عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

اللہ تعالیٰ کی معرفت پر برھان نظم /عقائد توحید قسط 5

درس عقائد توحید
مہدی مضامین و مقالات

اللہ تعالیٰ کی معرفت پر برھان نظم /عقائد توحید قسط 5

درس عقائد توحید درس 5

اللہ تعالیٰ کی معرفت پر برھان نظم

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ پروردگار عالم کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے ایک بہترین دلیل برھان نظمہے۔

برھان نظم

علمی اصطلاح میں کائنات کے اندر ہم ہر جگہ پر ایک خاص نظام دیکھ رہے ہیں، اور ہر نظام بتا رہا ہے کہ یہاں ایک بہت ہی عظیم حکمت والا، اور بہت ہی علم والا، ایک ناظم موجود ہے یعنی
*کائنات کے اندر نظم سے ناظم تک پہنچنا۔

اگر ہم کاٸنات کا مطالعہ کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہی سورج چاند کی حرکت، دن رات کا آنا، موسموں کا آنا، نظامِ شمسی، کہکشاؤں کا نظام، خود زمین کے اندر نباتات کا نظام، حیوانات کا نظام، دریاؤں اورسمندروں کا نظام ۔

اور خود ہر چیز کے اندر جب دیکھیں، اور انسان اپنے بدن میں دیکھے تو ہر چیز اپنے مقام پر ہے اور ایک دوسرے سے متصل ہے، اور ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں یہ نظامِ زندگی جاری ہے اور انسانی جسم میں بے پناہ نظام ہیں۔ نظام تنفس ہے، نظام ہضم، نظام اعصاب، خون کی گردش کا نظام، فکر کا نظام ہے اور بہت سارے نظام جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں تاکہ یہ ایک چلتے پھرتے انسان کا جسمانی نظام جو ہے وہ زندگی سے برخوردار ہو۔

یہ نظام ہر انسان کے اندر ہے، یا ایک چیونٹی کے وجود میں ہے یا ہاتھی کے وجود میں ہے یہ جتنے بھی نظام ہیں۔

*یہ تمام نظام چلانے والے انسان نہیں ہیں۔ تو کون چلا رہا ہے؟ اور کس نے بنایا ہے؟

وہ کون ہستی ہے جو یہ سارے نظام چلا رہی ہۓ۔

یہ ساری باتیں بتا رہی ہیں، یہ نظم جو کائنات میں ہے یہ ایک حکمت اور علم والی ذات ہے جس نے اس انداز سے کاٸنات کو منظم کیا۔ اور ابھی اس نظم کو وہی چلا رہا ہے

قرآن مجید میں سورہ آل عمران میں پروردگار اس موضوع سے پردہ اٹھاتا ہے، اور فرماتا ہے کہ:

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ

بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم تبدیلی میں عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

اور اگر کسی نے پروردگار تک پہنچنا ہے تو اس کے لیے یہ کافی ہے۔

امام جعفر صؑادق علیہ السلام اپنے ایک مشہور شاگرد جناب مفضل کو فرماتے ہیں :

اے مفضل، سب سے پہلی جو دلیل ہے پروردگار پر وہ یہی ہے کہ خدا نے اس انداز سے اس کائنات کے اجزاء میں ایک نظام بخشا ہے۔ اگر تو پوری کائنات کو دیکھ تو یہ پوری کائنات کچھ اس طرح نظر آئے گی جیسے آسمان جو ایک چھت کی مانند ہے اور زمین ایک فرش کی مانند ہے اور ستارے گھروں میں جلنے والے چراغوں کی مانند ہے۔ اور موتی اور گوہر ذخیرے ہیں۔

ہر چیز کس طرح خوبصورت انداز سے اللہ نے اس کائنات کے اندر رکھی ہوئی ہے۔

یہ کائنات ایک گھر کی مانند ہے۔تو یہ آیا دلیل نہیں ہے کہ یہ جو اتنی طاقت سے اس کاٸنات کا نظام چل رہا ہے، اس کو بنانے والا کوئی ہے؟

خود پروردگار جو ہے وہ قرآن میں ایک مقام پر اپنی تخلیق کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
*سورہ روم میں پروردگار فرما رہا ھے :

*وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ*
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان ہو جو دنیا میں پھیلے ہوئے ہو۔

مٹی سے اس گوشت پوست کے بدن کا سفر یہ سب سے حیرت انگیز کام ہے ۔ مٹی سے اتنی خوبصورت شکل میں انسان کو وجود میں لانا یہ دنیا کے کسی کارخانے اور نظام میں یہ صلاحیت نہیں۔سبحان اللہ

