عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

امام زمان عج کے لیے حضرت زھراء سلام اللہ علیہا اسوہ حسنہ درس 5

Untitled
مہدی مضامین و مقالات

امام زمان عج کے لیے حضرت زھراء سلام اللہ علیہا اسوہ حسنہ درس 5

امام زمان عج کے لیے حضرت زھراء سلام اللہ علیہا اسوہ حسنہ
موضوع : حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اور بچوں کی تربیت

حجت الاسلام و المسلمین علی اصغر سیفی

امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف فرماتے ہیں ۔۔۔۔
فی ابنۃ رسول اللہ (ص)لی اسوۃ حسنۃ

میرے لیے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اسوہ حسنہ ہیں۔ ہم نے اس موضوع پر گفتگو شروع کی اور بی بی ؑ کی زندگی سے وہ پانچ صفات کہ جس کی بنا پر ہم فاطمی شیعہ بن سکتے ہیں۔چونکہ ہمارے مولا ؑ فاطمی ہیں وہ بی بی ؑ کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں تو ہم اپنے مولا ؑ کی ہمراہی میں ہم بھی بی بی فاطمہ ؑ کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔ اس حوالے سے جو اہم ترین بی بی ؑ کی صفت ہے خدا شناسی، اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت اس پر گفتگو ہوچکی ہے۔ اسی طرح بی بی ؑ کا امیر المومنین ع کے گھر میں بعنوانِ ایک زوجہ جو کردار ہے جو ہماری تمام مومنات کے لیے مشعلِ راہ ہے اس پہ گفتگو ہوچکی ہے، اسی طرح بی بی ؑ کا معاشرے کے اندر دیگر لوگوں کے ساتھ جو معاشرتی اجتماعی روابط ہیں اس پہ گفتگو ہوچکی ہے اور بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا کا لوگوں کےحق میں ایثار و انفاق اس پر بھی ہم نے گفتگو کی۔

آج ہمارا موضوع جو ہے وہ بچوں کی تربیت ، بی بی ؑ کا بعنوانِ ماں کردار ہے بعنوانِ ایک مادر یہ ہمارے لیے بالخصوص ہماری مومنات کے لیے ایک اہم ترین تربیتی کردار ہے۔

ماں کے دودھ کے اثرات
کہا جاتا ہے کہ ماں کا دودھ نہ صرف بچے کی جسمانی پرورش کرتا ہے اس کی روحی پرورش بھی کرتا ہے۔ یہ بچہ ماں کے دودھ کی وجہ سے یا سعادت مند ہوسکتا ہے ایک نیک اور صالح فرد کی شکل میں تشکیل پاسکتا ہے یا دنیا کا ظالم ترین شخص بھی بن سکتا ہے۔ دودھ کا وحی سا کردار ہے کیوں ۔۔۔؟یہ جو ماں کے وجود میں دودھ ہے ماں کیا کھا رہی ہے حلال چیزیں کھا رہی ہے یا حرام کھا رہی ہے خود خدا کی عبادت کرتی ہے یا گناہ گار ہے یہ ساری چیزیں اس کے دودھ کے ذریعے جو بچے کی پہلی خوراکیں ہیں اس دنیا میں وہ بچے کی جس طرح باقی جسم کو نشوونما دے رہی ہیں اس طرح اس کی روح کو بھی وہ نشوونما دے رہی ہیں۔لہٰذا ایک ماں دودھ پلانے سے بچے کی تربیت میں گویا کردار ادا کررہی ہے۔ یہ نہ کہیں کہ جب میرا بچہ پانچ چھ سال کا دس سال کا ہوگا پھر میں تربیت کرونگی۔اس کی پہلی خوراک ہی ماں کی طرف سے تربیت کا آغاز ہے۔جتنا ماں کا کردار بلند ہوگا وہ بچہ جو اس کا دودھ پی رہا ہے اس کا کردار بھی اتنا ہی بلند ہوگا۔
بی بی زہرا ؑ کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بہت زیادہ بچوں کی غذا پر توجہ کرتی تھیں اور وہ جب غذا دیتی تھیں تو وہ ان کی روح اور جسم دونوں کو مدنظر رکھتی تھیں۔جسم کو بھی صحت مند ہونا چاہیئے چونکہ بیمار جسم روح کو بھی بےنشاط افسردہ کردیتا ہے۔یا اگر جسم صحت مند ہو اور روح کو خوراک نہ دی جائے تو روحِ افسردہ ہے بیمار روح جو ہے بدن کو بھی بیمار کردیتی یے۔ تو لہٰذا ہماری جو غذا ہے وہ دونوں طرف کو با نشاط کرے، دونوں پر اپنا اثر ڈالے۔اور یہ ایک ماں جانتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کس طرح کی غذا دے اور بچوں کو کیا کھلائے اور ساتھ بچوں کے ساتھ کونسا کام کرے۔
بی بی زہرا ؑ اپنے بچوں کو کھلاتی تھیں مگر کسی وقت تو ایسا بھی ہوتا تھا کہ بی بی ؑ خود بھوکی رہ جاتی تھیں لیکن بچوں کو کچھ نہ کچھ کھلاتی تھیں بچوں کو بھوکا نہیں رکھتی تھیں ۔

اس حوالے سے بہت سارے واقعات ہیں کہ بی بی ؑ نے کئی راتیں بھوکی گزاری ہیں لیکن اپنے بچوں کو بھوکا سونے نہیں دیا۔ یعنی ایک ماں کو اپنے بچوں سے بے پناہ محبت کا جو کردار ادا کرنا چاہیئے اس میں بی بی ؑ ہمارے سامنے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ مدینہ کے اندر پینے کے پانی کا بہت بڑا بحران پیدا ہوا اور پانی ختم ہوگیا اور امام حسن ؑاور امام حسین ؑ پیاسے تھے۔ بچپن کا عالم اور سخت پیاس ۔۔۔۔۔۔۔۔بی بی ؑ ان دونوں شہزادوں کو لے کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور فرمایا کہ اے رسول اللہ ﷺ! میرے بچے بہت چھوٹے ہیں ان کے اندر اب تحمل نہیں ہے کہ پیاس برداشت کریں۔ نبی اکرم ﷺ نے بیٹی کی جب یہ بےتابی اور اضطراب دیکھا تو اپنی زبانِ مبارک کو امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ کے منہ میں رکھا باری باری اور ان کے دہان کو تر کیا اور بی بی ؑ کا بھی اضطراب دور کیا اور ان دونوں بچوں کو جو بے پناہ پیاس تھی اس سے بھی نجات ملی۔

اب یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہے اس میں ماں بے پناہ اضطراب بچوں کے لیے اور ان سے بے پناہ محبت اور دنیا کے ایک افضل ترین باعظمت ترین ہستی کے پاس لانا اور ان کے
ذریعے اپنے بچوں کو بھی پیاس سے نجات دلائی اور خود بھی اپنا اضطراب دور کیا ۔یعنی بتا یہ رہی ہیں کہ ماں کو کس طرح اپنے بچوں سے محبت ہونی چاہیئے اور جب ماں نے کسی کی طرف رجوع کرنا ہے وہ ہستی کیسی ہونی چاہیئے ۔اپنے اضطراب کو اپنی پریشانیوں کو حل کرنے کے لیے کس طرف جانا چاہیئے، کن ہستیوں کو واسطہ قرار دینا چاہیئے یہ سب اس کے اندر چھوٹے چھوٹے نکات ہیں جو ہمارے لیے درس ہے۔
پیغمبر اکرم ﷺ جب دنیا سے چلے گئے تو بی بی ؑ پیغمبر کی محبت اپنے بچوں کے اندر ابھارنے کے لیے اور بچوں کو چونکہ وہ اپنے نانا کی محبت سے محروم ہوچکے تھے نانا کی محبت والے واقعات بار بار انہیں یاد دلانے کے لیے ۔۔۔۔ یہ بھی سارا وہی تربیت ہے کہ خاندان کا ایک عظیم، اچھا، نیک ،صالح کوئی بھی ہمارے ہاں دنیا سے چلا جائے تو بچوں کو اس کی طرف متوجہ رکھنا چاہیئے تاکہ اس کے کردار کو اپنے لیے مشعلِ راہ رکھے اس کو اپنے لیے اسوہ رکھے ۔۔۔۔یہ سارے درس ہیں ۔

اب بی بی ؑ جو ہیں پیغمبر اسلام ﷺ کی رحلت کے بعد کیا کہا کرتی تھیں ۔ روایات میں ہے کہ بی بی ؑ فرمایا کرتی تھیں کہ کہاں ہے تمہارا نانا جو اتنی تم سے محبت کرتا تھا۔ تمہیں اپنے کندھوں پہ سوار کرتا تھا، تم سے مہربان تھا کہاں گیا تمہارا وہ نانا جو سب سے زیادہ تم سے محبت کرتا تھا۔ وہ کبھی بھی تمہیں زمین پر چلنے نہیں دیتا تھا۔بلکہ ہمیشہ تم سب کو اپنی آغوش میں لے کے رکھتا تھا پھر بی بی ؑ ایک آہ لیتی ہیں آہ کیھنچنے کے بعد کہتیں کہ اب میں انہیں نہیں دیکھ رہی جو تمہیں اپنے کندھوں پر سوار کرتا تھا۔ یہ ایک ہم ترین درس ہے ہمارے لیے کہ خاندان کی ایک باعظمت ہستی جو بچوں سے محبت کرتی تھی اگرچہ وہ دنیا سے چلی گئی ہے لیکن بچوں کو یاد دلانا چاہیئے یہ سب تربیت کے مراحل ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ بی بی ؑ بچوں کے سامنے پروردگار کی بارگاہ میں گریہ کیا کرتی تھیں اور اپنے ہمسائیوں کے لیے دعائیں کیا کرتی تھیں۔ ہمیشہ بچوں کو ایک عبادت والے ماحول میں رکھتی تھیں اور جب غروب کا وقت ہوتا تھا تو بی بی ؑ بچوں کو سونے نہیں دیتی تھیں ۔اگر کوئی بچہ سو بھی جائے اسے اٹھا دیتی تھیں، فرماتی تھیں یہ جو سورج غروب ہوریا ہے یہ دعاؤں کی قبولیت کا وقت ہے اٹھیں اور اللہ سے دعا کریں۔

اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جب لیلتہ القدر (شب ہائے قدر) جو ہے ماہِ رمضان میں ہوتی تھیں تو اس وقت بھی
بی بی ؑ بچوں کو تھوڑی سی غذا دیتی تھیں تاکہ بچے ساری رات بیدار رہیں۔ بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھانے دیتی تھیں چونکہ اس صورت میں نیند آسکتی ہے ہلکی پھلکی غذا بچوں کو دیتی تھیں۔یہ بھی ہمارے لیے ماؤں کے لیے جو چاہتی ہیں ان کے بچے شبِ قدر کے اعمال کریں سب کے لیے درس یے۔

بی بی ؑ پیغمبر اکرم ﷺ کی زندگی میں بہت زیادہ بچوں کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجتی تھیں کہ جائیں نانا کے پاس اور قرآن پڑھیں،جائیں ان سے فلاں دعا سیکھیں یہ سارے ہمارے لیے درس ہیں خاندان میں اگر کوئی نیک صالح ہستی ہے آپ کے اطراف میں کوئی نیک صالح شخص ہے اپنے بچوں کو ان کے پاس بھیجیں اس سے بچوں کو مانوس کریں تاکہ اس کی خصلتیں وہ نیک صفات آپ کے بچوں کے اندر بھی پیدا ہوں۔

بی بی ؑ اپنے بچوں سے جو محبت کرتی تھیں اس کا ایک نمونہ یہ بھی تھا کہ بچوں کے لیے بڑے خوبصورت اشعار بنائے تھے اور بچوں کو اکثر وہ اشعار سنایا کرتیں تھیں۔ مثلاً وہ ہیں تو سارے عربی میں میں اس کا ترجمہ آپ کی خدمت میں بیان کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔
امام حسن ؑ کو جب بی بی ؑ مخاطب ہوتیں تھیں تو اس وقت یہ شعر پڑھتی تھیں ۔۔کہتی تھیں کہ۔۔۔
حسن جان تو اپنے بابا علی کی طرح ہو________
چونکہ مولا حسن ؑ جو ہیں وہ امیر المومنین ع کی شبیہہ تھے۔

تو اپنے بابا علی کی طرح ہو اور اسی کی طرح اپنے اندر صفات پیدا کر_______
حق کی گردن سے رسی کو اتار________
اور وہ خدا جو احسان کرتا ہے اس کی عبادت کر_______
اور لوگوں سے جو کہ ہمارے کینہ توز دشمن ہیں جو اہل بیت ع کے دشمن ہیں ان سے دوستی نہ کر______

اور جب امام حسین ؑ سے مخاطب ہوتی تھیں وہاں یہ شعر پڑھا کرتی تھیں ۔۔۔۔
حسین جان تو میرے بابا یعنی رسول خدا ﷺ کی شبیہہ ہے ______
تو اپنے بابا علی ع کی شبیہہ نہیں ہے______
اب مولا علی ؑ جب گھر میں بیبی ؑ کے یہ اشعار پر گنگنانا جب ان کو سنا کرتے تھے تو بہت زیادہ تبسم کیا کرتے تھے ۔
اب دیکھیں یہاں جو درس ہے جو چھوٹے چھوٹے قصے کہانیاں اشعار جو ہیں جو مائیں بچوں کو سناتی ہے یہ بچوں کی تربیت میں اہم کردار ہے۔ وہ ان اشعار میں یا ان قصوں میں بچوں کو کیا منتقل کررہی ہیں۔ان کی روح کو ان کے ذہنوں کو ان کی فکر کو ان کے وجود کو کیا غذا روحانی اور فکری غذا دے رہی ہیں یہ بہت اہم ہے۔

بی بی ؑ کا آخری وقت
کہتے ہیں کہ بی بی کا جب آخری وقت آیا تھا تو اس وقت بھی اپنے بچوں کی تربیت کے حوالے سے ان کے مستقبل کے حوالے سے بہت پریشان تھیں اور سب سے بڑا بی بی ؑ کا اضطراب تھا وہ یہ کہ میرے بعد میرے بچے ماں کی محبت سے محروم ہو جائیں گے۔ اور یہ ہم دیکھتے ہیں کہ بی بی ؑ اپنے آخری زندگی کے لحظات میں امیر المومنین ع کو خود فرما رہی ہیں کہ میرے بعد کوئی ہمسر انتخاب کریں میرے بعد نکاح کریں۔گھر میں ایک زوجہ لے کر آئیں جو میرے بچوں کے لیے ماں بنیں۔ یعنی کس حد تک بی بی ؑ جو ہیں وہ ماں والی محبت جس سے بچے محروم ہورہے تھے اس کے لیے بی بی ؑ پریشان تھیں۔ چونکہ ماں کی محبت اساسِ زندگی ہے ہر انسان کے لیے۔

بہت ساری اور بھی حضرتِ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے اندر صفات ہیں جو ہمارے لیے درس ہیں۔ ہم نے صرف پانچ صفات کو اپنے لیے موضوع قرار دیا۔ اور اگر ہم ان پانچ صفات کو ہی مدنظر رکھیں تو ہم فاطمی شیعہ بن سکتے ہیں۔ہمارے مولا امام زمان ؑ نے فاطمی حکومت کو بپا کرنا ہے کہ جس کا نام دولت زہرا بھی ہے یعنی لوگ یہ کہیں گے کہ یہ مہدی ؑ نہیں زہرا ؑ ہم پر حکومت کررہی ہیں چونکہ یہ حکومت بی بی زہرا ؑ کی آرزوؤں کو پورا کرے گی۔ اور اس حکومت کے جو لوگ ہیں وہ فاطمی شیعہ ہیں۔ تو ہم نے اپنے چند درسوں میں کوشش کی کہ بی بی دو عالم کے چند صفات جو ہیں ان سے درس لیں ۔۔۔۔ویسے تو بی بی ؑ کے اندر بے پناہ صفات ہیں وہ ساری کی ساری ہمارے لیے درس ہیں ہم نے صرف پانچ صفات کا انتخاب کیا ہے۔

اور ہمارے یہ دروس ہمارا یہ کہنا آپ لوگوں کا سننا پرودگار اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان ایام عزاء میں ہم یہ چاہتے ہیں کہ اللہ ہم سب کو فاطمی شیعہ بنائے،ہم اپنے امام کی ہمراہی میں فاطمی کردار ادا کریں اور حکومت فاطمہ ع کو بپا کریں۔​

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید