھ دعویٰ بھی کرے کہ مجھے امام عج نے یہ ذمہ داری دی ہے۔ مثلاً! کوئی یہ کہے کہ مولا عج سے میری ملاقات ہوئی ہے اور انہوں نے مجھے یہ منصب دیا ہے یا ذمہ داری دی ہے تو وہ کذاب ہے۔
اب کوئی نائب خاص نہیں ہے۔ نائب عام تو ہوسکتا ہے۔ اور غیبت صغریٰ میں فقہاء ہیں کہ جن کی طرف امام عج نے تقلید یا رجوع کی طرف ایک کلی حکم دیا ہے۔ اسلیے غیبت کبریٰ میں نیابت عامہ یا نائب عام یعنی! فقیہ کی شکل میں ہیں کہ جہاں نام نہیں ہے۔ یعنی! جو بھی اس مقام تک پہنچے آپ اس کی جانب رجوع کریں۔ لیکن! وہ جو فرد خاص کا نام ہے کہ نائب بنانے والی ہے وہ ختم ہو چکی ہے۔
یہ توقیع اصل میں جو سلسلہ نائبین اور سفیر کا چل رہا تھا یہ اس کے اختتام کا اعلان ہے۔ نہ کہ امام نے ملاقات سے منع فرمایا ہے کہ اب کوئی مجھے دیکھ نہیں سکتا۔ عربی میں لفظ “رویت، زیارت، ملاقات” استعمال ہوسکتا ہے۔ امام عج نے نہ زیارت سے، نہ ملاقات سے، نہ ہی رویت سے منع فرمایا ہے۔ بلکہ پوری تاریخ میں یہ ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ اتنی ملاقاتیں کہ لوگوں نے دیکھا۔ اور آج کے دور میں بھی ہو رہی ہیں۔
اب وہی فقہاء کہ جن کی ہم تقلید کرتے ہیں اور جن کو ہم عادل سمجھتے ہیں اور جن کے ہم فتووں کو ہم حجت سمجھتے ہیں اگر وہ کہیں کہ ہم نے مولا عج کو دیکھا ہے تو کیا ہم ان کی تکذیب کریں گے اور ان کو کذاب سمجھیں گے۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔
پوری تاریخ میں بڑے بڑے فقہاء کہ خود آپ شیخ مفید رح سے شروع کریں اور ان کے بعد بڑی بڑی ہستیاں سید مہدی بحرالعلوم، ابن طاوؤس، علامہ حلی، علامہ مجلسی، اور آج کے دور میں آیت اللہ مرعشی نجفی رح اور نہ جانے کتنے نام ہیں۔ اگر ہم ان کی تکذیب کرنا شروع کریں تو پھر پیچھے رہ کیا جائے گا۔ اور پھر یہ امام عج کا ملنا اور ملاقات کرنا ضروری بھی ہے تاکہ ہر دور کے لوگوں کو یہ یقین ہو کہ وقت کا امام عج ہمارے درمیان موجود ہے اور حی و حاضر ہے۔ اور یہ فقط ایک کتابی عقیدہ نہیں ہے۔ یہ صرف کاغذوں پر لکھا ہوا عقیدہ نہیں ہے بلکہ ہمارا حی و حاضر امام عج موجود ہے۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ یہ ملاقاتوں کا فلسفہ یہی ہے کہ امام عج ہر دور میں بتا رہے ہیں کہ میں تمھارے درمیان ہوں، تمھارے امور پر نگہبان ہوں۔ اللہ نے جو فرائض دیے ہیں وہ میں انجام دے رہا ہوں۔ میں تمھاری مدد بھی کر رہا ہوں اور تمھارے بہت سارے امور میں تمھاری مدد کر رہا ہوں۔ شائد کہ تمھیں معلوم ہو یا نہ ہو۔ برحق!
امام زمان عج فرماتے ہیں کہ: ” اگر ہم ایک لمحہ کے لیے بھی تم پر سے نظر اٹھا لیں تو تمہارے دشمن تمہیں نیست و نابود کر دیں۔ ”
یہ چیزیں بتا رہی ہیں کہ امام ہمارے درمیان موجود ہیں اور یہ فلسفہ ملاقات ہے۔ اب ہو سکتا ہے کہ ہم ان کے بعض واقعات کو نہ مانیں۔ یعنی ! اگر ہم ان کے بارے میں تحقیق کریں تو ہوسکتا ہے کہ بعض ثابت نہ ہوں لیکن! اتنے جو ثابت ہوئے ہیں اور پھر ان فقہاء سے نقل ہوئے ہیں کہ جن کی ہم تقلید کرتے ہیں تو یہ ناممکن ہے کہ ہم انہیں نہ مانیں۔ اور پھر امام عج نے کہاں فرمایا کہ ملاقات نہیں ہوسکتی۔
ملاقات امام زمان عج کے لیے کوئی چلہ نہیں۔ : ملاقات کا موضوع چونکہ شروع ہوا ہے تو میں اس کا ایک نتیجہ جو نکالوں گا وہ یہ ہے کہ اس کا کوئی چلہ نہیں ہے۔ اگر کوئی کہے کہ یہ طریقہ ہے مولا عج سے ملاقات کا تو یہ غلط ہے۔
جیسے کچھ لوگ ہمارے اردگرد ہیں جو مرشد اور پیر بنے بیٹھے ہیں کہ جو لوگوں کو دین سے دور کر رہے ہیں وہ لوگوں کو چلے سیکھاتے ہیں اور مختلف قسم کی چیزیں تو یہ سب کذب ہے۔ اگر کوئی ملاقات کا طریقہ بیان ہونا ہوتا تو احادیث کی کتب میں ہوتا۔ تو ایسی کوئی چیز بھی بلکل ذکر نہیں ہوئی۔
تو پھر امام زمان عج سے ملاقات کیسے ہوتی ہے؟۔ جب امام عج خود چاہتے ہیں۔ سبحان اللہ!
جب امام عج خود ارادہ فرمائیں۔ یعنی! اگر کسی شخص کا کوئی ایسا کام ہے کہ جو مولا عج کی ملاقات کے بغیر ممکن نہیں تو امام عج کیوں نہیں ملاقات کرتے۔ بلکہ بہت سارے لوگوں کے تو کام اور جو لوگ بالخصوص امام عج کی خدمت میں ہیں کہ جنہیں ابدال کہتے ہیں وہ انجام دیتے ہیں۔
انشاءاللہ ! کہ موضوع ابدال کو پھر کبھی بیان کریں گے۔
تو امام عج کی جانب سے توفیقات ہیں، لطف ہے ، نظر عنایت ہے حتیٰ ملاقات ہے اور اس پر اتنے واقعات ہیں۔ لیکن! اگر کوئی یہ کہے کہ یہ تسبیح کرو، یہ چلہ کرو یہ عمل کرو تو تب آپ امام عج کے حضور میں پہنچو گے تو یہ باتیں ثابت شدہ نہیں، غلط ہیں اور ان کے پیچھے نہیں جانا چاہیے۔
ایک نصحیت آموز واقعہ کی جانب اشارہ:
اسی قم المقدس کے اندر ایک واقعہ پیش آیا کہ ایک شخص بہت چلے کاٹتا تھا کہ امام سے ملاقات ہو وہ امامؑ کو دیکھنا چاہتا تھا۔ جیسے بہت سارے لوگ امام ؑ عج کی فقط زیارت کرنا چاہتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ان کا کوئی اور ہدف نہ ہو۔
حالانکہ امام عج کی خواہش یہ ہے کہ آپ ایسے کام کریں کہ ظہور ہو۔ اور میرے لیے ظہور کی دعا کریں ۔ لیکن! بعض لوگوں کی یہ خواہش ہوتی ہے اور یہ خواہش بری بھی نہیں ہوتی کہ دیدار کی خواہش رکھتے ہیں۔ تو بعض لوگ اتنے چلے کاٹتے ہیں۔
وہ شخص اتنے چلے کاٹنے کے بعد بالآخر مایوس ہوگیا۔ ( یہ ایک مشہور واقعہ ہے کہ جسے خطیب حضرات بھی بیان کرتے ہیں اور ہماری کتابوں میں بھی ہے)۔ جب یہ مایوس ہوگیا کہ امام کوئی نہیں ہے اور یہ ایسے ہی لوگوں نے بنایا ہوا ہے کیونکہ! اگر کوئی ہوتا تو میں جو اتنے عرصے سے چلے کاٹ رہا ہوں یہ تسبیح وہ تسبیح ، یہ عمل وہ عمل وغیرہ تو کوئی نہ کوئی نتیجہ تو نکلتا: جیسے قم کے اندر معروف بات ہے کہ مسجد جمکران میں اگر کوئی چالیس شب جمعہ جائے۔ تو اب یہ باتیں کسی نے کہیں ہیں لیکن! ان کی کوئی سند نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کسی کی ملاقات ہو۔ لیکن! ہر بار یہ لازمی نہیں ہے۔ کئی لوگوں نے کئی بار چالیس کو پورا کیا۔
اصل یہی بات ہے کہ جب امام زمان عج خود چاہتے ہیں تو ہی ملاقات ہوتی ہے۔ ان کی جانب سے ملاقات کا در کھلا ہوا ہے۔ ہماری جانب سے نہیں۔ یہ زمانہ غیبت ہے۔ اگر کوئی ایسا چلہ ہوتا تو پھر غیبت غیبت ہی نہ رہتی۔ پھر تو سارے اس سے استفادہ کرتے یہاں تک کہ پھر تو دشمن امام عج بھی اس سے استفادہ کرتا۔ اب جب یہ مایوس ہوگیا تو ایک دن دق الباب ہوا۔ ایک شخصیت آئے اور کہا کہ آئیں فلاں بازار میں مولا عج آپ کے منتظر ہیں۔ یہ حیران ہوا میں پہلے چلے کاٹ رہا تھا تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ اب یہ دوڑتا ہوا گیا۔ دیکھا ایک دکان پر امام عج تشریف فرما ہیں۔ ایک بوڑھا آدمی ہے اور دکان کونسی ہے جس میں استعمال شدہ چیزوں کو دوبارہ فروخت کیا جاتا ہے۔
وہاں ایک ہستی بھی تشریف فرما ہیں۔ اب اس نے پوچھا کیا آپ امام عج ہیں؟ فرمایا: ہاں! میں تیرے زمانے کا امام عج ہوں
لیکن میریے پاس بیٹھو اور اس دکاندار کو دیکھو۔ اب وہ دکان دار لوگوں سے استعمال شدہ چیزیں خریدتا تھا اور پھر آگے فروخت کرتا تھا۔ اسی دوران ایک خاتون آئی جس کے ہاتھ میں ایک تالا تھا اور وہ تالا استعمال شدہ بھی نہیں تھا ۔ (اس زمانے میں ایران کی کرنسی شاہی تھی) کہا: یہ تالا میں نے دس شاہی میں خریدا تھا لیکن! استعمال نہیں ہوا ایسے ہی پڑا تھا۔ لیکن! آپ مجھ سے آدھی قیمت یعنی پانچ شاہی میں خرید لیں۔ کیونکہ میں جس دکاندار کے پاس جاتی ہوں وہ مجھے تین شاہی سے زیادہ نہیں دیتا۔ یعنی! آدھی قیمت بھی نہیں دیتا۔
آج کل ہمارے بازاروں میں کیا کچھ ہو رہا ہے اگر ہم قوم عاد و ثمود کے بارے میں پڑھیں۔ ان میں سے کسی ایک قوم پر اللہ نے اس لیے عذاب کیا تھا کہ یہ فاسد تھے۔ جب لوگوں سے خریدتے تھے تو مٹی کے بھاؤ لیتے تھے اور پھر اسی چیز کو سونے کے بھاؤ فروخت کرتے تھے۔ اور یہی کچھ دنیا میں آج ہو رہا ہے۔ آپ سے خریدتے ہوئے اتنے نقائص بیان کئے جاتے ہیں کہ آپ اس چیز کو کم قیمت پر بیچ دیں اور بعد میں اسی کو تعریفیں کر کر کے ناجائزہ منافع کماتے ہیں تو اس طرح کے سارے کام غیر شرعی ہیں اور اللہ کے غضب کو دعوت دیتے ہیں۔ بعض مرتبہ لوگ کہتے ہیں کہ اتنا پیسہ کماتے ہیں لیکن! گھروں سے پریشانیاں، بیماریاں دور نہیں ہورہیں۔ تو اس کی وجہ یہی ہے۔ بالآخر ایک انسانی، اسلامی ، ایمانی تقاضے ہیں۔ کیوں لوگوں کو دھوکا دے رہے ہیں۔
اب وہ خاتون کہتی ہیں کہ میں جہاں بھی جاتی ہوں نئے تالے کو تین شاہی سے زیادہ کا نہیں لیتے تو تم مہربانی کر کے پانچ شاہی کا مجھ سے خرید لو۔ اس شخص نے تالا دیکھا اور کہا کہ: بی بی یہ تو نیا اور صحیح و سالم تالا ہے تو میں آپ کو آٹھ شاہی دیتا ہوں اور خود اس کو نو شاہی میں بیچ دوں گا۔
یہ ہے حلال نفع ، حلال پرافٹ۔ سبحان اللہ!
ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے کہ دس روپے کی چیز سو روپے میں ِبک رہی ہے۔ جبکہ اسلامی پرافٹ یہ ہے۔ وہ خاتون حیران ہوگئی کہا کہ کجا کوئی تین شاہی بھی دینے کو تیار نہ تھا اور تم آٹھ شاہی دے رہے ہو کیا تمھارے حواس ٹھیک ہیں۔
کہا: میرے حواس بلکل ٹھیک ہیں۔ یہ تالا صحیح و سالم ہے۔ نیا ہے میں اس کی ٹھیک قیمت دے رہا ہوں۔ جبکہ اس کی اصل قیمت دس شاہی ہے۔ چونکہ یہ تالا آپ کے پاس ایک مدت رہا اسی لیے میں آپ سے آٹھ شاہی میں خریدوں گا اور نو شاہی میں فروخت کر دوں گا۔ اس کا حلال نفع ایک شاہی ہے۔ خاتون حیران ہوئی اور کہا: اے شخص اگر تم مجھے اس کی پانچ شاہی بھی دے دو تو بھی میں راضی ہوں۔
غور طلب جملہ:
بوڑھے دکاندار نے کہا: اے خاتون تم تو پانچ شاہی پر راضی ہو جاؤ گی لیکن! میرے زمانے کا امام ؑ عج اور میرا خدا راضی نہیں ہوگا۔ اللہ اکبر!
چونکہ مجھے اس کی اصل قیمت معلوم ہے اور تمھیں معلوم نہیں لہذا میں اس کی صحیح قیمت کہ جو تمھارا حق ہے میں وہ تمھیں دینا چاہتا ہوں۔ تاکہ میں اپنے رب کو راضی کروں اور اپنے امام وقت عج کو راضی کروں۔ اب اس خاتون نے آٹھ شاہی لیے اور دعائیں دیتی ہوئی چلی گئی کہ اللہ تجھ جیسے اور لوگ بھی پیدا کرے۔ کہ بازاروں کے حالات ٹھیک ہوں۔
اب جب یہ چلی گئی۔ تو امام عج نے اس مومن کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا:
اے مومن مجھ سے اگر ملنا ہو تو چلے کاٹنے کی ضرورت نہیں ہے *اگر تم شیعہ اس جیسا ہی عمل اپناؤ تو میں خود ہی تم سے ملنے چلا آؤں۔اللہ اکبر!
یعنی! انسان اپنے اندر انسانیت ، الہیت اور ایمان کے رنگ پیدا کرے۔۔
فرماتے ہیں اس جیسا عمل کرو۔ اس جیسی دیانتداری اپنے اندر پیدا کرو میں خود تم سے ملنے آؤں گا۔ جب امام عج تشریف لے گئے تو اس نے اس دکاندار سے پوچھا کہ کیا آپ جانتے تھے کہ یہ کون شخصیت آپ کے پاس تشریف فرما تھیں۔
بوڑھے آدمی نے کہا: نہیں! مجھے معلوم نہیں لیکن کبھی کبھی یہ آجاتے ہیں اور میں ان کو اپنے پاس بیٹھا لیتا ہوں۔ بڑے نیک آدمی ہیں۔ یعنی! اسے بھی نہیں پتہ تھا۔ کہ وہ ہستی کہ جو اس کی زیارت کے لیے آرہی ہے وہ وقت کے امام عج ہیں۔
کیوں نہیں ! اگر ہم اپنے آپ کو ثابت کریں اور جس طرح ہم ان کی زیارت کے لیے خواہش مند ہیں یہ اپنے ان مومنین کہ جو ان کی سیرت پر چلیں جن میں ان ہستیوں کے رنگ ہوں تو یہ ان کی زیارت کے لیے چلے آتے ہیں۔ جیسے امیرالمومنین میثم کو دکان پر دیکھنے کے لیے جاتے تھے اور فرماتے تھے اے میثم اب تم تھک گئے ہو اب میں تمھاری جگہ پر بیٹھ کر تمھارا کام کرتا ہوں۔
کیوں مولا علی اپنے کاموں کو چھوڑ کر میثم کو دیکھنے جاتے تھے۔ کیونکہ جناب میثم تمار نے رنگ علی کو اختیار کیا ہوا تھا۔ جناب میثم کے اندر سیرت علی تھی ۔ ان کی زبان زبانِ علی تھی۔ میثم کا کردار ، کردارِ علی تھا۔ جناب میثم اپنے زمانے کے امام کے کردار پر چلتے تھے۔
اگر آج ہم امام مہدی کے نقش قدم پر چلیں تو کیوں نہیں مولا عج خود ہمیں دیکھنے کے لیے آئیں۔ تو ہر دور میں ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جو حقیقی طور پر زمانے کے امام عج کے مطیع ہوتے ہیں اور ان پر ان کے مولا کا خصوصی لطف ہوتا ہے۔ وہ اپنے امام عج کی نگاہوں میں ہوتے ہیں ان کی دعاؤں میں ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی زمانے کے امام کی نگاہوں اور ان کی دعاؤں میں قرار دے۔ پروردگارا ہمارے مولا عج کے ظہور میں تعجیل فرما اور ہم سب کو ان کا خدمتگار ناصر بنا اور ایسے کاموں کی توفیق دے کہ امام عج کی نگاہوں میں آئیں اور ان کی دعاؤں میں آئیں۔
الہیٰ آمین!
والسلام،
عالمی مرکز مہدویت قم المقدس۔ ایران