ایک ہستی جو سب سے بالاتر ہے اپنی حکمت و علم شعور میں اور طاقت میں اس نے کس طرح ایک نظم سے بھرا ہوا ایک سلسلہ ترتیب دیا کہ مٹی سے ایک جاندار مخلوق تک کا سفر جو ہے وہ قائم ہوا اور یہ کڑیاں آپس میں ملی اور آج ایک انسان کو خوبصورت وجود میں ہم دیکھ رہے ہیں۔

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
مجھے تعجب ہے اس مخلوق سے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ انسانوں کی نظر سے مخفی ہے حالانکہ خدا کی شناخت اور تخلیق کے آثار جو کہ محیرالعقول ہیں جن پر عقل حیران و پریشان ہے اور اتنے خوبصورت اور محکم انداز سے اللہ کی تخلیق کے مجموعے پوری کائنات میں ہیں تعجب ہے جو وہ دیکھتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ خدا نظر نہیں آتا۔

امام صادقؑ آگے فرماتے ہیں کہ
مجھے اپنی جان کی قسم اس کائنات کے ان امور میں ان تخلیقات میں پروردگار کی عظیم ترکیبات اور اس کی تدبیر کی لطافتوں کو دیکھو کہ کس طرح مخلوقات کو اللہ نے عدم سے وجود بخشا اور ان کے اندر جو تبدیليوں ہوتی ہیں اور وہ ایک طبیعت سے دوسری طبیعت، ایک مادہ سے دوسرے مادہ میں، ایک حالت سے دوسری حالت میں اس میں خدا کی وجود کے روشن دلائل ہیں۔

پروردگار نے سورہ روم میں مخلوقات کی زبانوں میں اور رنگوں میں جو اختلاف ہے اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسے اپنی ایک عظیم نشانی قرار دیا

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَمِنْ اٰيَاتِهٖ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَاَلْوَانِكُمْ ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّلْعَالِمِيْنَ
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا مختلف ہونا ہے، بے شک اس میں علم والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
مام صادق ؑ جناب مفضل کو اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ :

اے مفضل غور کر کہ اللہ نے انسان کو بولنے کی نعمت عطا کی ہے کہ انسان اس بولنے کی طاقت سے جو کچھ اس کے دل اور فکر میں ہے وہ بیان کرتا ہے۔ اور جو کچھ لوگوں کے دل میں ہے اسکو جانتا ہے۔

اگرانسان بولنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو جو کچھ بھی انسانوں کے اندر ہے وہ ظاہر نہ ہوتا تو پھر یہ ایک حیوان کی مانند ہو جاتا۔

جیسے ہم دیکھ رہے ہیں چار پاؤں والا حیوان کہ جو نہ تو دوسروں کو اپنے اندر سے آگاہ کر سکتا ہے اور نہ دوسروں سے باخبر ہو سکتا ہے اس طرح تو انسان اور حیوان کا فرق ہی ختم جاتا۔

اسی بحث میں سب سے بڑی دلیل پروردگار کے وجود پر اور اس کی توحید پر کائنات کے اندر نظم ہے ہر چیز میں نظم ہم دیکھ رہے ہیں، اور جہاں بھی نظم ہو وہاں ناظم ہوتا ہے۔ اور اس کائنات کا ناظم وھی بلند و بالا وجود ہے جو علم میں سب سے بڑھ کر، قدرت میں سب سے بڑھ کر اور حکمت میں سب سے بڑھ کر ہے۔ اور یقیناً وہی خدا ہے جو ہمارا خالق ہے اور ہمارا رب ہے۔

اہل انتظار
اہل انتظار کے لیے یہ باعث ایمان قلب ہے جب کائنات کو اہل انتظار دیکھتے ہیں، اس میں پروردگار کی موجودگی کی نشانیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں تو پروردگار پر انکا ایمان بڑھتا ہے، توکل بڑھتا ہے اور وہ سچے دل سے خدا کی عبادت کرتے ہیں اور اس کی خوشنودی کے طالب ہوتے ہیں۔
وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح اللہ نے کائنات میں اتنا خوبصورت نظام قاٸم کیا ہے، اسی طرح لوگوں کے امور کے سیاسی، اجتماعی اور معاشرتی تمام امور میں بھی وہ نظم قائم ہو جو ولی خدا کی عدالت کے ذریعے ہونا چاہیے ۔

اہل انتظار اس کے لئے کوشش کرتے ہیں تاکہ خدا کے خلیفہ کی حکومت کی راہ ہموار ہو اور وہ آکے لوگوں کے ظاہری امور میں بھی ایسا نظام بخشے کہ لوگ اپنے اجتماعی، سیاسی زندگی کے تمام امور میں جو بےضابطگیوں کا شکار ہے آپس کے غیر عادلانہ رویوں اور ایک دوسرے پر ظلم کرنے کی وجہ سے جو دکھ اور درد سہہ رہے ہیں اس سے آزاد ہوں اور بہتر زندگی گزاریں۔

ترتیب و پیشکش:سعدیہ شہباز

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید